Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2751

حدثنا أبوبکرۃ قال: ثنا أبوداود۔

ابو بکرہ نے ابو داؤد سے نقل کیا ۔

أبوداودَ: ← أَبُوبَكْرَةَ.

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2751

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2752

ح وحدثنا ابن مرزوق، قال: ثنا وھبٌ، قالا: ثنا شعبۃ، عن عمرو بن مرۃ، عن ابن أبی لیلٰی، قال: کان زید بن أرق یصلی علٰی جنائزنا فیکبر أربعا۔ فکبر یوما خمسا، فسئل عن ذٰلک، فقال أبوبکرۃ فی حدیثہٖ، فقال:(کبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خمسا)۔ وقال ابن مرزوق فی حدیثہٖ، فقال:(کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکبرھا أو کبرھا)۔

ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمار ےجنازوں پر چار تکبیرات کہا کرتے تھے ایک دن انہوں نے پانچ تکبیرات کہیں تو ان سے دریافت کیا گیا تو ابو بکرہ کی روایات میں ان سے یہ جواب نقل کیاگیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ تکبیرات کہیں ۔ اور ابن مرزوق کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ تکبیرات کہا کرتے تھے ۔

ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← ابْنُ مَرْزُوقٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2752

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2753

2601 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا محمد بن كثير قال انا إسرائيل بن يونس قال ثنا عبد الأعلى أنه صلى خلف زيد بن أرقم على جنازة فكبر خمسا فسأله عبد الرحمن بن أبى ليلى فأخذ بيده فقال أنسيت قال لا ولكني صليت خلف أبى القاسم خليلي صلى الله عليه و سلم فكبر خمسا فلا أتركه أبدا

عبدالاعلیٰ نے بیان کیا کہ میں نے ارقم رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک جنازہ کی نماز ادا کی تو انہوں نےپانچ تکبیرات کہیں ان سے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے پوچھا تو انہوں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا کیا تم بھول گئے ؟ اس نےکہا نہیں لیکن میں نے اپنے خلیل ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے پانچ تکبیرات کہی ہیں میں ان کو کبھی نہ چھوڑوں گا۔

عَبْدُ الْأَعْلَى ← إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2753

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2754

2602 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عيسى بن إبراهيم قال ثنا عبد العزيز بن مسلم عن يحيى بن عبد الله التيمى قال صليت مع عيسى مولى حذيفة بن اليمان على جنازة فكبر عليها خمسا ثم التفت إلينا فقال ما وهمت ولا نسيت ولكني كبرت كما كبر مولاي وولى نعمتى يعنى حذيفة بن اليمان صلى على جنازة فكبر عليها خمسا ثم التفت إلينا فقال ما وهمت ولا نسيت ولكني كبرت كما كبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن التكبير على الجنائز خمسا واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل هى أربع لا ينبغي أن يزاد على ذلك ولا ينقص منه واحتجوا في ذلك بما

یحییٰ بن عبداللہ تیمی کہتے ہیں کہ میں حذیفہ بن یمان کے مولیٰ عیسیٰ کے ساتھ ایک جنازہ پر نماز پڑھی تو عیسیٰ سے اس پر پانچ تکبیرات کہیں پھر ہماری طرف توجہ کر کے فرمایا نہ مجھے وہم ہوا اور نہ میں بھولا بلکہ میں اس طرح تکبرات کہہ رہا ہوں جیسے میرے مولیٰ و محسن حذیفہ بن یمان نے ایک جنازہ کی نماز ادا کی اور اس پر پانچ تکبیرات کہیں پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر نہ مجھے وہم ہوا اور نہ بھولا بلکہ میں نے اسی طرح تکبیرات کہی ہیں جیسا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہی تھیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ جنازے کی تکبیرات پانچ ہیں انہوں نے ان روایات سے دلیل حاصل کی ہے ۔ مگر دیگر علماء نے ان کےبات سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ تکبیرات چار ہیں ان سے کمی اور اضافہ درست نہیں ۔ انہوں نے ان روایات سے استدلال کیا ہے ۔

يحيى بن عبد الله التيمي، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2754

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2755

2603 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا هدبة قال ثنا همام قال ثنا يحيى بن أبى كثير عن عبد الله بن أبى قتادة أنه حدثه عن أبيه أنه شهد النبي صلى الله عليه و سلم صلى على ميت فكبر عليه أربعا

یحییٰ بن کثیر نے عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ میں اس جنازے میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا جو آپ نے ایک میت کا ادا کیا تو اس میں چار تکبیرات کہیں ۔

عبد الله بن أبي قتادة أنه ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هَمَّامٌ، ← هُدْبَةُ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2755

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2756

2604 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو داود عن سليم بن حباب عن سعيد بن ميناء عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كبر على النجاشي أربعا

سعید بن میناء نے جابر بن عبداللہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے جنازے میں چار تکبیرات کہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سعيد بن ميناء، ← سليم بن حباب ← أَبُو دَاوُدَ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2756

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2757

2605 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شريك ح

ابو الولید نے شریک سے روایت نقل کی ہے ۔

شَرِيکٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2757

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2758

وحدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد قال ثنا هشيم ح

سعید نے ہشیم سے روایت نقل کی ہے ۔

هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← وحدثنا صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2758

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2759

وحدثنا على بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا هشيم عن عثمان بن حكيم الأنصاري عن خارجة بن زيد عن زيد بن ثابت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى على قبر قلابة فكبر أربعا

خارجہ بن زید نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلابہ رضی اللہ عنہ کی قبر پر نماز پڑھی تو چار تکبیرات کہیں ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ حَکِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← وحدثنا علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2759

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2760

2606 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا شيبان قال ثنا سويد أبو حازم قال حدثني قتادة عن عطاء عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كبر أربعا

عطاء نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیرات کہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءٍ، ← قَتَادَةَ ← سويد أبو حازم ← شَيْبَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2760

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2761

2607 - حدثنا أحمد قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شريك عن عثمان بن أبى زرعة عن سلمان المؤذن قال توفى أبو شريحة فصلى عليه زيد بن أرقم فكبر عليه أربعا فقلنا ما هذا فقال هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يفعل

سلمان مؤذن کہتے ہیں کہ ابو شریحہ کی وفات ہوئی تو زید بن ارقم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور اس پر چار تکبیرات کہیں ہم نے کہا یہ کیا ہے تو انہوں نے کہا میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا۔

سلمان المؤذن ← عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ← شَرِيکٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2761

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( باب التكبير على الجنائز كم هو ) · حديث 2762

2608 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عياش الرقام قال ثنا سعيد بن يحيى الحميري قال ثنا سفيان بن حسين عن الزهرى عن أبى أمامة بن سهل بن حنيف عن أبيه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يعود فقراء أهل المدينة وأنه أخبر بامرأة ماتت فدفنوها ليلا فلما أصبح آذنوه

زہری نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفراء اہل مدینہ کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے آپ کو ایک عورت کے متعلق بتلایا گیا کہ وہ فوت ہو گئی ہے ۔ اور صحابہ کرام نے اسے رات کو دفن کر دیا ہے جب صبح ہوئی تو صحابہ کرام نے اس کی اطلاع دی پس آپ اس کی قبر کی طرف تشریف لے گئے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور چار تکبیرات کہیں ۔

أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ ← عياش الرقام ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2762

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter