Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4778

4515 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا الحسن بن صالح عن السدي عن عدي بن ثابت عن البراء قال لقيت خالي ومعه الراية فقلت أين تذهب فقال ارسلني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رجل تزوج امرأة أبيه من بعده أن أضرب عنقه أو أقتله

عدی بن ثابت نے براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں اپنے ماموں سے ملا اس حال میں کہ اس کے ہاتھ میں جھنڈا تھا تو میں نے اسے کہا تم کہاں جا رہے ہو؟ اس نے کہا مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے کہ جس نے اپنے والد کے بعد اپنے والد کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں اس کی گردن اتار دوں یا سے قتل کر دو۔

لَقِيتُ خَالِي وَمَعَهُ الرَّايَةُ فَقُلْتُ أَيْنَ تَذْهَبُ ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← السُّدِّيِّ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4778

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4779

4516 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف هو بن منازل وأبو سعيد الأشج قالا ثنا حفص بن غياث عن أشعث عن عدي بن ثابت عن البراء قال مر بي خالي أبو بردة بن نيار الأسلمي معه اللواء فذكر مثله إلا أنه قال آتيه برأسه

عدی بن ثابت نے براء رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے پاس سے میرے ماموں ابو بردہ بن نیار اسلمی گزرے ۔ پھر انہوں نے اسی طرح روایت نقل کی البتہ ان الفاظ کا فرق ہے اس میں " آتیہ براسہ " ہے کہ میں اس کا سر لاؤں۔

آتيه برأسه ← مثله إلا أنه ← مر بي خالي أبو بردة بن نيار الأسلمي معه اللواء ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَشْعَثَ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← يوسف هو بن منازل وأبو سعيد الأشج ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4779

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4780

4517 - حدثنا محمد بن علي بن داود قال ثنا سعيد بن يعقوب الطالقاني قال هشيم حدثناه قال أخبرنا الأشعث عن عدي بن ثابت عن البراء بن عازب قال مر بي الحارث بن عمرو ومعه لواء قد عقده له رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت إلى أي شيء بعثك قال إلى رجل تزوج امرأة أبيه أن أضرب عنقه

عدی بن ثابت نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میرے پاس سے حارث بن عمرو گزرے ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا جس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے باندھا تھا ۔ میں نے پوچھا تمہیں آپ ﷺ نے کدھر بھیجا ہے ؟ کہنے لگے ایک آدمی کی طرف جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کر لی ہے ۔ مجھے بھیجا تاکہ اس کی گردن اڑا دوں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْأَشْعَثِ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ يَعْقُوبَ الطَّالْقَانِيُّ ← محمد بن علي بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4780

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4781

4518 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف هو بن منازل قال ثنا حفص بن غياث عن أشعث فذكر بإسناده مثله

حفص بن غیاث نے اشعت سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے ۔

أشعث فذكر بإسناده مثله ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← يوسف هو بن منازل ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4781

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4782

4519 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن يونس قال ثنا أبو بكر بن عياش عن مطرف عن أبي الجهم عن البراء بن عازب قال ضلت إبل لي فخرجت في طلبها فإذا الخيل قد أقبلت فلما رأى أهل الماء الخيل انضموا إلي وجاءوا إلى خباء من تلك الأخبية فاستخرجوا منها رجلا فضربوا عنقه قالوا هذا رجل أعرس بامرأة أبيه فبعث إليه رسول الله صلى الله عليه و سلم فقتله قال أبو جعفر فذهب قوم إلى من تزوج ذات محرم منه وهو عالم بحرمتها عليه فدخل بها أن حكمه حكم الزاني وأنه يقام عليه حد الزنا الرجم أو الجلد واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وممن قال بهذا القول أبو يوسف ومحمد رحمهما الله وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجب في هذا حد الزنا ولكن يجب فيه التعزير والعقوبة البليغة وممن قال بذلك أبو حنيفة وسفيان الثوري رحمهما الله

ابو جہم نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ کہتے ہیں کہ میرے اونٹ گم ہو گئے تو میں ان کی تلاش میں نکلا ۔ اچانک میں نے گھوڑے آتے ہوئے دیکھے ۔ جب پانی والوں نے گھوڑوں کو دیکھا تو وہ میری سمت آئے اور ان خیموں میں اک کے پاس آئے اور ان میں سے ایک ادمی کو نکالا اور اس کی گردن اڑا دی اور کہنے لگے یہ وہ شخص ہے جس نے اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کر لی تھی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف یہ دستہ بھیج کر اس کو قتل کر ا دیا ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جو شخص اپنے باپ کی منکوحہ سے شادی کر لے اور اس کو اس کی حمرت کا علم بھی ہو۔ پھر اس سے جماع کیا۔ اس کا حکم زانی جیسا ہے زانی کی حد اس پر قائم کی جائے گی یعنی سنگسار یا کوڑے لگانا۔ انہوں نے مندرجہ بالا آثار کو دلیل بنایا یہ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ اور محمد رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے اور ان سے اختلاف کرتے ہوئے دوسروں نے کہا ہے کہ یہ نکاح کرنے والے پر زانی کی حد نہ لگے گی۔ مگر تعزیر لازم ہے اور زبردست سزا دی جائے گی۔ ( جو حد سے کم ہو ) یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي الْجَهْمِ ← مُطَرِّفٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4782

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4783

4520 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه عن محمد عن أبي يوسف عن أبي حنيفة بذلك

ابو یوسف نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے یہ روایت نقل کی ہے ۔

أبي حنيفة بذلك ← أَبِي يُوسُفَ ← مُحَمَّدٍ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4783

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4784

4521 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال سمعت سفيان يقول في رجل تزوج محرم منه فدخل بها قال لا حد عليه وكان من الحجة على الذين إحتجوا عليهما بما ذكرنا أن في تلك الآثار أمر النبي صلى الله عليه و سلم بالقتل وليس فيها ذكر الرجم ولا ذكر إقامة الحد وقد أجمعوا جميعا أن فاعل ذلك لا يجب عليه قتل إنما يجب عليه في قول من يوجب عليه الحد عليه الرجم إن كان محصنا فلما لم يأمر النبي صلى الله عليه و سلم الرسول بالرجم وإنما أمره بالقتل ثبت بذلك أن ذلك القتل ليس بحد للزنا ولكنه لمعنى خلاف ذلك وهو أن ذلك المتزوج فعل ما فعل من ذلك على الاستحلال كما كانوا يفعلون في الجاهلية فصار بذلك مرتدا فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يفعل به ما يفعل بالمرتد وهكذا كان أبو حنيفة وسفيان رحمهما الله يقولان في هذا المتزوج إذا كان أتى في ذلك على الاستحلال أنه يقتل فإذا كان ليس في هذا الحديث ما ينفي ما يقول أبو حنيفة وسفيان لم يكن فيه حجة عليهما لأن مخالفهما ليس بالتأويل أولى منهما وفي ذلك الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عقد لأبي بردة الراية ولم تكن الرايات تعقد إلا لمن أمر بالمحاربة والمبعوث على إقامة حد الزنا غير مأمور بالمحاربة وفي الحديث أيضا أنه بعثه إلى رجل تزوج امرأة أبيه وليس فيه أنه دخل بها فإذا كانت هذه العقوبة وهي القتل مقصودا بها إلى المتزوج لتزوجه دل ذلك أنها عقوبة وجبت بنفس العقد لا بالدخول ولا يكون ذلك إلا والعاقد مستحل لذلك فإن قال قائل فهو عندنا على أنه تزوج ودخل بها قيل له وهو عند مخالفك على أنه تزوج واستحل فإن قال ليس للاستحلال ذكر في الحديث قيل له ولا للدخول ذكر في الحديث فان جاز ان تحمل معنى الحديث على دخول مذكور في الحديث جاز لخصمك أن يحمله على استحلال غير مذكور في الحديث وقد روي في ذلك حرف زائد على ما في الآثار الأول

ابونعیم نے سفیان سے روایت کی ہے کہ اس آدی کے متعلق جس نے ذی رحم محرم سے شادی کر کے اس سے جماع کیا ہوا تو اس پر حد نہیں لگے گی اور ان دلائل سے جو انہوں نے دونوں کے خلاف قائم کئے ہیں ان میں یہ آثار ہیں۔ ان آثار مذکورہ میں جناب رسول اللہ ﷺ نے قتل کا حکم فرمایا ہے اس میں نہ رجم کا تذکرہ ہے اور حد کے قائم کرنے کا تذکرہ ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ محرم سے نکاح کے مرتکب پر قتل لازم ہیں جو لوگ حد کو لازم کرتے ہیں ان کے ہاں تو رجم چاہیے جبکہ وہ شادی شدہ ہو تو جناب نبی اکرم ﷺ نے رجم کا حکم نہیں فرمایا بلکہ قتل کا حکم دیا تو اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ قتل حد زنا کی وجہ سے نہ تھا۔ بلکہ اس کی کوئی اور وجہ تھی اور وہ وجہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی یہ ہے کہ شادی کرنے والے نے اس فعل کو حلال سمجھ کر کیا جیسا کہ جاہلیت میں وہ لوگ کرتے تھے حلال سمجھنے سے مرتد ہوگیا۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے ساتھ مرتد والا معاملہ فرمایا اور روایت میں تو ایک بات بھی ایسی نہیں ہے جو امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی تاویل کے خلاف ہو اور ان کے خلاف حجت بن سکے اور رہی فریق اول کی تاویل تو وہ اس تاویل سے اولی نہیں۔ اس روایت میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ ”عقد لابی بردة الرایۃ" حالانکہ جھنڈے تو کفار سے محاربہ کے لئے باندھے جاتے تھے اور زانی کو حدلگانے کے لئے جو شخص جائے وہ محاربہ کے لئے تو نہیں جاتا۔ اس روایت میں یہ ہے کہ اس نے والد کی بیوی سے شادی کی ہے اس میں جماع کا تذکرہ نہیں۔ جب یہ سزائے قتل محرم سے فقط شادی کرنے والے کے لئے ہے تو یہ اس بات کی واضح دلالت ہے کہ یہ بطور عقوبت ہے جو نفس عقد سے لازم ہو جاتی ہے دخول سے متعلق نہیں اور یہ اتنی بڑی سزا تبھی ہوسکتی ہے جبکہ عقد کرنے والا اس کو حلال سمجھ کر کرے اگر کوئی معترض کہے کہ فریق ثانی کے ہاں یہ شادی کرنے اور اس سے جماع کرنے پر موقوف ہے۔ تو ان کو جواب میں کہا جائے گا یہ بات بلاشبہ ہمارے ہاں ہے مگر اس صورت میں جبکہ وہ اس کو حلال سمجھ کر کرنے والا ہو۔ اگر کوئی معترض کہے کہ جناب حدیث میں تو حلال قرار دینے کا تذکرہ نہیں ملتا۔ تو اس کو کہا جائے گا کہ حدیث میں جس طرح دخول کا تذکرہ نہیں اسی طرح حلال قراردینے کا بھی تذکرہ نہیں۔ پس اگر حدیث کے معنی میں دخول غیر ذکور ہونے کے باوجود مراد لینا درست ہے۔ تو فریق ثانی کو حلال قرار دینے کامعنی غیر مذکور ہونے کی وجہ سے مراد لینا کیونکر درست نہیں۔ اس روایت میں دیگر روات سے مزید الفاظ بھی وارد ہوئے ہیں۔

سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4784

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4785

4522 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا عبد الله بن عمرو عن زيد بن أبي أنيسة عن جابر الجعفي عن يزيد بن البراء عن أبيه قال لقي خاله ومعه راية فقلت له إلى أين تذهب فقال بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى رجل نكح امرأة أبيه أن أقتله وآخذ ماله وقد روي نحو ذلك أيضا عن غير البراء ما

جابر جعفی نے یزید بن براء سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میرے والد اپنے ماموں سے اس حالت مٰن ملے کہ ان کے ہاتھ میں جھنڈا تھا انہوں نے پوچھا آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ تو انہوں نے بتلایا کہ مجھے جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے مجھے اس کے قتل کا حکم فرمایا اور اس کے مال لینے کا حکم دیا ہے ۔

أَبِيهِ ← يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4785

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4786

4523 - حدثنا محمد بن علي بن داود وفهد ومحمد بن الورد قالوا حدثنا يوسف بن منازل الكوفي قال ثنا عبد الله بن إدريس عن خالد بن أبي كريمة عن معاوية بن قرة عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم بعث جده معاوية إلى رجل عرس بامرأة أبيه أن يضرب عنقه ويخمس ماله فلما أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذين الحديثين بأخذ مال المتزوج وتخميسه دل ذلك أن المتزوج كان بتزوجه مرتدا محاربا فوجب أن يقتل لردته وكان ماله كمال الحربيين لأن المرتد الذي لم يحارب كل قد أجمع في أخذ ماله على خلاف التخميس فقال قوم وهم أبو حنيفة وأصحابه رحمهم الله ومن قال بقولهم ماله لورثته من المسلمين وقال مخالفوهم ماله كل فئ ولا تخميس فيه لأنه لم يوجف عليه بخيل ولا ركاب ففي تخميس النبي صلى الله عليه و سلم مال المتزوج الذي ذكرنا دليل على أنه قد كانت منه الردة والمحاربة جميعا فانتفى بما ذكرنا أن يكون على أبي حنيفة وسفيان رحمهما الله في ذلك الحديث حجة فإن قال قائل فقد رأينا ذلك النكاح نكاحا لا يثبت فكان ينبغي إذا لم يثبت أن يكون في حكم ما لم ينعقد فيكون الواطىء عليه كالواطىء لا على نكاح فيحد قيل له إن كان ذلك كذلك فلم كان سؤالك إيانا ما ذكرت ذكر التزويج كان ينبغي أن تقول رجل زنى بذات محرم منه فإن قلت ذلك كان جوابنا لك ان نقول عليه الحد وإن أطلقت أسم التزوج وسميت ذلك النكاح نكاحا وإن لم يكن ثابتا فلا حد على واطىء على نكاح جائز ولا فاسد وقد رأينا عمر بن الخطاب رضي الله عنه قضى في المتزوج في العدة التي لا يثبت فيها نكاح الواطئ على ذلك ما يدل على خلاف مذهبك وذلك أن إبراهيم بن مرزوق

معاویہ بن قرہ نے اپنے والد سے نقل کیا انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺسے نقل کیا ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے میرے دادا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا جس نے اپنے والد کی بیوی سے نکاح کرلیا تھا کہ اس کی گردن اڑادیں اور اس کے مال کا پانچواں حصہ لے لیں۔ جب ان دونوں روایات میں جناب رسول اللہ ﷺ نے شادی کرنے کا ، مال لینے اور اس کا پانچواں حصہ نکالنے کا حکم فرمایا تو اس سے پردلالت مل گئی کہ جب ان دونوں روایات سے معلوم ہورہا ہے کہ شادی کرنے والے نے یہ حلال قرار دے کر کیا جس سے وہ مرتد و محارب بن گیا تو اس کا قتل ارتدادکی وجہ سے لازم آیا اور اس کا مال حربی کے مال کی شکل ہوگیا کیونکہ وہ مرتد جومحارب نہ ہو۔ تمام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس کا مال لیا جائے گا پانچویں حصے میں اختلاف ہے۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب نے کہا کہ اس کا مال اس کے مسلمان ورثاء کو ملے گا۔ فریق اول کا قول یہ ہے اس کا مال فئی کے حکم میں ہے اور اس میں سے خمس نہ لیا جائے گا کیونکہ اس پرگھوڑے اور اونٹوں سے چڑھائی کی ضرورت نہیں پڑی۔ پس نکاح کرنے والے کے مال سے جناب رسول اللہ ﷺ کا خمس وصول کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ وہ مرتد ومحارب تھا گزشتہ سطور میں ہم نے جو ذکر کیا اس سے اس بات کی نفی ہوئی کہ یہ روایت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف حجت ہے۔ جب یہ نکاح ثابت نہیں ہوتا تو مناسب یہ ہے کہ ثابت نہ ہونے کی وجہ سے اس نکاح کے حکم میں ہو جو سرے سے منعقد نہیں ہوتا۔ پس اس صورت میں وطی کرنے والا ایسا ہوگا جیسا اس نے نکاح کے بغیر وطی کی ہے اور (بلانکاح وطی زنا ہے ) اس کی سزاتو حد ہے۔ اگر بات اسی طرح ہے جیسا آپ فرماتے ہیں تو آپ کے سوال میں تزویج کالفظ کیوں لایا گیا۔ پھر تو آپ کو کہنا چاہئے تھا کہ جو محرم رشتہ دارسے زنا کرے اگرتم یہ سوال کرتے تو جواب حد ہی ہوتا اور جب تم نے اس پر نکاح کالفظ بولا ہے اور اس کو نکاح قرار دیتے ہوتو خواه وہ ثابت نہ ہو مگر نکاح کرنے والے پرحد نہیں ہونی چاہئے خواہ نکاح نافذ ہو یا فاسد۔ جناب عمر رضی اللہ عنہ نے عدت میں نکاح کرنے والے کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا جو آئندہ سطور میں مذکور ہے۔ عدت میں نکاح ثابت نہیں ہوتا۔ وہ فیصل فریق اول کے مذہب کے خلاف ہے۔ ملاحظہ ہو۔

أَبِيهِ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← خَالِدِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يوسف بن منازل الكوفي ← محمد بن علي بن داود وفهد ومحمد بن الورد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4786

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4787

4524 - حدثنا قال ثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب قال ثنا مالك عن بن شهاب عن سعيد بن المسيب وسليمان بن يسار أن طليحة نكحت في عدتها فأتي بها عمر بن الخطاب فضربها ضربات بالمخفقة وضرب زوجها وفرق بينهما وقال أيما أمرأة نكحت في عدتها فرق بينها وبين زوجها الذي نكحت ثم إعتدت بقية عدتها من الأول ثم إعتدت من الآخر وإن كان دخل بها الآخر ثم لم ينكحها أبدا وإن لم يكن دخل بها إعتدت من الأول وكان الآخر خاطبا من الخطاب

سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار نے نقل کیا کہ طلیحہ نے ایک عورت کی عدت میں اس سے نکاح کیا اس عورت کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے اس عورت کو درہ سے خفیف ضربات لگائیں اور اس کے خاوند کی بھی مرمت کی اور ان کے درمیان تفریق کردی اور فرمایا جو عورت اپنی عدت میں نکاح کرے ۔ اس کے اور اس کے خاوند میں تفریق کر دی جائے گی جس نے اس سے اب نکاح کیا ہے پھر وہ عورت اپنے پہلے خاوند کی بقیہ عدت گزارے گی پھر دوسرے کی عدت گزارے گی اگر اس دوسرے نے اس سے جماع کیا ہے تو پھر وہ اس سے کبھی بھی نکاح نہ کرے اور اگر اس نے اس سے جماع نہیں کیا تو فقط پہلے خاوند کی عدت گزارے اور دوسرا خاوند اب صرف پیغام نکاح دینے والوں میں شمار ہو گا۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4787

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4788

4525 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

یونس نے ابن شہاب سے نقل کیا پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت ذکر کی ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4788

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 5 باب من تزوج امرأة أبيه أو ذات محرم منه فدخل بها ) · حديث 4789

4526 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا هشام بن أبي عبيد الله عن قتادة عن سعيد بن المسيب أن رجلا تزوج أمرأة في عدتها فرفع إلى عمر فضربها دون الحد وجعل لها الصداق وفرق بينهما وقال لا يجتمعان أبدا قال وقال علي رضي الله عنه إن تابا وأصلحا جعلتهما مع الخطاب أفلا ترى أن عمر رضي الله عنه قد ضرب المرأة والزوج المتزوج في العدة بالمخفقة فاستحال أن يضربهما وهما جاهلان بتحريم ما فعلا لأنه كان أعرف بالله عز و جل من أن يعاقب من لم تقم عليه الحجة فلما ضربهما دل ذلك أن الحجة قد كانت قامت عليهما بالتحريم قبل أن يفعلا ثم هو رضي الله عنه لم يقم عليهما الحد وقد حضره أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فتابعوه على ذلك ولم يخالفوه فيه فهذا دليل صحيح أن عقد النكاح إذا كان وإن كان لا يثبت وجب له حكم النكاح في وجوب المهر بالدخول الذي يكون بعده وفي العدة منه وفي ثبوت النسب وما كان يوجب ما ذكرنا من ذلك فيستحيل أن يجب فيه حد لأن الذي يوجب الحد هو الزنا والزنا لا يوجب ثبوت نسب ولا مهر ولا عدة فإن قال قائل إن هذا الذي ذكرت من وطئ ذات المحرم منه على النكاح الذي وصفته وإن لم يكن زنا فهو أغلظ من الزنا فأحرى أن يجب فيه ما يجب في الزنا قيل له قد أخرجته بقولك هذا من أن يكون زنا وزعمت أنه أغلظ من الزنا وليس ما كان مثل الزنا أو ما كان أعظم من الزنا من الأشياء المحرمة يجب في إنتهاكها من العقوبات ما يجب في الزنا لأن العقوبات إنما تؤخذ من جهة التوقيف لا من جهة القياس ألا ترى أن الله عز و جل قد حرم الميتة والدم ولحم الخنزير كما حرم الخمر وقد جعل على شارب الخمر حدا لم يجعل مثله على أكل لحم الخنزير ولا على أكل لحم الميتة وإن كان تحريم ما أتى به كتحريم ما أتى ذلك وكذلك قذف المحصنة جعل الله فيه جلد ثمانين وسقوط شهادة القاذف وإلزام أسم الفسق ولم يجعل ذلك فيمن رمى رجلا بالكفر والكفر في نفسه أعظم وأغلظ من القذف فكانت العقوبات قد جعلت في أشياء خاصة ولم يجعل في أمثالها ولا في أشياء هي أعظم منها وأغلظ فكذلك ما جعل الله تعالى من الحد في الزنا لا يجب به أن يكون واجبا فيما هو أغلظ من الزنا فهذا الذي ذكرنا في هذا الباب هو النظر وهو قول أبي حنيفة وسفيان رحمهما الله تعالى

قتادہ نے سعید بن المسیب سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت سے اس کی عدت کے دوران نکاح کیا اس کا قضیہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لایا گیا آپ نے اس عورت کو حد سے کم درے لگائے اور اس کا مہر ادا کرایا اور ان کے درمیان تفریق کر دی اور فرمایا۔ یہ دونوں ہر گز جمع نہیں ہو سکتے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر وہ دونوں توبہ کر کے درستی کرلیں تو میں ان دونوں کو پیغام نکاح دینے والوں میں سے شمار کروں گا۔ (یعنں ان کا نکاح درست ہوگا ) کیا تم غور نہیں کرتے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو اور اس شخص کو جس نے دوران عدت نکاح کیا تھا۔ ہلکے درے لگائے اور یہ بات ناممکن ہے کہ آپ ان کو اس صورت میں درے لگائیں جبکہ وہ اس فعل کے حرام ہونے سے لاعلم ہوں۔ اس لئے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ الله تعالی سے بہت ڈرنے والے اورتقوی والے تھے وہ دلیل کے قیام کے بغیر ی کسی کوسزادینے والے نہ تھے تو جب آپ نے ان کو سزادی تو معلوم ہوا کہ اس سے پہلے ان دونوں کے متعلق حرمت کی دلیل قائم ہو چکی تھی تبھی آپ نے ان پر حد قائم فرمائی اور جب حد قائم کی تو اس وقت صحابہ کرام بھی موجود تھے انہوں نے بھی آپ کی مخالفت نہیں کی بلکہ اتباع کی ۔ تو یہ اس بات کی صحیح دلیل ہے کہ جب عقد نکاح ہواگر چہ وہ ثابت نہ ہو مگر اس کا حکم نکاح کا ہی ہوگا یعنی اس میں جماع سے مہر لازم ہوجائے گا اور اس کی عدت بھی گزارنی پڑے گی اور اگر حمل ٹھہر گیا تو اس سے نسب بھی ثابت ہوجائے گا تو جس عمل سے یہ مذکورہ چیزیں ثابت ہورہی ہوں اس میں حدکا واجب ہونا محال ہے کیونکہ حد تو زنا سے واجب ہوتی ہے اور اس سے نسب مہراور عدت میں سے کوئی چیز بھی ثابت نہیں ہوتی۔ محرم سے وطی والی بات جس کا آپ نے تذکرہ کیا اگرچہ زنا نہ بھی شمار ہولیکن بی تو زنا سے بھی بدتر ہے تو کیا مناسب نہیں کہ جو زنا کی صورت میں سزا واجب ہوتی ہے وہی اس پربھی واجب ہو ۔ تو اس کے جواب میں کہے کہ آپ نے اپنے بقول اس کو زنا سے خارج کر دیا اب رہا یہ خیال کہ یہ زنا سے بدتر ہے تو اس کی سزازنا جیسی تو ہونی چاہے تو وہ حرام امور جن کی خلاف ورزی پر سزادی جاتی ہے خواہ وہ عمل زنا کی طرح ہوں یا اس سے بڑے ہوں تو ان کی سزاوہ نہیں ہوتی جو سزا زنا کی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سزائیں تو توقیفی ہیں وہ قیاس سے ثابت نہیں ہوتیں۔ ذراغور کرو! کہ الله تعالی نے مردار ، خون ، خنزیر کے گوشت کو اسی طرح حرام قرار دیا جس طرح شراب کو حرام قرار دیاگر شراب نوشی کرنے والے پروہ سزا مقررفرمائی جو خنزیر کا گوشت اور مردار کھانے والے پرمقرر نہیں فرمائی ۔ اگر اس کی حرمت بھی اس کی حرمت کی طرح ہے۔ اسی طرح پاک دامن عورت پرزناک الزام لگانے کی سزا الله تعالی نے اسی درے مقررفرمائی ہے اور اس کی گواہی کو غیرمقبول قرار دیا اور اس کا نام فاسق رکھا جبکہ کوئی آدمی کسی کو کافر کہے تو اس کی یہ سزا نہیں ہے۔ حالانکہ ذات کے لحاظ سے کفر قذف سے بڑا گناہ ہے اور زیادہ برا ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ بعض معاملات میں خاص سزائیں مقررکی گئیں جو ان جیسے دوسرے معاملات میں نہیں رکھی گئیں اور نہ ہی ان سے بڑے اور زیادہ برے گناہوں میں رکھی گئیں ہیں اسی طرح الله تعالی نے زنا کے سلسلہ میں جو حد مقررفرمائی وہ زنا سے زیادہ برے عمل میں واجب نہ ہوگی۔ یہ جو کچھ ہم نے ذکر کیا قیاس کا یہی تقاضا ہے اور امام ابوحنیفہ اور سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک یہی ہے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← هشام بن أبي عبيد الله ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4789

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter