Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4839

4570 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا عبد الله بن نمير قال ثنا عبد الله العمري عن نافع عن بن عمر قال قطع رسول الله صلى الله عليه و سلم في مجن قيمته ثلاثة دراهم

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کے بدلے جس کی قیمت تین درہم تھی ہاتھ کاٹا۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عبد الله العمري ← عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4839

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4840

4571 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا سعيد بن أبي عروبة عن أيوب عن نافع عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4840

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4841

4572 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا القعنبي قال ثنا مالك بن أنس عن نافع عن بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مالک بن أنس ← الْقَعْنَبِيُّ ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4841

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4842

4573 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه فذكر بإسناده مثله

ابن وہب نے مالک سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

فذكر بإسناده مثله ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4842

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4843

4574 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا بن هارون قال أخبرنا محمد بن إسحاق عن نافع عن بن عمر قال أتي النبي صلى الله عليه و سلم برجل قد سرق جحفة ثمنها ثلاثة دراهم فقطعه قال أبو جعفر فكان الذي في هذه الآثار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قطع في جحفة قيمتها ثلاثة دراهم وليس فيها أنه لا يقطع فيما هو أقل من ذلك فنظرنا في ذلك فإذا أحمد بن داود قد

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے چمڑے کی ایک ڈھال چوری کی تھی جس کی قیمت تین درہم تھی ۔ آپ نے اس کے ہاتھ کو کاٹ دیا ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ایک جحفہ چمڑے کی ڈھال جس کی قیمت تین درہم تھی ہاتھ کاٹ دیا۔ اس روایت میں یہ مذکور نہیں کہ اس سے کم مقدار چرانے میں ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا ۔ اس سے کم پر غور کے لئے یہ روایت ملاحظہ ہو۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← بن هارون ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4843

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4844

4575 - حدثنا قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا وهيب بن خالد قال ثنا صالح أبو واقد عن عامر بن سعد عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يقطع السارق إلا في ثمن المجن فعلمنا بهذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وقفهم عند قطعه في المجن على أنه لا يقطع فيما قيمته أقل من قيمة المجن فذهب قوم إلى أن السارق يقطع في هذا المقدار الذي قدره بن عمر رضي الله عنهما في ثمن المجن وهو ثلاثة دراهم ولا يقطع فيما هو أقل من ذلك وإحتجوا في ذلك بما رووه من هذا عن بن عمر رضي الله عنهما وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يقطع السارق إلا فيما يساوي عشرة دراهم فصاعدا واحتجوا في ذلك بما

عامر بن سعد نے اپنے والد سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ نے روایت کی ہے کہ چور کا ہاتھ نہ کاٹا جائے مگر جبکہ اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ جناب رسول اللہ ﷺ ڈھال کی قیمت پر ہاتھ کاٹنے کو موقوف کیا ہے اور اس سے کم میں ہاتھ کو کاٹا نہیں جا سکتا۔ چنانچہ علما ء کی ایک جماعت کا مذہب یہ ہے کہ چور کا ہاتھ اسی مقدار میں کاٹا جائے گا جس کا اندازہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ڈھال کی قیمت سے بتلایا ہے اور وہ مقدار تین درہم ہے اور اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹ سکتے ۔ انہوں نے مندرجہ بالا روایات سے استدلال کیا ہے کہ دس درہم سے کم قیمت کی چیز میں ہاتھ کو کاٹا نہیں جا سکتا۔ یا پھر اس سے زیادہ انہوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← صالح أبو واقد ← وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4844

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4845

4576 - حدثنا بن أبي داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قالا ثنا أحمد بن خالد الوهبي قال ثنا محمد بن إسحاق عن أيوب بن موسى عن عطاء عن بن عباس قال كان قيمة المجن الذي قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم عشرة دراهم

عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اس ڈھال کی قیمت جس میں آپ نے ہاتھ کاٹا اس کی قیمت دس درہم تھی۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← بن أبي داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4845

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4846

4577 - حدثنا بن أبي داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قالا ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده مثله

عمرو بن شعیب نے اپنے والد انہوں نے اپنے دادا سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

جَدِّهِ مِثْلَهُ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← بن أبي داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4846

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4847

4578 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد الأصبهاني قال أخبرني معاوية بن هشام عن سفيان عن منصور عن مجاهد وعطاء عن أيمن الحبشي قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أدنى ما يقطع فيه السارق ثمن المجن قال وكان يقوم يومئذ دينارا

مجاہد و عطاء نے ایمن حبشی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے کم درجہ جس میں چور کا ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے وہ ڈھال کی قیمت ہے اور اس وقت اس کا اندازہ ایک دینار سے لگایا جاتا تھا۔

أَيْمَنَ الْحَبَشِيِّ ← مُجَاهِدٍ وَعَطَاءٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4847

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4848

4579 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا شريك عن منصور عن عطاء عن أيمن بن أم أيمن عن أم أيمن قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يقطع يد السارق إلا في جحفة وقومت يومئذ على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم دينارا أو عشرة دراهم فلما اختلف في قيمة المجن الذي قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم احتيط في ذلك فلم يقطع إلا فيما قد أجمع أن فيه وفاء بقيمة المجن التي جعلها رسول الله صلى الله عليه و سلم مقدارا لا يقطع فيما هو أقل منها وهي عشرة دراهم وقد ذهب آخرون إلى أنه لا يقطع إلا في ربع دينار فصاعدا وإحتجوا في ذلك بما

عطاء نے ایمن بن ام ایمن سے انہوں نے ام ایمن رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ چمڑے کی ڈھال کے بدلے کاٹا جائے اس کی قیمت جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک دینار یا دس درہم لگائی گئی ۔ اب جب کہ اس ڈھال کی قیمت میں اختلاف ہوا جس کے بدلے میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ کاٹا تو احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ جس پر سب کا اتفاق ہے اور جس کو جناب رسول اللہ ﷺ سے کم قطع کی مقدار بتلایا اسی کو اختیار کریں گے اور وہ مقدار دس درہم ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ ربع دینار یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے اس دلیل سے استدلال کیا ہے ۔

أُمِّ أَيْمَنَ ← أيمن بن أم أيمن ← عَطَاءٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شَرِيکٍ ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4848

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4849

4580 - حدثنا يونس قال أخبرنا سفيان بن عيينة عن الزهري عن عمرة عن عائشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقطع في ربع دينار فصاعدا قيل لهم ليس هذا حجة أيضا على من ذهب إلى أنه لا يقطع إلا في عشرة دراهم لأن عائشة رضي الله عنها إنما أخبرت عما قطع فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم فيحتمل أن يكون ذلك لأنها قومت ما قطع فيه فكانت قيمته عندها ربع دينار فجعلت ذلك مقدار ما كان النبي صلى الله عليه و سلم يقطع فيه وإحتجوا في ذلك أيضا بما

زہری نے عمرہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ربع دینار یا اس سے زائد میں ہاتھ کاٹتے تھے ۔ تو ان سے کہا جائے گا یہ بھی دلیل نہیں بن سکتی جو اس طرف گئے ہیں کہ دس درہم میں ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ کاٹا پس اس میں یہ احتمال ہے کہ انہوں نے ڈھال یا چیز کی قیمت چوتھائی دینار لگائی ان کے ہاں اس کی قیمت یہی تھی ۔ اس لئے انہوں نے اسی کو ہاتھ کاٹنے کی مقدار قرار دیا۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4849

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 8 باب المقدار الذي يقطع فيه السارق ) · حديث 4850

4581 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني يونس بن يزيد عن بن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يقطع يد السارق في ربع دينار فصاعدا فقالوا هذا إخبار من عائشة رضي الله عنها عن قول النبي صلى الله عليه و سلم فدل ذلك أن ما ذكرنا عنها في الحديث الأول من قطع النبي صلى الله عليه و سلم في ربع دينار فصاعدا إنما أخذت ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مما وقفها عليه على ما في هذا الحديث لا من جهة تقويمها لما كان قطع فيه قيل لهم هذا كما ذكرتم لو لم يختلف في ذلك عنها فقد روى بن عيينة عن الزهري عن عمرة عن عائشة ما قد ذكرناه في الفصل الذي قبل هذا الفصل فكان ذلك إخبارا منها عن فعل النبي صلى الله عليه و سلم لا عن قوله ويونس بن يزيد عندكم لا يقارب بن عيينة فكيف تحتجون بما روى وتدعون ما روى بن عيينة قالوا فقد روى هذا الحديث أيضا من غير هذا الوجه عن عمرة عن عائشة كما رواه يونس بن يزيد فذكروا ما

عروہ اور عمرہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ چور کا ہاتھ چوتھائی دینار یا اس سے زائد میں کاٹا جائے گا۔ یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشادات ہیں پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ پہلی روایات میں ربع دینار یا اس سے زائد قیمت میں ہاتھ کا کاٹنا یہ بذات خود جناب رسول اللہ ﷺ سے لیا گیا جو آپ نے ان کو بتلایا اس طرح نہیں جیسے سمجھا گیا کہ جس ڈھال کے بدلے میں ہاتھ کاٹا گیا اس کی قیمت لگائی گئی ۔ ( جب آپ ﷺ سے منقول ہوا تو پھر اس میں اجتہاد کی ضرورت نہیں ) ۔ یہ بات جو آپ نے نقل کی ہے بالکل اسی طرح ہو گی اگر اس روایت میں اختلاف نہ ہو۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں ۔ زہری نے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو اس سے پہلی فصل میں ہم نے نقل کی ہے اس میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ کے فعل کی خبر دی ہے نہ کہ قول کی ۔ اس روایت کی سند میں یونس بن یزید ہے اور آپ کے ہاں بھی ابن عیینہ کے ہم پلہ تو کیا ہوتے ان کے قریب بھی نہیں پھر اس کی روایت کو تم بطور دلیل اختیار کرتے ہو اور ابن عیینہ کی روایت کو چھوڑتے ہو۔ یہ روایت دیگر طریق سے بھی مروی ہے اور وہ بھی یونس کی طرح دیگر روات سے عمرہ عن عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کی ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔ مخرمہ بن بکیر عن ابیہ ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4850

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter