شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 72 باب الأفضل في صلاة التطوع هل هو طول القيام أو كثرة الركوع والسجود ) · حديث 2666
2521 - حدثنا فهد قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا أبو الأحوص وخديج عن أبى إسحاق عن المخارق قال خرجنا حجاجا فمررنا بالربذة فوجدنا أبا ذر قائما يصلى فرأيته لا يطيل القيام ويكثر الركوع والسجود فقلت له في ذلك فقال ما ألوت أن أحسن أنى سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول من ركع ركعة وسجد سجدة رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن كثرة الركوع والسجود أفضل في صلاة التطوع من طول القيام والقراءة واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا طول القيام في ذلك أفضل وكان من الحجة لهم في ذلك ما قد رويناه فيما تقدم من كتابنا هذا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه سئل أي الصلاة أفضل قال طول القنوت وفي بعض ما رويناه في ذلك طول القيام ففضل رسول الله صلى الله عليه و سلم بذلك إطالة القيام على كثرة الركوع والسجود وليس في حديث أبى ذر الذي ذكرنا خلاف لهذا عندنا لأنه قد يجوز أن يكون قول رسول الله صلى الله عليه و سلم من ركع لله ركعة وسجد سجدة على ما قد أطيل قبله من القيام ويجوز أيضا من ركع لله ركعة وسجد سجدة رفعه الله بها درجة وحط عنه بها خطيئة وإن زاد مع ذلك طول القيام كان أفضل وكان ما يعطيه الله على ذلك من الثواب أكثر فهذا أول ما حمل عليه معنى هذا الحديث لئلا يضاد الأحاديث الأخر التي ذكرنا وممن قال هذا القول الآخر في إطالة القيام وأنه أفضل من كثرة الركوع والسجود محمد بن الحسن حدثني بذلك بن عمران عن محمد بن سماعه عن محمد بن الحسن وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى
ابو اسحاق نے المخارق سے نقل کیا کہ ہم حج کے لیے روانہ ہوئے تو ہمارا گزر مقام ربذہ کے پاس سے ہوا ہم نے وہاں ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا چنانچہ انہیں دیکھا کہ وہ قیام طویل نہ فرماتے تھے البتہ رکوع و سجدے کثرت سے کرتے تھے میں نے ان سے اس سلسلے میں عرض کیا تو کہنے لگے مجھے اس کو خوب (طویل) کرنے کی پرواہ نہیں میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا جس نے ایک رکوع کیا اور ایک سجدہ کیا اللہ تعالیٰ اس سے اس کا ایک درجہ بڑھاتے ہیں اور ایک غلطی معاف فرماتے ہیں ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا قول ہے کہ نفل نماز میں طویل قیام اور قراءت کی نسبت رکوع اور سجدات کی کثرت افضل ہے اور انہوں نے روایت بالا کو دلیل بنایا ۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ طویل قیام افضل ہے اور ان کی دلیل وہ روایت ہے جو اسی کتاب میں ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر آئے کہ آپ سے دریافت کیا گیا کہ کونسی نماز (نفلی ) افضل ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ طویل قیام والی ۔ بعض روایتوں میں قنوت کا لفظ آیا اور بعض میں قیام کا ( ہر دو کا معنی ایک ہی ہے) تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کو کثرت رکوع اور سجود سے افضل قرار دیا اور رہی روایت ابوذر جو ہم نے ذکر کی ہے اس میں ہماری اس بات کے خلاف کوئی چیز نہیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د گرامی کہ جس میں آپ نے فرمایا کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رکوع کیا یا ایک سجدہ کیا وہ اس بات پر محمول ہو کہ جو اس سے پہلے لمبا قیام کیا ہو اور یہ بھی کہنا درست ہے کہ جس نے اللہ کے لیے ایک رکعت ادا کی اور ایک سجدہ کیا تو اللہ تعالیٰ اس کےذریعے اس کا ایک درجہ بلند کرتے ہیں اور اس کا ایک گناہ مٹا دیتے ہیں اور اگر اس سے اس کے ساتھ ساتھ لمبے قیام کا اضافہ کر لیا تو یہ افضل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو اس سے بڑھ کر ثواب دیں گے ۔ یہ معنی جو ہم نے بیان کیا ہے اس روایت سے مراد لینا بہتر ہے تاکہ وہ دوسری حدیث کے خلاف نہ ہو جس کوہم نے پیچھے ذکر کیا ۔ جنہوں نے اس طویل قیام کو افضل قرار دیا کہ وہ زیادہ رکوع اور سجود سے بہتر ہے وہ امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ ہے اور مجھے یہ بات ابن ابی عمران نے نقل کی کہ یہی امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہم کا قول بھی ہے ۔
الْمُخَارِقِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← أبو الأحوص وخديج ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2666
