شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 11 باب سرقة الثمر ) · حديث 4881
4612 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان أن عبدا سرق وديا من حائط رجل فغرسه في حائط سيده فخرج صاحب الودي يلتمس وديه فوجده فاستعدى على العبد عند مروان بن الحكم فسجن العبد وأراد قطع يده فأنطلق سيد العبد إلى رافع بن خديج فأخبره أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا قطع في ثمر ولا كثر فقال الرجل فإن مروان بن الحكم أخذ غلامي وهو يريد قطع يده وأنا أحب أن تمشي معي إليه فتخبره بالذي سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم فمشى معه رافع حتى أتى مروان فقال أخذت عبدا لهذا فقال نعم قال ما أنت صانع به قال أردت قطع يده فقال له رافع إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا قطع في ثمر ولا كثر فأمر مروان بالعبد فأرسل
یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت کی ہے کہ ایک غلام نے ایک آدمی کی حویلی سے کھجور کی پنیری چوری کی اور اسے اپنے آقا کی حویلی میں لگا دیا ۔ پنیری کا مالک اپنی پنیری کے پودے کے تلاش کرنے نکلا اور اس غلام کو پا لیا اور اس کو مروان بن حکم حاکم مدینہ کے پاس لے گیا ۔ مروان نے غلام کو قید خانہ میں ڈال دیا اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ۔ غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان کو اس بات کی اطلاع دی تو انہوں نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھلوں اور پنیری کے پودوں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ۔ اس شخص نے کہا کہ مروان نے میرے غلام کو قید کر رکھا ہے اور وہ اس کا ہاٹھ کاٹنا چاہتا ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ ان کے ہاں چلیں اور جو کچھ آپ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اس کو بتلائیں ۔ چنانچہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ تشریف لے گئے مروان کے ہاں پہنچے اور فرمایا تم نے اس کا غلام پکڑا ہوا ہے اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا اس کے ساتھ کیا سلوک کرو گے ؟ اس نے کہا میں اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہوں حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ آپ نے فرمایا پھلوں اور پنیری کے پودوں پر ہاتھ نہ کاٹا جائے ۔ چنانچہ مروان نے ( یہ سن کر ) حکم دیا پس غلام کو چھوڑ دیا گیا۔
له رافع إني ← أردت قطع يده ← ما أنت صانع به ← نَعَمْ ← أخذت عبدا لهذا ← أحب أن تمشي معي إليه فتخبره بالذي ← الرجل فإن مروان بن الحكم أخذ غلامي وهو يريد قطع يده ← «لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ» ← أَنَّهُ ← أراد قطع يده فأنطلق سيد العبد إلى رافع بن خديج ← ديه فوجده فاستعدى على العبد عند مروان بن الحكم فسجن العبد ← ديا من حائط رجل فغرسه في حائط سيده فخرج صاحب الودي يلتمس ← محمد بن يحيى بن حبان أن عبدا سرق ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4881
