شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( باب الرجل يصلى الفريضة خلف من يصلى تطوعا ) قال أبو جعفر روى عن جابر بن عبد الله أن معاذ بن جبل كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم يرجع فيصليها بقومه في بنى أسلمة وقد ذكرنا ذلك بإسناده في باب القراءة في صلاة المغرب فذهب قوم الى أن الرجل ي · حديث 2318
2191 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج عن عمرو قال أخبرني جابر رضي الله عنه أن معاذا كان يصلى مع النبي صلى الله عليه و سلم العشاء ثم ينصرف الى قومه فيصليها بهم هى له تطوع ولهم فريضة فكان من الحجة للآخرين عليهم ان بن عيينة قد روى هذا الحديث عن عمرو بن دينار كما رواه بن جريج وجاء به تاما وساقه أحسن من سياق بن جريج غير أنه لم يقل فيه هذا الذي قاله بن جريج هي له تطوع ولهم فريضة فيجوز أن يكون ذلك من قول بن جريج ويجوز أن يكون من قول عمرو بن دينار ويجوز أن يكون من قول جابر فمن أي هؤلاء الثلاثة كان القول فليس فيه دليل على حقيقة فعل معاذ أنه كذلك أم لا لأنهم لم يحكوا ذلك عن معاذ إنما قالوا قولا على أنه عندهم كذلك وقد يجوز أن يكون في الحقيقة بخلاف ذلك ولو ثبت ذلك أيضا عن معاذ لم يكن في ذلك دليل أنه كان بأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لو أخبره به لأقره عليه أو غيره وهذا عمر بن الخطاب رضي الله عنه لما أخبره رفاعة بن رافع أنهم كانوا يجامعون على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا يغتسلون حتى ينزلوا فقال لهم عمر رضي الله عنه فأخبرتم النبي صلى الله عليه و سلم بذلك فرضيه لكم قال لا فلم يجعل ذلك عمر رضي الله عنه حجة فكذلك هذا الفعل لو ثبت أن معاذا فعله في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يكن في ذلك دليل أنه بأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم وقد روينا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على خلاف ذلك
عمرو بیان کرتے ہیں کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ معاذ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء پڑھنے پھر اپنی قوم کی طرف لوٹ کر ان کو نماز پڑھاتے یہ معاذ کی نفلی نماز ہوتی اور ان کی فرض ہوتی۔ دوسرے قول والوں کے ہاں قول اول کے قائلین پر حجت یہ ہے ۔ اس روایت کو ابن عینیہ سے عمرو بن دینار سے روایت کیا جیسا کہ ابن جریج نے روایت کیا ہے مگر انہوں نے اس کو روایت ابن جریج سے زیادہ عمدہ اور مکمل ذکر کیا اور دوسرا فریق یہ ہے کہ انہوں نے " ھی لہ تطوع ولھم فریضۃ" کے الفاظ سرے سے نقل ہی نہیں کیے ۔ پس اس میں احتمال یہ ہے کہ یہ ابن جریج کا قول ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ عمرو بن دینار کا قول ہوا ور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ جابر رضی اللہ عنہ کا قول ہو پس ان تینوں حضرات میں سے جس کا بھی قول ہو اس میں بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ معاذ رضی اللہ عنہ کے فعل کی حقیقت ہو کہ وہ واقعہ میں اسی طرح تھا یا نہیں کیونکہ انہوں نے یہ بات معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی انہوں نے ایک بات کہی ہے کہ ہمارے ہاں یہ اسی طرح ہے ۔ عین ممکن ہے کہ حقیقت اس کے خلاف ہو ۔اگر بالفرض یہ بات حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے بھی ثابت ہوجائے تب بھی اس میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ آپ کے حکم و ارشاد سے تھا اور نہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع کرتے تو آپ اس پر قائم رکھتے یا کوئی دوسری بات ہوتی ۔ لو یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ جب حضرت رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جماع کرتے اورانزال نہ ہونے کی صورت میں غسل نہ کرتے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا کہ کیا تم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی اور آپ نے اسے تمہاری خاطر پسند کیا ۔ انہوں نے عرض کیا نہیں ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے فعل کو حجت قرار نہیں دیا۔ پس یہ فعل بھی اسی طرح ہے ۔ بالفرض اگر ثابت ہو بھی جائے کہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ کے زمانہ میں ایسا کیا تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے کیا اور ہم نے تو اس کے خلاف بات پر دلالت کرنےوالے کئی ارشادات آپ سے نقل کیے ہیں جو درج ذیل ہیں ۔
جَابِرٍ ← عَمْرٍو، ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Hadith 2318
