شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( باب الرجل ينفي حمل امرأته أن يكون منه ) · حديث 4559
4301 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا حماد قال ثنا أبو عوانة عن سليمان عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال بينا نحن عشية في المسجد إذ قال رجل إن أحدنا رأى مع امرأته رجلا فإن قتله قتلتموه وإن هو تكلم جلدتموه وإن هو سكت سكت على غيظ لأسألن رسول الله صلى الله عليه و سلم فسأله فقال يا رسول الله إن أحدنا رأى مع امرأته رجلا فإن قتله قتلتموه وإن هو تكلم جلدتموه وإن سكت سكت على غيظ اللهم أحكم فأنزلت آية اللعان قال عبد الله فكان ذلك الرجل أول من إبتلي به
علقمہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم شام کے وقت مسجد میں تھے کہ ایک شخص نے آ کر کہا اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے پھر اگر وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قتل کرو گے ( قصاص میں ) اور اگر وہ اس کے متعلق بات کر لے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے اور اگر وہ خاموشی اختیار کرے تو وہ غصے کی حالت میں وہ خاموشی اختیار کرنے والا ہو گا ۔ میں اس کے متعلق جناب رسول اللہ ﷺ سے ضرور دریافت کروں گا ۔ چنانچہ اس نے جناب رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر کوئی شخص ہم میں سے اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو دیکھے پھر اسے اگر وہ قتل کر دے تو آپ اس کو قتل ( قصاص میں ) کر دیں گے اور اگر وہ اس کے متعلق کلام کرے تو اس کو کوڑے لگائے جائیں گے اور اگر وہ خاموش رہے تو غصے کی حالت میں خاموشی اختیار کرنے والا ہو گا اے اللہ اس سلسلے میں حکم نازل فرمایا۔ پس لعان کی آیت نازل ہوئی ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ شخص سب سے پہلے اس میں مبتلا ہوا۔ مسئلہ لعان میں روایت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی اصل یہ ہے ۔ یہ لعان قذف ہے جو اس مرد نے اپنی بیوی کے متعلق حمل کی حالت میں الزام لگایا ۔ یہ حمل کی وجہ سے لعان نہیں ہے اور اس روایت کو اس طرح ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے علاوہ دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی روایت کیا ہے ۔
بينا نحن عشية في المسجد إذ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← حَمَّادٌ، ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4559
