Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 72 باب الأفضل في صلاة التطوع هل هو طول القيام أو كثرة الركوع والسجود ) · حديث 2666

2521 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا أبو الأحوص وخديج عن أبى إسحاق عن المخارق قال خرجنا حجاجا فمررنا بالربذة فوجدنا أبا ذر قائما يصلى فرأيته لا يطيل القيام ويكثر الركوع والسجود فقلت له في ذلك فقال ما ألوت أن أحسن أنى سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من ركع ركعة وسجد سجدة رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن كثرة الركوع والسجود أفضل في صلاة التطوع من طول القيام والقراءة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا طول القيام في ذلك أفضل وكان من الحجة لهم في ذلك ما قد رويناه فيما تقدم من كتابنا هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سئل أي الصلاة أفضل قال طول القنوت وفي بعض ما رويناه في ذلك طول القيام ففضل رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك إطالة القيام على كثرة الركوع والسجود وليس في حديث أبى ذر الذي ذكرنا خلاف لهذا عندنا لأنه قد يجوز أن يكون قول رسول الله صلى الله عليه و سلم من ركع لله ركعة وسجد سجدة على ما قد أطيل قبله من القيام ويجوز أيضا من ركع لله ركعة وسجد سجدة رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة وإن زاد مع ذلك طول القيام كان أفضل وكان ما يعطيه الله على ذلك من الثواب أكثر فهذا أول ما حمل عليه معنى هذا الحديث لئلا يضاد الأحاديث الأخر التي ذكرنا وممن قال هذا القول الآخر في إطالة القيام وأنه أفضل من كثرة الركوع والسجود محمد بن الحسن حدثني بذلك بن عمران عن محمد بن سماعه عن محمد بن الحسن وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو اسحاق نے المخارق سے نقل کیا کہ ہم حج کے لیے روانہ ہوئے تو ہمارا گزر مقام ربذہ کے پاس سے ہوا ہم نے وہاں ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا چنانچہ انہیں دیکھا کہ وہ قیام طویل نہ فرماتے تھے البتہ رکوع و سجدے کثرت سے کرتے تھے میں نے ان سے اس سلسلے میں عرض کیا تو کہنے لگے مجھے اس کو خوب (طویل) کرنے کی پرواہ نہیں میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے ایک رکوع کیا اور ایک سجدہ کیا اللہ تعالیٰ اس سے اس کا ایک درجہ بڑھاتے ہیں اور ایک غلطی معاف فرماتے ہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا قول ہے کہ نفل نماز میں طویل قیام اور قراءت کی نسبت رکوع اور سجدات کی کثرت افضل ہے اور انہوں نے روایت بالا کو دلیل بنایا ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ طویل قیام افضل ہے اور ان کی دلیل وہ روایت ہے جو اسی کتاب میں ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر آئے کہ آپ سے دریافت کیا گیا کہ کونسی نماز (نفلی ) افضل ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طویل قیام والی ۔ بعض روایتوں میں قنوت کا لفظ آیا اور بعض میں قیام کا ( ہر دو کا معنی ایک ہی ہے) تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کو کثرت رکوع اور سجود سے افضل قرار دیا اور رہی روایت ابوذر جو ہم نے ذکر کی ہے اس میں ہماری اس بات کے خلاف کوئی چیز نہیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د گرامی کہ جس میں آپ نے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رکوع کیا یا ایک سجدہ کیا وہ اس بات پر محمول ہو کہ جو اس سے پہلے لمبا قیام کیا ہو اور یہ بھی کہنا درست ہے کہ جس نے اللہ کے لیے ایک رکعت ادا کی اور ایک سجدہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کےذریعے اس کا ایک درجہ بلند کرتے ہیں اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتے ہیں اور اگر اس سے اس کے ساتھ ساتھ لمبے قیام کا اضافہ کر لیا تو یہ افضل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس سے بڑھ کر ثواب دیں گے ۔ یہ معنی جو ہم نے بیان کیا ہے اس روایت سے مراد لینا بہتر ہے تاکہ وہ دوسری حدیث کے خلاف نہ ہو جس کوہم نے پیچھے ذکر کیا ۔ جنہوں نے اس طویل قیام کو افضل قرار دیا کہ وہ زیادہ رکوع اور سجود سے بہتر ہے وہ امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ ہے اور مجھے یہ بات ابن ابی عمران نے نقل کی کہ یہی امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہم کا قول بھی ہے ۔

الْمُخَارِقِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أبو الأحوص وخديج ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2666

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 72 باب الأفضل في صلاة التطوع هل هو طول القيام أو كثرة الركوع والسجود ) · حديث 2667

2523 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني معاوية بن صالح عن العلاء بن الحارث عن يزيد بن أرطاة عن جبير بن نفير أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما رأى فتى وهو يصلى قد أطال صلاته فلما انصرف منها قال من يعرف هذا قال رجل أنا فقال عبد الله لو كنت أعرفه لأمرته أن يطيل الركوع والسجود فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إذا قام العبد يصلى أتى بذنوبه فجعلت على رأسه وعاتقيه فكلما ركع أو سجد تساقطت عنه فان قال قائل ففي هذا الحديث تفضيل الركوع والسجود على القيام فقيل له ما فيه ما ذكرت وإنما فيه ما يعطاه المصلى على الركوع والسجود من حط الذنوب عنه ولعله يعطى بطول القيام أفضل من ذلك وأما ما فيه عن بن عمر فان الذي روى عن النبي صلى الله عليه و سلم في تفضيله طول القيام أولى منه تم كتاب الصلاة

جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نوجوان کو نماز پڑھتے دیکھا جو کہ اپنی نماز کو طویل کرنے والا تھا جب وہ نماز سے فارغ ہو ا تو آپ نے فرمایا اس نوجوان سے کون واقف ہے ایک آدمی نے کہ اس کو میں جانتا ہوں عبداللہ کہنے لگے اگر میں اس کو جانتا تو اس کو کہتا یہ رکوع اور سجود کو طویل کرے اس لیے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جب بندہ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے گناہوں کو لایا جاتا ہے اور وہ اس کے کندھوں پر سر پر رکھ دیئے جاتے ہیں وہ جب بھی رکوع یا سجدہ کرتا ہے تو گناہ اس سے گزتے چلے جاتے ہیں اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس روایت میں تو رکوع اور سجدے کو قیام سے افضل کہا گیا ہے ۔ تو اس کو جواب میں یوں کہا جائے گا کہ بلاشبہ بات ہے جو تم نے ذکر کی ۔ دراصل اس روایت میں نمازی کو رکوع اور سجدے پر ملنے والا ثواب اور اس سے مٹائے جانے والے گناہ اس کا تذکرہ ہے اور ممکن ہے کہ طویل سے یہ ثواب اور بھی بڑھ جائے باقی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جو قیام کی فضیلت کو ظاہر کرتی ہے وہ ہر اعتبار سے اولیٰ اور افضل ہے ۔

جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، ← يزيد بن أرطاة ← الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2667

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter