شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4165
3937 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني بن جريج عن سليمان بن موسى عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فإن أصابها فلها مهرها بما استحل من فرجها فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ نے نقل فرمایا ہے کہ جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے اگر مرد نے اس سے قربت بھی کر لی تو اس عورت کو مہر ملے گا کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیا پھر اگر ان میں باہمی اختلاف ہو جائے تو حکمران اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی ( نسباً ) موجود نہ ہو۔
رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4165
