شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2173
2053 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا بن جريج قال أخبرني نافع أن بن عمر رضي الله عنهما كساه وهو غلام فدخل المسجد فوجده يصلى متوشحا فقال أليس لك ثوبان قال بلى قال أرأيت لو استعنت بك وراء الدار أكنت لابسهما قال نعم قال فالله أحق أن تزين له أم الناس قال نافع بل الله فأخبره عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أو عن عمر رضي الله عنه قال نافع قد استيقنت أنه عن أحدهما وما أراه إلا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يشتمل أحدكم في الصلاة اشتمال اليهود من كان له ثوبان فليتزر وليرتد ومن لم يكن له ثوبان فليتزر ثم ليصل
نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کپڑا پہنایا جبکہ میں بچہ تھا پس اسے تو شح (دائیں اور بائیں بغل سے نیچے کڑے کی اطراف گزار کر کندھوں پر ڈال لیں پھر دونوں طرف کے کنارے سینے پر باندھ لیں) کی حالت میں نماز پڑھتے پایا آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس دو کپڑے نہ تھے اس نے ہاں میں جوا ب دیا تو فرمایا کیا گھر کے باہر تمہیں کام بھیجا جائے کیا تو ان دونوں کو پہنے گا اس نے کہا جی ہاں تو آ پ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا حق زیادہ ہے کہ اس کے لیے زینت کی جائے یا لوگوں کا؟ نافع کہتے ہیں میں نے کہا اللہ تعالیٰ کا حق زیادہ ہے پس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتلائی میرے خیال میں وہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود کی طرح اشتمال ( اس طرح کپڑے میں لپیٹا کہ ہاتھ بھی نہ نکل سکیں ) جس کے پاس دو کپڑے ہوں وہ ایک کو بطور از راستمال کرے اور دوسرے کو اوپر اوڑھ لے اور جس کے اس دو کپڑے نہ ہوں وہ ازار کے طور پر باندھ لے پھر نماز ادا کر ے۔
رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أحدهما وما أراه إلا ← نافع قد استيقنت أنه ← عُمَرَ، ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أو ← نافع بل الله ← فالله أحق أن تزين له أم الناس ← نَعَمْ ← أرأيت لو استعنت بك وراء الدار أكنت لابسهما ← بَلٰی ← أليس لك ثوبان ← نافع أن بن عمر كساه وهو غلام فدخل المسجد فوجده يصلى متوشحا ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2173
