شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 25 باب الرجل يدع رمي جمرة العقبة يوم النحر ثم يرميها بعد ذلك ) · حديث 3913
3701 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا بن وهب قال حدثني عمر بن قيس عن عطاء عن بن عباس رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال الراعي يرعي بالنهار ويرمي بالليل قال أبو جعفر فذهب أبو حنيفة رحمه الله إلى أن في هذا الحديث دلالة على أن الليل والنهار وقت واحد للرمي فقال إن ترك رجل رمي جمرة العقبة في يوم النحر ثم رماها بعد ذلك في الليلة التي بعده فلا شيء عليه وإن لم يرمها حتى أصبح من غده رماها وعليه دم لتأخيره إياها إلى خروج وقتها وهو طلوع الفجر من يومئذ وخالفه في ذلك أبو يوسف ومحمد رحمهم الله فقالا إذا ذكرها في شيء من أيام الرمي رماها ولا شيء عليه غير ذلك من دم ولا غيره وإن لم يذكرها حتى مضت أيام الرمي فذكرها ولم يرمها كان عليه في تركها دم واحتج محمد بن الحسن في ذلك على أبي حنيفة رحمه الله بما
عطاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول اللہﷺ نے فر مایا چر وا ہے دن کو اونٹ چرائیں اور رات کو رمی کر یں ۔امام طحاوی رحمہ اللہ کہتے ہیں ۔ کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ دلالت میسر آ رہی ہے کہ دن اور رات یہ رمی کا وقت ہے۔ اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص جمرہ عقبہ کی رمی یوم نحر کوترک کر دے پھر اس نے گیارہ کی رات کو رمی کر لی تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں اور اگر اس نے رات کو رمی نہ کی یہاں تک کہ گیارہ کی صبح ہوگئی تو اس پر ایک قربانی لا زم ہوگی کیونکہ اس نے خروج وقت تک اس کو مؤخر کر دیا اور وہ گیارہ تاریخ کی طلوع فجر ہے۔ امام ابو یوسف ومحمد رحمہ اللہ نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جب اسے یہ رمی ایام رمی میں سے کسی دن میں یا د آ گئی اور اس نے کنکریاں مارلیں تو اس پر کوئی چیز لازم نہ ہو گی بعد میں یاد آئی تو اب کنکریاں نہ مارے اس پر رمی کے ترک کی وجہ سے دم کفارہ لازم ہے ۔ انہوں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف اس روایت کو دلیل بنایا ہے۔
بْنِ عَبَّاسٍ ← عَطَاءٍ، ← عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ، ← بن وَهْبٍ ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3913
