Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 11 باب سرقة الثمر ) · حديث 4881

4612 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان أن عبدا سرق وديا من حائط رجل فغرسه في حائط سيده فخرج صاحب الودي يلتمس وديه فوجده فاستعدى على العبد عند مروان بن الحكم فسجن العبد وأراد قطع يده فأنطلق سيد العبد إلى رافع بن خديج فأخبره أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا قطع في ثمر ولا كثر فقال الرجل فإن مروان بن الحكم أخذ غلامي وهو يريد قطع يده وأنا أحب أن تمشي معي إليه فتخبره بالذي سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم فمشى معه رافع حتى أتى مروان فقال أخذت عبدا لهذا فقال نعم قال ما أنت صانع به قال أردت قطع يده فقال له رافع إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول لا قطع في ثمر ولا كثر فأمر مروان بالعبد فأرسل

یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے روایت کی ہے کہ ایک غلام نے ایک آدمی کی حویلی سے کھجور کی پنیری چوری کی اور اسے اپنے آقا کی حویلی میں لگا دیا ۔ پنیری کا مالک اپنی پنیری کے پودے کے تلاش کرنے نکلا اور اس غلام کو پا لیا اور اس کو مروان بن حکم حاکم مدینہ کے پاس لے گیا ۔ مروان نے غلام کو قید خانہ میں ڈال دیا اور اس کا ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا ۔ غلام کا مالک رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان کو اس بات کی اطلاع دی تو انہوں نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ پھلوں اور پنیری کے پودوں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا ۔ اس شخص نے کہا کہ مروان نے میرے غلام کو قید کر رکھا ہے اور وہ اس کا ہاٹھ کاٹنا چاہتا ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ ان کے ہاں چلیں اور جو کچھ آپ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے اس کو بتلائیں ۔ چنانچہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ تشریف لے گئے مروان کے ہاں پہنچے اور فرمایا تم نے اس کا غلام پکڑا ہوا ہے اس نے کہا جی ہاں ! آپ نے فرمایا اس کے ساتھ کیا سلوک کرو گے ؟ اس نے کہا میں اس کا ہاتھ کاٹنا چاہتا ہوں حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ آپ نے فرمایا پھلوں اور پنیری کے پودوں پر ہاتھ نہ کاٹا جائے ۔ چنانچہ مروان نے ( یہ سن کر ) حکم دیا پس غلام کو چھوڑ دیا گیا۔

له رافع إني ← أردت قطع يده ← ما أنت صانع به ← نَعَمْ ← أخذت عبدا لهذا ← أحب أن تمشي معي إليه فتخبره بالذي ← الرجل فإن مروان بن الحكم أخذ غلامي وهو يريد قطع يده ← «لا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلا كَثَرٍ» ← أَنَّهُ ← أراد قطع يده فأنطلق سيد العبد إلى رافع بن خديج ← ديه فوجده فاستعدى على العبد عند مروان بن الحكم فسجن العبد ← ديا من حائط رجل فغرسه في حائط سيده فخرج صاحب الودي يلتمس ← محمد بن يحيى بن حبان أن عبدا سرق ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4881

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 11 باب سرقة الثمر ) · حديث 4882

4613 - حدثنا إسماعيل بن يحيى المزني قال ثنا محمد بن إدريس الشافعي عن سفيان بن عيينة عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان أن عبدا سرق وديا من حائط رجل فجاء به فغرسه في مكان آخر فأتي به مروان فأراد أن يقطعه فشهد رافع بن خديج أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا قطع في ثمر ولا كثر قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أنه لا يقطع في شيء من الثمر ولا من الكثر وسواء عندهم أخذ من حائط صاحبه أو منزله بعد ما قطعه وأحرزه فيه وقالوا لا قطع أيضا في جريد النخل ولا في خشبة لأن رافعا لم يسأل عن قيمة ما كان في الودية المسروقة من الجريد ولا عن قيمة جذعها ودرأ القطع عن السارق في ذلك لقول النبي صلى الله عليه و سلم لا قطع في كثر وهو الجمار فثبت بذلك أنه لا قطع في الجمار ولا فيما يكون عنده من الجريد والخشب والثمر وممن قال ذلك أبو حنيفة رحمة الله عليه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا هذا الذي حكاه رافع عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قول لا قطع في ثمر ولا كثر وهو على الثمر والكثر المأخوذين من الحائط التي ليست بحرز لما فيها فأما ما كان من ذلك مما قد أحرز فحكمه حكم سائر الأموال ويجب القطع على من سرق من ذلك المقدار الذي يجب القطع فيه وإحتجوا في ذلك بما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذا الكتاب في غير هذا الباب لما سئل عن الثمر المعلق فقال لا قطع فيه إلا ما أواه الجرين وبلغ ثمن المجن ففيه القطع وما لم يبلغ ثمن المجن ففيه غرامة مثله وجلدات نكال وقد

یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ بن حبان سے انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی ہے کہ ایک غلام نے کسی آدمی کے احاطہ سے پنیری کا ایک پودا چوری کیا اور لے جا کر دوسری جگہ بود یا۔ اس غلام کو مروان کے پاس لایا گیا تو اس نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا ارادہ کیا اس پر حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے گواہی دی کہ جناب نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پھلوں اور پیری کے پودے میں ہاتھ کاٹنا نہیں ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا قول یہ ہے کہ پھلوں کی کسی چیز میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے اور اسی طرح پودوں کی پنیری میں بھی خواہ اس نے احاطہ سے اکھاڑا یا مکان سے لیا جہاں انہوں نے اس کو محفوظ کرد یا یا کاٹ کر رکھا ہو۔ اسی طرح کھجور کی شاخوں اور اس کی لکڑی میں بھی ہاتھ نہ کاٹا جائے گا کیونکہ اس موقعہ پر حضرت رافع پنیری کے پودے کی قیمت کا سوال نہیں کیا اور اس کے تنے کی قیمت دریافت کی اور اس طرح سے چور ہاتھ کٹنے سے بچ گیا۔ کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قطع فی کثر پنیری کے پودے میں قطعی ید نہیں ہے۔ پس اس سے ثابت ہوگیا کہ پنیری کے پودے میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا اور نہ ہی کھجور کی شاخوں ، لکڑی اور پھل میں۔ یہ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے۔ دوسروں نے کہا مال محفوظ کیا قسم میں سے جو چیز بھی دس درہم کی قیمت کو پہنچ جائے اس پرقطع ید ہے اس کی دلیل مطلقا قطع ید والی روایات ہیں ۔ علماء کی دوسری جماعت نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس روایت کا مفہوم مخصوص ہے اس سے مراد ایسے پھل اور پنیری کے پودے مراد ہیں جو کسی محفوظ مقام میں نہ ہوں باتی جو محفوظ مقام میں ہوں گے اس کا حکم دیگر اموال کی طرح ہے اور ان اموال میں سے دس درہم کی مقدار چرالینے پر ہاتھ کاٹنا ہازم ہے۔ انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا جو سرقہ کے سلسلہ میں کتاب میں دوسرے مقام پر منقول ہیں جناب رسول اللہ ﷺ سے پھلوں کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا۔ لٹکے پھل ہاتھ نہ کاٹے جائیں گے مگر اس صورت میں کہ جن کو سٹور میں محفوظ کر دیا گیا ہو اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت تک نہ پہنچ جائے جس کی قیمت ڈھال تک نہ پہنچے اس میں اسی مقدار میں تاوان اور عبرت کے لئے کوڑے ہیں۔ روایت یہ ہے۔

مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِدْرِيسَ الشَّافِعِيِّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى الْمُزَنِيُّ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4882

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 11 باب سرقة الثمر ) · حديث 4883

4614 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا الوهبي قال ثنا بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك أيضا ففرق رسول الله صلى الله عليه و سلم في الثمار المسروقة بين ما أواه الجرين منها وبين ما لم يأوه وكان في شجره فجعل فيما أواه الجرين منها القطع وفيما لم يأوه الجرين الغرم والنكال فتصحيح هذا الحديث وما رواه رافع عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من قوله لا قطع في ثمر ولا كثر أن يجعل ما روى رافع هو على ما كان في الحوائط التي لم يحرز ما فيها على ما في حديث عبد الله بن عمرو مما زاد على ما في حديث رافع فهو خلاف ما في حديث رافع ففي ذلك القطع ولا قطع فيما سوى ذلك يستوي هذان الأثران ولا يتضادان وهذا قول أبي يوسف رحمه الله كتاب الجنايات

عمرو بن شعیب نے اپنے والد ، انہوں نے اپنے دادا سے انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے اس کو روایت کیا ہے ۔ جناب رسول اللہ ﷺ چرائے ہوئے پھلوں اور سٹور میں محفوظ پھلوں اور کو درخت پر ہوں اور محفوظ نہ کئے گئے ہوں ان میں سے سٹور میں محفوظ پر ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا اور جو محفوظ نہ ہوں ان میں چٹی اور سزا کا حکم فرمایا۔ تطبیق کی ایک صورت یہ ہے کہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ والی روایت لاقطع طی ثط ولا کثر اس کو ایسے احاطوں والا قرار دیں جن کو دروازے و چوکیدار سے محفوظ نہ کیا گیا ہو جیسا کہ حدیث عبداللہ بن عمرو میں ہے جو حدیث رافع کے علاوہ میں ہے حدیث رافع کے خلاف ہے اس میں ہاتھ کاٹے جائیں گے اس کے علاوہ میں قطع نہیں ہے اب یہ دونوں آثار برابر ہو گئے متضاد نہ رہے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے ۔

هذا قول أبي يوسف كتاب الجنايات ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← بن إِسْحَاقَ، ← الوهبي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4883

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter