Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3483

3300 - حدثنا أبو بكرة بكار بن قتيبة قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا أبى قال سمعت قيس بن سعد يحدث عن عطاء عن صفوان بن يعلى بن أمية عن أبيه أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم بالجعرانة وعليه جبة صوف وهو مصفر لحيته ورأسه فقال يا رسول الله انى قد أحرمت وأنا كما ترى فقال أنزع عنك الجبة واغسل عنك الصفرة وما كنت صانعا في حجك فاصنعه في عمرتك فذهب قوم الى هذا الحديث فكرهوا به التطيب عند الإحرام وقالوا بما روى عن عمر بن الخطاب وعثمان بن عفان رضي الله عنهما

عطا ء نے صفوان بن یعلی بن امیہ سے انہوں نے اپنے والد سے بیان کیا کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت آیا جب آپ جعرانہ میں تھےاس نے اونی جبہ پہن رکھا تھا اور اس کی ڈاڑھی اور سر پر زرد رنگ تھا کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں احرام باندھنا چاہتا ہوں اور میری حالت آپ دیکھ رہے ہیں آپ نے فرمایا جبہ اتا رواور زردی کو دھو ڈالو اور جو حج میں کیا جاتا ہے وہی عمرہ میں کرو یعنی احرام باندھ کرطواف و سعی ۔ بعض علما ء نے اس روایت کو اختیار کرتے ہوئے احرام کے وقت خوشبو کو مکروہ قرار دیا ہے اور انہوں نے حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی روایات کو اختیار کرتے ہیں۔

صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أبو بكرة بكار بن قتيبة

Hadith 3483

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3484

3301 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا وهب بن خالد عن أيوب عن نافع عن بن عمر أن عمر بن الخطاب رضي الله عنهما وجد ريح طيب وهو بذي الحليفة فقال ممن هذه الريح الطيبة فقال معاوية منى فقال عمر منك لعمرى منك لعمرى فقال معاوية لا تعجل على يا أمير المؤمنين إن أم حبيبة رضي الله عنها طيبتني وأقسمت على فقال له عمر رضي الله عنه وأنا أقسمت عليك لترجعن إليها فتغسله عندها فرجع إليها فغسله فلحق الناس بالطريق

نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے ذو الحلیفہ میں خوشبو کی مہک محسوس کی آپ نے فرمایا یہ پاکیزہ خوشبو کد ھر سے آرہی ہے تو معاویہ کہنے لگے مجھ سے آرہی ہے تو عمر کہنے لگے میری عمر کی قسم تجھ سے ، تجھ سے ۔ تو معاویہ کہنے لگے اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالی عنہ ! جلدی مت کرو۔ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہ ام المومنین نے مجھے خوشبو لگائی ہے اور مجھے قسم دی ہے عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ضرور واپس لوٹ کر انہی کے ہاں اس کو دھو کر آؤ جناب معاویہ ان کے پاس لوٹ کر گئے اور اس کو دھو کر پھر لوگوں سے راستے میں آملے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← وَهْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 3484

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3485

3302 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أيوب فذكر بإسناده مثله

حجاج نے حماد سے انہوں نے ایوب سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے

أيوب فذكر بإسناده مثله ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 3485

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3486

3303 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن نافع عن أسلم عن عمر رضي الله عنهما مثله

مالک نے نافع سے انہوں نے اسلم سے انہوں نے عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اسی طرح روایت نقل کی ہے

عُمَرَ مِثْلَهُ. ← أَسْلَمُ ← نَافِعٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 3486

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3487

3304 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن نافع عن أسلم عن عمر رضي الله عنه مثله

نافع نے اسلم سے انہوں نے عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے

عُمَرَ مِثْلَهُ. ← أَسْلَمُ ← نَافِعٍ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Hadith 3487

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3488

3305 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن سعد بن إبراهيم عن أبيه قال كنت مع عثمان رضي الله عنه بذي الحليفة فرآى رجلا يريد أن يحرم وقد دهن رأسه فأمر به فغسل رأسه بالطين وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بالتطيب عند الإحرام بأسا فقالوا أما حديث يعلى فلا حجة فيه لمن خالفنا وذلك أن الطيب الذي كان على ذلك الرجل إنما كان صفرة وهو خلوق فذلك مكروه للرجل لا للإحرام ولكنه لأنه مكروه في نفسه في حال الإحلال وفي حال الإحرام وانما أبيح من الطيب عند الإحرام ما هو حلال في حال الإحلال وقد روى عن يعلى ما بين أن ذلك الذي أمر النبي صلى الله عليه و سلم ذلك الرجل بغسله كان خلوقا

اعد بن ابراہیم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے ساتھ ذوالحلیفہ میں تھا انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ سر پر تیل لگائے ہوئے احرام باندھنے کا ارادہ کر رہا ہے ۔ حضرت عثمان نے اس کو مٹی کے ساتھ سرد ھونے کا حکم دیا (تاکہ چکناہٹ کے اثرات ختم ہو جائیں ) اس نے مٹی سے اپنا سرد ھو یا۔ مگر دیگر علما ء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے احرام کے وقت خوشبو میں کوئی حرج قرار نہیں دیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت یعلی رضی اللہ تعالی عنہ والی روایت میں قول اول کے قائلین کے حق میں کوئی دلیل نہیں ۔ کیوں کہ اس شخص نے تو زرد رنگ کی خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی ۔اور وہ مرد مرد کے لیے ویسے ہی حرام ہے ۔احرام کی وجہ سے ممنوع نہیں وہ مطلق طور پر مرد کے لیے ناجائز ہے خواہ حالت احرام ہو یا نہ ۔ احرام کے وقت وہ خوشبو درست ہے جو غیر احرام کی حالت میں جائز ہو ۔ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ وہ خوشبو جس کو دھونے کا حکم دیا وہ خلوق تھی جیسا کہ ذیل کی روایت میں ہے۔

أَبِيهِ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Hadith 3488

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3489

3306 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن زريع قال ثنا سعيد بن أبي عروبة عن مطر الوراق عن عطاء عن يعلى بن منية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رآى رجلا لبى بعمرة وعليه جبة وشئ من خلوق فأمره أن ينزع الجبة ويمسح خلوقه ويصنع في عمرته ما يصنع في حجته

عطا نے یعلی بن منیہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ عمرے کا تلبیہ کہہ رہا ہے اور اس نے جبہ بھی پہن رکھا ہے اور کچھ خلو ق بھی لگا رکھی ہے پس آپ نے اسے جبہ اتارنے اور خلوق کو پونچھنے کا حکم فرمایا اور یہ حکم فرمایا وہ اپنے عمرہ میں اسی طرح کرے جیسا حج میں کرتے ہیں یعنی احرام وغیرہ باندھےجیسے حج میں باندھتے ہیں۔

يعلى بن منية، ← عَطَاءٍ، ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Hadith 3489

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3490

3307 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني الليث أن عطاء بن رباح حدثه عن يعلى بن منية عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

عطا ء نے یعلی بن منیہ سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِيهِ ← يعلى بن منية، ← الليث أن عطاء بن رباح ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 3490

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3491

3308 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا حبان بن هلال قال ثنا همام قال ثنا عطاء عن صفوان بن يعلى بن أمية عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه قال واغسل عنك أثر الخلوق أو الصفرة

عطاء نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ یہ الفاظ زائد ہیں۔ اپنے سے زردی یا خلو ق کا اثر دھو ڈال۔

واغسل عنك أثر الخلوق أو الصفرة ← النبي صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه ← أَبِيهِ ← صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ← عَطَاءٍ، ← هَمَّامٌ، ← حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ1، ← بن مرزوق

Hadith 3491

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3492

3309 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا عبد الملك ومنصور وابن أبى ليلى عن عطاء عن يعلى بن أمية أن رجلا جاء الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني أحرمت وعلى جبتى هذه وعلى جبته ردوع من خلوق والناس يسخرون منى فأطرق عنه ساعة ثم قال اخلع عنك هذه الجبة واغسل عنك هذا الزعفران واصنع في عمرتك ما كنت صانعا في حجتك فبينت لنا هذه الآثار أن ذلك الطيب الذي أمره النبي صلى الله عليه و سلم بغسله كان خلوقا وذلك منهى عنه في حال الإحلال وحال الإحرام فيجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد بأمره إياه بغسله لما كان من نهيه أن يتزعفر الرجل لا لأنه طيب تطيب به قبل الإحرام ثم حرمه عليه الإحرام فأما ما روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في نهيه الرجال عن التزعفر

عطاءنے یعلی بن امیہ سے نقل کیا کہ ایک شخص جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے احرام باندھا ہے اور میں نے یہ جبہ پہن رکھا ہے اور میرا جبہ زعفران لت پت ہے اور لوگ مجھ سے تمسخر کرتے ہیں آپ نے اس سے تھوڑی دیر کے لئے سر جھکا یا پھر فرمایا اپنے جبہ کو اتار دو اور اپنے سے یہ زعفران دھو ڈالو اور اپنے عمرہ میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو ( یعنی احرام، طواف، سعی ) ہمیں ان آثار نے واضح کردیا کہ وہ خوشبو جس کو دھونے کا حکم فرمایا وہ خلوق تھی ۔یہ خوشبو تو احرام اور غیر احرام ہر دو حالت میں ممنوع ہے ۔ تو یہ عین ممکن ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دھونے کا حکم اس لئے دیا ہو کہ مرد کو زعفران لگانے کی ممانعت فرمائی ہے ۔ اس بنا پر نہیں کہ یہ وہ خوشبو تھی جو احرام سے پہلے لگائی جاتی ہے ہے پھر احرام ام نے اس کو ناجائز بنا دیا ۔جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو لگانے سے اس طرح منع فرمایا جیسے مندرجہ روایت میں ہے۔

عَطَاءٍ، ← عبد الملك ومنصور وابن أبى ليلى ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 3492

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3493

3310 - فان بن أبى داود حدثنا قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتزعفر الرجل

عبدالعزیز بن صہیب نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد اپنے آپ کو زعفران کے رنگ میں رنگ لے۔

نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يتزعفر الرجل ← أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← فان بن أبى داود

Hadith 3493

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 5 باب التطييب عند الإحرام ) · حديث 3494

3311 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مسدد قال ثنا حماد بن زيد عن عبد العزيز بن صهيب عن أنس رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن التزعفر للرجال

عبدالعزیز بن صہیب نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کو زعفران میں لت پت ہونے سے منع فرمایا۔

التزعفر للرجال ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَنَسٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 3494

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter