Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4065

3847 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا معلي بن منصور ح

علی بن معبد نے معلیٰ بن منصور سے روایت کی ہے

مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4065

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4066

وحدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا علي بن حكيم الأودي ح وحدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قالوا ثنا شريك عن عمار الدهني عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم دخل مكة يوم الفتح وعلى رأسه عمامة سوداء

علی بن عبدالرحمٰن نے علی بن حکیم از دی سے روایت کی ہے .

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمَّارِ الدُّهْنِيِّ، ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← وحدثنا فهد ← عَلِيُّ بْنُ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ ← وحدثنا علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4066

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4067

3848 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم ح

ابوالز بیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے دن مکہ میں اس حال میں داخل ہوۓ کہ آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا۔

أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4067

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4068

وحدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قالا ثنا حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابوالز بیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← وحدثنا أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4068

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4069

3849 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب أن مالكا حدثه ح

ابن وہب نے بیان کیا کہ مالک نے ان کو بیان کیا ہے ۔

بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4069

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4070

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد قال ثنا مالك بن أنس عن الزهري عن أنس رضي الله عنه [ ص 259 ] أن النبي صلى الله عليه و سلم دخل مكة وعلى رأسه مغفر فلما كشف المغفر عن رأسه قيل له إن بن خطل متعلق بأستار الكعبة فقال اقتلوه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى انه لا بأس بدخول الحرم بغير إحرام واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يصلح لأحد كان منزله من وراء الميقات إلى الأمصار أن يدخل مكة إلا بإحرام واختلف هؤلاء فقال بعضهم وكذلك الناس جميعا من كان بعد الميقات وقبل الميقات غير أهل مكة خاصة وقال آخرون من كان منزله في بعض المواقيت أو فيما بعدها إلى مكة فله أن يدخل مكة بغير إحرام ومن كان منزله قبل المواقيت لم يدخل مكة إلا بإحرام وممن قال هذا القول أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله وقال آخرون أهل المواقيت حكمهم حكم من كان قبل المواقيت وجعل أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمهم الله حكم أهل المواقيت كحكم من كان من ورائهم إلى مكة وليس النظر في هذا عندنا ما قالوا أنا رأينا من يريد الإحرام إذا جاوز المواقيت حلالا حتى فرغ من حجته ولم يرجع إلى المواقيت كان عليه دم ومن أحرم من المواقيت كان محسنا وكذلك من أحرم قبلها كان كذلك أيضا فلما كان الإحرام من المواقيت في حكم الإحرام مما قبلها لا في الإحرام مما بعدها ثبت أن حكم المواقيت كحكم ما قبلها لا كحكم ما بعدها فلا يجوز لأهلها من دخول الحرم إلا ما يجوز لأهل الأمصار التي قبل المواقيت فانتفى بهذا ما قال أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رضي الله عنهم في حكم أهل المواقيت واحتجنا إلى النظر في الأخبار هل فيها ما يدفع دخول الحرم بغير إحرام وهل فيها ما ينبىء عن معنى في هذين الحديثين المتقدمين يجب بذلك المعنى أن ذلك الدخول الذي كان من النبي صلى الله عليه و سلم بغير إحرام خاص له فاعتبرنا في ذلك

زہری نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اس وقت آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ اور مغفر تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغفر ہٹادیا تو آپ کو بتلایا گیا کہ ابن خطل کعبہ شریف کے پردوں کو تھامنے والا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کوقتل کر دو۔امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت نے اس بات کو اختیار کیا کہ بلا احرام حرم میں جانے میں کچھ حرج نہیں ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں مندرجہ بالا روایات کو مستدل قرار دیا ہے۔مگر دیگر حضرات نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کا گھر میقات سے با ہر ہواس کا بلا احرام مکہ میں داخلہ درست نہیں ہے۔ پھران حضرات میں یہ اختلاف ہے کہ بعض تو اہل مکہ کے علاوہ تمام لوگوں کا حکم یہی بتلاتے ہیں ۔خواہ وہ میقات کے اندر ہوں یا باہر۔ دوسرے حضرات کا کہنا یہ ہے کہ جب کسی کا گھر میقات پر ہو یا اس کے اندر مکہ والی جانب ہو ۔ وہ بلا احرام داخل ہوسکتا ہے اور جس کا گھر میقات سے باہر ہودہ بلا احرام اند نہیں آ سکتا۔ اس قول کو امام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف محمد رحمتہ اللہ نے اختیار کیا۔ دوسرے حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اہل میقات کا حکم آفاقی کا ہے۔ امام ابوحنیفہ ‘ابو یوسف ‘محمد رحمہم اللہ نے اہل میقات کو ان لوگوں میں شامل کیا جو میقات کے اندر مکہ کی جانب رہتے ہیں ۔مگر امام طحاوی رحمہ اللہ کے ہاں ان کا یہ قول قیاس کے مطابق نہیں ہے ۔اس لئے کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ جو احرام کا ارادہ کرے اور پھر بلا احرام میقات سے گز رجائےیہاں تک کہ وہ حج سے فارغ ہو جائے اور میقات کی طرف لوٹ کر احرام نہ باندھا ہوتو اس پر قربانی لازم ہے ۔اوراسی طرح جواس سے پہلے احرام باندھ لے وہ بھی نیکوکار ہے۔ جب میقات سے احرام باندھنا اس کے باہر سے احرام باندھنے جیسا ہے اندر سے احرام باندھنے کی طرح نہیں تو میقات کاحکم ماقبل کی طرح ہے مابعد جیسا نہیں پس میقات والوں کے لئے حرم میں داخلہ اس حالت میں جائز جس حالت میں میقات سے آفاقی داخل ہو سکتے ہیں ۔اس بحث سے حضرت امام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف‘ محمد رحمہم اللہ کے قول کی نفی ثابت ہوگئی ۔اب ہمیں احادیث میں غور کی ضرورت ہے کیا ان میں کوئی ایسی بات ہے جواحرام کے بغیر حرم میں داخلہ کو مانع ہے اور کیا ان میں اب گزشتہ دوروایات کے معنی پر کچھ دلالت مل سکے گی ۔جس سے یہ معلوم ہو کہ حرم مکہ میں آپ کا بلا احرام داخلہ وہ آپ کے ساتھ تو خاص تھا۔ ہم نے اس پر غور کیا تو ذیل کی روایات سامنے آئیں۔

أَنَسٍ [ص:253]، ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← وحدثنا بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4070

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4071

3850 - فإذا بن أبي داود قد حدثنا قال ثنا عمرو بن عون قال ثنا أبو يوسف يعقوب بن إبراهيم عن يزيد بن أبي زياد عن مجاهد عن بن عباس رضي الله عنهما أنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل حرم مكة يوم خلق السماوات والأرض والشمس والقمر ووضعها بين هذين الأخشبين لم تحل لأحد قبلي ولم تحل لي إلا ساعة من نهار لا يختلى خلاها ولا يعضد شجرها ولا يرفع لقطتها إلا منشد فقال العباس رضي الله عنه إلا الإذخر فإنه لا غنى لأهل مكة عنه لبيوتهم وقبورهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا الإذخر

مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالی نے مکہ کواس دن سے حرمت والا بنایا جس دن آسمان وزمین ‘سورج و چاند کو بنایا اور کعبہ اللہ کوان دو پہاڑوں انشبین یعنی جبل ابوقیس اور جبل قیقعان کے درمیان رکھا۔ یہ مجھ سے قبل کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور میرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی کے لئے حلال ہوا۔ اس کے گھاس کو نہ کاٹا جائے گا اور نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے اس کی گری پڑی چیز کونہ اٹھائے ہاں وہ آدمی اٹھا سکتا ہے جو اعلان کرنے والا ہو۔عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے مگر اذخر اس لئے کہ اہل مکہ کو اپنے گھروں اور قبور کے لئے اس کی اشد ضرورت ہے اس پر آپ نے فرمایا مگر اذخر کوکاٹنے کی اجازت ہے۔

بن عباس أنه ← مُجَاهِدٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← فإذا بن أبي داود قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4071

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4072

3851 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسدد قال ثنا يحيى عن أبي ذئب قال حدثني سعيد المقبري قال سمعت أبا شريح الكعبي يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله عز و جل حرم مكة ولم يحرمه الناس فمن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يسفكن فيها دما ولا يعضدن فيها شجرا فإن ترخص مترخص فقال قد حلت لرسول الله صلى الله عليه و سلم فإن الله عز و جل أحلها لي ولم يحلها للناس وإنما أحلها لي ساعة

سعید المقبری نے ابوشریح کعی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہﷺ نے فرمایا اللہ تعالی نے مکہ کو حرام کیا۔ لوگوں نے اسے حرام نہیں کیا جس کو اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان ہووہ اس میں کوئی خون نہ بہائے اور ہرگز اس کا درخت نہ کاٹے اگر کوئی رخصت پسند یہ کہے کہ اس کو اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حلال کیا (تو میرے لئے کیوں حلال نہیں ) ( تو تم اسے کہنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس کو اللہ تعالی نے میرے لئے تھوڑی دیر کے لئے حلال کیا اور لوگوں کے لئے حلال نہیں کیا۔

أَبَا شُرَيْحٍ الْکَعْبِيَّ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِي ذِئْبٍ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4072

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4073

3852 - حدثنا فهد قال ثنا يوسف بن بهلول قال ثنا عبد الله بن إدريس عن محمد بن إسحاق قال حدثني سعيد المقبري عن أبي شريح الخزاعي قال لما بعث عمرو بن سعيد البعث الى مكة لغزو بن الزبير أتاه أبو شريح فكلمه بما سمع من رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم خرج إلى نادي قومه فجلس فقمت إليه فجلست معه قال فحدث عما حدث عمرو عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعما جاوبه به عمرو قال قلت إنا كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم حين أفتتح مكة فلما كان الغد من يوم الفتح خطبنا فقال يا أيها الناس إن الله عز و جل حرم مكة يوم خلق السماوات والأرض فهي حرام من حرام الله إلى يوم القيامة لا يحل لرجل يؤمن بالله واليوم الآخر أن يسفك فيها دما ولا يعضد بها شجرا لم تحل لأحد كان قبلي ولا تحل لأحد بعدي ولم تحل لي إلا هذه الساعة غضبا على أهلها ألا ثم قد عادت كحرمتها بالأمس فمن قال لكم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أحلها فقولوا له إن الله عز و جل قد أحلها لرسوله ولم يحلها ذلك فقال لي انصرف أيها الشيخ فنحن أعرف بحرمتها منك إنها لا تمنع سافك دم ولا مانع خربة ولا خالع طاعة قلت قد كنت شاهدا وكنت غائبا وقد أمرنا رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يبلغ شاهدنا غائبنا وقد أبلغتك

سعید مقبری نے ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے جب عمرو بن سعید نے ایک دستہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کے لئے بھیجا تو ابوشریح خود عمر و بن سعید کے پاس گئے اور جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا وہ اس کو سنایا پھراپنی قوم کی مجلس میں آ بیٹھے تو میں ان کے پاس اٹھ کر گیا اوران کے پاس بیٹھ گیا چنانچہ انہوں نے مجھے وہی روایت سنائی جوعمرو بن سعید کو سنائی اور وہ بھی بتلا یا جوعمرو نے جواب دیا اور کہنے لگے ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت ساتھ تھے جب مکہ فتح ہوا جب فتح مکہ سے اگلا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اورفرمایا اے لوگو! اللہ تعالی نے مکہ کو حرمت والا بنایا جب سے آسمان وزمین کو پیدا کیا وہ اللہ تعالی کے محترم مقامات سے ہے جو قیامت تک محترم رہیں گے۔کسی شخص کو جائز نہیں جواللہ تعالی اور آخرت پر یقین رکھتا ہو۔ کہ وہ اس میں کوئی خون بہائے اور نہ یہ جائز ہے کہ کوئی درخت کاٹے ۔ اور مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں فرمایا اور میرے بعد بھی کسی کے لئے حلال نہیں اور میرے لئے بھی صرف ایک گھڑی کے لئے حلال فرمایا اور اس کا سبب اہل مکہ مشرکین پر غضب کا اظہارتھا۔خبر دارسنو! پھر اس کی حرمت پہلے کی طرح واپس لوٹ آئی ہے جوشخص تمہیں کہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حلال کیا تو اس کو یہ جواب دو بلاشبہ اللہ تعالی نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس کو حلال کیا ہے اس کو تیرے لئے حلال نہیں کیا ۔سعید کہتے ہیں ابوشریح کہنے لگے میری بات سن کر عمر و بن سعید کہنے لگا اے بوڑھے ! تم لوٹ جاؤ ہم تیری نسبت اس کی حرمت سے زیادہ واقف ہیں یہ خون بہانے والے سے نہیں روکتا اور نہ خون خرابہ کرنے والے سے روکتا ہے اور ندامیر کی اطاعت سے نکلنے والے سے روکتا ہے میں نے کہا میں موجودتھا تو غائب تھاہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غائب کو پہنچانے کا حکم فرمایا تھا اوروہ میں نے پہنچادیا۔

أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ← يُوسُفَ بْنِ بُهْلُولٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4073

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4074

3853 - حدثنا بحر هو بن نصر عن شعيب بن الليث عن أبيه عن أبي سعيد المقبري عن أبي شريح الخزاعي عن النبي صلى الله عليه و سلم نحوه

ابوسعید المقمری نے ابوشریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح کی روایت کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم نحوه ← أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ ← أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← أَبِيهِ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← بحر هو بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4074

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4075

3854 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا بن أبي مريم قال أنا بن الدراوردي قال ثنا محمد بن عمرو بن علقمة عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن أبي هريرة رضي الله عنه قال وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم على الحجون ثم قال والله إنك لخير أرض الله وأحب أرض الله الى الله لم تحل لأحد كان قبلي ولا تحل لأحد بعدي وما أحلت لي إلا ساعة من النهار وهي بعد ساعتها هذه حرام إلى يوم القيامة

ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجون کے مقام پر کھڑے ہوئے پھرفر مایا۔ اللہ کی قسم اے مکہ تو اللہ تعالیٰ کی زمین میں سب سے بہتر ہے اوراللہ تعالیٰ کی زمین میں سب سے زیادہ محبوب سرزمین ہے۔ تو مجھ سے پہلے بھی کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا اورمیرے لئے بھی دن کی ایک گھڑی حلال کیا گیا اور یہ کہ اس گھڑی کے بعد قیامت تک حرام ہے۔

وقف رسول الله صلى الله عليه و سلم على الحجون ثم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← بن الدراوردي ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4075

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 36 باب دخول الحرم هل يصلح بغير إحرام ) · حديث 4076

3855 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا الحجاج بن المنهال وأبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي قالا ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن عمرو فذكر بإسناده مثله

حمادبن سلمہ نے محمد بن عمر و سے انہوں نے اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے۔

محمد بن عمرو فذكر بإسناده مثله ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الحجاج بن المنهال وأبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4076

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter