Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3791

3588 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عثمان بن الهيثم قال ثنا بن جريج قال أخبرني عطاء أن بن عباس رضي الله عنهما كان يقول لا يطوف أحد بالبيت حاج ولا غيره إلا حل به قلت له من أين كان بن عباس رضي الله عنهما يأخذ ذلك قال من قبل قول الله تعالى ثم محلها إلى البيت العتيق فقلت له فإنما ذلك بعد المعرف قال كان بن عباس رضي الله عنهما يراه قبل المعرف وبعده قال وكان بن عباس رضي الله عنهما يأخذها من أمر النبي صلى الله عليه و سلم أصحابه أن يحلوا في حجة الوداع قالها في غير مرة

عطاء نے خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے جو حاجی بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا وہ اس حلال ہو سکتا ہے میں نے ان کو کہا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کہاں سے اخذ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ کے قول ثم محلھا الی البیت العتیق الحج۔33) میں نے کہا یہ تو عرفات کے بعد کا تذکرہ ہےتو کہنے لگے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ یہ عرفات سے پہلے اور بعد دونو ں طرح درست ہے اور کہنے لگے ابن عباس رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے اس امر سے اخذ کرتے تھے جو آپ نے حجۃ الوداع میں حلال ہونے کا حکم دیا اور آپ نے یہ بات مجھے کئی مرتبہ فرمائی ۔

عَطَاءٍ، ← بن جُرَيْجٍ ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3791

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3792

3589 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة عن أيوب عن بن أبي مليكة أن عروة قال لابن عباس رضي الله عنهما أضللت الناس يا بن عباس قال وما ذاك يا عرية قال تفتي الناس أنهم إذا طافوا بالبيت فقد حلوا وكان أبو بكر وعمر رضي الله عنهما يجيئان ملبين بالحج فلا يزالان محرمين إلى يوم النحر قال بن عباس بهذا ضللتم أحدثكم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وتحدثوني عن أبي بكر وعمر رضي الله عنهما فقال عروة إن أبا بكر وعمر رضي الله عنهما كانا أعلم برسول الله صلى الله عليه و سلم منك

ابن ابی ملیکہ کہتے ہں کہ عروہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ تم نے لوگوں کو گمراہ کر دیا انہوں نے کہا اے عریۃ وہ کیا ہے ؟ عروہ نے کہا تم لوگوں کو فتویٰ دیتے ہو کہ جب و ہ بیت اللہ کا طواف کر لیں تو حلال ہو جائیں گے حالانکہ ابو بکر ، عمر رضی اللہ عنہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے آئے اور یوم نحر تک احرام میں رہتےابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے اس سے تو تم گمراہ ہو ئے میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی بات کرتا ہوں اور تم مجھے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کی بات کرتے ہو ۔ عروہ کہنے لگے ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہم کو تم سے زیادہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو متعلق واقفیت تھی ۔

بن أبي مليكة ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3792

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3793

3590 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة قال أخبرني قتادة قال سمعت أبا حسان الرقاشي أن رجلا قال لابن عباس رضي الله عنهما يا بن عباس ما هذه الفتيا التي قد تفشت عنك أن من طاف بالبيت فقد حل قال سنة نبيكم صلى الله عليه و سلم وإن رغمتم

ابو حسان رقاشی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کو کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ یہ کیا فتویٰ ہے جو تیری طرف سے مشہور ہوا کہ جس نے بیت اللہ کا طواف کر لیا وہ حلال ہو گیا وہ کہنے لگے یہ تمہارے پیغمبر صلی اللہ علیہ کی سنت ہے اگرچہ تم کو نا پسند ہو ۔

أبا حسان الرقاشي أن رجلا ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3793

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3794

3591 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا شبابة بن سوار ح

علی بن معبد نے شبانہ بن سوار سے روایت نقل کی ہے ۔

شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3794

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3795

وحدثنا حسين بن نصر قال ثنا عبد الرحمن بن زياد ح

حسین بن نصر نے عبدالرحمن بن زیاد سے روایت نقل کی ہے ۔

عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← وحدثنا حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3795

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3796

وحدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو داود قال ثنا شعبة عن قيس بن مسلم قال سمعت طارق بن شهاب يحدث عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه قال قدمت على رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو منيخ بالبطحاء فقال لي بم أهللت قال قلت أهللت كاهلال النبي صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم قد أحسنت طف بالبيت وبين الصفا والمروة ثم أحلل ففعلت فأتيت امرأة من قيس ففلت رأسي فكنت أفتي الناس بذلك حتى كان زمان عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقال رجل يا عبد الله بن قيس رويدا بعض فتياك فإنك لا تدري ما أحدث أمير المؤمنين في النسك بعدك فقلت يا أيها الناس من كنا أفتيناه فتيان فليتئد فإن أمير المؤمنين قادم فيه فائتموا فلما قدم عمر أتيته فذكرت ذلك له فقال لي عمر رضي الله عنه إن نأخذ بكتاب الله فإن كتاب الله يأمرنا بالإتمام وإن نأخذ بسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يحل حتى بلغ الهدي محله

ابن شہاب نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول ا للہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں آیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ اپنی اونٹنی بطحاء میں بیٹھانے والے تھے آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم نے کیا احرام باندھا ؟ میں نے کہا میں نے وہی احرام باندھا جو اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ سے باندھا آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم نے خوب کیا بیت اللہ کا طواف کرو او صفا و مروہ کی سعی کر کے حلال ہو جاؤ۔ میں نے ایسا ہی کیا پھر میں قیس کی ایک عورت کے پا س آیا اس نے میرے تھوڑے سے بال لیے (کاٹے) میں لوگوں کو یہی فتویٰ دیتا رہا کہ حج کے احرام کو عمرہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے یہاں تک کہ جناب عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو ایک شخص نے کہا اے عبداللہ بن قیس اپنے فتویٰ کو چھوڑ دو تمہیں معلو م نہیں کہ امیر المومنین نے تیرے بعد کون سی نئی بات پیدا کی چنانچہ میں نے کہا اے لوگو! میں نے جن کو فتویٰ دیا سو دیا اب امیر المومنین تشریف لا رہے ہیں ان کی اقتداء کرو پس جب عمر رضی اللہ عنہ آگئے تو میں ان کی خدمت میں آیااور اس بات کا ان کے سامنے تذکرہ کیا تو عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب پر عمل کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں تکمیل کا حکم دیا ہے اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو اپنانا چاہیے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ اس وقت تک حلال نہ ہوئے یہاں تک کہ ہدی اپنے حلال کے مقام تک نہیں پہنچی یعنی نحر کے دن رمی کے بعد۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3796

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3797

3592 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا حاتم بن إسماعيل المديني قال ثنا جعفر بن محمد عن أبيه قال دخلنا على جابر بن عبد الله فسألته عن حجة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم مكث تسع سنين لم يحج ثم أذن في الناس في العاشرة إن رسول الله صلى الله عليه و سلم حاج فقدم المدينة بشر كثير يلتمس أن يأتم برسول الله صلى الله عليه و سلم فخرجنا حتى إذا أتينا ذا الحليفة فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به على البيداء ورسول الله صلى الله عليه و سلم بين أظهرنا وينزل عليه القرآن وهو يعرف تأويله ما عمل من شيء عملنا به فأهل بالتوحيد وأهل الناس بهذا الذي يهلون به ولم يرد رسول الله صلى الله عليه و سلم عليهم شيئا ولزم رسول الله صلى الله عليه و سلم تلبيته قال جابر رضي الله عنه لسنا ننوي إلا الحج لسنا نعرف العمرة حتى إذا كنا آخر طواف على المروة قال إني لو استقبلت من أمري ما استدبرت ما سقت الهدي ولجعلتها عمرة فمن كان ليس معه هدي فليحلل وليجعلها عمرة فحل الناس وقصروا إلا النبي صلى الله عليه و سلم ومن كان معه الهدي فقام سراقة بن مالك بن جعشم فقال يا رسول الله عمرتنا هذه لعامنا هذا أم للأبد فقال فشبك رسول الله صلى الله عليه و سلم أصابعه في الأخرى فقال دخلت العمرة هكذا في الحج مرتين فحل الناس كلهم وقصروا إلا النبي صلى الله عليه و سلم ومن كان معه هدي قال أبو جعفر وقول سراقة هذا للنبي صلى الله عليه و سلم وجواب النبي صلى الله عليه و سلم إياه يحتمل أن يكون أراد به عمرتنا هذه في أشهر الحج للأبد أو لعامنا هذا لأنهم لم يكونوا يعرفون العمرة فيما مضى في أشهر الحج ويعدون ذلك من أفجر الفجور فأجابه رسول الله صلى الله عليه و سلم وقال هي للأبد

جعفر بن محمد نے اپنے والد سے نقل کیا کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے اور ان سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے حج کےسلسلہ میں پوچھا تو کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نو سال مدینہ منورہ میں ٹھہر ے اور آپ نے حج نہیں کیا پھر دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ نے لوگوں میں حج کا اعلان کر دیا میں حج کو جا رہا ہوں یہ خبر سن کر بہت سے لوگ مدینہ منورہ پہنے ان کی طلب یہ تھی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی راہنمائی میں حج کریں چنانچہ ہم نکلے یہاں تک کہ ذوالحلیفہ میں پہنچے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مسجد میں نماز ادا فرمائی پھر آپ صلی اللہ علیہ قصؤاء پر سوار ہوئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ جب مقام بیدا ء پر بلند ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ ہمارے درمیان تھے اور ان پر قرآن مجید اترتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ اس کی تفسیر جانتے تھے جس پر آپ صلی اللہ علیہ نے عمل کیا آپ صلی اللہ علیہ نے اکیلا احرام باندھا اور لوگوں نے یہی احرام باندھا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ان کو کسی چیز کی تردید نہیں فرمائی آپ صلی اللہ علیہ نے تلبیہ لازم کر لیا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صرف حج کی نیت کرنے والے تھے ہم عمرہ کو نہ جانتے تھے یہاں تک کہ جب ہم نے جب مروہ کا آخری چکر لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اگر مجھے مجھے اپنی بات کا علم ہوتا جو بعد کو معلوم ہوا تو میں ہدی ساتھ نہ لاتا اور میں اس کو عمرہ بنا لیتا جس کے ساتھ ہدی موجود نہیں وہ حلال ہو جائے اور اس کو عمرہ بنا لے پھر لوگو نے احرام کھول لیے اور قصر کر لیا سوائے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور ان کے جن کے ساتھ ہدی موجود تھے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ کا جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے سوال اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا ن کو جواب یک یہ احتمال رکھتا ہے کہ ہمارا یہ عمرہ حج کے مہینوں میں ہمیشہ کے لیے ہو یا ہمارے اسی سال کے لیے ہو ۔ کیونکہ وہ لوگ حج کے مہینوں میں عمرے کو درست قرار نہ دیتے تھے بلکہ اس کو افجر الفجرر قرار دیتے تھے ۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اسکو جواب دیا کہ یہ ہمیشہ کے لیے اشہر حج میں ہے ۔ اس وقت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ ہمارا یہ عمرہ فقط ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے اس وقت جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اپنی انگلیوں کو انگلیوں میں ڈالا اور فرمایا عمرہ حج میں اس طرح داخل ہو چکا ہے یہ بات دو مرتبہ فرمائی پس تمام لوگوں نے احرام کھول دیے اور قصر کرالیے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ کے او وہ جن کے پاس ہدی کے جانور تھے ۔

حجة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال ← دخلنا على جابر بن عبد الله فسألته ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حاتم بن إسماعيل المديني ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3797

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3798

3593 - حدثنا محمد بن خزيمة وفهد قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث عن بن الهاد عن جعفر بن محمد فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر سؤال سراقة ولا جواب النبي صلى الله عليه و سلم إياه

ابن الہاد نے جعفر بن محمد سے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت ذکر کی البتہ اس میں سراقہ کا سوال اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کا جواب مذکور نہیں ہے ۔

جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← بْنِ الْهَادِ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← محمد بن خزيمة وفهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3798

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3799

3594 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن قيس بن سعد عن عطاء عن جابر رضي الله عنه قال قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة لأربع خلون من ذي الحجة فلما طافوا بالبيت وبين الصفا والمروة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم اجعلوها عمرة فلما كان يوم التروية لبوا فلما كان يوم النحر قدموا فطافوا بالبيت ولم يطوفوا بين الصفا والمروة

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ مکہ تشریف لائے جبکہ ذی الحجہ کے چار دن گزر چکے تھے جب آپ نے طواف اور سعی کر لی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اس کو عمرہ بنالو جب تردیہ کا دن آیا تو انہوں نے حج کا تلبیہ کہا جب حر کا دن آیا وہ آئے اوربیت اللہ کا طواف کیا اور صفا و مروہ کی سعی نہ کی ۔

جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3799

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3800

3595 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان قال ثنا عمرو بن دينار عن عطاء عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة صبيحة رابعة فأمرنا أن نحل قلنا أي حل يا رسول الله قال الحل كله فلو استقبلت من أمري ما استدبرت لصنعت مثل الذي تصنعون

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ مکہ آئے یہ 4ذی الحجہ تھی آپ صلی اللہ علیہ نے ہمیں حلال ہونے کا حکم دیا کہا کیسا حلا ل ہوں؟ آپ نے فرمایا مکمل طور پر حلال ہو جاؤ ۔ اگر مجھے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد میں ہوا تو میں اسی طرح کرتا جیسا تم کرنے والے ہو ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3800

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3801

3596 - حدثنا محمد بن حميد الرعيني قال ثنا علي بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن خصيف عن عطاء عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال لما قدمنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم مكة في حجة الوداع سأل الناس بما أحرمتم فقال أناس أهللنا بالحج وقال آخرون قدمنا متمتعين وقال آخرون أهللنا بإهلالك يا رسول الله فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم من كان قدم ولم يسق هديا فليحلل فإني لو استقبلت من أمري ما استدبرت لم أسق الهدي حتى أكون حلالا فقال سراقة بن مالك بن جعشم يا رسول الله عمرتنا هذه لعامنا أم للأبد فقال بل لأبد الأبد

عطاء نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں مکہ پہنچے تو لوگوں سے سوال کیا تم نے کیا احرام باندھا ؟ کچھ لوگوں نے کہا ہم نے حج کا احرام باندھا ہے دوسروں نے کہا ہم نے حج کا ارادہ کیا اور کچھ لوگوں نے کہا ہم نے وہی احرام باندھا جو آپ صلی اللہ علیہ نے باندھا ہے آپ نے ان سے فرمایا جو حج کے لیے آیا اور اس ے ہدی روزنہ نہیں کی وہ حلال ہو جائے میں اگر اپنے معاملے کو پہلے جانتا ہوتا جو مجھے بعد میں معلوم ہوا تو میں بھی ہدی روانہ نہ کرتا یہاں تک کہ میں حلال ہو جاتا اس پر سراقہ بن مالک نے کہا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ کیا ہمارا عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے (حج کے ساتھ ہے ) آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← خُصَيْفٍ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← محمد بن حميد الرعيني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3801

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 17 باب من أحرم بحجة فطاف لها قبل أن يقف بعرفة ) · حديث 3802

3597 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني بن جريج عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه أنه قال أهل رسول الله صلى الله عليه و سلم وأهللنا معه بالحج خالصا حتى إذا قدمنا مكة رابعة ذي الحجة فطفنا بالبيت وبالصفا والمروة ثم أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم من لم يكن ساق هديا أن يحل قال ولم يعزم في أمر النساء قال جابر رضي الله عنه فقلنا تركنا حتى إذا لم يكن بيننا وبين عرفة إلا خمس ليالي أمرنا نحل فنأتي عرفات والمذي يقطر من مذاكيرنا ولم يحلل هو فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم قد ساق الهدي فبلغ قولنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقام فخطب الناس فحمد الله وأثنى عليه ثم ذكر الذي بلغه من قولهم فقال لقد علمتم أني أصدقكم وأتقاكم لله وأبركم ولولا أني سقت الهدي لحللت ولو استقبلت من أمري ما استدبرت ما أهديت قال جابر رضي الله عنه فسمعنا وأطعنا فحللنا

عطاء بن ابی رباح نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے احرام باندھا اور ہم نے آپ کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا یہاں تک کہ جب ہم مکہ پہنچے تو چار ذی الحجہ تھی ہم نے طواف اور سعی صفاء مروہ کی پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حکم فرمایا جس نے ہدی روانہ نہیں کی وہ حلال ہو جائے جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ نے عورتوں کے متعلق کوئی مستقل بات نہیں فرمائی جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے کہا ہم تو چھوڑ دیے گئے جب ہمارے اور عرفہ کے درمیان پانچ راتیں رہ گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں ہم نے کہا ہم عرفات میں آئیں گے اس حال میں کہ مذی ہمارے مذاکیر سے ٹپک رہی ہو گی آپ صلی اللہ علیہ نے احرام نہ کھولا اس لیے کہ آپ ہدی روانہ کر چکے تھے ۔ ہماری بات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کو پہنچ گئی آپ صلی اللہ علیہ خطبہ کے لیے کھڑے ہو ئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی پھر آپ صلی اللہ علیہ نے اس بات کا تذکرہ کیا جو ہماری طرف سے پہنچی تھی آپ نے فرمایا تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ سچا اور سب سے زیادہ تقویٰ والا ہوں اور سب سے زیادہ نیکی والا ہوں اگر میں نے ہدی روانہ نہ کی ہوتی تو میں ضرور حلا ہوجاتا ۔ اور اگر مجھے اپنے اس معاملے کا پہلے علم ہوتا جو بعد کو علم ہوا تو میں ہدی روانہ نہ کرتا ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے آ پ صلی اللہ علیہ کا یہ حکم سنا اور مان لیا اور احرام کھول دیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← بن جُرَيْجٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3802

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter