Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4559

4301 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا حماد قال ثنا أبو عوانة عن سليمان عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال بينا نحن عشية في المسجد إذ قال رجل إن أحدنا رأى مع امرأته رجلا فإن قتله قتلتموه وإن هو تكلم جلدتموه وإن هو سكت سكت على غيظ لأسألن رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأله فقال يا رسول الله إن أحدنا رأى مع امرأته رجلا فإن قتله قتلتموه وإن هو تكلم جلدتموه وإن سكت سكت على غيظ اللهم أحكم فأنزلت آية اللعان قال عبد الله فكان ذلك الرجل أول من إبتلي به

علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم شام کے وقت مسجد میں تھے کہ ایک شخص نے آ کر کہا اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے پھر اگر وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قتل کرو گے ( قصاص میں ) اور اگر وہ اس کے متعلق بات کر لے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے اور اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو وہ غصے کی حالت میں وہ خاموشی اختیار کرنے والا ہو گا ۔ میں اس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے ضرور دریافت کروں گا ۔ چنانچہ اس نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر کوئی شخص ہم میں سے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھے پھر اسے اگر وہ قتل کر دے تو آپ اس کو قتل ( قصاص میں ) کر دیں گے اور اگر وہ اس کے متعلق کلام کرے تو اس کو کوڑے لگائے جائیں گے اور اگر وہ خاموش رہے تو غصے کی حالت میں خاموشی اختیار کرنے والا ہو گا اے اللہ اس سلسلے میں حکم نازل فرمایا۔ پس لعان کی آیت نازل ہوئی ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص سب سے پہلے اس میں مبتلا ہوا۔ مسئلہ لعان میں روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اصل یہ ہے ۔ یہ لعان قذف ہے جو اس مرد نے اپنی بیوی کے متعلق حمل کی حالت میں الزام لگایا ۔ یہ حمل کی وجہ سے لعان نہیں ہے اور اس روایت کو اس طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کیا ہے ۔

بينا نحن عشية في المسجد إذ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حَمَّادٌ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4559

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4560

4302 - حدثنا يزيد قال ثنا حكيم بن سيف قال ثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال قام رجل في مسجد رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجمعة فقال أرأيتم إن وجد رجل مع امرأته رجلا ثم ذكر نحوه وزاد فيه وقال عبد الله فابتلي به وكان رجلا من الأنصار جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فلاعن امرأته فلما أخذت امرأته تلتعن قال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم مه فالتعنت فلما أدبرت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلها أن تجيء به اسود جعدا فجاءت به أسود جعدا حدثنا يزيد قال ثنا الحسن بن عمر بن شقيق قال ثنا جرير عن الأعمش فذكر بإسناده مثله فهذا هو أصل حديث عبد الله رضي الله عنه في اللعان وهو لعان بقذف كان من ذلك الرجل لامراته وهي حامل لا بحملها وقد رواه على ذلك أيضا غير بن مسعود رضي الله عنه

علقمہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ایک آدمی جمعہ کے دن مسجد نبوی میں کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ؟ پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ یہی اس میں پہلے مبتلا ہوا یہ ایک انصاری آدمی تھا وہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے اپنی بیوی سے لعان کیا۔ جب بیوی لعان کرنے لگی تو اس کو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ رک جا اور لعان سے باز رہ مگر اس نے لعان کی جب وہ واپس مڑی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید اس کے ہاں ۔ گھنگھریالے بالوں والا سیاہ بچہ پیدا ہو۔ چنانچہ سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوا ۔ جریر نے اعمش سے روایت کی پھر اس نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے ۔ اس روایت کو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ صحابہ کرام نے بھی روایت کیا ہے ۔ روایات ابن عباس رضی اللہ عنہ ملاحظہ ہوں۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4560

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4561

4304 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا بن وهب قال أخبرني بن أبي الزناد عن أبيه قال ثنا القاسم بن محمد عن عبد الله بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لاعن بين العجلاني وإمرأته وكانت حبلى فقال زوجها والله ما قربتها منذ عفرنا والعفر أن يسقى النخل بعد أن تترك من السقي بعد الآبار بشهرين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اللهم بين فزعموا أن زوج المرأة كان حمش الذراعين والساقين أصهب الشعرة وكان رميت به بن السحماء قال فجاءت بغلام أسود جعدا قططا عبل الذراعين خدل الساقين قال القاسم فقال بن شداد بن الهاد يا أبا عباس أهي المرأة التي قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لو كنت راجما بغير بينة لرجمتها فقال بن عباس لا ولكن تلك امرأة كانت قد أعلنت في الإسلام

قاسم بن محمد ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عجلانی اور اس کی بیوی کے درمیان لعان کرایا وہ حاملہ تھیں اس کے خاوند نے کہا اللہ کی قسم جب سے ہم نے عفر کیا ( کھجور کے درختوں کی پیوند کاری کے دو ماہ بعد کھجور کے سیراب کیا جائے ) تو میں اس کے قریب نہیں گیا ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ خوب واضح فرما ۔ لوگوں کا خیال یہ تھا کہ اس عورت کا خاوند پتلے بازو اور پنڈلیوں والا ہے اس کے بالوں کا رنگ سرخ ساہی مائل ہے اور جس شخص کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام تھا وہ ابن السحماء تھا ۔ راوی کہتے ہیں کہ سیاہ گھنگھریالے بالوں والا بچہ پیدا ہوا جس کے ہاتھ اور پنڈلیاں موٹی تھیں۔ ابن شداد بن الہاد نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ کیا یہ وہی عورت ہے جس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ اگر میں بلا گواہوں کے کسی کو سنگسار کرتا تو اس عورت کو کرتا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے نہیں البتہ یہ پہلی عورت ہے جس کو اسلام میں سب سے پہلے لعان کیا گیا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَبِيهِ ← بن أبي الزناد ← بن وَهْبٍ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4561

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4562

4305 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا المغيرة بن عبد الرحمن عن أبي الزناد عن القاسم عن بن عباس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه

ابی الزناد نے قاسم سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه ← بْنِ عَبَّاسٍ ← الْقَاسِمِ، ← أَبِي الزِّنَادِ، ← الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4562

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4563

4306 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا بن أبي مريم قال أخبرنا بن أبي الزناد قال حدثني أبي أن القاسم بن محمد حدثه عن بن عباس مثله غير أنه لم يذكر سؤال عبد الله بن شداد إلى آخر هذا الحديث

قاسم بن محمد ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی جیسی روایت بیان کی البتہ انہوں نے عبداللہ بن شداد کا سوال آخر روایت تک ذکر نہیں کیا۔

أبي أن القاسم بن محمد ← بن أبي الزناد ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4563

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4564

4307 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا بن جريج قال أخبرني يحيى بن سعيد عن القاسم بن محمد عن بن عباس أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال مالي عهد بأهلي منذ عفرنا النخل فوجدت مع أمرأتي رجلا وزوجها نضو حمش سبط الشعر والذي رميت به إلى السواد جعد قطط شديد الجعودة أو حسنه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اللهم بين ثم لاعن بينهما فجاءت به يشبه الذي رميت به

قاسم بن محمد ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو مشغول پایا ہے ۔ اس عورت کا خاوند کمزور ، پتلی پنڈلیوں والا اور سیدھے بالوں والا شخص تھا اور وہ شخص جس کے ساتھ اس کو الزام دیا گیا تھا وہ سیاہ رنگ گھنگریالے بالوں والا تھا جناب رسول اللہ ﷺ نے بارگاہ ایزدی میں عرض کیا یا اللہ ! واضح حکم نازل فرما پھر ان دونوں کے درمیان لعان کیا ۔ پھر اس کے ہاں اس شخص کے مشابہہ بچہ پیدا ہوا جس کے ساتھ اسے الزام دیا گیا تھا۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4564

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4565

4308 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن كثير عن مخلد بن حسين عن هشام عن بن سيرين عن أنس بن مالك أن هلال بن أمية قذف شريك بن سحماء بإمرأته فرفع ذلك إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إيت بأربعة شهداء وإلا فحد في ظهرك فقال والله يا رسول الله إن الله يعلم إني لصادق قال فجعل النبي صلى الله عليه و سلم يقول له أربعة وإلا فحد في ظهرك قال والله يا رسول الله إن الله يعلم إني لصادق يقول ذلك مرارا ولينزلن الله عليك ما يبرئ به ظهري من الجلد فنزلت آية اللعان والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم قال فدعي هلال فشهد أربع شهادات بالله إنه لمن الصادقين والخامسة أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين قال ثم دعيت المرأة فشهدت أربع شهادات بالله إنه لمن الكاذبين فلما كان عند الخامسة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم قفوها فإنها موجبة قال فتكأكأت حتى ما شككنا أن ستقر ثم قالت لا أفضح قومي سائر اليوم فمضت على اليمين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم انظروا فإن جاءت به أبيض سبط قضيء العينين فهو لهلال بن أمية وإن جاءت به أكحل جعدا حمش الساقين فهو لشريك بن سحماء قال فجاءت به أكحل جعدا حمش الساقين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لولا ما سبق من كتاب الله تعالى كان لي ولها شأن قال القضيء العينين طويل شعر العينين ليس بمفتوح العينين

ابن سیرین نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہلال بن امیہ شریک بن سحماء پر الزام لگایا کہ وہ اس کی بیوی سے ناجائز تعلق رکھتا ہے یہ معاملہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے ھلال کو فرمایا ۔ چار گواہ لاو ورنہ تمہاری پشت پر حد لگے گی اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کی قسم ! بے شک اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ میں سچا ہوں ۔ یہ بات ہلال نے کئی مرتبہ دھرائی اور ضرور بضرور اللہ تعالیٰ اپ پر ایسی وحی اتار دیں گے جس سے اللہ تعالیٰ میری پشت کو آپ کو کوڑوں سے بچا لیں گے ۔ پس آیت لعان نازل ہوئی ۔ " والذین یر مون ازواجھم ولم یکن لھم شھداء لا انفسھم " ( النور ۔6) راوی کہتے ہیں کہ ہلال رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا انہوں نے چار مرتبہ قسم اٹھا کر گواہی دی کہ وہ اس کے متعلق الزام لگانے میں سچا ہے اور پانچویں مرتبہ اس طرح کہا اگر میں جھوٹا الزام لگاؤں تو مجھ پر اللہ کی لعنت و پھٹکار ہو۔ راوی کہتے ہیں پھر عورت کو بلایا گیا اس نے چار مرتبہ قسم اٹھا کر شہادت دی کہ اس کا خاوند جھوٹا ہے جب وہ پانچویں مرتبہ قسم اٹھانے لگی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے روک دو۔ بے شک یہ قسم لازم کرنے والی ہے راوی کہتے ہیں وہ پیچھے کو ہٹی یہاں تک کہ ہمیں اس میں شک نہ رہا کہ وہ اقرار کرے گی پھر کہنے لگی میں ہمیشہ کے لئے اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی چنانچہ اس نے قسم اٹھا لی ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ دیکھنا اگر اس نے سفید رنگ سیدھے بالوں اور سرخ آنکھوں والا بچہ جنا تو وہ ہلال بن امیہ کا ہے اور اگر سرمگیں آنکھیں اور گھنگھریالے بالوں اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے ۔ راوی کہتے ہیں اس عورت نے سرمگیں آنکھیں اور گھنگھریالے بالوں پتلی پنڈلیوں والے بچے کو جنم دیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تقدیر الٰہی کی بات سبقت کر نے والی نہ ہو تی تو میں اس کے ساتھ اور معاملہ کرتا ( مراد چار گواہوں کی شرط ہے ) یعنی حد لگاتا ۔ راوی کہتے ہیں ۔ قضی العینین کا معنی ۔ جس کی آنکھوں کے بال لمبے ہوں اور اس کی آنکھیں کھلی نہ ہوں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن سِيرِينَ ← هِشَامٍ ← مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4565

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4566

4309 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا هشام عن محمد عن أنس بن مالك أن هلال بن أمية قذف امرأته بشريك بن سحماء فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أنظروها فإن جاءت به أبيض سبطا قضيء العينين فهو لهلال بن أمية وإن جاءت به أكحل جعدا حمش الساقين فهو لشريك بن سحماء فجاءت به أكحل جعدا حمش الساقين

محمد نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر الزام لگایا کہ وہ شریک بن سحماء سے ناجائز تعلق رکھتی ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس کو دیکھنا اگر اس نے سفید ، سیدھے بالوں، بگڑی آنکھوں والا بچہ جنا تو وہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کا ہے اور اگر گھنگھریالے بال ، سرمگیں آنکھوں پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے تو اس عورت نے سرمگیں آنکھوں ، پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنا۔

أنس بن مالك أن هلال بن أمية قذف امرأته بشريك بن سحماء ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامٍ ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4566

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4567

4310 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا أسد ح وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا خالد بن عبد الرحمن قالا ثنا بن أبي ذئب عن الزهري عن سهل بن سعد الساعدي أن عويمر جاء إلى عاصم بن عدي فقال أرأيت رجلا وجد مع امرأته رجلا فقتله أتقتلونه به سل لي يا عاصم رسول الله صلى الله عليه و سلم فجاء عاصم فسأل رسول الله صلى الله عليه و سلم المسألة وعابها فقال عويمر والله لآتين النبي صلى الله عليه و سلم فقال قد أنزل الله فيكم قرآنا فدعاهما فتقدما فتلاعنا ثم قال كذبت عليها يا رسول الله إن أمسكتها ففارقها وما أمره رسول الله صلى الله عليه و سلم بفراقها فجرت السنة في المتلاعنين فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم انظروا فإن جاءت به أحمر قصيرا مثل وحرة فلا أراه إلا وقد كذب عليها وإن جاءت به أشجم أعين ذا اليدين فلا أحسبه إلا وقد صدق عليها قال فجاءت به على الأمر المكروه فقد ثبت بما ذكرنا أن لا حجة في شيء من ذلك لمن يوجب اللعان بالحمل فإن قال قائل فإن في قول رسول الله صلى الله عليه و سلم إن جاءت به كذا فهو لزوجها وإن جاءت به كذا فهو لفلان دليل على أن الحمل هو المقصود إليه بالقذف واللعان فجوابنا له في ذلك أن اللعان لو كان بالحمل إذا لكان منتفيا من الزوج غير لا حق به أشبهه أو لم يشبهه ألا ترى أنها لو كانت وضعته قبل أن يقذفها فنفي ولدها وكان اشبه الناس به أنه يلاعن بينهما ويفرق بينهما ويلزم الولد أمه ولا يلحق بالملاعن لشبهة به فلما كان الشبه لا يجب به ثبوت نسب ولا يجب بعدمه انتفاء نسب وكان في الحديث الذي ذكرنا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إن جاءت به كذا فهو للذي لاعنها دل ذلك أنه لم يكن اللعان نافيا له لأنه لو كان نافيا له إذا لما كان شبهه به دليلا على أنه منه ولا يعد شبهه إياه دليلا على أنه من غيره وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم للأعرابي الذي سأله فقال إن أمرأتي ولدت غلاما أسود ما

سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی کے ہاں آیا اور کہنے لگا تمہارا کیا خیال ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو مصروف پائے اور وہ اس کو قتل کردے کیا تم اس کو قتل کر دو گے (قصاص میں) اسے عاصم تم جناب رسول اللہ ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھو چنانچہ عاصم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور جناب رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو نا پسند کیا اور اس کو سخت سست کہا عویمر عجلانی کہنے لگے میں خود جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جاؤں گا۔ (پس وہ حاضر ہوئے) تو آپ نے فرمایا اللہ تعالی نے تمہارے متعلق قرآن مجید اتار دیا ہے پس ان دونوں کو بلایا وہ آگے بڑھے اور دونوں نے لعان کیا۔ پھر عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ اگر میں اس کو اپنے پاس رکھوں تو میں اس پر جھوٹا الزام لگانے والا بنتا ہوں پس اس نے اس کو جدا کردیا حالانکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو جدا کرنے کا حکم نہ فرمایا تھا پس لعان کرنے والوں میں یہ طریقہ جاری ہوگیا (جب آپ کے سامنے ہوا اور آپ نے روکا نہیں تو گویا خاموشی سے تصدیق فرمادی۔ ان روایات سے یہ بات ثابت ہوگئی جو حمل کے سبب لعان کو واجب قرار دیتے ہیں ان روایات میں ان کی کوئی دلیل نہیں۔ اگر کوئی کہنے والا یہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ارشاد فان جاءت به كذا فهو لزوجها وان جاءت به کذا فهو لفلان ان الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ لعان وقذف سے مقصود حمل ہے۔ اگر لعان حمل کی وجہ سے ہوتا تو پھر خاوند کے ذمہ نہ ہوتا بلکہ اس سے نفی کی جاتی اس کے ساتھ اس کو نہ ملایا جاتا خواہ اس کے مشابہہ ہو یا نہ ہو۔ اس بات میں ذرا غور کرو کہ اگر قذف سے پہلے وہ جنتی پھر وہ اس لڑکے کی نفی کرتا حالانکہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے مشابہہ ہے تو اس وقت بھی ان کے درمیان لعان کی صورت میں تفریق کر دی جاتی اور لڑکے کو ماں سے ملا دیا جاتا اور مشابہت کی وجہ سے لعان کرنے والے کے حوالے نہ کیا جاتا۔ پس جب مشابہت ثبوت نسب کو لازم نہیں کرتی اور عدم مشابہت انتفاء نسب کو لازم نہیں کرتا۔ رہی وہ روایت جس میں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ”ان جاءت به كذا فهو للذي لا عنها‘‘اس سے یہ ثبوت ملا کے لعان اس کے منافی اور خلاف نہیں۔ اگر لعان اس سے لڑکے کی نفی کرنے والا ہو تو پھر بچے کی اس کے ساتھ مشابہت اس کا بچہ ہونے کی دلیل نہ ہوتی اور نہ ہی اس سے مشابہت کی دوری اس بات کی دلیل ہے کہ وہ غیر سے ہے۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک دیہاتی کو فرمایا جس نے یہ سوال کیا کہ میری بیوی نے سیاہ رنگ لڑکا جنا ہے شاید کہ اس کی کی رگ نے کھینچا ہو۔ پس آپ ﷺ نے فرمایا اس پر نگاہ رکھنا اگر وہ سرخ چھوٹے قد والا بچہ جنے جیسے جیسا کہ وحده ( چھپکلی کی طرح زہر یلا جاندار ہے ) تو پھر میرے خیال میں اس کے خاوند نے اس پر جھوٹ بولا ہے اور اگر لمبا بڑی آنکھوں ، لمبے ہاتھوں والا جنا تو میرے گمان میں اس سے اس کے متعلق سچی بات کہی ۔ راوی کہتے ہیں۔ اس عورت نے برے معاملے کے مطابق جنا۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← ربيع المؤذن ← أسد ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4567

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4568

4311 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال أخبرني يونس عن بن شهاب عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة أن أعرابيا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إن امرأتي ولدت غلاما أسود وإني أنكرته فقال له هل لك من إبل قال نعم قال ما ألوانها قال حمر قال هل فيها من أورق قال إن فيها لورقا قال فأنى ترى ذلك جاءها قال يا رسول الله عرق نزعها قال فلعل هذا عرق نزعه

ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک دیہاتی جناب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا بے شک میری بیوی نے سیاہ لڑکا جنا ہے اور میں نے اس کو پسند کیا ہے آپ نے اس کو فرمایا کیا تیرے پاس اونٹ ہیں اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا ان کے کیا رنگ ہیں ؟ اس نے کہا سرخ ۔ آپ نے فرمایا کیا ان میں کوئی رنگ بھی ہیں اس نے جواب دیا ان میں گندم رنگ سیاہی مائل بھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا تمہارے خیال کے مطابق وہ رنگ ان میں کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ کسی رگ نے کھینچا ہو گا آپ نے فرمایا یہ تیرا بیٹا جو سیاہ ہے یہ بھی کسی رگ نے کھینچا ہوگا۔

فأنى ترى ذلك جاءها ← إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا. ← «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ» ← حمر ← ما ألوانها؟ ← نَعَمْ ← له هل لك من إبل ← إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْکَرْتُهُ ← أبي هريرة أن أعرابيا أتى النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4568

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4569

4312 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني مالك وابن أبي ذئب وسفيان عن بن شهاب عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله فلما كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يرخص له في نفيه لبعد شبهه منه وكان الشبه غير دليل على شيء ثبت أن جعل النبي صلى الله عليه و سلم ولد الملاعنة من زوجها إن جاءت به على شبهه دليل على أن اللعان لم يكن نفاه منه فقد ثبت بما ذكرنا فساد ما احتج به الذين يرون اللعان بالحمل وفي ذلك حجة أخرى وهي أن في حديث سهل بن سعد رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أنظروها فإن جاءت به كذا فلا أراه إلا وقد كذب عليها وإن جاءت به كذا فلا أراه إلا وقد صدق عليها فكان ذلك القول من رسول الله صلى الله عليه و سلم على الظن لا على اليقين وذلك مما قد دل أيضا أنه لم يكن منه جرى في الحمل حكم أصلا فثبت فساد قول من ذهب إلى اللعان بالحمل وإنما احتججنا به لمن ذهب إلى خلافه في أول هذا الباب ممن أبى اللعان بالحمل وهو قول أبي حنيفة ومحمد وقول أبي يوسف المشهور

سعید بن المسیب رحمتہ اللہ علیہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔ پس جب جناب نبی اکرم ﷺ کا ملاعنہ کے بچے کو اسی کے خاوند سے قرار دینا اگو وہ اس کے مشابہہ جنے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ لعان نے اس بچے کی نفی اس سے نہیں کی تھی ۔ اس مذکورہ بات سے یہ ثابت ہو گیا کہ جن لوگوں نے لعان کو حمل کے سبب سے قرار دیا کا یہ نظریہ غلط ہے ۔ اس میں ایک اور بھی دلیل ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس عورت کے متعلق دیکھنا کہ اگر وہ اس قسم کا بچہ جنے تو میرے خیال میں اس شخص نے اس پر بہتان طرازی کی ہے اور اگر وہ اس طرح کا بچہ جنے تو میرے خیال میں اس نے اس عورت کے متعلق سچی بات کہی ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ کا یہ قول گمان کی بنیاد پر تھا یقین کی بنیاد پر نہ تھا اور یہ بات انہی باتوں میں سے ہے جو حالت حمل میں حکم کے قطعی طور پر جاری نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔ تو اس سے بھی ان لوگوں کی غلطی ثابت ہو گئی جو حمل کی وجہ سے لعان کو واجب قرار دیتے ہماری یہ تمام تر تحقیق ان حضرات کی موافقت میں جو حمل کو لعان کا سبب قرار نہیں دیتے بلکہ اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ حمل لعان کا سبب ہوا ہو۔ ہم شروع باب میں ان کا تذکرہ کر آئے ہیں وہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ اور امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا مشہور قول یہی ہے ۔ واللہ اعلم ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← مالك وابن أبي ذئب وسفيان ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4569

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter