شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 14 باب شبه العمد الذي لا قود فيه ما هو ) · حديث 4921
4651 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا هشيم عن خالد الحذاء عن قاسم بن ربيعة بن جوشن عن عقبة بن أوس المسدوسي عن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أن رسول الله صلى الله عليه و سلم خطب يوم فتح [ ص 186 ] مكة فقال في خطبته ألا إن قتيل خطأ العمد بالسوط والعصا والحجر فيه دية مغلظة مائة من الإبل منها أربعون خلفة في بطونها أولادها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فقالوا لا قود على من قتل رجلا بعصا أو حجر وممن قال بذلك أبو حنيفة رضي الله عنه وخالفهم في ذلك آخرون منهم أبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهما فقالوا إذا كانت الخشبة مثلها يقتل فعلى القاتل بها القصاص وذلك عمد وان كان مثلها لا يقتل ففي ذلك الدية وذلك شبه العمد وقالوا ليس فيما احتج به علينا أهل المقالة الأولى من قول النبي صلى الله عليه و سلم ألا إن قتيل خطأ العمد بالسوط والعصا والحجر فيه مائة من الإبل دليل على ما قالوا لأنه قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أراد بذلك العصا التي لا تقتل مثلها التي هي كالسوط الذي لا يقتل مثله فإن كان أراد ذلك فهو الذي قلنا وإن لم يكن أراد ذلك وأراد ما قلتم أنتم فقد تركنا الحديث وخالفناه فنحن بعد لم نثبت خلافنا لهذا الحديث إذ كنا نقول إن من العصا ما إذا قتل به لم يجب به على القاتل قود وهذا المعنى الذي حملنا عليه معنى هذا الحديث أولى مما حمله عليه أهل المقالة الأولى لأن ما حملناه عليه لا يضاد حديث أنس رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في إيجابه القود على اليهودي الذي رضخ رأس الجارية بحجر وما حمله عليه أهل المقالة الأولى يضاد ذلك وينفيه ولأن يحمل الحديث على ما يوافق بعضه بعضا أولى على ما يضاد بعضه بعضا فإن قال قائل فأنت قد قلت إن حديث أنس رضي الله عنه منسوخ في الباب الأول فكيف أثبت العمل به ههنا قيل له لم نقل إن حديث أنس رضي الله عنه هذا منسوخ من جهة ما ذكرت وقد ثبت وجوب القود والقتل بالحجر في حديث أنس وإنما قلت إن القصاص بالحجر قد يجوز أن يكون منسوخا لما قد ذكرت من الحجة في ذلك فحديث أنس رضي الله عنه في إيجاب القود عندنا غير منسوخ وفي كيفية القود الواجب قد يحتمل أن يكون منسوخا على ما فسرنا وبينا في الباب الذي قبل هذا الباب فكان من الحجة للذين قالوا إن القتل بالحجر لا يوجب القود في دفع حديث أنس رضي الله عنه أنه قد يحتمل أن يكون ما أوجب النبي صلى الله عليه و سلم من القتل في ذلك حقا لله عز و جل وجعل اليهودي كقاطع الطريق الذي يكون ما وجب عليه حدا من حدود الله عز و جل فإن كان ذلك كذلك فإن قاطع الطريق إذا قتل بحجر أو بعصا وجب عليه القتل في قول الذي يزعم أنه لا قود على من قتل بعصا وقد قال بهذا القول جماعة من أهل النظر وقد قال أبو حنيفة رضي الله عنه في الخناق إن عليه الدية وأنه لا يقتل إلا أن يفعل ذلك غير مرة فيقتل ويكون ذلك حدا من حدود الله عز و جل فقد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم قتل اليهودي على ما في حديث أنس رضي الله عنه لأنه وجب عليه القتل لله عز و جل كما يجب على قاطع الطريق فإن كان ذلك كذلك فإن أبا حنيفة رضي الله عنه يقول كل من قطع الطريق فقتل بعصا أو حجر أو فعل ذلك في المصر يكون حكمه فيما فعل حكم قاطع الطريق وكذلك الخناق الذي قد فعل ذلك غير مرة أنه يقتل وقد كان ينبغي في القياس على قوله أن يكون يجب على من فعل ذلك مرة واحدة القتل ويكون ذلك حدا من حدود الله عز و جل كما يجب إذا فعله مرارا لأنا رأينا الحدود يوجبها انتهاك الحرمة مرة واحدة ثم لا يجب على من إنتهك تلك الحرمة ثانية إلا ما وجب عليه في إنتهاكها في البدء فكان النظر فيما وصفنا أن يكون الجاني الخناق كذلك أيضا وأن يكون حكمه في أول مرة هو حكمه في آخر مرة هذا هو النظر في هذا الباب وفي ثبوت ما ذكرنا ما يرفع أن يكون في حديث أنس رضي الله عنه حجة على من يقول من قتل رجلا بحجر فلا قود عليه وكان من حجة أبي حنيفة رضي الله عنه أيضا في قوله هذا ما
عقبہ بن اوس سدوسی ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن خطبہ ارشادفرمایا تو آپ نے اپنے خطبہ میں فرمایا سنو! شبہ عمد کا مقتول وہ ہے جو کوڑے لاٹھی اور پتھر سے قتل ہو جائے اس میں دیت مغلظہ یعنی سو اونٹ ہیں جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہیں۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جس شخص نے کی کو لاٹھی یا پتھر سے ہلاک کیا اس پرقصاص نہیں ہے یہ بات کہنے والوں میں امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ بھی ہیں۔ فریق ثانی میں امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ ، محمد رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل ہیں چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ایسی لکڑی ہو جو ہلاک کر دیتی ہو تو اس میں قاتل پر قصاص ہے اور یہ قتل عمد میں شامل ہے اور اگر لکڑی ایسی نہ ہو جس سے دعموما ً ہلاکت ہوتی ہے تو اس میں دیت ہے اور شبہ عمد ہے ۔ آپ ﷺ ہے ارشاد گرامی لوگو! سنو شبہ عمد کوڑے ، عضا اور پتھر سے قتل کرنا ہے اور اس میں سواونٹ دیت ہے۔ اس میں آپ کے موقف کی کوئی دلیل نہیں ۔ کیونکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس سے وہ لاٹھی مراد لی ہو جو ہلاک نہیں کرتی اور وہ اس کوڑے کی طرح ہے جس سے ہلاکت واقع نہیں ہوتی اور اگر یہی بات ہو تو پھر ہماری بات ثابت ہوگئی اور اگر آپ کی مراد یہ نہ ہو بلکہ وہ بات ہو جو تم کہہ رہے ہوتو گویا پھر ہم نے روایت کو ترک کر دیا اور اس کے خلاف کیا حالانکہ ہم نے حدیث کی مخالفت نہیں کی اس لئے کہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ بعض لاٹھیاں ایسی ہیں کہ ان سے ہلاکت کے سبب قاتل پر قصاص لازم نہیں ہوتا۔ ہمارا یہ معنی فریق اول کے معنی سے بہتر ہے کیونکہ اس طرح وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ والی روایت جس میں یہودی پر قصاص لازم قرار دیا گیا جس نے بچی کا سر پتھر سے کچل دیا تھا اور فریق اول کا معنی روایت انس رضی اللہ عنہ کے خلاف ہے اور اس کی نفی کرتا ہے۔ حدیث کا ایسامفہوم لینا جس سے روایات ایک دوسرے کے موافق ہوں اس معنی لینے سے بہتر ہے جس سے روایات میں تضاد ہو۔ اگر کوئی یہ کہے کہ آپ نے گزشتہ باب میں کہا تھا کہ روایت انس رضی اللہ عنہ منسوخ ہے اور یہاں اس سے اس عمل کو ثابت کر رہے ہیں۔ تو اس کے جواب میں کے ہم عرض کرتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت اس جہت سے منسوخ ہے جس سے آپ کہتے ہیں اور جس کا ذکر آپ نے کیا۔ جبکہ اس روایت سے قصاص اور پتھر سے ہلاک کرنے کا وجوب ثابت ہورہا ہے میں نے تو . وہاں یہ کہا تھا کہ یہ بالکل ممکن ہے کہ پتھر کے ساتھ قصاص لینا منسوخ ہو چکا ہو۔ جیسا کہ اس سلسلہ میں میں نے دلیل بھی ذکر کی ہے تو ہمارے نزدیک حضرت انس رضی اللہ عنہ والی روایت قصاص کے وجوب کے سلسلہ میں منسوخ نہیں ہے۔ البت واجب قصاص کس طریقہ سے لیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں منسوخ ہونے کا احتمال ہے جیسا کہ گزشتہ باب میں ہم نے وضاحت کی ہے۔ حدیث انس رضی اللہ عنہ میں یہ بھی احتمال ہے کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے اس قتل میں حق خداوندی کے طور پر قصاص کو لازم کیا ہو اور یہودی کو بمنزلہ ڈاکو کے قرار دیا جس پر اللہ تعالی کی حدود میں سے ایک حدلا گو ہوتی ہے۔ ان کو جواب میں کہیں گے کہ اگر آپ کی بات کو اسی طرح تسلیم کرلیا جائے تو وہ ڈاکوجس نے پتھر یا لاٹھی سے کسی کو ہلاک کیا تو آپ بھی اس کے متعلق مانتے ہیں ( حالانکہ لاٹھی کے ساتھ قتل کی صورت میں قصاص آپ کے ہاں واجب نہیں ہے) مجتہدین کی ایک جماعت کا یہی قول ہے۔ ادھر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ گلا گھونٹ کر مارنے والے پر دیت کو لازم کرتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ جب تک وہ اس فعل کا ارتکاب متعدد بار نہ کرے اس کو قتل نہیں کیا جاسکتا اور کئی بار کرنے سے اس کو بطور قتل کیا جائے گا۔ اب ہم (فریق ثانی) بھی یہی کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے یہودی کاقتل اس لئے کیا ہو کہ اس قتل الله تعالی کے لئے واجب ہوگیا تھا جیسا کہ ڈاکو کا قتل واجب ہوتا ہے۔ اگر یہ بات اسی طرح ہے تو پھر امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول یہ ہے کہ جو آدی ڈاکہ زنی کرے اور لاٹھی یا پتھر سے لوگوں کو ہلاک کرے یا شہر کے اندر یہ (ڈاکہ زنی وغیرہ) کرے تو اس کا حکم ڈاکوجیسا ہوگا اور اسی طرح اس گلا دبا کر ہلاک کرنے والے کا حکم ہے جس نے متعدد بار یہ حرکت کی ہو کہ اس کو قتل کیا جائے گا۔ اب امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے قول پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ اس طرح کرے اس کا قتل بھی واجب و لازم ہو اور یہ قتل الله تعالی کی حدود میں سے ایک حد کے طور پر اس پر لاگو ہوگا جیسا کہ متعدد بارکرنے سے اس پر لازم ہوتا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ حدود کو لازم کرنے والی چیز ایک مرتبہ قابل احترام چیز کی حرمت کا گرا دینا ہے تو اس حرمت کے پہلی مرتبہ گرانے سے جو حد لازم ہوتی ہے وہی کئی مرتبہ گرانے سے لازم ہوتی ہے۔ اب ہم نے جو کچھ بیان کیا اس پر قیاس کا تقاضا یہ کہ گلا گھونٹ کر ہلاک کرنے والے کا حکم بھی یہی ہو اور جو حکم پہلی بار سے لازم ہومتعدد بارکرنے سے وہی حکم ہواس باب میں قیاس کاہی تقاضا ہے۔ اب ہماری بات کے ثابت ہونے سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کا اس شخص کے خلاف حجت ہونا ختم ہو جاتا ہے جس کا قول یہ ہے کہ جس شخص نے پتھر سے کسی کو ہلاک کیا اس پر قصاص نہیں ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کی ایک اور دلیل یہ روایت ہے۔
رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ← عقبة بن أوس المسدوسي ← قاسم بن ربيعة بن جوشن ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4921
