Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2233

2110 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال ثنا هشيم بن بشير عن أبى بشر جعفر بن إياس عن أبى عمير بن أنس بن مالك قال أخبرني عمومتى من الأنصار أن الهلال خفي على الناس في آخر ليلة من شهر رمضان في زمن النبي صلى الله عليه و سلم فأصبحوا صياما فشهدوا عند النبي صلى الله عليه و سلم بعد زوال الشمس أنهم رأوا الهلال الليلة الماضية فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس بالفطر فأفطروا تلك الساعة وخرج بهم من الغد فصلى بهم صلاة العيد قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا إذا فات الناس صلاة العيد في صدر يوم العيد صلوها من غد ذلك اليوم في الوقت الذي يصلونها وممن ذهب الى ذلك أبو يوسف وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إذا فاتت الصلاة يوم العيد حتى زالت الشمس من يومه لم يصل بعد ذلك في ذلك اليوم ولا فيما بعده وممن قال ذلك أبو حنيفة رحمه الله تعالى وكان من الحجة لهم في ذلك أن الحفاظ ممن روى هذا الحديث عن هشيم لا يذكرون فيه أنه صلى بهم من الغد فممن روى ذلك عن هشيم ولم يذكر فيه هذا يحيى بن حسان وسعيد بن منصور وهو أضبط الناس لألفاظ هشيم وهو الذي ميز للناس ما كان هشيم يدلس به من غيره

ابو عمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ مجھے انصاری پھوپھی سے خبر دی کہ رمضان کی آخری رات چاند لوگوں پر مخفی ہوگیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بات ہے صبح سب کے روزے تھے زوال آفتاب کے بعد آپ کے پاس گواہی دی گئی کہ گزشتہ رات کو چاند دیکھا گیا ہے پس جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کا حکم دیا لوگوں نے اسی وقت افطار کر دیا اگلے روزآپ ان کو لے کر نکلے اور انکونماز عید پڑھائی بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ اگر لوگوں سے عید کا دن شروع دن میں عید رہ گئی تو وہ اسے اگلے روز عید کے وقت میں ادا کریں ۔ یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے دوسروں نے اس کی مخالفت میں کہا کہ جب عید کے روز عید فوت ہو جائے اور زوال کا وقت ہو جائے تو عید نہ اس دن زوال کے بعد پڑھی جائے اور نہ اگلے روز ۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ہشام سے دیگر روات نے " انہ صلی بھم من العد" کے لفظ نقل نہیں کیے اور یحییٰ بن حسان اور سعید بن منصور رضی اللہ عنہ یہ بھی ہشام کے شاگرد ہیں مگر ان کی روایت میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں یہ وہ شاگرد ہیں جنہوں نے ہشام کی تدلیس کو واضح کیا ہے ۔امام طحاوی کہتے ہیں جیسا اس روایت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جب لوگوں سے پہلے دن عید رہ جائے تو پھر وہ اگلے دن پڑھیں اور یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی رائے ہے ۔

عمُومَتِي مِنَ الأَنْصَارِ ← أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2233

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2234

2111 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا أبو بشر عن أبى عمير بن أنس قال أخبرني عمومتى من الأنصار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا أغمى علينا هلال شوال فأصبحنا صياما فجاء ركب من آخر النهار فشهدوا عند رسول الله صلى الله عليه و سلم أنهم رأوا الهلال بالأمس فأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يفطروا من يومهم ثم ليخرجوا لعيدهم من الغد الى مصلاهم

ہشیم نے ابو عمیر بن انس سے اور انہوں نے اپنی کسی پھوپھی سے نقل کیا کہ شوال کا چاند نظر نہ آیا ہم نے روزے رکھ لیے دن کے آخری حصہ میں ایک قافلہ آیا اور اس نے اطلاع دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا تھا پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ آج افطار کر دیں پھر کل اپنی عید کے لیے عیدگاہ کی طرف نکلیں ۔

عمومتى من الأنصار من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبُو بِشْرِ: ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2234

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2235

2112 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا هشيم عن أبى بشر فذكر بإسناده مثله فهذا هو أصل هذا الحديث لا كما رواه عبد الله بن صالح وأمره إياهم بالخروج من الغد لعيدهم قد يجوز أن يكون أراد بذلك أن يجتمعوا فيه ليدعوا أو ليرى كثرتهم فيتناهى ذلك الى عدوهم فتعظم أمورهم عنده لا لأن يصلوا كما يصلى للعيد وقد رأينا المصلي في يوم العيد قد كان أمر بحضور من لا يصلى

ہشیم نے ابی بشر سے بھی اس طرح اپنی اسناد سے روایت بیان کی ہے اس کی روایت کی اصل یہ ہے اس طرح نہیں کہ عبداللہ بن صالح نے نقل کیا ہے کہ آپ نے اگلے دن عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ان کو دعا کے لیے جمع کرنا مقصود ہو ۔ یاتاکہ کفارہ کے سامنے مسلمانوں کی کثرت کو ظاہر کیاجائے اور دشمن کے دل میں رعب بیٹھے اس بناء پر جمع کا حکم نہیں دیا کہ وہ نماز پڑھی جائے جیسے عید کی پڑھی جاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں نماز عید کی دعا میں ایسے لوگوں نفساء ، حیض وغیرہ کو بھی آنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ ذیل کی روایت دیکھیں۔ یہ اس روایت کی اصل ہے جوہم نے نقل کر دی اس طرح نہیں جیسا عبداللہ بن صالح سے فریق اول نے نقل کیا ہے آپ نے ان کو اگلے دن عید کے لیے نکلنے کا حکم فرمایا ۔

أَبِي بِشْرٍ، ← هُشَيْمٌ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2235

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2236

2113 - حدثنا صالح قال ثنا سعيد قال أنا هشيم قال أنا منصرو عن بن سيرين عن أم عطية وهشام عن حفصة عن أم عطية رضي الله عنها قالت كان رسول الله يخرج الحيض فيعتزلن ويشهدن الخير ودعوة المسلمين وقال هشيم فقالت امرأة يا رسول الله فان لم يكن لاحدانا جلباب قال فلتعرها أختها جلبابها فلما كان الحيض يخرجن لا للصلاة ولكن لأن يصيبهن دعوة المسلمين احتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أمر الناس بالخروج من غد العيد لأن يجتمعوا فيدعون فيصيبهم دعوتهم لا للصلاة وقد روى هذا الحديث شعبة عن أبى بشر كما رواه سعيد ويحيى لا كما رواه عبد الله بن صالح

حفصہ نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حیض والی عوتوں اورنوجوان پردہ دار خواتین کو عید کے لیے نکلنے کاحکم دیتے حائضات تو نماز سے الگ رہتیں مگر دعا ء مسلمین اور دیگر بھلائیوں ( وعظ و نصیحت) میں شریک رہتیں ۔ ہشیم نے کہا کہ ایک عورت کہنے لگی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر ہمارے پاس اوڑھنی ہو تب بھی نکلنا ضروری ہے فرمایا وہ سہیلی سے عاریۃ مانگ لے۔ مگر نکلے ضروری جب کہ حائضہ عورتوں کو دعا کے لیے نکلنے کا حکم فرمایا نہ کہ نماز کے لیے لیکن مسلمانو ں کی دعا ؤں میں صرف شمولیت کے لیے ۔ اسی طرح احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےلوگوں کو عید کے اگلے روز دعا کے لیے جمع ہونے کا حکم فرمایا ہو ۔ تاکہ تمام دعا میں شریک ہو سکیں امام شعبہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو ابو بشیر سے سعید و یحییٰ کی طرح روایت کیا ہے اس طرح نہیں جیسے عبداللہ بن صالح رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے ۔

امْرَأَةٌ ← هُشَيْمٌ ← كان رسول الله يخرج الحيض فيعتزلن ويشهدن الخير ودعوة المسلمين ← أُمِّ عَطِيَّةَ ← حَفْصَةَ، ← أُمِّ عَطِيَّةَ، وَهِشَامٍ، ← بن سِيرِينَ ← منصرو ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدٌ، ← صَالِحٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2236

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2237

2114 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن أبى بشر قال سمعت أبا عمير بن أنس رضي الله عنه ح

شعبہ نے ابو بشر سے انہوں نے ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ۔

أبا عمير بن أنس ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2237

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2238

وحدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد قال ثنا شعبة عن أبى بشر فذكر مثله بإسناده غير انه قال وأمرهم إذا أصبحوا أن يخرجوا الى مصلاهم فمعنى ذلك أيضا معنى ما روى يحيى وسعيد عن هشيم وهذا هو أصل الحديث ولما لم يكن في الحديث ما يدل على حكم ما اختلفوا فيه من الصلاة في الغد فنظرنا في ذلك فرأينا الصلوات على ضربين فمنها ما الدهر كله لها وقت غير الأوقات التي لا يصلى فيها الفريضة فكان ما فات منها في وقته فالدهر كله لها وقت يقضى فيه غير ما نهى عن قضائها فيه من الأوقات ومنها ما جعل له وقت خاص ولم يجعل لأحد أن يصليه في غير ذلك الوقت من ذلك الجمعة حكمها أن يصلى يوم الجمعة من حين تزول الشمس الى أن يدخل وقت العصر فإذا خرج ذلك الوقت فاتت ولم يجز أن يصلى بعد ذلك في يومها ذلك ولا فيما بعده فكان ما لا يقضى في بقية يومه بعد فوات وقته لا يقضى بعد ذلك وما يقضى بعد فوات وقته في بقية يومه ذلك قضى من الغد وبعد ذلك وكل هذا مجمع عليه وكانت صلاة العيد جعل لها وقت خاص في يوم العيد آخره زوال الشمس وكل قد أجمع على أنها إذا لم تصل يومئذ حتى زالت الشمس أنها لا تصلى في بقية يومها فلما ثبت أن صلاة العيد لا تقضى بعد خروج وقتها في يومها ذلك ثبت انها لا تقضى بعد ذلك في غد ولا غيره لأنا رأينا ما للذي فاته أن يقضيه من غد يومه جائز له أن يقضيه من بقية اليوم الذي وقته فيه وما ليس للذي فاته أن يقضيه من بقية يومه ذلك فليس له أن يقضيه من غده فصلاة العيد كذلك لما ثبت أنها لا تقضى إذا فاتت في بقية يومها ثبت أنها لا تقضى في غده فهذا هو النظر في هذا الباب وهو قول أبى حنيفة رحمه الله تعالى فيما رواه عن بعض الناس ولم نجده في رواية أبى يوسف عنه هكذا كان في رواية أحمد رحمهما الله تعالى

شعبہ نے ابو بشر سے پھر اس نے اپنی سند سے روایت کی البتہ یہ فرق ہے یہ الفاظ زائد ہیں وامر ہم اذا اصبحوا ان یخر جواالی مصلا ہم یہ اصل روایت ہے یہ اس روایت کی اصل ہے اب جبکہ روایت میں کوئی ایسی بات نہیں جو اگلے دن میں عید کی نماز ادا کرنے پر دلالت کرے تو اب ہم نے اس میں غور فکر کیا تو نماز کو دو قسموں میں تقسم پایا ان میں بعض تو وہ ہیں کہ جس کے لیے ہر زمانہ وقت ہے ۔ البتہ ان اوقات میں انکو ادا نہ کریں گےجن میں فرائض کی ممانعت ہے پس ان میں سے جو اپنے وقت سے رہ جائے تو تمام زمانہ اس کے لیے وقت ہے ۔ اس میں اسے ادا کیا جائے گا صرف ان اوقات میں نہ پڑھیں گے جن میں قضا ء کی ممانعت ہے اور بعض وہ نمازیں ہیں کہ جن کا خاص وقت مقرر ہے ان میں سے کسی کو جائز نہیں ہےکہ ان کو دوسرے وقت میں ادا کرے ان میں سے ایک جمعہ ہے ۔ اس کاحکم یہ ہےکہ اسے جمعہ کے دن ادا کیا جائے جبکہ سورج ڈھل جائے اور اس کا وقت عصر کے وقت تک رہتا ہے ۔ پس جب ظہر کا وقت ختم ہو جائے تو جمعہ فوت ہو جاتا ہے ۔ اس کے بعد اس کو اس دن یا اگلے دن یا بعد میں قضا نہیں کر سکتا اور وہ نمازیں جن کو فوت ہونے کے بعد اسی دن کے بقیہ وقت اور اگلے دن اور اس کے بعد جب چاہے قضاء کر سکتا ہے یہ سب کے ہاں مسلم ہے نماز عید کو دیکھیں اس کا ایک مقررہ وقت ہے اور وہ عید والا دن زوال سے پہلے تک کا وقت ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر نماز عید اس دن زوال تک ادا نہ کی تو بقیہ دن کے حصہ میں بھی ادا نہ کی جائے گی ۔ پس اس سے اس قدر بات ثابت ہو گئی کہ نماز عید وقت نکل جانے کے بعد اس دن بھی قضاء نہیں کی جاسکتی ۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ وہ اگلے روز اور نہ کسی دوسرے دن قضاء ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ یہ بات تو وہ نماز جو فوت ہو نے کے بعد اگلے قضاء کی جا سکے وہ قضاء کے بعد اس دن کے بقیہ میں بھی ادا ہو سکتی ہے ۔ جس میں اس کی ادائیگی کا وقت تھا اور جو اس طرح نہیں پس اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اگلے روز قضاء کر ے تو نماز بھی یہی حکم رکھتی ہے ۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ عید دن کے بقیہ حصہ میں قضاء نہیں کی جا سکتی تو اگلے دن قضائج نہ کیا جاتا خود ثابت ہو گیا ۔ اس باب میں نظر کا تقاضا یہی ہے ۔ بعض علماء کی روایت کے مطابق امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے ۔ا مام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کی روایات میں تو ہمیں نہیں مل سکا ۔ یہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اسی طرح تھا ۔ اس روایت کی وہی تاویل ہے جو اوپر یحییٰ والی روایت کی ذکر کر دی اب جب کہ اس کے لیے صریح روایت موجود نہیں بلکہ مختلف فیہ ہے تو ہم قیاس و نظر کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2238

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter