شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 55 باب الإمام يفوته صلاة العيد هل يصليها من الغد أم لا ) · حديث 2233
2110 - حدثنا فهد قال ثنا عبد الله بن صالح قال ثنا هشيم بن بشير عن أبى بشر جعفر بن إياس عن أبى عمير بن أنس بن مالك قال أخبرني عمومتى من الأنصار أن الهلال خفي على الناس في آخر ليلة من شهر رمضان في زمن النبي صلى الله عليه و سلم فأصبحوا صياما فشهدوا عند النبي صلى الله عليه و سلم بعد زوال الشمس أنهم رأوا الهلال الليلة الماضية فأمر رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس بالفطر فأفطروا تلك الساعة وخرج بهم من الغد فصلى بهم صلاة العيد قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا إذا فات الناس صلاة العيد في صدر يوم العيد صلوها من غد ذلك اليوم في الوقت الذي يصلونها وممن ذهب الى ذلك أبو يوسف وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا إذا فاتت الصلاة يوم العيد حتى زالت الشمس من يومه لم يصل بعد ذلك في ذلك اليوم ولا فيما بعده وممن قال ذلك أبو حنيفة رحمه الله تعالى وكان من الحجة لهم في ذلك أن الحفاظ ممن روى هذا الحديث عن هشيم لا يذكرون فيه أنه صلى بهم من الغد فممن روى ذلك عن هشيم ولم يذكر فيه هذا يحيى بن حسان وسعيد بن منصور وهو أضبط الناس لألفاظ هشيم وهو الذي ميز للناس ما كان هشيم يدلس به من غيره
ابو عمیر بن انس بن مالک کہتے ہیں کہ مجھے انصاری پھوپھی سے خبر دی کہ رمضان کی آخری رات چاند لوگوں پر مخفی ہوگیا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بات ہے صبح سب کے روزے تھے زوال آفتاب کے بعد آپ کے پاس گواہی دی گئی کہ گزشتہ رات کو چاند دیکھا گیا ہے پس جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کا حکم دیا لوگوں نے اسی وقت افطار کر دیا اگلے روزآپ ان کو لے کر نکلے اور انکونماز عید پڑھائی بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ اگر لوگوں سے عید کا دن شروع دن میں عید رہ گئی تو وہ اسے اگلے روز عید کے وقت میں ادا کریں ۔ یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے دوسروں نے اس کی مخالفت میں کہا کہ جب عید کے روز عید فوت ہو جائے اور زوال کا وقت ہو جائے تو عید نہ اس دن زوال کے بعد پڑھی جائے اور نہ اگلے روز ۔ یہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ ہشام سے دیگر روات نے " انہ صلی بھم من العد" کے لفظ نقل نہیں کیے اور یحییٰ بن حسان اور سعید بن منصور رضی اللہ عنہ یہ بھی ہشام کے شاگرد ہیں مگر ان کی روایت میں بھی یہ الفاظ موجود نہیں یہ وہ شاگرد ہیں جنہوں نے ہشام کی تدلیس کو واضح کیا ہے ۔امام طحاوی کہتے ہیں جیسا اس روایت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ جب لوگوں سے پہلے دن عید رہ جائے تو پھر وہ اگلے دن پڑھیں اور یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کی رائے ہے ۔
عمُومَتِي مِنَ الأَنْصَارِ ← أَبِي عُمَيْرِ بْنِ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ، ← أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2233
