شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 23 باب الرجل يصبح في يوم من شهر رمضان جنبا هل يصوم أم لا ) · حديث 3372
3200 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا أخبره عن سمى مولى أبى بكر أنه سمع أبا بكر بن عبد الرحمن يقول كنت أنا وأبى عند مروان بن الحكم وهو أمير المدينة فذكر أن أبا هريرة رضي الله عنه كان يقول من أصبح جنبا أفطر ذلك اليوم فقال مروان أقسمت عليك لتذهبن الى أم المؤمنين عائشة وأم سلمة رضي الله عنهما فتسألهما عن ذلك قال فذهب عبد الرحمن وذهبت معه حتى دخلنا على عائشة رضي الله عنها فسلم عليها عبد الرحمن ثم قال يا أم المؤمنين انا كنا عند مروان فذكر له أن أبا هريرة رضي الله عنه كان يقول من أصبح جنبا أفطر ذلك اليوم فقالت عائشة رضي الله عنها بئس ما قال أبو هريرة يا عبد الرحمن أترغب عما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعل فقال لا والله قالت فأشهد على رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان يصبح جنبا من جماع غير احتلام ثم يصوم ذلك اليوم قال ثم خرجنا حتى دخلنا على أم سلمة رضي الله عنها فسألها عن ذلك فقالت كما قالت عائشة رضي الله عنها فخرجنا حتى جئنا الى مروان فذكر له عبد الرحمن ما قالتا فقال مروان أقسمت عليك يا أبا محمد لتركبن دابتي فإنها بالباب فلتذهبن الى أبى هريرة رضي الله عنه بأرضه بالعقيق فلتخبرنه بذلك فركب عبد الرحمن وركبت معه حتى أتينا أبا هريرة رضي الله عنه فتحدث معه عبد الرحمن ساعة ثم ذكر ذلك له فقال أبو هريرة رضي الله عنه لاعلم لي بذلك إنما أخبرنيه مخبر
سمیمی مولی ٰبن ابی بکر بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن کو کہتے سنا کہ میں اور میرے والد دونوں مروان بن حکم ، حاکم مدینہ کے ہا ں تھے اس کے ہاں یہ تذکرہ چلا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ جس نے صبح صادق جنابت کی حالت میں کی اس کا روزہ نہ ہوگا مروان نے کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم دونوں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ہاں جاؤ اور ان دونوں سے اس کے متعلق پوچھ کر آؤ۔ چنانچہ عبدالرحمان گئے اور میں بھی ان کے ساتھ گیا ہم دونوں عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں پہنچے اور عبدالرحمان نے سلام پیش کیا پھر کہا ۔ اے ام المومنین ! ہم مروان کے ہاں تھے ان کے ہاں ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی یہ بات ذکر کی گئی کہ جس نے جنابت کی حالت میں صبح کی سب کا روزہ درست نہیں ہوتا ۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا اے عبدالرحمن! ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے غلط کہا، کیا تم اس سے اعراض کرو گے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے ؟ عبدالرحمان نے جواب دیا نہیں ۔اللہ کی قسم ! وہ کہنے لگیں میں گواہی دیتی ہوں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، جماع اہل کے ساتھ جنابت کی حالت میں صبح نہ کرتے نہ کہ احتلام سے پھر آپ اس دن کا روزہ اسی حالت میں رکھتے ۔ عبد الرحمان کہتے ہیں پھر وہاں سے نکلے اور ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں پہنچے اور ان سے اس سلسلے میں دریافت کیا تو انہوں نے وہی کہا جو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا تھا .پھر ان کے ہاتھ سے نکل کر ہم مروان کے پاس آئے اور عبد الرحمن نے امہا ت المومنین کا قول اس کے سامنے نقل کیا ۔ تو مروان نے کہا ۔کہ ابو محمد میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم میرے گھوڑے پر سوار ہو جاؤ او وہ دروازہ کے باہر موجود ہے اور مقام عقیق میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی زمین پر جاکر ان کو اس بات کی اطلاع دو ۔چنانچہ عبدالرحمن سوار ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ سوار ہوا یہاں تک کہ ہم ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں آئے عبدالرحمان نے پہلے ان سے کچھ دیر باتیں کیں پھر ان کے سامنے اس مسئلہ کا تذکرہ کیا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے مجھے اس بات کا علم نہیں مجھے تو بتلانے والے نے بتلایا ہے ۔
بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3372
