شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 2 باب الرجل يطلق امرأته ثلاثا معا ) · حديث 4385
4134 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا أحمد بن صالح قال ثنا عبد الرازق قال أخبرنا بن جريج قال أخبرني بن طاوس عن أبيه أن أبا الصهباء قال لابن عباس أتعلم أن الثلاث كانت تجعل واحدة على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبي بكر وثلاثا من إمارة عمر قال بن عباس نعم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا طلق امرأته ثلاثا معا فقد وقعت عليها واحدة إذا كانت في وقت سنة وذلك أن تكون طاهرا في غير جماع واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا لما كان الله عز و جل إنما أمر عباده أن يطلقوا لوقت على صفة فطلقوا على غير ما أمرهم به لم يقع طلاقهم وقالوا ألا ترون أن رجلا لو أمر رجلا أن يطلق امرأته في وقت على صفة فطلقها في غيره أو أمره أن يطلقها على شريطة فطلقها على غير تلك الشريطة أن ذلك لا يقع إذ كان قد خالف ما أمر به قالوا فكذلك الطلاق الذي أمر به العباد فإذا أوقعوه كما أمروا به وقع وإذا أوقعوه على خلاف ذلك لم يقع وخالفهم في ذلك أكثر أهل العلم فقالوا الذي أمر به العباد من إيقاع الطلاق فهو كما ذكرتم إذا كانت المرأة طاهرا من غير جماع أو كانت حاملا وأمروا بتفريق الثلاث إذا أرادوا إيقاعهن ولا يوقعونهن معا فإذا خالفوا ذلك فطلقوا في الوقت الذي لا ينبغي لهم أن يطلقوا فيه وأوقعوا من الطلاق أكثر مما أمروا بإيقاعه لزمهم ما أوقعوا من ذلك وهم آثمون في تعديهم ما أمرهم الله عز و جل وليس ذلك كالوكالات لأن الوكلاء إنما يفعلون ذلك للموكلين فيحلون في أفعالهم تلك محلهم فإن فعلوا ذلك كما أمروا لزم وإن فعلوا ذلك على غير ما أمروا به لم يلزم والعباد في طلاقهم إنما يفعلونه لأنفسهم لا لغيرهم لا لربهم عز و جل ولا يحلون في فعلهم ذلك محل غيرهم فيراد منهم في ذلك إصابة ما أمرهم به الذين يحلون في فعلهم ذلك محله فلما كان ذلك كذلك لزمهم ما فعلوا وإن كان ذلك مما قد نهوا عنه لأنا قد رأينا أشياء مما قد نهى الله تعالى العباد عن فعلها أوجب عليهم إذا فعلوها أحكاما من ذلك أنه نهاهم عن الظهار ووصفه بأنه منكر من القول وزور ولم يمنع ما كان كذلك أن تحرم به المرأة على زوجها حتى يفعل ما أمره الله تعالى به من الكفارة رأينا الظهار قولا منكرا وزورا وقد لزمت به حرمة كان كذلك الطلاق المنهي عنه هو منكر من القول وزورا والحرمة به واجبة وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم لما سأله عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن طلاق عبد الله امرأته وهي حائض أمره بمراجعتها وتواترت عنه بذلك الآثار وقد ذكرتها في الباب الأول ولا يجوز أن يؤمر بالمراجعة من لم يقع طلاقه فلما كان النبي صلى الله عليه و سلم قد ألزمه الطلاق في الحيض وهو وقت لا يحل إيقاع الطلاق فيه كان كذلك من طلق امرأته ثلاثا فأوقع كلا في وقت الطلاق لزمه من ذلك نفسه وإن كان قد فعله على خلاف ما أمر به فهذا هو النظر في هذا الباب وفي حديث بن عباس رضي الله عنهما ما لو اكتفينا به كان حجة قاطعة وذلك أنه قال فلما كان زمان عمر رضي الله عنه قال أيها الناس قد كانت لكم في الطلاق أناة وإنه من تعجل أناة الله في الطلاق الزمناه إياه
ابن طاؤس نے والد سے نقل کیا کہ ابو الصہباء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا کیا تم جانتے ہوں کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ نبوت میں تین طلاق کو ایک قرار دیا جاتا تھا اسی طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی تینوں سالوں میں یہی سلسلہ تھا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے ہاں یہ درست ہے۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے دے تو اس پر ایک طلاق واقع ہوگی بشرطیکہ اس نے وہ طلاق اس وقت میں دی ہو جس میں طلاق دینا سنت ہے (طہر) اور اس طہر میں ہو جس میں جماع نہ کیا گیا ہوانہوں نے مندرجہ بالا روایت سے اس طرح استدلال کیا ہے کہ جب الله تعالی نے حکم دیا کہ وہ طلاق وقت میں دیں اور ایک خاص طریقے پردیں وہ وقت طہر ہے جس میں جماع نہ کیا ہو۔ دلیل میں اس روایت کو پیش کیا کہ جب اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو حکم دیا کہ وہ خاص وقت میں خاص انداز سے دیں تو انہوں نے الله تعالی کے علم کے خلاف طلاق دی تو ان کی طلاق واقع نہیں ہوئی اور دوسری بات یہ ہے کہ معاملات میں بھی اگر ایک آدمی کسی آدمی کو کہے کہ وہ اس کی کو اس وقت میں اس انداز سے طلاق دے اس نے اس کی شرط کے بغیر طلاق دی یا اس کو کہا گیا کہ وہ اس شرط پر طلاق دے اس سے اس نے کی اور شرط پر طلاق دی تو وہ واقع نہ ہوگی۔ کیونکہ اس نے مامور کی مخالفت کی ہے۔ بالکل اسی طرح طلاق کا بھی حکم ہے کہ بندوں کو جس طرح دینے کا حکم دیا اگر وہ اسی طرح بجالائیں تو واقع ہوگی اور جب وہ اس کے برخلاف دیں گے تو وہ واقع نہ ہوگی۔ اکثر اہل علم نے اس بات کی مخالفت کی ہے اور طلاق بدعی کو بھی واقع قرار دیا اس کی وجوہ بھی ذکر فرمائیں۔ دلائل کی روایات مذکور ہوں گی اور اگر سابقہ موقف کا جواب دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو طلاق کے سلسلے میں جو حکم فرمایا ہے وہ بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ تم نے ذکر کیا ہے۔ کہ جب عورت طہر کی حالت میں ہو اور اس عمر میں خاوند نے مجامعت بھی نہ کی ہو یا وہ حاملہ ہو (تو اس وقت طلاق دی جائے ) اور تین طلاق الگ الگ دینے کا حکم دیا جبکہ وہ طلاق واقع کرنا چاہتے ہو ان کو اکٹھا واقع نہ کریں ۔ مگر جب انہوں نے مخالفت کردی اور ایسے وقت میں طلاق دے دی جس میں انہیں طلاق نہ دینا چاہئے تھی اور طلاق کی تعداد میں جتنی دینی چاہیے اس سے زیادہ دیں تو جتنی انہوں نے واقع کی ہیں وہ لازم ہو جائیں گی مگر وہ اللہ تعالی کے اس حکم میں تجاوز کی وجہ سے گنہگار ہوں گے۔ بقیہ رہا آپ کا طلاق کو دیگر دکالات پر قیاس کرنا تویہ درست نہیں کیونکہ طلاق کا حکم عام وکالتوں کی طرح نہیں ہے کیونکہ وکلا اپنا وہ فعل اپنے موکلین کی خاطر کرتے ہیں اس لئے وہ اپنے موکل کے مقام پر شمار کر لئے جاتے ہیں اور وکیل کافعل ان کا اپنا فعل شمار ہوتا اور کیا جاتا ہے اسی وجہ سے وکلاء اگر انہی شرائط کے ساتھ انجام دیں تو ان پر لازم ہو جا تا ہے اور اگر ان شرائط کا پاس نہ کریں تو موکل پرو ہ فعل لازم نہیں ہوتا۔ یہاں معاملہ طلاق میں طلاق کا یہ فعل بندے اپنی ذات کے لئے کرتے ہیں کسی دوسرے کے لئے نہیں کرتے اور نہ اپنے رب کے لئے کرتے ہیں اور نہ ہی اپنے اس فعل میں دوسروں کے قائم مقام ہوتے ہیں کہ ان سے اس بات کا ارادہ کیا جائے کہ وہ ان لوگوں کے حکم کے مطابق صحیح طلاق دیں جن کے یہ قائم مقام ہیں ۔ پس جب بات بالکل اسی طرح ہے تو جو کچھ انہوں نے کیا وہ ان پر لازم ہو جائے گا خواہ یہ ان امور سے ہے جن سے منع کیا گیا ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ الله تعالی نے اپنے بندوں کو بعض کاموں سے منع فرمایا مگر عمل کی صورت میں حکم لازم کردیا ان میں سے ایک ظہار ہے کہ اس سے منع کیا گیا اور اس کو بری بات اور جھوٹا قول قرار دیا گیا مگر اس کے باوجود جو شخص ظہار کرے اس کی بیوی خاوند پر اس وقت تک کے لئے حرام ہو جاتی ہے جب تک وہ اس کا کفارہ ادا نہ کرے تو جب ہم دیکھتے ہیں کہ ظہار بری بات اور جھوٹ ہے لیکن اس کے باوجود لازم ہوگئی۔ اسی طرح جس طلاق سے روکا گیا وہ بھی بری بات اور جھوٹ ہونے کے باوجود حرمت لازم ہوگئی۔ جب ہم نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم ﷺ سے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس طلاق کے متعلق دریافت کیا جو انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں دی تھی تو آپ ﷺ نے ان کو رجوع کا حکم دیا جیسا کہ متواتر روایات سے ثابت ہے جن کا تذکرہ گزشتہ باب الطلاق میں ہوا اور یہ بات تو ظاہر ہے اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو رجوع کا کیا معنی ہے جب جناب رسول اللہ ﷺ نے حیض میں دی ہوئی طلاق کو نافذ اور لازم قرار دیا جبکہ حیض میں طلاق دینا جائز نہیں ۔ تو بالکل اسی طرح جو شخص بیک وقت تین طلاق دے تو طلاق نافذ ہوجائے گی اور جو اس نے اپنے اوپر لازم کیا وہ لا زم ہوجائے گا اگر چہ اس نے یہ عمل مامور کے بہ خلاف کیا ہے اس باب میں قیاس کا یہی تقاضا ہے۔ رہی ابن عباس رضی اللہ عنہ والی روایت جو شروع باب میں مذکور ہوئی اگر اسی پر اکتفاء کریں تو قطعی دلیل ہے کیونکہ ان کا فرمان یہ ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا یا تو انہوں نے فرمایا اے لوگو! تمہارے لئے طلاق میں ٹھہراؤ تھا اور شان یہ ہے کہ جو شخص طلاق کے سلسلہ میں اللہ تعالی کی طرف سے دی گئی تاخیر و مہلت میں جلد بازی کرے تو وہ طلاق اس پر لازم ہو جائے گی۔ جیسا اس روایت میں ہے ۔
أَبِيهِ ← بن طاوس، ← بن جُرَيْجٍ ← عَبْدُ الرَّازَّقِ ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4385
