Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1803

1709 - حدثنا بن أبى عمران قال ثنا عاصم بن على وخلف بن هشام قالا ثنا أبو عوانة ح

عاصم بن علی اور خلف بن ہشام دونوں نےا بو عوانہ سے روایت ان کی سند سے نقل کی ہے

أَبُو عَوَانَةَ، ← عاصم بن على وخلف بن هشام ← بن أبي عمران

Hadith 1803

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1804

حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو إسحاق الضرير ح

ابن مرزوق کہتے ہیں ابو اسحاق الضریر نے اپنی سند سے روایت کی ہے ۔

أبو إسحاق الضرير ← بن مرزوق

Hadith 1804

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1805

وحدثنا عبد العزيز بن معاوية قال ثنا يحيي بن حماد قال ثنا أبو عوانة

عبدالعزیز بن معاویہ نے یحییٰ بن حماد انہوں نے ابو عوانہ سے روایت نقل کی ہے ۔

أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← وحدثنا عبد العزيز بن معاوية

Hadith 1805

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1806

وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا أبو عوانة عن بكير بن الأخنس عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنه قال فرض الله عز و جل على لسان نبيكم صلى الله عليه و سلم أربعا في الحضر وركعتين في السفر وركعة في الخوف قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا الحديث فقلدوه وجعلوه أصلا فجعلوا صلاة الخوف ركعة فكان من الحجة عليهم في ذلك أن الله عز و جل قال وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة فلتقم طائفة منهم معك وليأخذوا أسلحتهم فإذا سجدوا فليكونوا من ورائكم ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا معك ففرض الله عز و جل صلاة الخوف ونص فرضها في كتابه هكذا وجعل صلاة الطائفة بعد تمام الركعة الأولى مع الإمام فثبت بهذا أن الإمام يصليها في حال الخوف ركعتين وهذا خلاف هذا الحديث ولا يجوز أن يؤخذ بحديث يدفعه نص الكتاب ثم قد عارضه عن بن عباس رضي الله عنهما غيره

مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پیغمبر صلی اللہ عیہ وسلم کی زبان سے چار رکعت حضر میں لازم کیں اور دو رکعت سفر اور خوف میں ایک رکعت لازم کی ہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے اس روایت کو اختیار کر کے اسے اصل قرار دیا اور انہوں نے نماز کوخوف کو ایک رکعت کہا ۔ ان کےخلاف اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد دلیل ہے (واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلاۃ۔) (القرآن) اور جب آپ نے ان میں ہوں اور ان کو نماز پڑھانے لگیں تو ان کی ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہو اور وہ اپنے ہتھیاروں کو تھامے رہیں ۔ پس جب وہ سجد (ثانیہ ) کر چکیں تو وہ پیچھے چلے جائیں تو دوسرا گروہ آجائے جنہوں کہ اب تک نماز نہیں پڑھی ور آپ کے ساتھ نماز پڑھ لیں (القرآن) اللہ تعالیٰ نے نماز خوف کو فرض قرر دیا اور قرآن مجید میں اس کی فرضیت اس طرح ذکر فرمائی اور اس طرح بتایا کہ ایک گروہ امام کے ساتھ پہلی رکعت کو اس طرح مکمل کر لے اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ امام حالت خوف میں دورکعت پڑھے اور یہ بات اس حدیث کے خلاف ہے اور ایسی روایت کو اختیار کرنا جائز نہیں جس کو قرآن مجید کی نص قبول نہ کرے ۔ پھر اس کے معارض حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کی روایات ہیں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← مُجَاهِدٍ ← بُکَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 1806

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1807

1710 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا قبيصة بن عقبة قال ثنا سفيان عن أبى بكر بن أبى الجهم قال حدثني عبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنهما قال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بذي قرد صلاة الخوف والمشركون بينه وبين القبلة فصف صفا خلفه وصفا موازى العدو فصلى بهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء ورجع هؤلاء الى مصاف هؤلاء فصلى بهم ركعة ثم سلم عليهم فكانت لرسول الله صلى الله عليه و سلم ركعتان ولكل طائفة ركعة قال أبو جعفر فهذا عبيد الله بن عبد الله قد روى عن بن عباس رضي الله عنهما خالف ما روى مجاهد عنه ومحال أن يكون الفرض على الإمام ركعة فيصليها بأخرى بلا قعود للتشهد ولا تسليم فلما تضاد الخبران عن بن عباس رضي الله عنهما تنافيا ولم يكن لأحد أن يحتج في ذلك بمجاهد عن بن عباس رضي الله عنهما لأن خصمه يحتج عليه بعبيد الله عن بن عباس رضي الله عنهما بخلاف ذلك فإن قالوا فقد روى عن غير بن عباس رضي الله عنهما ما يوافق ما قلنا فذكروا ما

عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ذی قرد میں نماز خوف پڑھائی اس وقت مشرک اور قبلہ کے درمیان حائل تھے ایک صف نے آپ صلی اللہ عیہ وسلم کے پیچھے صف بنائی اور ایک جماعت دشمن کے سامنے صف آراء ہوئی ۔ آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے پہلی جماعت کو ایک رکعت پڑھائی پھر دشمن کے سامنے چلے گئے اور دشمن کے مقابل صف نے آکر آپ صلی اللہ عیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے سلام پھیرا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی دو رکعت ہوئیں اور ہر جماعت کی ایک رکعت ہوئی امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ عبید اللہ بن عبداللہ ہیں جو کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مجاہد کی روایت کے خلا ف روایت کر رہے ہیں اور یہ بات عباس سے ملنے والی دونوں روایات متضاد اور ایک دوسرے سے منافی ہیں تو کسی کو مجاہد والی روایت سے دلیل کا حق نہیں کیونکہ اس کا مقابل عبید اللہ کی ابن عباس رضی اللہ عنہ والی مخالف روایت سے استدلال کرے گا اگر بالفرض وہ یہ کہیں کہ اب عباس رضی اللہ عنہ سے اور حضرات نے بھی مجاہد والی روایت کی طرح روایت کی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ← علي بن شيبة

Hadith 1807

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1808

1711 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا قبيصة عن سفيان عن الركين بن الربيع عن القاسم بن حسان قال أتيت بن وديعة فسألته عن صلاة الخوف فقال إيت زيد بن ثابت فاسأله فلقيته فسألته فقال صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم صلاة الخوف في بعض أيامه فصف صفا خلفه وصف موازى العدو فصلى بهم ركعة ثم ذهب هؤلاء الى مصاف هؤلاء وجاء هؤلاء الى مصاف هؤلاء فصلى بهم ركعة ثم سلم عليهم

قاسم بن حسان کہتے ہیں کہ میں ابن ودیعہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے صلاۃ خوف کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا تم زید بن ثابت کے پاس جا کر ان سے سوال کرو چنانچہ میں ان سے ملا تو انہوں نے فرمایا آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے نماز خوف بعض اوقات پڑھائی پس آپ کے پیچھے ایک جماعت نے صف باندھی اور ایک جماعت نے دشمن کے سامنے آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ چلی گئی اور ان کی جگہ صف بستہ ہوئے دوسرا گروہ آیا اور انکی جگہ صفہ بستہ ہوا تو آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ نے سلام پھیرا ۔

إيت زيد بن ثابت فاسأله فلقيته فسألته ← صَلاَةِ الخَوْفِ ← أتيت بن وديعة فسألته ← الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Hadith 1808

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1809

1712 - وحدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان ثم ذكر بإسناده مثله وقال عبد الله بن وديعة وزاد فكانت للنبي صلى الله عليه و سلم ركعتان ولكل طائفة ركعة ركعة

مومل بن اساعیل نے سفیان سے پھر سفیان نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے عبداللہ بن ودیعہ نے اس روایت میں اضافہ کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کی تو دو رکعت تھیں اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت ہوئی (یعنی جماعت کے ساتھ )

بإسناده مثله ← سُفْيَانُ ثُمَّ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1809

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1810

1713 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا قبيصة ح

علی بن شیبہ نے قبیصہ سے اپنی سند سے نقل کیا ۔

قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Hadith 1810

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1811

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن أشعث بن أبى الشعثاء عن الأسود بن هلال عن ثعلبة بن زهدم الحنظلي قال كنا مع سعيد بن العاص بطبرستان فقال أيكم شهد صلاة الخوف مع رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام حذيفة فقال أنا ثم فعل مثل الذي ذكر زيد سواء

ثعلبہ بن زہدم حنطلی کہتے ہیں کہ ہم سعید بن العاص کے ساتھ طبرستان میں سے تھے تو انہوں نے اعلان کیا تم میں سے کون شخص ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں شامل تھا تو حضڑت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں موجود تھا پھر انہوں نے اسی طرح کیا جیسا زید نے ذکر کیا بالکل فرق نہ تھا ۔

ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْحَنْظَلِيِّ ← الأَسْوَدِ بْنِ هِلاَلٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1811

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1812

1714 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عفان قال ثنا عبد الواحد قال ثنا عطية بن الحارث قال حدثني محمد بن دهاث قال غزوت مع سعيد بن العاص فسأل الناس من شهد منكم صلاة الخوف مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم ذكر مثله

محمد بن دھات کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن العاص کے ساتھ غزوہ میں شریک تھا انہوں نے لوگوں سے دریافت کیا تم میں سے کون جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف میں شامل رہا ہے پھر اسی طرح روایات نقل کی ہے ۔

محمد بن دهاث ← عَطِيَّةَ بْنِ الْحَارِثِ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ، ← عَفَّانُ، ← بن مرزوق

Hadith 1812

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1813

1715 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا المسعودي عن يزيد الفقير عن جابر بن عبد الله قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مقابل العدو ثم ذكر مثله

یزید الفقیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ دشمن کے مقابل تھے پھر اسی طرح روایت نقل کی ۔

مِثْلَہُ ← كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مقابل العدو ثم ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← يَزِيدَ الْفَقِيرِ ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1813

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1814

1716 - حدثني أبو حازم عن عبد الحميد بن عبد العزيز قال حدثني أبو حفص الغلاس قال حدثنا يحيي بن سعيد عن شعبة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن صالح بن خوات عن سهل بن أبى حثمة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بأصحابه صلاة الخوف فذكر مثله قيل لهم هذا غير موافق لما روى مجاهد ولكنه موافق لما روى عبيد الله عن بن عباس رضي الله عنهما وقد تقدمت حجتنا ففي أول هذا الباب لأن النبي صلى الله عليه و سلم محال أن يكون الفرض عليه في تلك الصلاة ركعة واحدة ثم يصلها بأخرى لا يسلم بينهما فثبت بما ذكرنا أن فرض صلاة الخوف ركعتان على الإمام ثم لم يذكر المأمومين بقضاء ولا غيره في هذه الآثار فاحتمل أن يكونوا قضوا ولا بد فيما يوجبه النظر من أن يكونوا قد قضوا ركعة ركعة لأنا رأينا الفرض على الإمام في صلاة الأمن والإقامة مثل الفرض على المأموم سواء وكذلك الفرض عليهما في صلاة الأمن في السفر سواء ومحال أن يكون المأموم فرضه ركعة فيدخل مع غيره ممن فرضه ركعتان إلا وجب عليه ما وجب على إمامه ألا ترى أن مسافرا لو دخل في صلاة مقيم صلى أربعا فكان المأموم يجب عليه ما يجب على إمامه ويزيد فرضه بزيادة فرض إمامه وقد يكون على المأموم ما ليس على إمامه من ذلك أنا رأينا المقيم يصلي خلف المسافر فيصلي بصلاته ثم يقوم بعد ذلك فيقضى تمام صلاة المقيم فكان المأموم قد يجب عليه ما ليس على إمامه ولا يجب على إمامه ما لا يجب عليه فلما ثبت بما ذكرنا وجوب الركعتين على الإمام ثبت أن مثلهما على المأموم وقد روى عن حذيفة من قوله ما يدل على ما تأولنا في حديثه وحديث زيد وجابر وابن عباس رضي الله عنهما أنهم قضوا ركعة ركعة

صالح بن خوات نے سہل بن ابی حشمہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو صلاۃ خوف پڑھائی پھر اسی طرح روایت نقل کی ان کے جواب میں کہا جائے گا یہ روایت مجاہد والی روایت کی موافقت کی بجائے عبید اللہ والی روایت کی تائید کرتی ہے ۔ شروع باب میں ہم اپنی دلیل ذکر کر آئے کیونکہ جناب رسول اللہ سے یہ بات ناممکن ہے کہ آپ پر لازم تو ایک رکعت ہو اور آپ اسے دوسری ملا کر پڑھیں اور ان کے مابین سلام نہ پھریں ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہو گئی کہ نماز خوف کی امام پر فرض ہی دورکعت ہیں ۔پھر ان روایات میں مقتدیوں کی قضاء یا اور کسی چیز کا تذکرہ نہیں۔ پس اس میں پورا کرلینے کا احتمال ہے اور نظر و فکر تو یہی چاہتے کہ وہ ایک ایک رکعت پوری کریں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام و مقتدی پر نماز کے فرائض امن و اقامت کی حالت میں ایک طرح کے ہیں اسی طرح امن والے سفر میں امام و مقتدی کا حال برابر ہے اور یہ بات نہ ممکن ہے کہ مقتدی پر ایک رکعت فرض ہو اور وہ ایسے شخص کے ساتھ نماز میں داخل ہو جائے جس پر دو فرض ہوں ، اگر ایسا ہو گا تو مقتدی پر وہی فرض ہو گا جو امام پر فرض تھا ۔ کیا تم ایسا نہیں پاتے کہ اگر مقیم کسی مسافر کی نماز میں داخل ہو تو چار رکعت ادا کرے گا ۔ تو مقتدی پر وہ چیز واجب تھی جو اس کے امام پر واجب تھی اور امام کے فرض میں اضافہ سے اس کے فرض بھی بڑھ جاتے ہیں اور بعض اوقات مقتدی پر ایسی چیز لازم ہو جاتی ہے جو اس کے امام پر لازم نہیں ہوتیاس سے ہم نے سمجھ لیا کہ جب مقیم نے مسافر کے پیچھے نماز ادا کی تو اسی جیسی نماز ادا کرتا ہے پھر کھڑے ہو کر وہ مقیم والی نماز کی تکمیل کرتا ہے ۔ پس یہاں مقتدی پر ایسی چیز لازم تھی جو امام پر نہ تھی۔ اور اس کے امام پر وہ چیز لازم نہیں جو اس مقتدی پر لازم نہیں جب یہ بات ثابت ہو گئی جو بیان کر آئے کہ امام دورکعت لازم ہیں تو انہی جیسی دورکعت مقتدی پر بی لازم ہیں اور ہم نے جو تاویل حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور زید اور جابر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی اس روایت میں کی ہے کہ انہوں نے ایک ایک رکعت ادا کی وہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے ۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أبو حفص الغلاس ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَبُو حَازِمٍ

Hadith 1814

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter