Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2108

1989 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن أبى الزبير عن جابر رضي الله عنه قال جاء سليك الغطفاني في يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فقعد سليك قبل أن يصلى فقال له النبي صلى الله عليه و سلم أركعت ركعتين قال لا قال قم فاركعهما

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ سلیک غطفانی جمعہ کے دن آیا جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے سلیک دو رکعت پڑھنے سے پہلے بیٹھ گئے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے دو رکعت پڑھ لیں اس نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا اٹھو اور پڑھو ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2108

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2109

1990 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا يزيد بن إبراهيم عن أبى الزبير عن جابر أن رجلا دخل المسجد يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه و سلم يخطب ثم ذكر مثله

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا جبکہ جمعہ کا دن تھا اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے پھر اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2109

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2110

1991 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال أخبرني عمرو بن دينار أنه سمع جابر بن عبد الله يقول فذكر مثله

عمروبن دینا ر کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ کو کہتے سنا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

فذكر مثله. ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2110

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2111

1992 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا أحمد بن اسكاب الكوفى قال ثنا معاوية عن الأعمش عن أبى سفيان عن جابر رضي الله عنه قال جاء سليك الغطفاني يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب فجلس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جاء أحدكم يوم الجمعة والإمام يخطب فليصل ركعتين خفيفتين ثم ليجلس

ابو سفیان نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ سلیک غطفانی جمعہ کے دن آیا جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے پس وہ بیٹھ گیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم میں سےکوئی جمعہ کے دن ایسے حال میں آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے ہلکی دو رکعت پڑھنی چائیں پھر وہ بیٹھ جائے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← مُعَاوِيَةَ، ← أحمد بن اسكاب الكوفى ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2111

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2112

1993 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص قال ثنا أبى قال ثنا الأعمش قال سمعت أبا صالح يذكر حديث سليك الغطفاني ثم سمعت أبا سفيان بعد ذلك يقول سمعت جابرا يقول جاء سليك الغطفاني في يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم قم يا سليك فصل ركعتين خفيفتين تجوز فيهما ثم قال إذا جاء أحدكم والإمام يخطب فليصل ركعتين خفيفتين يتجوز فيهما

اعمش کہتے ہیں کہ میں نے ابو صالح کو سنا کہ وہ سلیک غطفانی کی حدیث بیان کرتے ہیں پھر میں نے ابو سفیان سے اس کے بعد یہ سنا کہ میں نےجابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ سلیک غطفانی آیا جبکہ جمعہ کا دن تھا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اس کو فرمایا آٹھو اے سلیک ! اور ہلکی دو رکعت نماز ادا کرو ان میں اختصار کرو پھر فرمایا جب تم میں کا کوئی اس ھال میں آئے کہ امام خطبہ دے رہا ہو اس کو ضرور دو ہلکی پھلکی رکعتیں پڑھنی چائیے اور ان میں اختصار کر ے۔

جَابِرًا ← أبا سفيان بعد ذلك ← أَبَا صَالِحٍ، يَذْكُرُ حَدِيثَ سُلَيْكٍ الْغَطَفَانِيِّ ثُمَّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2112

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2113

1994 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا صفوان بن عيسى قال ثنا هشام بن حسان عن الحسن عن سليك بن هدية الغطفاني أنه جاء ورسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب على المنبر يوم الجمعة فقال له أركعت ركعتين قال لا قال صل ركعتين وتجوز فيهما

حسن نے سلیک بن ہدیہ غطفانی سے نقل کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جمعہ کے دن پہنچا جبکہ آپ منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ نے فرمایا کیا تم نے د ورکعت پڑھی ہیں ؟ میں نےکہا نہیں تو آپ نے فرمایا دو رکعت اختصار سے پڑھو۔

سليك بن هدية الغطفاني ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← صَفْوَانُ بْنُ عِيسَی ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2113

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2114

1995 - حدثنا محمد بن حميد بن هشام الرعيني قال ثنا سعيد بن أبى مريم قال أنا يحيى بن أيوب قال حدثني بن عجلان عن عياض بن عبد الله أخبره عن أبى سعيد أن رجلا دخل المسجد ورسول الله صلى الله عليه و سلم على المنبر فناداه رسول الله صلى الله عليه و سلم فما زال يقول أدن حتى دنا فأمره فركع ركعتين قبل أن يجلس وعليه خرقة خلق ثم صنع مثل ذلك في الثانية فأمره بمثل ذلك ثم صنع مثل ذلك في الجمعة الثالثة فأمره بمثل ذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم للناس تصدقوا فألقوا الثياب فأمره رسول الله صلى الله عليه و سلم بأخذ ثوبين فلما كان بعد ذلك أمر الناس أن يتصدقوا فألقى الرجل أحد ثوبيه فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم أمره أن يأخذ ثوبه قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن من دخل المسجد يوم الجمعة والإمام على المنبر يخطب فينبغي له أن يركع ركعتين يتجوز فيهما واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ينبغي له أن يجلس ولا يركع والإمام يخطب وكان من الحجة لهم في ذلك أنه قد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر سليكا بما أمره به من ذلك فقطع بذلك خطبته إرادة منه أن يعلم الناس كيف يفعلون إذا دخلوا المسجد ثم استأنف الخطبة ويجوز أيضا أن يكون بنى على خطبته وكان ذلك قبل أن ينسخ الكلام في الصلاة ثم نسخ الكلام في الصلاة فنسخ أيضا في الخطبة وقد يجوز أن يكون ما أمره به من ذلك كما قال أهل المقالة الأولى ويكون سنة معمولا بها فنظرنا هل روى شيء يخالف ذلك

عیاض بن عبداللہ بتلا تے ہیں کہ حضرت ابو سعید الخدری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا کہ ایک آدمی مسجد میں اس حال میں داخل ہوا جبکہ آپ منبر پر خطبہ دے رہے تھے آپ نے اس کو آواز دی اور فرماتے رہے اور قریب اور قریب آ ۔ یہاں تک کہ وہ قریب آگیا تو اس کو فرمایا پس اس نے دو رکعت بیٹھنے سے پہلے پڑھیں اور اس کا لباس پھٹے پرانے چیتھڑے تھے پھر اس نے اسی طرح کیا تو آپ نے اس کو اسی طرح حکم دیا پھر اس نے تیسرے جمعہ اسی طرح کیا تو آپ نے اس کو یہی حکم فرمایاپھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کا حکم فرمایا لوگوں نے کپڑے ڈالے تو آپ نے اس کو دو کپڑے عنایت فرمائے پھر جب آپ نے دوبارہ صدقہ کاحکم فرمایا تو اس نے اپنا ایک کپڑا ڈال دیا آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور اسے لینے کا حکم فرمایا۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت یہ کہتی ہے کہ جمعہ کے دن جو شخص مسجد میں ایسے حال میں آئے کہ جب امام خطبہ میں مصروف ہو تو وہ اس وقت بھی مختصر طور پر دو رکعات پڑھے ۔ ان کی مندرجہ بالا روایات ہیں مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اس کو مناسب یہ ہے کہ اس وقت جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو بیٹھ جائے اور نفل نہ پڑھے انہوں نے اس کی دلیل دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیک رضی اللہ عنہ کو حکم دیتے ہوئے خطبہ روک دیا ہوتا کہ لوگوں کو مسئلہ معلوم ہو جائے کہ داخلہ مسجد کے وقت کیا کرنا چاہیے۔ پھر آپ نے نئے سرے سے خطبہ کو شروع فرمایا ہواور یہ بھی ممکن ہے کہ سابقہ خطبہ پر بناء کی ہوا اور یہ واقعہ نماز میں کلام کے نسخ ہونے سے پہلے کا ہو ۔ نماز میں کلام جب منسوخ ہوا تو خطبہ میں کلام بھی منسوخ ہو گیا اور عین ممکن ہے کہ آپ نے اس کو اس بناء پر ہی حکم دیا ہو جو قول اول فصل اول والوں نے بات کہی ہے اور عمل بھی اسی طریق پر ہو ۔ چنانچہ اب ہم روایات کو دیکھتے ہیں کہ اس کے موافق یا مخالف عمل تھا۔

عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن عَجْلَانَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← محمد بن حميد بن هشام الرعيني

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2114

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2115

1996 - فإذا بحر بن نصر قد حدثنا قال ثنا عبد الله بن وهب قال سمعت معاوية بن صالح يحدث عن أبى الزاهرية عن عبد الله بن بسر قال كنت جالسا الى جنبه يوم الجمعة فقال جاء رجل يتخطى رقاب الناس يوم الجمعة فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم اجلس فقد آذيت وآنيت قال أبو الزاهرية وكنا نتحدث حتى يخرج الإمام أفلا ترى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمر هذا الرجل بالجلوس ولم يأمره بالصلاة فهذا يخالف حديث سليك وفي حديث أبى سعيد الذي رويناه في الفصل الأول ما يدل على أن ذلك كان في حال إباحة الأفعال في الخطبة قبل أن ينهى عنها ألا تراه يقول فألقى الناس ثيابهم وقد أجمع المسلمون أن نزع الرجل ثوبه والإمام يخطب مكروه وأن مسه الحصا والإمام يخطب مكروه وأن قوله لصاحبه أنصت والإمام يخطب مكروه أيضا فذلك دليل على أن ما كان أمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم سليكا والرجل الذي أمره بالصدقة عليه كان في حال الحكم فيها في ذلك بخلاف الحكم فيما بعد ولقد تواترت الروايات عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بأن من قال لصاحبه أنصت والإمام يخطب يوم الجمعة فقد لغا

ابو الزاہریریہ حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن آپ کےپہلو میں بیٹھتا تھا کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا بیٹھ جاؤ تم نے لوگوں کو تکلیف پہنچائی اور تو آیا ( یعنی دیر سے) ابو الزاہریہ کہتے ہیں ہم امام کے نکلتے تک بات کرتے تھے ۔ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس کو بیٹھ جانے کا حکم فرمایا نہ کہ نماز پڑھنے کا تو روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ اس زمانے کی بات ہے جب خطبہ میں عمل جائز تھا اور اس کی ممانعت نہ کی گئی تھی کیا تم یہ بات نہیں دیکھ پاتے کہ وہ کہہ رہے ہیں " فالقی الناس ثیابھم" کہ لوگوں نے کپڑے ڈال دیے ۔ حالانکہ اس بات پر تو سب مسلمان متفق ہیں کہ آدمی کا اپنے کپڑے ایسے حال میں اتار نا کہ امام خطبہ دے رہاہو مکروہ ہے ۔ بلکہ دوران خطبہ کنکروں کو چھونا مکروہ ہے اور خطبہ کے درمیان اپنے ساتھی کو یہ کہہ کر خطاب کرنا کہ خاموش ہو جاؤ یہ مکروہ ہے ۔ یہ اس بات کا ہم ثبوت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلیک رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا اور وہ شخص جس کو اس کے لیے کپڑے دینے کا حکم فرمایا یہ اس حکم کے دوران تھا بخلاف اس حکم کے جواس کے بعد تھا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تواتر کے ساتھ روایات یہ بات ہے کہ یہ جو شخص اپنے ساتھی کو یہ کہے کہ تم خاموش ہو جاؤ تو اس سے لغو کام کیا ۔

له رسول الله صلى الله عليه و سلم اجلس فقد آذيت وآنيت ← جاء رجل يتخطى رقاب الناس يوم الجمعة ← كنت جالسا الى جنبه يوم الجمعة ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← فإذا بحر بن نصر قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2115

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2116

1997 - حدثنا بذلك يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن بن المسيب عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال إذا قلت لصاحبك أنصت والإمام يخطب فقد لغوت

سعید ابن المسیب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم نے اپنے ساتھی کو دوران خطبہ انصیب کہا تو تم نے لغو حرکت کی بغوبات کہی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن المسيب ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← بذلك يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2116

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2117

1998 - حدثنا أبو أمية قال ثنا أبو غسان قال ثنا القاسم بن معن عن بن جريج عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

ابن جریح نے ابن شہاب سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جب آدمی کا اپنے ساتھی کو یہ کہنا کہ تو نے لغو کام کیا اتنی بھی لغو ہے تو فعل و عمل لغو تو بدرجہ اولیٰ لغو ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلیک رضی اللہ عنہ کو وہ حکم دیا اس وقت شرعی حکم اور تھا اور جب اس کولغو قرار دیااس وقت حکم شرعی اور تھا اس سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح مروی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← بن جُرَيْجٍ ← الْقَاسِمِ بْنِ مَعْنٍ ← أبو غسان، ← اَبُوْ اُمَیَّۃَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2117

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2118

1999 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال أخبرني عمر بن عبد العزيز عن إبراهيم بن عبد الله بن قارظ وعن بن المسيب أنهما حدثاه عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سمعه يقول إذا قلت لصاحبك أنصت والإمام يخطب يوم الجمعة فقد لغوت فإذا كان قول الرجل لصاحبه والإمام يخطب أنصت لغوا كان قول الإمام للرجل قم فصل لغوا أيضا فثبت بذلك أن الوقت الذي كان فيه من رسول الله صلى الله عليه و سلم الأمر لسليك بما أمره به كان الحكم منه في ذلك بخلاف الحكم في الوقت الذي جعل مثل ذلك لغوا وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في مثل ذلك ما

سعید بن المسیب اور عبداللہ بن قارظ دونوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا امام کے خطبہ کے دوران جمعہ کے دن اگر تم نے اپنے ساتھ کو انصت کہا تو تم نے لغو بات کہی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن المسيب أنهما حدثاه ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← أَبُو صَالِحٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2118

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 51 باب الرجل يدخل المسجد يوم الجمعة والإمام يخطب هل ينبغي له أن يركع أم لا ) · حديث 2119

2000 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا مكي بن إبراهيم قال ثنا عبد الله بن سعيد عن حرب بن قيس عن أبى الدرداء أنه قال جلس رسول الله صلى الله عليه و سلم في يوم جمعة على المنبر يخطب الناس فتلا آية والى جنبي أبى بن كعب فقلت له يا أبى متى نزلت هذه الآية فأبى أن يكلمنى حتى إذا نزل رسول الله صلى الله عليه و سلم عن المنبر قال مالك من جمعتك الا ما لغوت ثم انصرف رسول الله صلى الله عليه و سلم فجئته فأخبرته فقلت يا رسول الله انك تلوت آية والى جنبي أبى بن كعب فسألته متى نزلت هذه الآية فأبى أن يكلمنى حتى إذا نزلت زعم أنه ليس لي من جمعتي الا ما لغوت قال صدق إذا سمعت إمامك يتكلم فأنصت حتى ينصرف

صرب بن قیس حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر خطبہ کے لیے بیٹھے اور ایک آیت تلاوت فرمائی میرے پہلو میں ابی بن کعب تشریف فرما تھے میں نے ان کو کہا اے ابی ! یہ آیت کب نازل ہوئی انہوں نے مجھ سے بات کرنے سے انکار کر دیا جب تک کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نہیں اترے پھرکہنے لگے تمہیں تمہارے جمعہ سے سوائے لغوبات کے کچھ حاصل نہیں ہوا پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب واپس تشریف لے گئے تو میں آپ کی خدمت میں آیا اور میں نے اس بات کی اطلاع دی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے خطبہ میں آیت کی تلاوت فرمائی میرے پہلو میں اس وقت بن کعب بیٹھے میں نے ان سے سوال کیا یہ آیت کب اتری ؟ تو ابی نے مجھ سے بات کر نے سے انکار کردیا جب آپ منبر سے نیچے تشریف لائے تو اس نے مجھے کہا کہ تمہارے جمعہ کا تمہیں سوائے لغو بات کے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس نے سچ کہا جب تم امام کو کلام کرتے سنو تو خاموش ہو جاؤ یہاں تک کہ امام نماز سے فارغ ہو جائے ۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← حَرْبِ بْنِ قَيْسٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2119

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter