Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5771

5457 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن يزيد بن أبي زياد عن عيسى بن جابان قال رهنت حليا وكان أكثر مما فيه فضاع فاختصمنا إلى شريح فقال الرهن بما فيه فهذا الحسن وشريح قد رأيا الرهن يبطل ذهابه بالدين وقد روى ذلك أيضا عن إبراهيم النخعي

یزید بن ابی زیاد نے عیسی بن جابان سے روایت کی ہے کہ میں نے کچھ زیور رہن رکھا اور اس چیز کے مقابلے میں زیادہ تھا جس کے لیے رہن رکھا گیا تھا پھر وہ ضائع ہو گیا تو وہ دونوں اپنا مقدمہ حضرت شریح رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لائے تو انہوں نے فرمایا رہن اس چیز کے بدلے میں ہےجس کے بدلے میں رہن رکھا گیا ۔یہ حضرت حسن وشریح رحمۃ اللہ علیہم جن کا مذہب یہی ہے کہ رہن کی ہلاکت قرض کو باطل کر دیتی ہے ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی اسی طرح قول ہے ۔

عيسى بن جابان ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5771

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5772

5458 - حدثنا سليمان بن شعيب عن أبيه محمد بن الحسن عن أبي حنيفة عن حماد عن إبراهيم أنه قال في الرهن يهلك في يدي المرتهن إن كانت قيمته والدين سواء ضاع بالدين وإن كانت قيمته أقل من الدين رد عليه الفضل وإن كانت قيمته أكثر من الدين فهو أمين في الفضل وروى في ذلك عن عطاء بن أبي رباح ما قد

حماد نے ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا کہ انہوں نے اگر رہن مرتہن کے ہاتھوں میں ہلاک ہو جائے اگر اس کی قیمت اور قرض ہر دو برابر ہوں تو وہ قرض کے بدلے ہلاک ہو اور اگر اس کی قیمت سے کم ہو تو زائد کو لوٹا دیا جائے گا اور اگر اس کی قیمت قرض سے زیادہ ہو تو وہ مرتہن زائد میں امین ہو گا۔ اور عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی قول ہے ۔

إِبْرَاهِيمَ، ← حَمَّادٌ، ← أَبِي حَنِيفَةَ ← أبيه محمد بن الحسن ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5772

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5773

5459 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج عن عطاء في رجل رهن رجلا جارية فهلكت قال هي بحق المرتهن [ ص 104 ] فهذا عطاء يقول بهذا وقد روينا عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال لا يغلق الرهن فهذا أيضا حجة علي مخالفنا إذا كان من أصله أن من روى حديثا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم فتأويله فيه حجة فقد خالف هذا كله في هذا الباب وخالف ما قد رويناه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعن عمر وعلي رضي الله عنهما وعمن ذكرنا من التابعين رحمة الله عليهم فمن إمامه في هذا أو بمن اقتدى به ثم النظر في هذا أيضا يدفع ما قال وما ذهب إليه إذ جعل الرهن أمانة يضيع بغير شيء وقد أجمعوا أن الأمانات لربها أن يأخذها وحرام على المرتهن منعه منها والرهن مخالف لذلك إذ كان للمرتهن حبسه ومنع مالكه منه حتى يستوفي دينه فخرج بذلك حكمه من حكم الأمانات ورأينا الأشياء المغصوبة حرام على الغاصبين حبسها وحلال للمغصوبين منهم أخذها والرهن ليس كذلك لأن المرتهن حلال له حبس الرهن ومنع الراهن منه حتى يستوفي منه دينه ورأينا العوارى للمستعير الانتفاع بها وللمعير أخذها منه متى أحب والرهن ليس كذلك لأن المرتهن حرام عليه استعمال الرهن وليس للراهن أخذه منه حتى يوفيه دينه فبان حكم الرهن عن حكم الودائع والغصوب والعوارى وثبت أن حكمه بخلاف حكم ذلك كله وقد أجمعوا أن للمرتهن حبسه حتى يستوفي الدين وحلال للراهن أخذه إذا برئ من الدين فلما كان حبس الرهن مضمنا بحبس الدين وسقوط حبسه مضمنا بسقوط حبس الدين كان كذلك أيضا ثبوت الدين مضمنا بثبوت الرهن فما كان الرهن ثابتا فالدين ثابت ومتى كان الرهن غير ثابت فالدين غير ثابت وكذلك رأينا المبيع في قولنا وقول هذا المخالف لنا للبائع حبسه بالثمن ومتى ضاع في يده ضاع بالثمن فالنظر على ما اجتمعنا عليه نحن وهو من هذا أن يكون الرهن كذلك وأن يكون ضياعه يبطل الدين كما كان ضياع المبيع يبطل الثمن فهذا هو النظر في هذا الباب غير أن أبا حنيفة وأبا يوسف ومحمدا رحمة الله عليهم ذهبوا في الرهن إلى ما قد رويناه في هذا الباب عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه وإبراهيم النخعي رحمة الله عليه واحتجوا في ذلك بما قد أجمعوا عليه في الغصب فقالوا رأينا الأشياء المغصوبة لا يوجب ضياعها من غصبها أكثر من ضمان قيمتها وغصبها حرام قالوا فالأشياء المرهونة التي قد ثبت أنها مضمونة أحرى أن لا يجب بضمانها على من قد ضمنها أكثر من مقدار قيمتها وكانوا يذهبون في تفسير قول سعيد بن المسيب له غنمه وعليه غرمه إلى أن ذلك في البيع يريدون إذا بيع الرهن بثمن فيه نقص عن الدين غرم المرتهن ذلك النقص وهو غرمه المذكور في الحديث وإذا بيع بفضل عن الدين أخذ الراهن ذلك الفضل وهو غنمه المذكور في الحديث

ابن جریح نے عطاء رحمۃ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ اگر کسی آدمی کے پاس لونڈی رہن رکھی وہ مر گئی (تو کیا حکم ہے ) فرمایا وہ مرتہن کے حق میں (قرض) کے بدلے ہے ۔ یہ عطاء بھی یہی فرما رہے ہیں اور ہم نے عطاء رحمۃ اللہ علیہ کے واسطہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے " لا یغلق الرھن " کی روایت نقل کی ہے یہ روایت بھی خاص طور پر ہمارے مخالفین کے خلاف دلیل ہے ۔ اس لیے کہ ان کا مسلمہ قاعدہ ہے کہ جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرے وہ اس کی تاویل کو زیادہ جانتا ہے تو ہمارے مخالف نے اس پورے باب میں اپنے اس قانون کی خلاف ورزی کی اور اس کی بھی مخالفت کی جو ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضڑت علی ۔ عمر رضی اللہ عنہا اور جلیل القدر تابعین رحمۃ اللہ علیہم سے نقل کیا ۔ تو اس سلسلہ میں ہمارے مخالف کا کون امام ہے یا انہوں نے کس کی پیروی کی ہے ؟پھر قیاس میں ہمارے مخالف مذہب کی نفی کرتا ہے کیونکہ اس نے رہن کو امانت قرار دیا ہے اور اس کے متعلق کہا کہ وہ بلا عوض ضائع ہو جائے گا حالانکہ اس بات ر سب کا اتفاق ہے کہ امانتوں کے مالک کو ان کے لینے کا حق ہے اور مرتہن کو لینے سے رکنا حرام ہے اور رہن کا معاملہ اس کے خلاف ہے اس لیے کہ مرتہن اس کو اپنے ہاں روک سکتا ہے اور مالک کو قرض کی ادائیگی کا ملہ تک منع کر سکتا ہے ۔ پس اس علت کی وجہ سے رہن کا حکم امانتوں سے خارج ہو گیا اور ہم نے مغصویہ اشیء پر نگا ہ ڈالی اس کا روکنا غاصب پر حرم ہے اور مغصو بین ان میں سے لینا جائز ہے ۔ اور رہن اس طرح نہیں ہے کہ کیونکہ مرتہن کو رہن کا روکنا حلال ہے او ادائیگی قرض تک راہن کو اس سے منع کرنا بھی جائز ہے ۔ہم نے ادھار لی ہوئی اشیاء پر نظر ڈالی ۔ عاریت لینے والا ا سے انتفاع تو حاصل کر سکتا ہے اور عاریت دینے والا جب پسند کرے وہ اس سے لے سکتا ہے ۔ حالانکہ رہن اس طرح نہیں ہے ۔ کیونکہ مرتہن کو رہن کا استعمال کرنا حرام ہے اور راہن قرض کی ادائیگی تک اس سے وصول کا حق بھی نہیں رکھتا۔ (اب تک کے کلام سے ثابت ہو گیا ) کہ رہن کا حکم امانتوں ، مغصوبہ اشیاء اور عاریتہ حاصل کی ہوئی اشیاء سے مختلف ہے اور یہ ثابت ہو ا کہ رہن کا حکم ان سب سے جدا ہے ۔ اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ مرتہن کو اس قت تک روک سکتا ہے جب تک کہ وہ قرض ادا نہ کرے اور جب قرض سے وہ بری ہو جائے تو اس چیز کا راہن کو لینا حلال ہے ۔ جب رہن کا روکنا قرض کو روکنے سے مشروط ہے اور یہ رکنا اس وقت ساقط ہو گا قرض بھی ثابت ہو گا ۔ جب رہن ثابت نہیں رہے گا تو قرض بھی ثابت نہ ہو گا۔ اسی طرح ہم نے بیع کو دیکھا کہ ہمارے اور ہمارے مخالف کے قول کے مطابق اس کو قیمت کی وصولی کے لیے روکا جا سکتاہے اور جب وہ بائع کے ہاتھ میں ہلاک ہو گا تو قیمت کے عوض ہلاک ہو گا جس بات پر ہم اور ہمارا مخالف متفق ہے ا پر قیاس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ رہن کا حکم بھی یہ ہو ۔ اس کا ضائع ہونا قرض کو باطل کر دیتا ہے ۔ جس طرح مبیع کو ضاع ہونا قیمت کو باطل کر دیتا ہے ۔ اس باب میں تقاضا قیاس یہی ہے ۔ البتہ امام ابو حنیفہ ، ابو وسف ، محمد رحمہم اللہ نے اس باب میں وہ راستہ اختیار کیا ہے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں غصب پر استدلال کیا جس کے متعلق سب کا اتفاق ہے وہ فرماتے ہیں کہ مغصوبہ اشیاء کو ضائع کرنے سے ان کی قیمت سے زیادہ تاوان لازم نہیں ہوتا ۔ حالانکہ غصب حرام ہے جو اشیاء رہن رکھی گئی ہوں ۔ جن کا ضمان والا ہونا ثابت ہو گیا ان میں سے زیادہ مناسب ہے کہ ان کا ضمان بھی قیمت سے زائد لازم نہ ہو ۔ وہ سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ کے قول لہ غنمہ ولیہ غرمہ " کی تفسیر یہ کرتے ہیں کہ بیع سے متعلق ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مرہونہ شئی کو اتنی قیمت میں فروخت کیا جائے جو قرض سے کم ہو تو مرتہن پر اس کا تاوان ہو گا حدیث میں اسی تاوان کا ذکر ہے اور قرض سے زائد رقم پر فروخت ہو تو راہن یہ اضافہ اسے سے وصول کر کے گا اور یہ اس کا نفع ہے جس کا تذکرہ روایت میں کیا گیا ہے ۔

بهذا وقد روينا عنه ← هي بحق المرتهن فهذا عطاء ← عطاء في رجل رهن رجلا جارية فهلكت ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5773

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5774

5460 - حدثنا علي بن شيبة وفهد بن سليمان قالا ثنا أبو نعيم الفضل بن دكين قال ثنا سفيان عن عمرو بن دينار قال سمعت بن عمر يقول سمعت رافع بن خديج يقول نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المزارعة

عمروبن دینار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےمزارعت سے منع فرمایا ۔

الْمُزَارَعَةِ، ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← بن عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← علي بن شيبة وفهد بن سليمان

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5774

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5775

5461 - حدثنا أبو بكرة بكار بن قتيبة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان عن عمرو بن دينار قال سمعت بن عمر يقول كنا نخابر ولا نر بذلك بأسا حتى زعم رافع بن خديج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن المخابرة فتركناها

عمرو بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہم مخابرہ کرتے تھے اور اس میں کوی حرج خیا ل نہ کرتے تھے یہاں تک کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۔ تو ہم نے مخابرہ چھوڑ دیا ۔

كنا نخابر ولا نر بذلك بأسا حتى زعم رافع بن خديج ← بن عُمَرَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أبو بكرة بكار بن قتيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5775

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5776

5462 - حدثنا نصر بن مرزوق وابن أبي داود قال ثنا أبو صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال أخبرني سالم بن عبد الله بن عمر أن أباه يعني عبد الله بن عمر كان يكرى أرضه حتى بلغه أن رافع بن خديج الأنصاري كان ينهى عن كراء الأرض فلقيه فقال يا بن خديج ماذا تحدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في كراء الأرض فقال سمعت عمي وكانا قد شهدا بدرا يحدثان أهل الدار أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن كراء الأرض قال عبد الله لقد كنت أعلم أن الأرض كانت تكرى على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم خشي عبد الله أن يكون رسول الله أحدث في ذلك شيئا لم يكن علمه فترك كراء الأرض

سالم بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمین کو کرایہ پر دیتے تھے یہاں تک کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ رافع بن خدیج انصاری رضی اللہ عنہ زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے ہیں۔ میرے والد رافع کو ملے اور کہا اے ابن خدیج زمین کے کرایہ کے سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا بات بان کرتے ہو۔ تو وہ کہنے لگے میں نے اپنے دو چچاؤں جوبدری صحابی ہیں ان سے سنا وہ دونوں گھروالوں سے بیان کرتے تھے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ۔عبداللہ کہنے لگے میں جانتا تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دی جاتی تھی پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ خدشہ ہوا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممکن ہے اس سلسلے میں کوئی نیا حکم فرمایا ہو۔ جو ان کے علم میں نہ ہو اس لیے زمین کو کرایہ پر دہنا چھوڑ دیا ۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← نصر بن مرزوق وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5776

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5777

5463 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا شعبة عن الحكم عن مجاهد عن رافع بن خديج أن النبي صلى الله عليه و سلم نهى عن الحقل قال شعبة فقلت للحكم ما الحقل قال أن تكرى الأرض قال أبو جعفر أراه أنا قال بالثلث والربع

مجاہد نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ نے حقل سے منع فرمایا ہے ۔ شعبہ کہنے لگے میں نے حکم سے دریافت کیا حقل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا زمین کو کرایہ پر دینا۔ ابو جعفر کہتے ہیں میرے خیال میں انہوں نے ساتھ ثلث ، ربع کا بھی نام لیا ۔ یعنی زمین کو ثلث و ربع پر کرایہ پر دینا ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مُجَاهِدٍ ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5777

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5778

5464 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا يحيى بن حماد قال ثنا أبو عوانة عن سليمان عن مجاهد عن رافع بن خديج قال نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أمر كان لنا نافعا وأمر نبي الله أنفع لنا قال من كانت له أرض فليزرعها أو ليزرعها

مجاہد نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمار ےلیے بظاہر فائدہ مند تھی اور اللہ کے نبی نے ہمیں اس سے زیادہ فائدہ مند کا حکم فرمایا جس کی اپنی زمین ہو وہ اس میں خود کاشت کرے یا دوسرے سے کاشت کرائے ۔

من كانت له أرض فليزرعها أو ليزرعها ← أمر كان لنا نافعا وأمر نبي الله أنفع لنا ← نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مُجَاهِدٍ ← سُلَیْمَانَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5778

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5779

5465 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم قال ثنا عبد الواحد بن زياد قال ثنا سعيد بن عبد الرحمن الزبيدي قال سمعت مجاهدا يقول حدثني أسد بن أخي رافع بن خديج قال قال رافع بن خديج فذكر مثله غير أنه قال فليزرعها فإن عجز عنها فليزرعها أخاه

مجاہد کہتے ہیں مجھے رافع بن خدیج کے بھتیجے اسد نے بیان کیا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر اسی طرح روایت کی ہے ۔ البتہ " فلیز رعھا" کے بعد "فان عجز فلیز رعھااخاہ"

فليزرعها فإن عجز عنها فليزرعها أخاه ← رافع بن خديج فذكر مثله غير أنه ← أسد بن أخي رافع بن خديج ← مُجَاهِدًا، ← سعيد بن عبد الرحمن الزبيدي ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5779

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5780

5466 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال ثنا علي بن معبد قال ثنا عبد الله بن عمر عن عبد الكريم الجزري عن مجاهد قال أخذت بيد طاوس حتى أدخلته على بن رافع بن خديج فحدثه عن أبيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن كرى الأرض فأبى طاوس وقال سمعت بن عباس أنه لا يرى بذلك بأسا

مجاہد کہتے ہیں کہ میں نے طاوس کا ہاتھ پکڑا یہاں تک کہ میں ان کو رافع بن خدیج کے بیٹے کے پاس لے گیا تو انہوں نے اپنے والد سے روایت کرتے ہوئے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ نے زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت فرمای مگر طاوس نے اس سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے میں نے سنا کہ اس میں کچھ حرج نہیں ۔

بن عباس أنه لا يرى بذلك بأسا ← كرى الأرض فأبى طاوس وقال ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى ← أَبِيهِ ← أخذت بيد طاوس حتى أدخلته على بن رافع بن خديج فحدثه ← مُجَاهِدٍ ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5780

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5781

5467 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا أبو الأحوص عن طارق بن عبد الرحمن عن سعيد بن المسيب عن رافع بن خديج قال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المزابنة والمحاقلة وقال إنما يزرع ثلاثة رجل له أرض فهو يزرعها ورجل منح أخاه أرضا فهو يزرع ما منح منها ورجل أكترى بذهب أو فضة

سعید بن مسیب نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا اور فرمایا تین آدمی کاشت کر سکتے ہیں ۔1۔ زمین والا جو خود کاشت کرے۔2۔ وہ آدمی جس نے اپنے بھائی (مسلمان) کو زمین عنایت کی وہ اس کو کاشت کرے۔ 3۔ وہ آدمی جس نے زمین سونے یا چاندی کے بدلے کرایہ پر لی ۔

الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ» ← نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5781

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5782

5468 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو نعيم والمعلى بن منصور قالا ثنا أبو الأحوص ثم ذكر بإسناده مثله

ابو نعیم اور معلیٰ بن منصور دونوں نے ابو الا حوص سے پھر اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی ۔

بإسناده مثله ← أبو الأحوص ثم ← أبو نعيم والمعلى بن منصور ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5782

chevron_left Previous
1…608609610611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter