Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3829

3624 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن الأنصاري ومحمد بن إدريس المكي قالا ثنا سعيد بن منصور قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن عبيد الله بن عمر عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قال من جمع بين الحج والعمرة كفاه لهما طواف واحد وسعي واحد ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقالوا على القارن بين الحج والعمرة طواف واحد لا يجب عليه من الطواف غيره وخالفهم بذلك آخرون فقالوا بل يطوف لكل واحد منهما طوافا واحدا ويسعى لهما سعيا وكان من الحجة لهم في ذلك أن هذا الحديث خطأ أخطأ فيه الدراوردي فرفعه الى النبي صلى الله عليه و سلم وإنما أصله عن بن عمر عن نفسه هكذا رواه الحفاظ وهم مع هذا فلا يحتجون بالدراوردي عن عبيد الله أصلا فكيف يحتجون به في هذا فاما ما رواه الحفاظ من ذلك عن عبيد الله فما

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جو شخص حج اور عمرہ کو جمع کرے تو اسے ایک طواف اور ایک سعی کا فی ہے پھر وہ اس وقت تک حلال نہیں ہوگا جب تک کہ وہ دونوں کے افعال سے فارغ نہ ہو جائے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ قارج پر حج و عمرہ کا طرف ایک طواف ہے اس سے زائد طواف نہیں دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہر ایک کے لیے ایک ایک طواف لازم ہے اور ہر ایک کی ایک ایک سعی کرے ۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اس حدیث میں در اور دی راوی سے خطاء واقع ہوئی ہے کہ اس نے اس کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی طرف مرفوع کر دیا حالانکہ اصل یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اثر ہے حفاظ نے اس کو اسی طرح بتلایا ہے اور دوسری بات در اور دی ان کے ہاں قابل حجت نہیں ہے خصوصا جو وہ عبید اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اسی طرح بتلایا ہے اور دوسری بات دراوردی ان کے ہاں قابل حجت نہیں ہے خصوصا جو وہ عبید اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے نقل کرے پس اس سے انکار استدلال نہایت کمزور ہے عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ سے حفاظ نے اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← محمد بن إدريس المكي ← صالح بن عبد الرحمن الأنصاري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3829

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3830

3625 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كان يقول إذا قرن طاف لهما طوافا واحدا فإذا فرق طاف لكل واحد منهما طوافا وسعيا فإن قال قائل فقد روى أيوب بن موسى وموسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم ما يعود معناه الى معنى ما روى الدراوردي وقد ذكر في ذلك ما

عبیداللہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے وہ فرمایا کرتے تھے جب حج قرآن کرے تو وہ ان دونوں کے لیے ایک طواف کرے اور جب جداجدا کرے تو ہر ایک کے لیے ایک طواف اور سعی الگ الگ کرے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ ایوب بن موسیٰ بن عقبہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اسی طرح کی روایت کی ہے جس کا معنی در اور دی والی روایت کی طرف لوٹتا ہے ۔ اس سلسلہ میں یہ روایت ہے ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3830

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3831

3626 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا بن عيينة عن أيوب بن موسى عن نافع أن بن عمر رضي الله عنهما خرج من المدينة إلى مكة مهلا بعمرة مخافة الحصر ثم قال ما شأنهما إلا واحدا أشهدكم أني قد قرنت إلى عمرتي حجة ثم قدم فطاف لهما طوافا واحدا وقال هكذا فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم

ایوب بن موسیٰ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ مدینہ منورہ سے مکہ کی طرف عمرہ کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے احصار کا خطرہ تھا پھر فرمانے لگے عمرے اور حج کا معاملہ تو یکساں ہے میں تم کو گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج کو ملالیا ہے پھر مکہ پہنچے تو ان کے لیے ایک طواف کیا پھر کہنے لگے جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ نے اسی طرح کیا ۔

أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← بن عُيَيْنَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3831

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3832

3627 - حدثنا أحمد قال ثنا يعقوب قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما نحوه قالوا فقد وافق هذا ما روى الدراوردي عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم قيل لهم فكيف يجوز أن تقبلوا هذا عن بن عمر رضي الله عنهما وقد

موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے انہوں نے کہا دراور دی کی روایت موافق ہو گئی ہے ان سے کہا جائے گا کہ تمہارا اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے قبول کرنا کس طرح درست ہو ا جب کہ ان کی روایت موجود ہے ۔ ذیل ملاحظہ ہو ۔

بن عمر وقد ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← فقد وافق هذا ما روى الدراوردي ← بن عمر: نحوه ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَعْقُوبُ، ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3832

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3833

3628 - حدثنا يزيد بن سنان وابن أبي داود قالا ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال أخبرني سالم أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال تمتع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع بالعمرة ثم أهل بالحج وتمتع الناس مع رسول الله صلى الله عليه و سلم بالعمرة إلى الحج فهذا بن عمر رضي الله عنهما يخبر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان في حجة الوداع متمتعا وأنه بدأ فأحرم بالعمرة وقد

ابن شہاب نے کہا کہ مجھے سالم نے بتلایا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ نے تمتع کیا یعنی حجۃ الوداع میں عمرہ کے ساتھ حج کو ملایا اور ذوالحلیفہ سے ہدی روانہ کی ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے عمر ے کے تلبیہ سے ابتداء کی پھر حج کا احرام باندھا اور لوگوں نے بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ عمرے کے ساتھ حج کو ملایا یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے خبر دے رہے ہیں کہ آپ حجۃ الوادع میں تمتع کرنے والے تھے ۔اور آپ نے ابتداء میں عمرہ کا احرام باندھا۔

سَالِمٌ، أَنَّ عَبْد اللَّه بْنَ عُمَرَ ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← يزيد بن سنان وابن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3833

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 18 باب القارن كم عليه من الطواف لعمرته ولحجته ) · حديث 3834

3629 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد قال أنا حميد عن بكر بن عبد الله عن بن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم وأصحابه قدموا مكة ملبين بالحج فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من شاء فليجعلها عمرة إلا من كان معه الهدي فأخبر بن عمر رضي الله عنهما في حديث بكر هذا أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قدم مكة وهو ملب بالحج وقد أخبر في حديث سالم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بدأ فأحرم بالعمرة فهذا معناه عندنا والله أعلم أنه كان أحرم أولا بحجة على أنها حجة ثم فسخها فصيرها عمرة فلبى بالعمرة ثم تمتع بها الى الحج حتى يصح حديث سالم وبكر هذين ولا يتضادان وفسخ رسول الله صلى الله عليه و سلم الحج الذي كان فعله وأمر به أصحابه هو بعد طوافهم بالبيت قد ذكرنا ذلك في

بکر بن عبداللہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور آپ کے اصحاب مکہ میں حج کا تلبیہ کہتے ہوئے پہنچے اس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جو چاہے وہ اس کو عمرہ بنا لے البتہ جس کےساتھ ہدی ہو وہ عمرہ نہیں بنا سکتا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بکر بن عبداللہ کی روایت میں خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ مکہ تشریف لائے تو آپ حج کا تلبیہ کہنے والے تھے اور سالم رحمۃ اللہ علیہ والی روایت میں انہوں نے خبر دی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ابتداء عمر ہ کے احرام سے فرمائی ۔ ہمارے ہاں اس روایت کا معنی (واللہ اعلم) یہ ہے کہ پہلے آپ حج کا احرام باندھنے والے تھے کہ وہ مطلق حج ہے پھر اس کو نسخ کر دیا اسے عمرہ بنا لیا اور عمرے کا تلبیہ کہا پھر آپ نے اسکے ساتھ حج کا فائدہ حاصل کیا تا کہ سالم و بکر کی دونوں روایات درست ہو جائیں اور ان میں باہمی تضاد نہ رہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے جس حج کا ارادہ کیا تھا اس کو نسخ کر دیا اور اپنے صحابہ کرام کو بھی اسی کا حکم فرمایا اور یہ ان کے طواف بیت اللہ کے بعد کی بات ہے ہم نے نسخ حج میں اس کی تفصیل کر کے دربارہ تذکرہ سے بے نیاز کر دیا ہے یہ بات تو ناممکن ہے کہ آپ کا وہ طواف جسے آپ نے عمرہ کے لیے کیا جسکو آپ نے حج میں تبدیل کر لیا وہ اس کے لیے کافی ہو او اس حج کے لیے بھی مکتفی بنے جس کا احرام آپ نے بعد کوباندھا لیکن ہمارے ہاں اس کی وجہ (واللہ اعلم) یہ ہے کہ آپ نے یو م نحر سے قبل اپنے حج کا طواف نہیں کیا کیونکہ وہ طواف جو یوم نحر سے پہلے حج میں کیا جاتا ہے وہ تو طواف قدوم کے بعد اس عمرہ کے لیے کیا جس کو آپ نے حج سے بدل لیا اور یہ اسی طرح ہے جیسا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا اپنا فعل مروی ہے ۔ ذیل میں ملا حظہ ہو ۔

بن عُمَرَ ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3834

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter