شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 70 باب دباغ الميتة هل يطهرها أم لا ) · حديث 2624
2481 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عامر ووهب بن جرير قالا ثنا شعبة عن الحكم عن بن أبى ليلى عن عبد الله بن حكيم قال قرئ علينا كتاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن بأرض جهينة وأنا غلام شاب أن لا تنتفعوا من الميتة بإهاب ولا عصب
ابن ابی لیلیٰ نے عبداللہ بن حکیم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط مبارک ہم کو پڑھ کر سنایا گیا ہم اس وقت جمینہ کے علاقہ میں تھے میں اس وقت بھر پور جواب تھا خط کا مضمون یہ تھا مردار سے دباغت کر کے یا اس کے پٹھے سے ہرگز فائدہ مت اٹھاؤ۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَكِيمٍ، ← بن أَبِي لَيْلَى ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أبو عامر ووهب بن جرير ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2624
