Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2318

2191 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج عن عمرو قال أخبرني جابر رضي الله عنه أن معاذا كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم ينصرف الى قومه فيصليها بهم هى له تطوع ولهم فريضة فكان من الحجة للآخرين عليهم ان بن عيينة قد روى هذا الحديث عن عمرو بن دينار كما رواه بن جريج وجاء به تاما وساقه أحسن من سياق بن جريج غير أنه لم يقل فيه هذا الذي قاله بن جريج هي له تطوع ولهم فريضة فيجوز أن يكون ذلك من قول بن جريج ويجوز أن يكون من قول عمرو بن دينار ويجوز أن يكون من قول جابر فمن أي هؤلاء الثلاثة كان القول فليس فيه دليل على حقيقة فعل معاذ أنه كذلك أم لا لأنهم لم يحكوا ذلك عن معاذ إنما قالوا قولا على أنه عندهم كذلك وقد يجوز أن يكون في الحقيقة بخلاف ذلك ولو ثبت ذلك أيضا عن معاذ لم يكن في ذلك دليل أنه كان بأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لو أخبره به لأقره عليه أو غيره وهذا عمر بن الخطاب رضي الله عنه لما أخبره رفاعة بن رافع أنهم كانوا يجامعون على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا يغتسلون حتى ينزلوا فقال لهم عمر رضي الله عنه فأخبرتم النبي صلى الله عليه و سلم بذلك فرضيه لكم قال لا فلم يجعل ذلك عمر رضي الله عنه حجة فكذلك هذا الفعل لو ثبت أن معاذا فعله في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن في ذلك دليل أنه بأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على خلاف ذلك

عمرو بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ معاذ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھنے پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ کر ان کو نماز پڑھاتے یہ معاذ کی نفلی نماز ہوتی اور ان کی فرض ہوتی۔ دوسرے قول والوں کے ہاں قول اول کے قائلین پر حجت یہ ہے ۔ اس روایت کو ابن عینیہ سے عمرو بن دینار سے روایت کیا جیسا کہ ابن جریج نے روایت کیا ہے مگر انہوں نے اس کو روایت ابن جریج سے زیادہ عمدہ اور مکمل ذکر کیا اور دوسرا فریق یہ ہے کہ انہوں نے " ھی لہ تطوع ولھم فریضۃ" کے الفاظ سرے سے نقل ہی نہیں کیے ۔ پس اس میں احتمال یہ ہے کہ یہ ابن جریج کا قول ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عمرو بن دینار کا قول ہوا ور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہو پس ان تینوں حضرات میں سے جس کا بھی قول ہو اس میں بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ معاذ رضی اللہ عنہ کے فعل کی حقیقت ہو کہ وہ واقعہ میں اسی طرح تھا یا نہیں کیونکہ انہوں نے یہ بات معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی انہوں نے ایک بات کہی ہے کہ ہمارے ہاں یہ اسی طرح ہے ۔ عین ممکن ہے کہ حقیقت اس کے خلاف ہو ۔اگر بالفرض یہ بات حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہوجائے تب بھی اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ آپ کے حکم و ارشاد سے تھا اور نہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کرتے تو آپ اس پر قائم رکھتے یا کوئی دوسری بات ہوتی ۔ لو یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ جب حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جماع کرتے اورانزال نہ ہونے کی صورت میں غسل نہ کرتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا کہ کیا تم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور آپ نے اسے تمہاری خاطر پسند کیا ۔ انہوں نے عرض کیا نہیں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے فعل کو حجت قرار نہیں دیا۔ پس یہ فعل بھی اسی طرح ہے ۔ بالفرض اگر ثابت ہو بھی جائے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ کے زمانہ میں ایسا کیا تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کیا اور ہم نے تو اس کے خلاف بات پر دلالت کرنےوالے کئی ارشادات آپ سے نقل کیے ہیں جو درج ذیل ہیں ۔

جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 2318

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2319

2192 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى بن صالح الوحاظي ح

فہد نے یحییٰ بن صالح و حاظی سے روایت کیا ہے ۔

يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ ← فهد

Hadith 2319

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2320

وحدثنا على بن عبد الرحمن قال ثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب قالا ثنا سليمان بن بلال قال ثنا عمرو بن يحيى المازني عن معاذ بن رفاعة الزرقي أن رجلا من بنى سلمة يقال له سليم أتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أنا نظل في أعمالنا فنأتى حين نمسى فنصلى فيأتى معاذ بن جبل فينادى بالصلاة فنأتيه فيطول علينا فقال له النبي صلى الله عليه و سلم يا معاذ لا تكن فتانا إما أن تصلي معي وإما أن تخفف عن قومك [ ص 410 ] فقول رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا لمعاذ يدل على أنه عند رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يفعل أحد الأمرين إما الصلاة معه أو بقومه وأنه لم يكن يجمعها لأنه قال إما أن تصلى معي أي ولا تصل بقومك وإما أن تخفف بقومك أي ولا تصل معي فلما لم يكن في الآثار الأول من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم شيء وكان في هذا الأثر ما ذكرنا ثبت بهذا الأثر أنه لم يكن من رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك لمعاذ شيء متقدم ولا علمنا أنه كان في ذلك أيضا منه شيء متأخر فيجب به الحجة علينا ولو كان في ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر كما قال أهل المقالة الأولى لاحتمل أن يكون ذلك كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم في وقت ما كانت الفريضة تصلى مرتين فان ذلك قد كان يفعل في أول الإسلام حتى نهى عنه رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد ذكرنا ذلك بأسانيده في باب صلاة الخوف ففعل معاذ الذي ذكرنا يحتمل أن يكون قبل النهى عن ذلك ثم كان النهى فنسخه ويحتمل أن يكون كان بعد ذلك فليس لأحد أن يجعله في أحد الوقتين إلا كان لمخالفه أن يجعله في الوقت الآخر فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار وأما حكمه من طريق النظر فانا قد رأينا صلاة المأمومين مضمنة بصلاة إمامهم بصحتها وفسادها يوجب ذلك النظر الصحيح من ذلك أنا رأينا الإمام إذا سها وجب على من خلفه لسهوه ما وجب عليه ولو سهوا هم ولم يسه هو لم يجب عليهم ما يجب على الإمام إذا سها فلما ثبت أن المأمومين يجب عليهم حكم السهو لسهو الإمام وينتفي عنهم حكم السهو بانتفائه عن الإمام ثبت أن حكمهم في صلاتهم حكم الإمام في صلاته وكأن صلاتهم مضمنة بصلاته ولما كانت صلاتهم مضمنة بصلاته لم يجز أنه يكون صلاتهم خلاف صلاته فثبت بذلك أن المأموم لا يجوز أن تكون صلاته خلاف صلاة إمامه فان قال قائل فانا قد رأيناهم لم يختلفوا أن للرجل أن يصلى تطوعا خلف من يصلى فريضة فكما كان المصلى تطوعا يجوز له أن يأتم بمن يصلى فريضة كان كذلك يجوز للمصلى فريضة أن يصليها خلف من يصلى تطوعا قيل له إن سبب التطوع هو بعض سبب الفريضة وذلك أن الذي يدخل في الصلاة ولا يريد شيئا غير ذلك من نافلة ولا فريضة يكون لذلك داخلا في نافلة وإذا نوى الدخول في الصلاة ونوى الفريضة كان بذلك داخلا في الفريضة فصار يكون ذلك داخلا في الفريضة بالسبب الذي دخل به في النافلة وبسبب آخر فلما كان ذلك كذلك كان الذي يصلى تطوعا وهو يأتم بمصل فريضة هو في صلاة له في كلها إمام والذي يصلى فريضة ويأتم بمن يصلى تطوعا هو في صلاة له في بعض سببها الذي به دخل فيها إمام وليس له في بقيته إمام فلم يجن ذلك فان قال قائل فانا قد رأينا عن عمر رضي الله عنه أنه صلى بالناس جنبا فأعاد ولم يعيدوا فدل ذلك أن صلاتهم لم تكن مضمنة بصلاته فقال مخالفهم إنما فعل ذلك لأنه لم يتيقن بالجنابة كانت منه قبل الصلاة فأخذ لنفسه بالحوطة فأعاد ولم يأمر غيره بالإعادة وذكروا في ذلك ما

معاذ بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ بنی سلمہ کا ایک آدمی جس کو سلیم کہا جاتا تھا وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا ہم اپنے کام کاج میں دن گزارتے ہیں شام کے وقت ہم لوٹتے ہیں تو ہم نماز پڑھتے ہیں معاذ آکر اذان دیتے پس ہم نماز کے لیے آتے ہیں تو وہ طویل قراءت کرتے ہیں تو اس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے معاذ! تم لوگوں کو فتنے میں مبتلا کرنے والے مت بنو یا تم میرے ساتھ نماز پڑھو۔ یا اپنی قوم پر قراءت میں تخفیف کرو۔ پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ فرمانا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو باتوں میں سے ایک کو اختیار کریں یا تو میرے ساتھ نماز پڑھیں یا اپنی قوم کے ساتھ نماز پڑھیں اور ان دونوں کےجمع نہ کریں کیونکہ آپ نے فرمایا " اما ان تصلی معی" یا تو میرے ساتھ نماز پڑھ یعنی اپنی قوم کے ساتھ نماز نہ پڑھ " واما ان تخفف بقومک " یعنی میرےساتھ نماز نہ پڑھ اور اپنی قوم کو ہلکی نماز پڑھاؤ جب اس اثر اول میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد میں سے کوئی چیز نہیں ہے اور ہم نےجو روایت ذکر کی اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے معاذ رضی اللہ عنہ کو کوئی بات پہلے نہیں کہی گئی تھی اور جہاں تک ہمارا علم ہے بعد میں بھی کوئی بات معاذ کو نہیں فرمائی کہ جس سے ہمار ےخلاف کچھ ثبوت ملتا ہو ۔ اگر اس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی حکم ہوتا جیسا پہلے قول والوں کا دعویٰ ہے تو اس میں یہ احتمال لازم ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہو جب فرض کو دو مرتبہ پڑھنا درست تھا ابتداء اسلام میں ایسا تھا پھر آپ نے اس کی ممانعت کر دی ۔ جیسا کہ تفصیل کے ساتھ مستند روایات ہم " باب صلاۃ الخوفت" میں ذکر کر آئے ہیں پس حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا یہ عمل جس کا شرو ع باب میں ہم نے تذکرہ کیا اس میں اس بات کا احتمال پیدا ہوگیا کہ یہ ممانعت سے پہلے کا معاملہ ہو۔ پھر نہی نے آکر اسے منسوخ کر دیا اور یہ احتمال بھی ہے کہ یہ اس کے بعد کا واقعہ ہو کسی فریق کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کو ایک وقت میں مقرر کر کے اپنی دلیل بنائے۔ بلکہ ہر ایک دلیل بنانا برابر ہے ۔ آثار کے پیش نظر تو اس باب کا حکم یہی ہے ۔ مگر اس کا نظر و فکر کے لحاظ سے جو حکم بنتا ہے وہ پیش خدمت ہے یہ بات تو ہمارے سامنے ہے کہ مقتدیوں کی نماز تو اپنے امام کی نماز سے صحت و فساد کے لحاظ سے ملی ہوئی ہے ۔ یہ صحیح فکر کو اس طرح لازم کرتی ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب امام بھول جائے تو اس کا یہ بھولنا اس کے پیچھے نما زپڑھنے والے پر اس چیز کو لازم کر دے گا جو خود امام پر لازم ہو ئی حالانکہ مقتدیوں کو خود بھول تو نہیں ہوئی اور مقتدی بھول جائے تو اس پر اور اس کے امام پر کچھ لازم نہیں ۔ پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ امام کے بھول جانے سے مقتدیوں پر سہو کا حکم لگ جاتا ہے اور بھول کر حکم امام سے اٹھ جائے تو مقتدیوں پر بھی نہیں رہتا ۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ مقتدیوں کی نماز امام کی نماز سے ملی ہوئی ہے تو پھر یہ درست نہ رہا کہ مقتدیوں کی نماز امام کے نماز کے مخالف ہو ۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز کے مخالف نہ ہونی چاہیے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ہم یہ بات اتفاقی طور پر پاتے ہیں کہ نفل نماز فرض پڑھنے والے کی اقتداء میں درست ہے پس جس طرح نفل پڑھنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ فرض پڑھنے والے کی اقتداء کرے تو اسی طرح فرض پڑھنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ ان کو نوافل پڑھنے والے کی اقتداء میں ادا کر لے اس کے جواب میں یہ کہا جائے گا کہ نفل کا سبب فرض کے سبب کے بعض حصہ ہے اور وہ اس طرح کہ جو شخص نماز میں داخل ہو اور اس کی نیت نفل و فرض میں سے کسی کی نہ ہو تو اسے نفل پڑھنے والا شمار کیا جائے گا اور جب اس نے نماز میں داخل ہونے کی نیت کی اور فرض کی نیت کی تو اسے فرض میں داخل ہونے والا شمار کیا جائے گا۔گویا جس سبب سے نفل میں داخل ہوا اس سبب سے بھی وہ فرض میں داخل ہونے والا ہو گا اور دوسرے سبب سے بھی پس جب یہ بات اسی طرح ہی ہے تو وہ شخص جو نفل پڑھا رہا ہو اور وہ فرض ادا کرنے والے کا مقتدی بن جائے تو وہ گویا وہ ایسی نماز میں ہے جس کی تمام رکعات میں وہ مقتدی ہے اور وہ شخص جو فرض پڑھ رہا ہو اور وہ ایسے بھی شخص کی اقتداء اختیار کر ے جو نفل پڑھ رہا ہے تو وہ ایسی نماز میں مشغول ہے کہ جس کے بعض سبب کو اس کا امام پانے والا ہے اس میں تو یہ اس کی اقتداء کرنے والا ہے اور جو سبب اس میں موجود نہیں اس میں یہ اس کا مقتدی نہیں ۔ پس یہ اقتداء جائز نہیں اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھائی انہوں نے تو نماز کو اعادہ کیا مگر لوگوں نے اعادہ نہیں کیا اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز کی ضامن نہیں ہے ۔ اس کا جواب قول اول والوں کو یہ دیا گیا کہ اسن کو جنابت پر یقین نہ تھا کہ وہ نماز سے قبل پیش آئی یا نماز سے قبل پیش آئی یا نماز کے بعد ۔ تو انہوں نے اپنی ذات کے لیے احتیاطی پہلو کو اختیار کیا اور نماز کا اعادہ کر لیا اور لوگوں کو عدم تیقن کی وجہ سے اعادہ کا حکم نہ فرمایا ۔

مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ← علي بن عبد الرحمن

Hadith 2320

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2321

2193 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن رجاء الغدائى قال أنا زائدة بن قدامة عن هشام بن عروة عن أبيه عن زبيد بن الصلت قال قال عمر أرانى قد احتلمت وما شعرت وصليت وما اغتسلت ثم قال أغتسل ما رأيت وأنضح ما لم أر ثم أقام فصلى متمكنا وقد ارتفع الضحى

عروہ نے زبید ابن الصلت سے روایت کی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے میرا خیال ہے کہ مجھے احتلام ہو گیا اور مجھے معلوم نہیں ہو سکا اور میں نے بلا غسل نماز پڑھ لی ہے پھر فرمایا میں اس کو دھو لیتا ہوں جو گندگی نظر آتی ہے اور جو نظر نہیں آتی ( اس پر وہم ہے تو وہاں ازالہ وہم کے لیے ) چھیٹنے دے لیتا ہوں پھر اقامت کہہ کر اطمینان سے نماز ادا کی جبکہ چاشت کا وقت ہو چکا تھا ۔

عمر أرانى قد احتلمت وما شعرت وصليت وما اغتسلت ثم ← زُبَيْدَ بْنَ الصَّلْتِ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ← عبد الله بن رجاء الغدائى ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 2321

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2322

2194 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن هشام بن عروة عن أبيه عن زبيد بن الصلت أنه قال خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه فنظرنا فإذا هو قد احتلم فصلى ولم يغتسل فقال والله ما أرانى إلا وقد احتلمت وما شعرت وصليت ما اغتسلت قال فاغتسل وغسل ما رأى في ثوبه ونضح ما لم ير وأذن وأقام الصلاة ثم صلى بعد ما ارتفع الضحى متمكنا فدل هذا على أن عمر رضي الله عنه لم يكن تيقن بأن الجنابة كانت منه قبل الصلاة والدليل على أن عمر رضي الله عنه قد كان يرى أن صلاة المأموم تفسد بفساد صلاة الإمام

عروہ نے زبید بن الصلت سے نقل کیا کہ میں عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا پس ہم نے دیکھا کہ ان کو تو احتلام ہوا اور انہوں نے نماز پڑھ لی اور غسل نہیں کیا اس پر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اللہ کی قسم ! مجھے تو احتلام ہو گیا اور مجھے خبر بھی نہ ہوئی اور میں نے بلا غسل نماز پڑھ لی ہے پھر آپ نے غسل کیا اور کپڑے پر جو نشان دیکھا اس کو دھو ڈالا اور جہاں نظر نہ آیا وہاں صرف پانی انڈیل دیا پھر اذان اقامت کہی گئی پھر انہوں نے چاشت کے وقت اطمینان سے نماز ادا کی پس اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کو یقین نہ تھا کہ جنابت والا معاملہ نماز کے بعد پیش آیا یا پہلے پیش آیا وہی اس بات کی دلیل کہ عمر رضی اللہ عنہ ان کی رائے بھی یہی تھی کہ مقتدی کی نماز امام کی نماز کے فساد سے فاسد ہوجاتی ہے ۔

زُبَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 2322

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2323

2195 - أن محمد بن النعمان حدثنا قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا أبو معاوية قال ثنا الأعمش عن إبراهيم عن همام بن الحارث أن عمر رضي الله عنه نسي القراءة في صلاة المغرب فأعاد بهم الصلاة فلما أعاد بهم عمر رضي الله عنه الصلاة لتركه القراءة وفي فساد الصلاة بترك القراءة اختلاف كان إذا صلى بهم جنبا أحرى أن يعيد بهم الصلاة فان قال قائل فقد روى عن عمر خلاف ذلك فذكر ما

ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ مغرب کی نماز میں قراءت بھول گئے پس آپ نے ان کو دوبارہ نماز پڑھائی پس جب قراءت کے چھوٹنے کی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نماز کا اعادہ کیا ( اگرچہ ترک قراءت سے نماز کے فاسد ہونے میں اختلاف ہے ) تو جنابت کی حالت میں نماز پڑھانے کے بعد اس کا لوٹا نا زیادہ قرین قیاس ہے اگر کوئی معترض کہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قول اس کے برعکس بھی مروی ہے ۔

Hadith 2323

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2324

2196 - حدثنا بكر بن إدريس قال ثنا آدم بن أبى إياس قال ثنا شعبة عن يحيى بن سعيد عن محمد بن إبراهيم أن عمر رضي الله عنه قال له رجل انى صليت صلاة لم أقرأ فيها شيئا فقال له عمر رضي الله عنه أليس قد أتممت الركوع والسجود قال بلى قال تمت صلاتك قال شعبة فحدثني عبد الله بن عمر الغمرى قال قلت لمحمد بن إبراهيم ممن سمعت هذا الحديث فقال من أبي سلمة عن عمر رضي الله عنه قيل له قد روى هذا عن عمر رضي الله عنه من حيث ذكرتم ولكن الذي روينا عنه فيما بدأنا بذكره متصل الإسناد عن عمر وهمام حاضر ذلك منه فما اتصل إسناده عنه فهو أولى أن يقبل عنه مما خالفه وهذا أيضا مما يدل عليه النظر وذلك لأنهم أجمعوا أن رجلا لو صلى خلف جنب وهو يعلم بذلك أن صلاته باطلة وجعلوا صلاته مضمنة بصلاة الإمام فلما كان ذلك كذلك إذا كان يعلم بفساد صلاة إمامه كان كذلك في النظر إذا كان لا يعلم بها ألا ترى أن المأموم لو صلى وهو جنب وهو يعلم أو لا يعلم كانت صلاته باطلة فكان ما يفسد صلاته في حال علمه به هو الذي يفسد صلاته في حال جهله به وكان علمه بفساد صلاة إمامه تفسد به صلاته فالنظر على ذلك أن يكون كذلك جهله بفساد صلاة إمامه فهذا هو النظر وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد بن الحسن ورحمهم الله تعالى وقد قال بذلك طاوس ومجاهد

محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کو ایک آدمی نے کہا اگر میں کسی نماز میں قراءت نہ کروں آپ نے فرمایا کیا تم نے رکوع وسجدہ مکمل کیا ہے ؟ اس نے کہا کیوں نہیں ۔ فرمایا تیری نماز پوری ہو گئی ۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے محمدبن ابراہیم س پوچھا تم نے یہ روایت کہاں سے سنی؟ اس نے کہا میں ابو سلمہ سے انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنی ہے ۔ ان کے جواب میں کہا جائے گا کہ جس طرح تم نے روایت نقل کی ہے اس طرح بھی روایت وارد ہوئی ہے لیکن وہ روایت جو ہم نے ان سے نقل کی ہے وہ متصل سند والی ہے اس کا قبول کرنا اس کی بنسبت اولی ٰ ہے اور ہمام خود موجود ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ نظر وفکر کی دلالت بھی تائید کرتی ہے وہ اس طرح کہ اس پر تو تمام کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی شخص کسی جنابت والے کے پیچھے نماز ادا کرلے اور اسکو اسکی جنبی ہونا معلوم ہوتو اس کی نماز باطل ہے اور تمام نے اسکی نماز کوا مام کے نماز کے ساتھ متصل قرار دیا ۔ جب یہ بات اسی طرح ہے جبکہ اسے امام کی جنابت کا علم تھا تو جب اس کو علم نہ تھا تب بھی حکم وہی ہونا چاہیے قیاس کا یہ تقاضا ہے ۔ ذرا غور تو کرو کہ اگر مقتدی نے جنابت کی حالت میں نماز ادا کی اسے معلوم ہو یا نہ ہو اس کی نماز بہرحال باطل ہے ۔ تو جو چیز جاننے کے حالت میں اس کی نماز کے لیے مفسد ہے وہی اس کی نماز کے لیے عدم علم کی حالت میں بھی مفسد ہے امام کی نماز کے باطل ہونے کا علم اس کی نماز کو فاسد کر دیتا ہے پس فکرو نظر کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی نماز کا یہی حکم ہو جبکہ وہ امام کی نماز کے بطلان کا علم نہ رکھتا ہو ۔ نظر کا یہی تقاضا ہے اور یہی قول امام ابو حنیفہ ابو یوسف اور محمد بن الحسن رحمۃ اللہ علیہ کا ہے اور اکابرتابعین طاوس و مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے ۔

مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← بكر بن إدريس

Hadith 2324

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2325

2197 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم عن جابر الجعفي عن طاوس ومجاهد في إمام صلى بقوم وهو على غير وضوء قال يعيدون الصلاة جميعا وقد روى عن جماعة من المتقدمين ما يوافق ما ذهبنا اليه في اختلاف صلاة الإمام والمأمومين فمن ذلك ما

جابر جعفی نے مجاہد طاؤس رحمۃ اللہ علیہ سے بیان کیا کہ جو امام لوگوں کو اس حال میں نماز پڑھائے کہ اس کا وضو نہیں تھا طاوس رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا وہ تمام نماز کا اعادہ کر یں گے۔ اور متقدمین کی ایک جماعت سے بھی ایسی چیزیں منقول ہیں جو ہمارے مذہب کی موافقت کرنے والے ہیں جبکہ امام اور مقتدیوں کی نماز مختلف ہو( تو مقتدیوں کو اعادہ کرنا ہو گا)۔

يعيدون الصلاة جميعا وقد روى ← طاوس ومجاهد في إمام صلى بقوم وهو على غير وضوء ← جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← بن أبي داود

Hadith 2325

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2326

2198 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن سفيان عن منصور عن إبراهيم في الرجل يصلى بقوم هي له الظهر ولهم العصر قال يعيدون ولا يعيد

منصود نے ابراہیم سے نقل کیا جو آدمی ایسے لوگوں کو نماز ظہر پڑھائے جو نماز عصر پڑھ رہے ہوں ابراہیم کہنے لگے امام کی نماز درست ہے مقتدیوں کی نماز فاسد ہے وہ لوٹائیں گے۔

يعيدون ولا يعيد ← إبراهيم في الرجل يصلى بقوم هي له الظهر ولهم العصر ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Hadith 2326

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2327

2199 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر قال سمعت يونس بن عبيد يقول جاء عياد الى المسجد في يوم مطير فوجدهم يصلون العصر فصلى معهم وهو يظن أنها الظهر ولم يكن صلى الظهر فلما صلوا فإذا هى العصر فأتى الحسن فسأله عن ذلك فأمره أن يصليهما جميعا

یونس بن عبید کہتے ہیں کہ عباد مسجد میں بارش کے دن آئے ان کو نماز عصر پڑھتے پایا اس نے ان کے ساتھ نماز ظہر کے گمان پڑھ لی اور عباد نے اس وقت تک ظہر نہ پڑھی تھی (دل کے اندھیرے سے وقت معلوم نہ ہوا) جب وہ نماز پڑھ چکے ( اس نے معلوم کیا ) تو وہ عصر تھی عباد نے حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا تو فرمایا دونوں نمازمیں دوبارہ پڑھے ۔

يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق

Hadith 2327

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2328

2200 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا سعيد بن عامر قال ثنا سعيد بن أبى عروبة قال كان الحسن وابن سيرين يقولان يصليهما جمعيا قال

سعید بن ابی عروبہ کہتے ہیں کہ حسن و ابن سیرین ایسا ہی فتویٰ دیتے کہ ایسا کرنے والا دونوں دوبارہ پڑھے ۔

كان الحسن وابن سيرين يقولان يصليهما جمعيا ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← بن مرزوق

Hadith 2328

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2329

2201 - وحدثنا أبو معشر عن النخعي قال يصليهما جميعا

ابو معشر نے نخعی سے بیان کیا کہ وہ آدمی دونوں دوبارہ پڑھے ۔

يصليهما جميعا ← النَّخَعِيِّ ← وحدثنا أبو معشر

Hadith 2329

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter