شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 42 باب التطوع بعد الجمعة كيف هو ) · حديث 1929
1823 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن سهيل بن أبى صالح عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من كان مصليا منكم بعد الجمعة فليصل أربعا قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن التطوع بعد الجمعة الذي لا ينبغي تركه هو أربع ركعات لا يفصل بينهن بسلام واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل التطوع بعد الجمعة الذي لا ينبغي تركه ركعتان ركعتان كالتطوع بعد الظهر واحتجوا في ذلك بما
ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے فرمایا جو تم میں سے جمعہ کے بعد پڑھے تو وہ چار رکعت پڑھے۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت کا خیال یہی ہے کہ جمعہ کے بعد جن رکعات کو چھوڑا نہیں جا سکتا وہ چار ہیں ان کے مابین سلام سے تفریق نہ کیجائے ان کامستدل یہی روایت ہے مگر دوسروں نے اس اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ جمعہ کے بعد جن دو رکعات کو چھوڑنا درست نہیں وہ ظہر کے بعد کی طرح دو رکعت ہیں ان کا استدلال ان روایات سے ہے ۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1929
