Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 5 باب الرجل يعتق أمته على أن عتقها صداقها ) · حديث 4212

3977 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا مسلم بن إبراهيم قال ثنا أبان وحماد بن زيد قالا ثنا شعيب بن الحبحاب عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أعتق صفية وجعل عتقها صداقها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا أعتق أمته على أن عتقها صداقها جاز ذلك فإن تزوجها فلا مهر لها غير العتاق وممن قال بهذا القول سفيان الثوري وأبو يوسف رحمة الله عليهما وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا ليس لأحد غير رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم أن يفعل هذا فيتم له النكاح بغير صداق سوى العتاق وإنما كان ذلك لرسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم خاصا لأن الله عز و جل جعل له أن يتزوج بغير صداق ولم يجعل ذلك لأحد من المؤمنين غيره قال عز و جل وأمرأة مؤمنة إن وهبت نفسها للنبي إن أراد النبي أن يستنكحها خالصة لك من دون المؤمنين فلما أباح الله عز و جل لنبيه أن يتزوج بغير صداق كان له أن يتزوج على العتاق الذي ليس بصداق ومن لم يبح الله له أن يتزوج على غير صداق لم يكن له أن يتزوج على العتاق الذي ليس بصداق وممن قال بهذا القول أبو حنيفة وزفر ومحمد رحمة الله عليهم ومن الحجة لهم في ذلك أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم أنه فعل في جويرية ذلك مثل ما روى عنه أنس أنه فعله في صفية

شعیب بن حجباب نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کردیا اور اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر کسی نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا اور شرط یہ قرار دی کہ اس کی آزادی اس کا مہر ہوگا تو یہ درست ہے پھر اگر وہ اس سے نکاح کرے تو وہ عتق اس کا مہر کافی ہے اس قول کو امام سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ اور امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار فرمایا۔ ان کے ہاں عتق مہر بن سکتا ہے اس کی دلیل مندرجہ بالا روایت ہے ۔ دوسروں نے کہا یہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خاص ہے اور کسی کے لئے درست نہیں کہ آزادی اس کا مہر قرار پا سکے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے۔ ”وامراة مؤمنة أن وهبت نفسها للنبي ان ارادالنبي أن يستنكحها خالصة لك من دون المؤمنين الايه الاحزاب ۵۰‘‘ پس جب اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کے لئے بلا مہر نکاح کو جائز قرار دیا تو آپ کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ آزادی کے بدلے نکاح کریں جو کہ مہر نہیں اور جس شخص یعنی امتی کے لئے الله تعالی نے بغیر مہر کے نکاح کو جائز قرارنہیں دیا تو اس کے لئے آزادی کے بدلے بھی نکاح جائز نہیں کیونکہ وہ مہر نہیں ہے اس کو امام ابوحنیفه ، محمد وزفر رحمتہ اللہ علیہ نے اختیارکیاہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← أبان وحماد بن زيد ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4212

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 5 باب الرجل يعتق أمته على أن عتقها صداقها ) · حديث 4213

3978 - حدثنا أحمد بن داود قال حدثنا يعقوب بن حميد قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد بن زيد عن بن عون قال كتب إلي نافع أن النبي صلى الله عليه و سلم أخذ جويرية في غزوة بني المصطلق فأعتقها وتزوجها وجعل عتقها صداقها أخبرني بذلك عبد الله بن عمر وكان في ذلك الجيش فقد روى هذا بن عمر رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم كما ذكرنا ثم قال هو من بعد النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم في مثل هذا أن يجدد لها صداقا

حماد بن زید نے ابن عون سے نقل کیا کہ میری طرف نافع رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا کہ جناب نبی اکرم ﷺ نے غزوہ بنو مصطلق میں جویریہ کو قید کیا پھر ان کو آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا گیا یہ بات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتلائی ہے وہ اس لشکر میں موجود تھے یہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ جیسا ہم نے ذکر کیا پھر انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد اس قسم کے معاملے میں حکم دیا کہ اس مرد کو مہر جدید دینا ہوگا یعنی آزادی مہر نہ بنے گی۔

إلي نافع ← بن عون ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4213

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 5 باب الرجل يعتق أمته على أن عتقها صداقها ) · حديث 4214

3979 - حدثنا بذلك سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب قال ثنا حماد بن سلمة عن عبيد الله عن نافع عن بن عمر مثل ذلك فهذا عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قد ذهب إلى أن الحكم في ذلك بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم على غير ما كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم فيحتمل أن يكون ذلك سماعا سمعه من النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم ويحتمل أن يكون دله على ذلك المعنى الذي استدللنا به نحن على خصوصية رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك بما وصفنا دون الناس ثم نظرنا في عتاق رسول الله صلى الله عليه و سلم جويرية التي تزوجها عليه وجعله صداقها كيف كان فإذا

نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے وہ اس بات کی طرف گئے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد وہ حکم نہ ہو گا جو آپ کے لئے تھا۔ اس روایت میں احتمال ہے کہ آپ نے یہ بات جناب نبی اکرم ﷺ سے سنی ہو اور یہ بھی احتمال کہ انہوں نے اس معنی کی نشان دہی کی ہے جس پر ہم نے استدلال کیا ہے کہ یہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خصوصیت ہے تمام لوگوں کے لئے یہ حکم نہیں ۔ اب اس بات کی وضاحت کے لئے کہ جویریہ رضی اللہ عنہ کی آزادی کس طرح عمل میں آئی اور کس طرح ان کی آزادی کو مہر قرار دیا ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت پیش کرتے ہیں ۔

نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الخصيب ← بذلك سليمان بن شعيب

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4214

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 5 باب الرجل يعتق أمته على أن عتقها صداقها ) · حديث 4215

ربيع المؤذن قد حدثنا قال ثنا أسد قال ثنا يحيى بن زكريا هو بن أبي زائدة قال ثنا محمد بن إسحاق قال حدثني محمد بن جعفر بن الزبير عن عروة عن عائشة قالت لما أصاب رسول الله صلى الله عليه و سلم سبايا بني المصطلق وقعت جويرية بنت الحارث في سهم لثابت بن قيس بن شماس أو لابن عم له فكاتبت على نفسها قالت وكانت أمرأة حلوة لا يكاد يراها أحد إلا أخذت بنفسه فأتت رسول الله صلى الله عليه و سلم تستعينه في كتابتها فوالله ما هو إلا أن رأيتها على باب الحجرة فكرهتها وعرفت أنه سيرى منها مثل ما رأيت فقالت يا رسول الله أنا جويرية بنت الحارث بن أبي ضرار سيد قومه وقد أصابني من الأمر ما لم يخف فوقعت في سهم ثابت بن قيس بن شماس أو لابن عم له فكاتبته فجئت رسول الله أستعينه على كتابتي قال فهل لك من خير من ذلك قالت وما هو يا رسول الله قال أقضي عنك كتابتك وأتزوجك قالت نعم قال فقد فعلت وخرج الخبر إلى الناس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تزوج جويرية بنت الحارث فقالوا صاهر رسول الله صلى الله عليه و سلم فأرسلوا ما في أيديهم قالت فلقد أعتق بتزويجه إياها مائة أهل بيت من بني المصطلق فلا نعلم أمرأة كانت أعظم بركة على قومها منها فبينت عائشة رضي الله عنها العتاق الذي ذكره عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه و سلم تزوجها عليه وجعله مهرها كيف هو وأنه إنما هو أداؤه عنها مكاتبتها إلى الذي كان كاتبها لتعتق بذلك الأداء ثم كان ذلك العتاق الذي وجب بأداء رسول الله صلى الله عليه و سلم المكاتبة إلى الذي كان كاتبها مهرا لها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم على ما في حديث بن عمر رضي الله عنهما وليس هذا لأحد غير رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يدفع عن مكاتبة مكاتبتها إلى مولاها على أن تعتق بأدائه ذلك عنها ويكون ذلك العتاق مهرا لها من قبل الذي أدى عنها مكاتبتها وتكون بذلك زوجة له فلما كان لرسول الله صلى الله عليه و سلم أن يجعل هذا مهرا على أن ذلك خاص له دون أمته كان له أن يجعل العتاق الذي تولاه هو أيضا مهرا لمن أعتقه على أن ذلك خاص له دون أمته فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فإن أبا يوسف رحمة الله عليه قال النظر عندي في هذا أن يكون العتاق مهرا للمعتقة عليه ليس لها معه غيره وذلك لأنا رأيناها إذا وقع العتاق على أن تزوجه نفسها ثم أبت التزويج أن عليها أن تسعى في قيمتها قال فما كان يجب عليها أن تسعى فيه إذا أبت التزويج يكون مهرا لها إذا أجابت إلى التزويج قال وإن طلقها بعد ذلك قبل أن يدخل كان عليها أن تسعى في نصف قيمتها وقد روي هذا أيضا عن الحسن

حضرت عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب بنو مصطلق کے قیدی جناب رسول اللہ ﷺ نے پا لیے اور ان کو تقسیم کر دیا تو جویریہ بنت حارث رضی اللہ عنہ بن قیس بن شماس یا ان کے بھتیجے کے حصے میں آئیں انہوں نے اس سے مکاتبت کر لی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ یہ شیریں گفتار عورت تھیں اس کو جو بھی دیکھ پاتا وہ اس کے دل میں اتر جاتیں۔ پس وہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بدل کتابت میں اعانت کے لئے حاضر ہوئیں جوں ہی میں نے اس کو جناب رسول اللہ ﷺ کے حجرہ کے دروازہ پر دیکھا تو مجھے ان کی آمدنا پسند ہوتی میں نے اسی وقت بھانپ لیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ اس کی وہی با تیں دیکھ پائیں گے جو میں نے دیکھیں ہیں وہ کہنے لگیں یارسول اللہ ﷺ میں جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار سردار قبیلہ کی بیٹی ہوں مجھ پر جو مصیبت آئی ہے وہ آپ پر مخفی نہیں چنانچہ میں ثابت بن قیس بن شماس یا اس کے بھتیجہ کے حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے میں آپ کی خدمت اقدس میں بدل کتابت کی ادائیگی میں معاونت کی غرض سے حاضر ہوئی ہوں آپ نے فرمایا کیا تم اس سے بہتر میں رغبت رکھتی ہو اس نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ وہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایاتمہارا دل کتابت ادا کر کے میں تم سے شادی کر لیتا ہوں انہوں نے منظور کرلیا۔ آپ نے فرمایامیں نے بدل کتابت ادا کر دیا (یعنی اس کی بات طے کر لی ) لوگوں میں اسی وقت خبر پھیل گئی کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے جویریہ بنت الحارث سے نکاح کرلیا ہے تو سب نے کہا وہ جناب رسول اللہ ﷺ کے سسرالی رشتہ دار بن گئے ہیں پس انہوں نے اپنے ہاں کے تمام قیدی آزاد کر دیئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں ان کے نکاح سے بنو مصطلق کے سو گھرانے آزاد ہو گئے ہم جویریہ سے بڑھ کر اپنی قوم کے لئے کسی عورت کو زیادہ باعث برکت نہیں سمجھتے۔ پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس آزادی کی نوعیت خوب واضح کردی جس کا تذکرہ روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ میں موجود ہے کہ اس آزادی کے بدلے میں آپ نے ان سے نکاح کیا اور اس کومہر قرار دیا اس کی کیفیت کیا تھی دراصل وہ ان کی طرف سے بدل کتابت ادائیگی کی تھی جس پر انہوں نے آزادی کے لئے مکاتبت کی تھی پھر وہ آزادی جو جناب رسول اللہ ﷺ کے مال کتابت کی ادائیگی سے حاصل ہوئی تھی وہ ان کا مہر قرار پائی جس کا تذکرہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے جناب رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وه کسی مکاتب کو اس کا بدل کتابت ادا کر دے اور یہ آزادی بدل کتابت ادا کرنے والے کی طرف سے مہر قرار پائے اور وہ عورت مکاتبہ اس کی بیوی بن جائے۔ پس جب اس کو مہر قرار دینا آپ کی خصوصیت ہے تو امت کے لئے جائز نہیں تو جس آزادی کی آپ کو ولایت حاصل ہوئی اس کو مہر قرار دینا بھی آپ کے ساتھ خاص تھا امت کے لئے جائز نہیں۔ آثار کے انداز سے ہم نے اس باب کی صورت پیش کر دی اب طریق نظر ملاحظہ ہو۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ یہ کہتے ہیں میرے ہاں قیاس کا تقاضا ہے کہ جس عورت کو اس شرط پر آزادی ملے کہ اس کی آزادی ہی مہر ہو اور اس کے ساتھ اور کچھ بھی نہ ہو تو ہم دیکھتے ہیں کہ جب آزادی اس شرط پر واقع ہوئی ہے کہ وہ عورت اس آزاد کننده سے نکاح کرے گی پھر وہ عورت نکاح سے انکاری ہوئی تو اب عورت پر لازم ہے کہ وہ ادائیگی قیمت کے لئے محنت و مشقت کرے کیونکہ نکاح سے انکار کی صورت میں جس کے لئے اس پر محنت و مشقت لازم ہوئی ہے یہی چیز اس کے لئے مہر قرار پاتی اگروہ نکاح سے انکار نہ کرتی۔ اگر وہ مرد(نکاح کی صورت میں ) جماع کے بعد طلاق دے تو عورت پر نصف قیمت کے لئے مال کمانا ضروری ہوگا اس بات کو حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے بھی ذکر فرمایا ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل روایت سے ظاہر ہوتا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يحيى بن زكريا هو بن أبي زائدة ← أسد ← ربيع المؤذن قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4215

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 5 باب الرجل يعتق أمته على أن عتقها صداقها ) · حديث 4216

3980 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الله الأنصاري عن أشعث عن الحسن في رجل أعتق أمته وجعل عتقها صداقها ثم طلقها قبل أن يدخل بها قال عليها أن تسعى في نصف قيمتها وكان من الحجة في هذا على أبي يوسف رحمة الله عليه أن ما ذكره من وجوب السعاية عليها إذا أبت في قيمتها قد قال هو أبو حنيفة ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهما فما لزمهما من ذلك في قولها إذا أجابت إلى التزويج فهو لازم لهما وأما زفر فكان يقول لا سعاية عليها إذا أبت لأنه وإن كان شرط عليها النكاح في أصل العتاق فإنما شرط ذلك عليها ببدل شرطه لها على نفسه وهو الصداق الذي يجب لها في قوله إذا أجابت فكان العتاق واقعا عليها لا ببدل والنكاح المشروط عليها له بدل غير العتاق فصار ذلك كرجل أعتق عبده على أن يخدمه سنة بألف درهم فقبل ذلك العبد ثم أبى أن يخدمه فلا شيء له عليه لأنه لو خدمه لكان يستحق عليه باستخدامه إياه أجرا بدلا من الخدمة فكذلك إذا كان من قول زفر في الأمة المعتقة على التزويج أنه إذا أجابت إلى التزويج وجب لها مهر بدلا من بضعها فإذا أبت لم يجب عليها بدل من رقبتها لأن رقبتها عتقت لا ببدل وأشترط عليها نكاح ببدل ولا يثبت البدل من النكاح إلا بثبوت النكاح كما لا يثبت البدل على الخدمة إلا بثبوت الخدمة فليس بطلانهما ولا بطلان واحد منهما بموجب في العتاق الذي وقع على غير شيء بدلا فهذا هو النظر في هذا الباب كما قال زفر لا كما قال أبو حنيفة وأبو يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد كان أيوب السختياني يذهب في تزويج رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم صفية على عتقها إلى ما ذهب إليه أبو حنيفة وزفر ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين أيضا

اشعث رحمتہ اللہ علیہ نے حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے اس شخص کے متعلق دریافت کیا گیا جو اپنی لونڈی کو آزاد کردے جبکہ اس نے لونڈی کی آزادی کو اس کا مہر ٹھہرایا ہو۔ پھر اس نے اس عورت کو طلاق قبل از دخول دے دی ( تو اس کا کیا حکم ہے؟) تو فرمایا وہ عورت اپنی نصف قیمت کی ادائیگی کے لئے کام کاج کرے۔ اس میں امام ابو یوسف کے خلاف دلیل یہ ہے کہ انہوں نے عورت کے نکاح سے انکار کی صورت میں اپنی قیمت کی ادائیگی کے لئے محنت و مشقت کو لازم قرار دیا ہے امام ابوحنیفہ یہ رحمتہ اللہ علیہ اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے نکاح کو قبول کر لینے کی صورت میں اسی کو واجب قرار دیا ہے۔ امام زفر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت شادی سے انکار کرے تو اس پر سعی ومشقت لازم نہیں کیونکہ آزادی کے سلسلہ میں اس پر نکاح کی شرط اگر چہ بھی گئی ہے مگر یہ اس شرط کے بدلے میں ہے جو اس عورت کی طرف سے مرد پر لازم آتی ہے یعنی وہ مہر جوقبولیت نکاح کی صورت میں عورت کے لئے (مرد کے ذمہ) لازم ہوگا تو گویا عورت کو آزادی بغیر کسی عوض کے حاصل ہوگئی اور مرد نے جس نکاح کی شرط رکھی ہے اس کے لئے آزادی کے علاوہ بدل ہے اس کی مثال اس شخص جیسی ہے کہ جس نے اپنا غلام اس شرط پر آزاد کیا کہ وہ ایک ہزار درہم کے بدلے ایک سال اس کی خدمت کرے گا غلام نے شرط منظور کرلی پھر خدمت سے انکار کر دیا تو اس کے ذمہ بھی واجب نہ ہوگا کیونکہ اگر وہ اس کی خدمت کرتا تو اس کے بدلے میں وہ اجرت کا حقدار ٹھہرتا جو کہ خدمت کابدل قرار پاتا بالکل اسی طرح نکاح کی شرط پر آزاد کی گئی لونڈی کے متعلق بھی حکم یہی ہوگا کہ جب وہ عورت نکاح کو قبول کرے تو اس کے بضع کے بدلے میں مرد پر مہر واجب ہوگا اور اگر وہ انکار کر دے تو آزادی کی وجہ سے اس پر کچھ بھی لازم نہ ہوگا کیونکہ اسے کسی عوض کے بغیر آزاد کیا گیا اور نکاح کی شرط بدل کے ساتھ رکھی گئی ہے (اصل کے ساتھ نہیں) نکاح کا بدل تب ثابت ہوگا جب نکاح ثابت ہو گا جس طرح کہ خدمت کا بدل خدمت کرنے کی صورت میں ثابت ہوتا ہے (اس کے بغیر نہیں )پسں ان دونوں یعنی ثبوت نکاح اور ثبوت خدمت کا بطلان یا ایک کا بطلان آزادی کے سلسلہ میں کسی چیز کو واجب نہیں کرتا کیونکہ وہ بدل سے واقع ہوتی ہے اس باب میں قیاس اسی طرح ہے جس طرح کہ امام زفر رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ مگر یہ امام زفر رحمتہ اللہ علیہ کی نظری دلیل ہے امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمتہ اللہ علیہ کی نظری دلیل نہیں ۔ ایوب سختیانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہ سے جس طرح نکاح کیا اس سلسلہ میں ایوب سختیانی رحمتہ اللہ علیہ نے امام ابوحنیفہ ، امام زفر، محمد رحمتہ اللہ علیہ مؤقف ہی اختیار کیا ہے۔ اثر ملاحظہ ہو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اس آزادی کی نوعیت خوب واضع کر دی جس کا تذکرہ روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ میں موجود ہے کہ اس آزادی کے بدلے میں آپ نے ان سے نکاح کیا اور اس کو مہر قرار دیا اس کی کیفیت کیا تھی دراصل وہ ان کی طرف سے بدل کتابت کی ادائیگی تھی جس پر انہوں نے آزادی کے لئے مکاتبت کی تھی پھروہ آزادی جو جناب رسول اللہ ﷺ مال کتابت کی ادائیگی سے حاصل ہوتی تھی وہ ان کا مہر قرار پائی جس کا تذکرہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت میں موجود ہے جناب رسول اللہ ﷺ کے سوا کسی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کسی مکاتب کو اس کا بدل کتابت ادا کر دے اور یہ آزادی بدل کتابت ادا کرنے والے کی طرف سے مہرقرار پائے اور وہ عورت مکاتب اس کی بیوی بن جائے ۔ پس جب اس کو مہر قرار دینا آپ کی خصوصیت سے ہے امت کے لئے جائز نہیں تو جس آزادی کی آپ کو ولایت حاصل ہوئی اس کو مہر قرار دینا بھی آپ کے ساتھ خاص تھا امت کے لئے جائز نہیں۔ آثار کے انداز سے ہم نے اس باب کی صورت پیش کردی اب طریق نظر ملاحظہ ہو۔ امام ابویوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قول : میرے ہاں قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جس عورت کو اس شرط پرآزادی ملے کہ اس کی آزادی ہی مہر ہو اور اس کے ساتھ اور کچھ نہ ہوتو ہم دیکھتے ہیں کہ جب آزادی اس شرط پر واقع ہوئی ہے کہ وہ عورت اس آزاد کنندہ سے نکاح کرے گی پھر وہ عورت نکاح سے انکاری ہوگی تو اب عورت پر لازم ہے کہ وہ ادائیگی قیمت کے لئے محنت و مشقت کرے کیونکہ نکاح سے انکار کی صورت میں جس چیز کے لئے اس پر محنت و مشقت لازم ہوئی ہے یہی چیز اس کے لئے مہر قرار پاتی اگر وہ نکاح سے انکار نہ کرتی۔ اگر وہ مرد (نکاح کی صورت میں ) جماع کے بعد طلاق دے تو عورت پر نصف قیمت کے لئے مال کمانا ضروری ہوگا اس بات کوحضرت حسن بصری نے بھی ذکر فرمایا ہے جیسا کہ مندرج ذیل روایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ امام یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے قول کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے عورت کے نکاح سے انکار کی صورت میں اپنی قیمت کی ادائیگی کے لئے محنت و مشقت کو لازم قرار دیا ہے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے نکاح کو قبول کر لینے کی صورت میں اسی کو واجب قرار دیا ہے ۔

أَشْعَثَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4216

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 5 باب الرجل يعتق أمته على أن عتقها صداقها ) · حديث 4217

3981 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سليمان بن حرب قال ثنا حماد قال أعتق هشام بن حسان أم ولد له وجعل عتقها صداقها فذكرت ذلك لأيوب فقال لو كان أبت عتقها فقلت أليس النبي صلى الله عليه و سلم أعتق صفية وجعل عتقها صداقها فقال لو أن امرأة وهبت نفسها للنبي صلى الله عليه و سلم كان ذلك له فأخبرت بذلك هشاما فأبت عتقها وتزوجها وأصدقها أربع مائة فإن قال قائل قد رأيت الرجل يعتق أمته على مال وتقبل ذلك منه فتكون حرة ويجب له عليها ذلك المال فما تنكر أن يكون إذا أعتقها على أن عتقها صداقها فقبلت ذلك منه أن تكون حرة ويجب له ذلك المال عليها قيل له إذا أعتقها على مال فقبلت ذلك منه وجب لها عليه العتاق ووجب له عليها المال فوجب لكل واحد منهما بذلك العقد الذي تعاقدا بينهما شيء أوجبه له ذلك العقد لم يكن مالكا له قبل ذلك وإذا أعتقها على أن عتقها صداقها فقد ملكها رقبتها على أن ملكته بضعها فملكها رقبة هو لها مالك ولم تكن هي مالكة لها قبل ذلك على أن ملكته بضعها هو له مالك قبل ذلك فلم تملكه بذلك العتاق شيئا لم يكن مالكا له قبله إنما ملكته بعض ما قد كان له فكذلك لم يجب له عليها بذلك العتاق شيء ولم يكن ذلك العتاق لها صداقا هذه حجة على من يقول تكون زوجة له بالعتاق الذي هو لها صداق فأما من يقول لا تكون زوجته إلا بنكاح مستأنف بعد العتاق والصداق له واجب عليها بالعتاق ويتزوجها عليه متى أحب فإن الحجة عليه في ذلك أن يقال له فلمعتقها أن يأخذها بغرم ذلك الصداق الذي قد وجب له عليها بالعتاق فإن قال له أن يأخذها به خرج بذلك من قول أهل العلم جميعا وإن قال ليس له أن يأخذها به قيل له فما الصداق الذي أوجب له عليها العتاق أمال هو أم غير مال فإن كان مالا فله أن يأخذها بماله عليها من المال متى أحب وإن كان غير مال فليس له أن يتزوجها على غير مال فثبت بما ذكرنا فساد هذا القول أيضا والله تعالى أعلم

ححدحماد بیان کرتے ہیں کہ ہشام بن حسان نے اپنی ام ولد کو آزاد کیا اور اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیامیں نے یہ بات حضرت ایوب رحمتہ اللہ علیہ سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا اگر وہ اپنی آزادی سے انکار کر دے تو (پھر کیا حکم ہو گا) میں نے عرض کیا کہ کیا نبی اکرم ﷺ نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کر کے ان کی آزادی کو مہر قرار نہ دیا تھا؟ تو ایوب فرمانے لگے اگر کوئی عورت اپنا آپ جناب رسول اللہ ﷺ کو ہبہ کر دے تو یہ آپ کے لئے خاص تھا پھر میں نے ہشام کو اس کی اطلاع دی تو لونڈی نے آزادی سے انکار کر دیا اس پر ہشام نے اس کو چارسو درہم دے کر اس سے نکاح کرلیا۔ اگر کسی کو یہ اعتراض پیدا ہو کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی لونڈی کو مال کے بدلے آزاد کرتا ہے اور وہ اس شرط کوقبول کر کے آزاد ہو جاتی ہے اور اس شخص کے لئے اس لونڈی کے ذمہ مال واجب ہو جاتا ہے تو جب وہ اس کو اسی طرح آزاد کردے کہ اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دے اور وہ اسے قبول بھی کرے تو وہ آزاد ہو جاتی ہے اور اس پر مالک کے لئے مال واجب ولا زم ہوجاتا ہے۔ تو ہم جواب میں عرض کریں گے کہ جب وہ اسے مال کے بدلے آزاد کرتا ہے اور وہ لونڈی اس شرط کو قبول کر لیتی ہے تو مالک کا اس کو آزاد کرنا اور لونڈی پر اس (مالک کو ) مال دینا واجب ہو جاتا ہے پس اس عقد کی وجہ سے دونوں کے لئے ایک دوسرے پر وہ چیز واجب ہو جاتی ہے جس کے وہ پہلے مالک نہ تھے اور جب وہ اسے اس شرط پرآزاد کرتا ہے کہ اس کی آزادی مہر قرار پائے گی تو اس نے اسے یعنی لونڈی کو اس شرط پر اس کی گردن کا مالک بنایا جس وقت وہ اسے اپنے بضع (شرمگاہ) کا مالک بنائے۔ پس وہ لونڈی کو اس کی گردن کا اس شرط پر مالک بناتا ہے کہ وہ اسے اپنی شرمگاہ کی مالک بنائے حالانکہ وہ پہلے اپنی گردن کی مالک نہ تھی جب کہ یہ پہلے بھی اس کی شرمگاہ کا مالک بن چکا تھا۔ فلہذا لونڈی اس آزادی کے ذریعہ اس کو کسی ایسی چیز کا مالک نہیں بناتی جس کا وہ پہلے مالک نہ ہو۔ بلکہ وہ اس کو اس بعض چیز کا مالک بناتی ہے جس کا وہ پہلے بھی مالک تھا تو اس طرح اس آزادی کے بدلے مرد کے لئے اس عورت پر کوئی چیز لازم نہ ہوگی اور نہ ہی یہ آزادی اس کا مہر بنے گی بی دلیل تو اس کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے کہ لونڈی اس آزادی کے بدلے جو کہ مہر قرار پائی ہے اس کی بیوی بن جائے گی۔ بعض کا قول ہے کہ جب تک آزاد کرنے کے بعد نیا نکاح نہ کیا جائے وہ عورت اس کی بیوی نہ بنے گی اور آزادی کی وجہ سے مرد کے لئے عورت پر مہر واجب ہوگیا اسی لئے وہ جب چاہے ان سے نکاح کرسکتا ہے۔ ان حضرات کا جواب یہ ہے کہ تم بتلاؤ کہ کیا آزاد کرنے والے کو اس بات کا حق میسر آ گیا کہ اس مہر کے بدلے جو آزادی کی وجہ سے اس پر واجب ہوا بطور تاوان اس لونڈی کو پکڑسکتا ہے اب اس کا جواب اگر ہاں میں دیا جائے کہ وہ اسے پکڑ سکتا ہے تو یہ کہنے والا تمام اہل علم کے قول کے خلاف بات کر رہا ہے اور اگر وہ نہ میں جواب دے کہ وہ اسے حاصل نہیں کر سکتا تو پھر اس سے استفسار ہوگا کہ وہ مہر جو آزادی کی وجہ سے مرد کے لئے عورت پر لازم ہوا ہے بتلائیں وہ مال ہے یا کوئی اور چیز ۔ اگر تو وہ مال ہے تو مالک کو حق پہنچتا ہے کہ اپنے اس مال کی وصولی کے لئے جو اس عورت پر لازم ہے جب چاہے اسے قیدکرائے اور اگر تم کہتے ہو وہ مال تو نہیں ہے تو غیر مال پر اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے۔ پس اس تفصیل سے اس قول کی قلعی کھل گئی۔ والله اعلم وعلمہ اتم۔

حَمَّادٌ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4217

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter