Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2173

2053 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا بن جريج قال أخبرني نافع أن بن عمر رضي الله عنهما كساه وهو غلام فدخل المسجد فوجده يصلى متوشحا فقال أليس لك ثوبان قال بلى قال أرأيت لو استعنت بك وراء الدار أكنت لابسهما قال نعم قال فالله أحق أن تزين له أم الناس قال نافع بل الله فأخبره عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أو عن عمر رضي الله عنه قال نافع قد استيقنت أنه عن أحدهما وما أراه إلا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا يشتمل أحدكم في الصلاة اشتمال اليهود من كان له ثوبان فليتزر وليرتد ومن لم يكن له ثوبان فليتزر ثم ليصل

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کپڑا پہنایا جبکہ میں بچہ تھا پس اسے تو شح (دائیں اور بائیں بغل سے نیچے کڑے کی اطراف گزار کر کندھوں پر ڈال لیں پھر دونوں طرف کے کنارے سینے پر باندھ لیں) کی حالت میں نماز پڑھتے پایا آپ نے فرمایا کیا تمہارے پاس دو کپڑے نہ تھے اس نے ہاں میں جوا ب دیا تو فرمایا کیا گھر کے باہر تمہیں کام بھیجا جائے کیا تو ان دونوں کو پہنے گا اس نے کہا جی ہاں تو آ پ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کا حق زیادہ ہے کہ اس کے لیے زینت کی جائے یا لوگوں کا؟ نافع کہتے ہیں میں نے کہا اللہ تعالیٰ کا حق زیادہ ہے پس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بتلائی میرے خیال میں وہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہود کی طرح اشتمال ( اس طرح کپڑے میں لپیٹا کہ ہاتھ بھی نہ نکل سکیں ) جس کے پاس دو کپڑے ہوں وہ ایک کو بطور از راستمال کرے اور دوسرے کو اوپر اوڑھ لے اور جس کے اس دو کپڑے نہ ہوں وہ ازار کے طور پر باندھ لے پھر نماز ادا کر ے۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أحدهما وما أراه إلا ← نافع قد استيقنت أنه ← عُمَرَ، ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أو ← نافع بل الله ← فالله أحق أن تزين له أم الناس ← نَعَمْ ← أرأيت لو استعنت بك وراء الدار أكنت لابسهما ← بَلٰی ← أليس لك ثوبان ← نافع أن بن عمر كساه وهو غلام فدخل المسجد فوجده يصلى متوشحا ← بن جُرَيْجٍ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2173

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2174

2054 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحجبي قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن نافع فذكر بإسناده مثله سواء

حماد بن زید نے ایوب عن نافع پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت ذکر کی ہے ۔

نافع فذكر بإسناده مثله سواء ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2174

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2175

2055 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا شيبان بن فروخ قال ثنا جرير بن حازم عن نافع قال حدثنا بن عمر رضي الله عنهما فلا أدرى أرفعه الى النبي صلى الله عليه و سلم أو حدث به عن عمر رضي الله عنه شك نافع ثم ذكر مثل ما حدث به نافع عن بن عمر رضي الله عنهما من كلام رسول الله صلى الله عليه و سلم أو كلام عمر رضي الله عنه في الحديث الأول

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ مجھے معلوم نہیں کہ میں اس کو مرفوع بیان کروں یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف نسبت کروں یہ نافع کو شک ہے پھر اسی طرح روایت بیان کی کہ یہ کلام عمر ہے یا کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور میرے نزدیک کلام رسول ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2175

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2176

2056 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهيب قال ثنا أبى قال سمعت نافعا قال سمعت بن عمر رضي الله عنهما فذكر مثله قال أبو جعفر فذهب الى هذا قوم فكرهوا الصلاة في ثوب واحد لمن كان قادرا على ثوبين وكرهوا الصلاة لمن لم يكن قادرا إلا على ثوب واحد مشتملا به ملتحفا قالوا ولكن ينبغي له أن يتزر به واحتجوا بهذا الحديث وقالوا هو عن النبي صلى الله عليه و سلم لا شك فيه وذكروا في ذلك ما

نافع کہتے ہیں میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا پھر اسی طرح روایت نقل کی ۔ آثار و روایات کو سامنے رکھتے ہوئے اس باب کا یہی مطلب ہے ۔ اب نظر و فکر سے دیکھتے ہیں ۔ بلا شبہ وہ لوگ جو اس طرف گے ہیں کہ وہ فرائض میں شامل ہو جائے اور دو رکعات فجر کو چھوڑ دے تو ان کا کہنا یہ ہے کہ نوافل میں اس کی مشغولیت سے فرائض کی مشغولیت بہر حال اولیٰ و افضل ہے ۔ ان کے بالمقابل یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ اس بات میں سب کا اتفاق ہے کہ اگر یہ شخص اپنے مکان پر ہوتا اور اسے نماز فجر میں اس کو امام کا داخلہ معلوم ہہو جاتا تو اسے زیادہ مناسب یہی تھا کہ و ہ فجر کی سنتوں میں مشغول ہو ، جب تک کہ امام کی نماز کے چلے جانے کا خطرہ نہ ہو ۔ اگر اسے نماز کی جماعت فوت ہونے کا خطرہ ہو تو پھر ان کو ترک کر دے کیونکہ اسے یہ حکم ہوا ہے کہ و ہ ان کو فرائض سے پہلے ادا کرے اور اس بات پر اتفاق نہیں کہ فرائض کی طرف میں مشغولیت اس کو گھر میں سنن کے پڑھنے سے افضل ہے ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ عام نوافل کی بنسیت ان کی تاکید بھی زیادہ ہے ۔ روایات میں وارد ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے زیادہ کسی نفل کی پابندی نہ کرتے تھے اور ان کے متعلق تو یہاں تک فرمایا کہ ان کو مت چھوڑو اگرچہ تمہیں گھوڑے روند ڈالیں ۔ پس جب ان کی اس قدر تاکید و ترغیب ہے اور ان کو چھوڑنے کی اس انداز سے منع کیا گیا ہے اور فرائض سے پہلے یہ گھروں میں پڑھی جاتی تھیں تو تقاضا قیاس یہ ہے کہ ان کو مساجد میں بھی فرائض سے قبل پڑھا جائے ۔ یہ جو کچھ ہم نے ذکرکیا امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے۔

بن عُمَرَ ← نَافِعًا ← أَبِي ← وُهَيْبٌ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2176

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2177

2057 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا زهير بن عباد قال ثنا حفص بن ميسرة عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا صلى أحدكم فليلبس ثوبيه فان الله أحق من يزين له فان لم يكن له ثوبان فليتزر إذا صلى ولا يشتمل أحدكم في صلاته اشتمال اليهود

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ اپنا کپڑا پہنے پس اللہ تعالیٰ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ ان کے لیے زینت کی جائے اگر دو کپڑے میسر نہ ہوں تو ایک کپڑے کو بطور ازار استعمال کرے جبکہ وہ نماز پرھنے لگے اور یہودکی طرح اپنے آپ کو پورے ایک کپڑے میں نہ لپیٹ دے امام طحاو ی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کچھ علماء اس طرف گئے ہیں کہ جس شخص کو دو کپڑوں کی قدرت ہواسے ایک کپڑے میں نماز مکروہ ہے اور جس شخص کو ایک کپڑے کی قدرت ہو اسے مکمل طور پر لپیٹ کر پڑھنا مکروہ ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ وہ اسے ازار کے طورپر باندھ لے۔ انہوں نے اس روایت کو بطور دلیل پیش کیا ہے اور کہا کہ یہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہوا ہے اور انہوں نے مندرجہ ذیل روایات ذکر کیں ۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2177

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2178

2058 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عبيد الله بن معاذ قال ثنا أبى قال ثنا شعبة عن توبة العنبري عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال إذا صلى أحدكم فليتزر وليرتد قال فهذا موسى بن عقبة وهو من جلة أصحاب نافع وقدمائهم فذكر ذلك عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه و سلم ولم يشك ووافقه على ذلك توبة العنبري قيل لهم فقد روى عن بن عمر غير نافع فذكره عن بن عمر رضي الله عنهما لا عن النبي صلى الله عليه و سلم

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم بیان کیا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو وہ ازار باندھے اور دوسری چادر اوڑھ لے۔ موسیٰ بن عقبہ رحمۃ اللہ علیہ یہ نافع کے اجلہ شاگردوں میں ہیں انہوں نے اس روایت کو مرفوعا بیان کیا ہے اور اس میں شک نہیں کیا اور ان کی موافقت میں توبہ عنبری نے بھی روایت کو مرفوع بیان کیا ہے ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ لو یہ موسیٰ بن عقبہ نافع خلیل المنزلت قدیم شاگردوں سے ہیں انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی وساطت سےجناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر کسی شک کےالفاظ کے نقل کی ہے ۔ اور حضرت توبہ عنبری اس سلسلہ میں ان کی روایت کی موافقت کرنے والے ہیں اور ان سے ذکر کیا گیا کہ یہ روایت نافع کے علاوہ لوگوں نےابن عمر رضی اللہ عنہ سے موقوف نقل کی مرفوع نبوی قرار نہیں دی ۔

بن عمر لا ← بن عمر غير نافع فذكره ← وافقه على ذلك توبة العنبري قيل لهم فقد روى ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ذَلِكَ ← فهذا موسى بن عقبة وهو من جلة أصحاب نافع وقدمائهم ← "إذا صلى أحدكم فليتزر وليرتد" ← بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2178

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2179

2059 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عبد الله بن صالح قال حدثني الليث قال حدثني عقيل عن بن شهاب قال أخبرني سالم بن عبد الله أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال رأى عمر بن الخطاب رضي الله عنه رجلا يصلى ملتحفا فقال له عمر رضي الله عنه حين سلم لا يصلين أحدكم ملتحفا ولا تشبهوا باليهود فان لم يكن لأحدكم إلا ثوب واحد فليتزر به فهذا سالم وهو أثبت من نافع وأحفظ إنما روى ذلك عن بن عمر عن عمر رضي الله عنه لا عن النبي صلى الله عليه و سلم فصار هذا الحديث عن عمر رضي الله عنه لا عن النبي صلى الله عليه و سلم ورواه مالك عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما من قوله ولم يذكر فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا عمر رضي الله عنه

سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ ایک آدمی کودیکھا کہ وہ کپڑے میں لپٹ کر ہرگز نماز مت پڑھا کرو یہود کی مشابہت مت کرو اگر تمہارے پاس ایک ہی کپڑا ہو تو اس کو بطور ازار باندھ لو۔ یہ سالم ہیں جو نافع سے زیادہ حافظ ضابط ہیں ۔ انہوں نے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی وساطت سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موقوف نقل کی ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع نہیں ۔ پھر یہ اثر عمر رضی اللہ عنہ ہے حدیث نبوی نہیں ہے اور امام مالک رضی اللہ عنہ نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے طور پرنقل کیااور اس کو مرفوع روایت یا قول عمر رضی اللہ عنہ بھی قرار نہیں دیا ۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← بن شِهَابٍ ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2179

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2180

2060 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا يحيى بن عبد الله بن بكير قال ثنا مالك عن نافع عن بن عمر رضي الله عنهما أنه كسا نافعا ثوبين فقام يصلى في ثوب واحد فعاب عليه وقال احذر ذلك فان الله أحق أن يتجمل له وخالف في ذلك آخرون فقالوا لا بأس بالصلاة في ثوب واحد واحتجوا في ذلك بما

نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں نے نافع کو دو کپڑے پہنائے مگر و ہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنے لگے تو میں نے ان کو کوسا اورکہا آئندہ اس سے محتاط رہو۔ اللہ تعالیٰ کا زیادہ حق ہے کہ اس کے لیے زینت اختیار کی جائے ۔

نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2180

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2181

2061 - حدثنا محمد بن عمرو بن يونس قال ثنا أبو معاوية عن عاصم عن بن سيرين عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قام رجل فقال يا رسول الله أيصلى في ثوب واحد فقال أوكلكم يجد ثوبين

ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ایک آدمی کھڑا ہوکر کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم ایک کپڑے میں نماز پڑھ لیا کریں تو آپ نے فرمایا کیا تم میں سے ہر ایک دو کپڑے رکھتا ہے ۔

قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بن سِيرِينَ ← عَاصِمٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← محمد بن عمرو بن يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2181

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2182

2062 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا وهب ح

ابو بکرہ کہتے ہیں کہ ہمیں وہب نے بیان کیا ۔

وَھْبٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2182

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2183

وحدثنا على بن سعيد قال ثنا عبد الله بن بكير قالا ثنا هشام بن حسان عن محمد عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

محمد نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عبد الله بن بكير ← وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2183

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 53 باب الصلاة في الثوب الواحد ) · حديث 2184

2063 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا بن جريج ومالك محمد بن أبى حفصة قالوا أنا بن شهاب عن أبى سلمة بن عبد الرحمن أن أبا هريرة رضي الله عنه حدثه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله قال أبو هريرة رضي الله عنه فلعمرى إني لأترك ثيابي في المشجب وأصلى في الثوب الواحد

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میری عمر کی قسم میں ضرور اپنا کپڑا کپڑا لٹکانے کی لکڑی پرچھوڑ کرایک کپڑے میں نماز پڑھوں گا( بیان جواز کےلیے )

أبو هريرة فلعمرى إني لأترك ثيابي في المشجب وأصلى في الثوب الواحد ← رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ← بن شِهَابٍ ← بن جريج ومالك محمد بن أبى حفصة ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2184

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter