شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 4 باب المطلقة طلاقا بائنا ماذا لها على زوجها في عدتها ) · حديث 4416
4166 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن الأنصاري قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال ثنا مغيرة وحصين وأشعث وإسماعيل بن أبي خالد وداود ويسار ومجالد عن الشعبي قال دخلت على فاطمة بنت قيس بالمدينة فسألتها عن قضاء رسول الله صلى الله عليه و سلم عليها قالت طلقني زوجي البتة فخاصمته إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم في السكنى والنفقة فلم يجعل لي سكنى ولا نفقة وأمرني أن أعتد في بيت بن مكتوم وقال مجالد في حديثه يا ابنة قيس إنما النفقة والسكنى على من كان له الرجعة
امام شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور میں نے ان سے اس فیصلے کے متعلق دریافت کیا جو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کے متعلق کیا تھا۔ وہ کہنے لگیں میرے خاوند نے مجھے طلاق بائنہ دے دی میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں اپنا قضیہ پیش کیا تاکہ سکنی اور نفقہ حاصل ہو۔ مگر آپ نے میرے لئے نفقہ و سکنی کسی کا بھی فیصؒہ نہ فرمایا اور مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے مکان پر اپنی عدت کے ایام پورے کروں ۔ مجالد کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں ۔ اے قیس کی بیٹی نفقہ اور سکنیٰ تو اس عورت کے لئے ہے جس کے متعلق خاوند کو رجوع کا اختیار ہو۔
دخلت على فاطمة بنت قيس بالمدينة فسألتها ← الشَّعْبِيِّ، ← مغيرة وحصين وأشعث وإسماعيل بن أبي خالد وداود ويسار ومجالد ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن الأنصاري
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4416
