شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 18 باب صوم يوم السبت ) · حديث 3238
3069 - حدثنا بن مرزوق هو إبراهيم قال ثنا أبو عاصم عن ثور بن يزيد عن خالد بن معدان عن عبد الله بن بسر عن أخته الصماء قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم لا تصومن يوم السبت في غير ما افترض عليكن ولو لم تجد إحداكن إلا لحاء شجرة أو عود عنب فلتمضغه قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا الحديث فكرهوا صوم يوم السبت تطوعا وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بصومه بأسا وكان من الحجة عليهم في ذلك أنه قد جاء الحديث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه نهى عن صوم يوم الجمعة إلا أن يصام قبله يوم أو بعده يوم وقد ذكرنا ذلك بأسانيده فيما تقدم من كتابنا هذا فاليوم الذي بعده هو يوم السبت ففي هذه الآثار المروية في هذا إباحة صوم يوم السبت تطوعا وهي أشهر وأظهر في أيدى العلماء من هذا الحديث الشاذ الذي قد خالفها وقد أذن رسول الله صلى الله عليه و سلم في صوم عاشوراء وحض عليه ولم يقل إن كان يوم السبت فلا تصوموه ففي ذلك دليل على دخول كل الأيام فيه وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أحب الصيام الى الله عز و جل صيام داود عليه السلام كان يصوم يوما ويفطر يوما وسنذكر ذلك بإسناده في موضعه من كتابنا هذا إن شاء الله تعالى ففي ذلك أيضا التسوية بين يوم السبت وبين سائر الأيام وقد أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم أيضا بصيام أيام البيض وروى عنه في ذلك ما
خالد بن معدا نے عبداللہ بن بسر سے انہوں نے اپنی بہن صماء بنت بسرؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ہفتے کے دن کا روزہ فرض روزوں کے علاوہ مت رکھو اگر اس دن کوئی چیز کھانے کی میسر نہ ہو تو درخت کا چھلکا یا انگور کی لکڑی لے کر اس کو چبا لو۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس روایت کے پیش نظر یہ بات اختیار کی کہ ہفتہ کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے ۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ہفتے کے دن روزہ رکھنے میں کچھ حرج نہیں ۔ پہلے قول کے قائلین کے خلاف ان کی دلیل وہ روایت ہے کہ جس میں آپ ﷺ نے فرمایاکہ جمعہ کے دن کا روزہ رکھنا ممنوع ہے مگر یہ کہ ایک دن اس سے پہلے یا ایک دن بعد کا روزہ رکھا جائے۔ یہ روایت ہم اسی کتاب میں گذشتہ ابواب میں ذکر کر چکے ہیں ۔ تو جمعے کے بعد والا دن یہی ہفتہ کا دن بنتا ہے۔ ان روایات میں ہفتے کے دن روزہ رکھنے کا جواز ملتا ہے اوریہ روایت محد ثین کےہاں اس شاذ روایت زیادہ مشہور ہے جو اس کے خلاف وارد ہوئی ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے روزہ کی اجازت ہی مرحمت نہیں فرمائی بلکہ اس کی ترغیب بھی فرمائی ۔ مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر یہ دن ہفتے والے دن کے برابر آجائے تو روزہ مت رکھو ۔ تو اس میں اس بات کا خود ثبوت مل گیا کہ تمام دنوں کا روزہ رکھنا اس میں شامل ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ نے یہ بات فرمائی کہ اللہ کے ہاں محبوب روزہ داود علیہ السلام کا ہے کہ وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے ہم اپنی اسی کتاب میں اس روایت کو اسناد کے ساتھ نقل کریں گے (ان شاءاللہ ) اس میں ہفتے کا دن اور دوسرے دن کے برابر ہیں ۔ ایک بات یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے بیض کے دنوں کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔ جیساذیل کی روایت میں ہے۔
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3238
