Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4165

3937 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني بن جريج عن سليمان بن موسى عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أيما امرأة نكحت بغير إذن وليها فنكاحها باطل فإن أصابها فلها مهرها بما استحل من فرجها فإن اشتجروا فالسلطان ولي من لا ولي له

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے ، انہوں نے جناب رسول اللہ ﷺ نے نقل فرمایا ہے کہ جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر اپنا نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے اگر مرد نے اس سے قربت بھی کر لی تو اس عورت کو مہر ملے گا کیونکہ اس نے اس کی شرمگاہ کو استعمال کیا پھر اگر ان میں باہمی اختلاف ہو جائے تو حکمران اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی ( نسباً ) موجود نہ ہو۔

رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4165

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4166

3938 - حدثنا فهد قال حدثنا أحمد بن يونس قال حدثنا زهير بن معاوية قال حدثنا يحيى بن سعيد عن بن جريج فذكر بإسناده مثله

یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

بن جريج فذكر بإسناده مثله ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4166

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4167

3939 - حدثنا أبو بشر الرقي قال حدثنا المعتمر بن سليمان الرقي عن الحجاج بن أرطأة عن الزهري فذكر بإسناده مثله

حجاج بن ارطاۃ نے ابن شہاب سے انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

الزُّهْرِيِّ،. فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← المعتمر بن سليمان الرقي ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4167

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4168

3940 - حدثنا ربيع المؤذن قال حدثنا أسد قال حدثنا بن لهيعة قال حدثنا جعفر بن ربيعة عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله

جعفر بن ربیعہ نے ابن شہاب سے انہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

بن شهاب فذكر بإسناده مثله ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4168

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4169

3941 - حدثنا ربيع الجيزي قال حدثنا أبو الأسود قال أخبرنا بن لهيعة عن عبيد الله بن أبي جعفر عن بن شهاب فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب إلى هذا قوم فقالوا لا يجوز تزويج المرأة نفسها إلا بإذن وليها وممن قال ذلك أبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمة الله عليهما واحتجوا في ذلك بهذا الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا للمرأة أن تزوج نفسها ممن شاءت وليس لوليها أن يعترض عليها في ذلك إذا وضعت نفسها ممن شاءت ولي لوليها أن يعترض عليها في ذلك إذا وضعت نفسها حيث كان ينبغي لها أن تضعها وكان من الحجة لهم في ذلك أن حديث بن جريج الذي ذكرناه عن سليمان بن موسى قد ذكر بن جريج أنه سأل عنه بن شهاب فلم يعرفه

ابن لہیعہ نے عبید اللہ بن ابی جعفر سے انہوں نے ابن شہاب سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا رجحان یہ ہے کہ کسی عورت کو ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لینا جائز نہیں اس قول کو ہمارے ائمہ میں سے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ محمد رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے اور انہوں نے مذکورہ بالا آثار سے استدلال کیا ہے ۔ علماء کی دوسری جماعت نے بالغہ عورت کو اپنے نکاح کا اختیار دیا ہے ولی کو اس کے اس حق میں تعرض کی اجازت نہیں مگر اس میں اس شرف کالحاظ رکھنا ضروری ہے کہ وہ عورت اس مقام پر نکاح کرے جہاں نکاح مناسب ہو ( کفو میں ) ۔ مندرجہ بالا روایت جو ابن جریج کے حوالہ سے مذکور ہوئی ہے کہ خود ثابت نہیں اس کے متعلق جب ابن شہاب زہری سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس کی پہچان سے انکار کر دیا۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4169

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4170

3942 - حدثنا بذلك بن أبي عمران قال أخبرنا يحيى بن معين عن بن علية عن بن جريج بذلك قال أبو جعفر وهم يسقطون الحديث بأقل من هذا وحجاج بن أرطأة فلا يثبتون له سماعا عن الزهري وحديثه عنه عندهم مرسل وهم لا يحتجون بالمرسل وابن لهيعة فهم ينكرون على خصمهم الاحتجاج عليهم بحديثه فكيف يحتجون به عليه في مثل هذا ثم لو ثبت ما رووا من ذلك عن الزهري لكان قد روي عن عائشة رضي الله عنها ما يخالف ذلك

امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ محدثین کرام تو اس سے کم درجہ کا عیب نکلنے پر روایت کو ترک کر دیتے ہیں جبکہ یہاں حجاج بن ارطاۃ کا زہری سے سماع ہی ثابت نہیں اور حجاج زہری سے جو بھی روایت کریں وہ مرسل شمار ہوتی ہے اور مرسل فریق اول کے ہاں قابل حجت نہیں چہ جائیکہ بنیادی دلیل میں اس کو پیش کیا جائے ۔ ابن لہیعہ اس روایت کی سند میں پایا جاتا ہے اور فریق اول موقعہ حجت میں ابن لہیعہ کی روایت کو قبول نہیں کرتے تو خود ایسی روایت سے استدلال کیونکر کرتے ہیں جس میں ابن لہیعہ موجود ہے ۔ اگر بالفرض زہری سے یہ روایت ثابت بھی ہو جائے اور نیچے والی سے قطع نظر کر لی جائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی روایت اس کے خلاف موجود ہے جو ہم پیش کئے دیتے ہیں ۔

بن جريج بذلك ← بن عُلَيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← بذلك بن أبى عمران

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4170

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4171

3943 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا أخبره عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة زوج النبي صلى الله عليه و سلم أنها زوجت حفصة بنت عبد الرحمن المنذر بن الزبير وعبد الرحمن غائب بالشام فلما قدم عبد الرحمن قال أمثلي يصنع به هذا ويفتات عليه فكلمت عائشة عن المنذر فقال المنذر إن ذلك بيد عبد الرحمن فقال عبد الرحمن ما كنت أرد أمرا قضيتيه فقرت حفصة عنده ولم يكن ذلك طلاقا

عبدالرحمن بن قاسم نے اپنے والد سے انہوں نے عائشہ ام المومنین رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ حفصہ بنت عبدالرحمن کا نکاح منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کر دیا اس وقت حضرت عبدالرحمن موجود نہ تھے بلکہ وہ شام میں تھے حضرت عبدالرحمن تشریف لائے تو ( ناراضی سے ) فرمایا کیا میرے جیسے آدمی سے یہ معاملہ کیا جاتا ہے کہ میری رائے کے بغیر کام کیا جائے پس عائشہ رضی اللہ عنہ نے منذر کی طرف سے گفتگو کی۔ تو منذر نے کہا کہہ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو اختیار ہے اس پر عبدالرحمن نے فرمایا میں ایسے کام کو بالکل رد نہ کروں گا جو تم نے کر دیا پس حفصہ کو منذر کے نکاح میں رہنے دیا اور عبدالرحمن کا یہ قول طلاق نہ ہوا ( یعنی نکاح ثابت و برقرار رہا ) ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4171

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4172

3944 - وحدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني الليث عن عبد الرحمن بن القاسم فذكر بإسناده مثله

لیث نے عبدالرحمن بن قاسم سے روایت نقل کی پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے ۔

عبد الرحمن بن القاسم فذكر بإسناده مثله ← اللَّيْثُ ← بن وَهْبٍ ← وحدثنا يونس

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4172

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4173

3945 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني حنظلة وأفلح عن القاسم بن محمد في حفصة بمثل ذلك فلما كانت عائشة رضي الله عنها قد رأت أن تزويجها بنت عبد الرحمن بغيره جائز ورأت ذلك العقد مستقيما حتى أجازت فيه التمليك الذي لا يكون إلا عن صحة النكاح وثبوته إستحال عندنا أن يكون ترى ذلك وقد علمت أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم قال لا نكاح إلا بولي فثبت بذلك فساد ما روي عن الزهري في ذلك واحتج أهل المقالة الأولى أيضا لقولهم

حنظلہ اور افلح نے قاسم بن محمد سے حفصہ بنت عبدالرحمن سے متعلق اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ تین اسناد کے ساتھ پیش کی جانے والی روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی عدم موجودگی میں ان کی بیٹی کا نکاح کر دیا اور اس کو جائز سمجھا اور اس عقد سے تمسیک بضعہ کو جائز قرار دیا جو ہمارے ہاں ثبوت نکاح اور اس کے ثبوت کے بغیر نہیں ہو سکتی اور یہ بات قطعاً غیر ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے لانکاح الاہولی کو جانتے ہوئے اس کو بغیر ولی کے جائز قرار دیا ہو پس اس بات سے زہری کی روایت کا نقص ثابت ہو گیا۔ اول قول والوں نے اپنی دلیل میں اس روایت کو پیش کیا ہے ۔

القاسم بن محمد في حفصة بمثل ذلك فلما كانت عائشة قد رأت ← حنظلة وأفلح ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4173

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4174

بما حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر وحدثنا أبو بكرة ومحمد بن خزيمة قالا ثنا عبد الله بن رجاء قال أخبرنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن أبيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لا نكاح إلا بولي أي إلا بإذنه فكان من الحجة عليهم في ذلك أن هذا الحديث على أصلهم أيضا لا تقوم به حجة وذلك أن من هو أثبت من إسرائيل وأحفظ منه مثل سفيان وشعبة قد رواه عن أبي إسحاق منقطعا

ابو اسحاق نے حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ ان کے اصول کے مطابق استدلال کے لئے کافی نہیں کیونکہ اسرائیل سے زیادہ حفظ و ضبط و اتقان والے روات مثلاً سفیان ،شعبہ وغیرہ نے اس کو اسحاق سے انقطاع کے ساتھ نقل کیا ہے تو منقطع روایت سے استدلال درست نہ ہوا۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← عثمان بن عمر وحدثنا أبو بكرة ومحمد بن خزيمة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← بِمَا

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4174

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4175

3946 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لا نكاح إلا بولي

شعبہ نے ابو اسحاق سے انہوں نے ابو بردہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ۔

لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ ← النبي صلى الله عليه و سلم أنه ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4175

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 2 باب النكاح بغير ولي عصبة ) · حديث 4176

3947 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا سفيان الثوري عن أبي إسحاق عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فصار أصل هذا الحديث عن أبي بردة عن النبي صلى الله عليه و سلم وعلى آله وسلم برواية شعبة وسفيان وكل واحد منهما عندهم حجة على إسرائيل فكيف إذا اجتمعا جميعا فإن قالوا فإن أبا عوانة قد رواه مرفوعا كما رواه إسرائيل وذكروا في ذلك ما حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا إسرائيل وأبو عوانة ح

سفیان ثوری نے ابو اسحاق سے انہوں نے ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے تو اصل کے لحاظ سے یہ روایت حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے جناب نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے جس کو شعبہ و سفیان نے اپنی سند سے روایت کیا ہے ۔ ہر دو راوی اکیلے اکیلے بھی اسرائیل کے خلاف حجت ہیں تو جب دونوں جمع ہوں تو پھر ان کی روایت اسرائیل کے خلاف حجت کیوں نہ ہو گی۔

أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4176

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter