شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 16 كتاب الرهن ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5771
5457 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن يزيد بن أبي زياد عن عيسى بن جابان قال رهنت حليا وكان أكثر مما فيه فضاع فاختصمنا إلى شريح فقال الرهن بما فيه فهذا الحسن وشريح قد رأيا الرهن يبطل ذهابه بالدين وقد روى ذلك أيضا عن إبراهيم النخعي
یزید بن ابی زیاد نے عیسی بن جابان سے روایت کی ہے کہ میں نے کچھ زیور رہن رکھا اور اس چیز کے مقابلے میں زیادہ تھا جس کے لیے رہن رکھا گیا تھا پھر وہ ضائع ہو گیا تو وہ دونوں اپنا مقدمہ حضرت شریح رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں لائے تو انہوں نے فرمایا رہن اس چیز کے بدلے میں ہےجس کے بدلے میں رہن رکھا گیا ۔یہ حضرت حسن وشریح رحمۃ اللہ علیہم جن کا مذہب یہی ہے کہ رہن کی ہلاکت قرض کو باطل کر دیتی ہے ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ کا بھی اسی طرح قول ہے ۔
عيسى بن جابان ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5771
