Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3020

2855 - حدثنا يزيد بن سفيان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر رضي الله عنهما قال كانت المزارع تكرى على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم على إن لرب الأرض ما على الساقي من الزرع وطائفة من التبن لا أدرى كم هو قال نافع فجاء رافع بن خديج وأنا معه فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطى خيبر يهود على أنهم يعملونها ويزرعونها على أن لهم نصف ما يخرج منها من ثمر أو زرع على أن نقر كم فيها ما بدا لنا قال فخرصها عليهم عبد الله بن رواحة فصاحوا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم من حرصه فقال لهم عبد الله بن رواحة أنتم بالخيار إن شئتم فهى لكم إن شئتم فهى لنا نخرصها ونؤدي إليكم نصفها فقالوا بهذا قامت السماوات والأرض

نافع نے ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زمین ٹھیکہ پر دی جاتی تھی اس کا طریقہ یہ تھا کہ زمین کے مالک کو اتنی مقدار ملے گی جتنی کھیت کے پانی کے کنارے کے قریب ہے اور کچھ بھوسہ دیا جائے گا مجھے معلوم نہیں اس کی مقدار کیا تھی نافع کہتے ہیں کہ رافع بن خدیج آئے اور میں ان کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا جناب رسول اللہﷺ نے یہود کو خیبر کی زمینیں اس شرط پر عنایت فرمائیں کہ وہ کام کریں گے اور کھیتی لگائیں گے اور کل پیداوار کا نصف مسلمانوں کو دیں گے خواہ غلہ ہو یا پھل اور جب تک مناسب ہوگا ہم تمہیں یہاں ٹھہرا ئیں گے پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن رواجہ کو اندازہ کرنے کےلیے مقر ر فرمایا تو انہوں نے ان کے اندازے کی جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں فریاد کی؟ تو جناب عبداللہ نے فرمایا تمہیں اس میں اختیارہے اگر چاہو تم لے لو اور اگر ہم چاہیں گے ہم لے لیں گے ہم اندازہ کریں گے اور اس کا نصف جو بنے گا وہ تمہیں ادا کر دیں گے وہ کہنے لگے یہی وہ عدل و انصاف ہے جس کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں ۔

بن عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3020

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3021

2856 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو عون الزيادي قال ثنا إبراهيم بن طهمان قال ثنا أبو الزبير عن جابر رضي الله عنه قال أفاء الله خيبر فأقرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم كما كانوا وجعلها بينه وبينهم فبعث عبد الله بن رواحة فخرصها عليهم ثم قال يا معشر اليهود أنتم أبغض الخلق إلي قلتم أنبياء الله وكذبتم على الله وليس يحملني بغضي إياكم أن أحيف عليكم وقد خرصت عليكم بعشرين ألف وسق من تمر فان شئتم فلكم وإن شئتم فلى

ابو الزبیر نے جابر ؓ سے روایت کی ہے اللہ تعالیٰ نے مال فئی کے طور پر خیبر عنایت فرمایا جناب رسول اللہﷺ نے ان کو ان زمینوں پر بر قرار رکھا جیسا پہلے تھے اور اس پیداوار کو اپنے اور ان کے مابین بانٹ لیا پھر آپ نے عبداللہ بن رواحہ ؓ کو بھیجا انہوں نے اندازہ لگایا پھر فرمایا اے یہود ! تم میرے ہاں مخلوق میں مبغوض ترین لوگ ہو تم نے انبیا ءؑ کو قتل کیا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے مگر میرا بغض تمہارے متعلق مجھے اس بات پر آمادہ نہ کرے گا کہ میں پر ظلم کرو ں میں نے تمہارے متعلق اندازہ لگایا کہ کھجور کی مقدار بیس ہزار و سق ہوگی اگر تم چاہو تم لے لو اور اگر چاہو مجھے دے دہ۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبُو عَوْنٍ الزِّيَادِيُّ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3021

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3022

2857 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا إبراهيم بن المنذر قال ثنا عبد الله بن نافع قال ثنا محمد بن صالح عن بن شهاب عن سعيد بن المسيب عن عتاب بن أسيد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمره أن يخرص العنب زبيبا كما يخرص الرطب قال أبو جعفر فذهب قوم أن الثمرة التي يجب فيها العشر هكذا حكمها تخرص وهى رطب تمرا فيعلم مقدارها فتسلم الى ربها ويملك بذلك حق الله تعالى فيها ويكون عليه مثلها مكيلة ذلك تمرا وكذلك يفعل في العنب واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فكرهوا ذلك وقالوا ليس في شيء من هذه الآثار أن التمرة كانت رطبا في وقت ما خرصت في حديث بن عمر وجابر رضي الله عنهما وكيف يجوز أن يكون كانت رطبا حينئذ فتجعل لصاحبها حق الله فيها بمكيلة ذلك تمرا يكون عليه نسيئة وقد نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن بيع التمر في رءوس النخل بالتمر كيلا ونهى عن بيع الرطب بالتمر نسيئة وجاءت بذلك عنه الآثار المروية الصحيحة قد ذكرنا ذلك في غير هذا الموضع من كتابنا هذا ولم يستثن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك شيئا فليس وجه ما روينا في الخرص عندنا على ما ذكرتم ولكن وجه ذلك عندنا والله أعلم أنه إنما أريد بخرص بن رواحة ليعلم به مقدار ما في أيدى كل قوم من الثمار فيؤخذ مثله بقدره في وقت الصرام لا أنهم يملكون منه شيئا مما يجب لله فيه ببدل لا يزول ذلك البدل عنهم وكيف يجوز ذلك وقد يجوز أن تصيب بعد ذلك آفة فتتلفها أو نار فتحرقها فتكون ما يؤخذ من صاحبها بدلا من حق الله تعالى فيها مأخوذا منه بدلا مما لم يسلم له ولكنه إنما أريد بذلك الخرص ما ذكرنا وكذلك في حديث عتاب بن أسيد فهو على ما وصفنا من ذلك أيضا وقد دل على ذلك أيضا ما

سعید بن المسیب سے عتاب بن اسیدؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ انگور کا اندازہ کشمش کے طور پر لگایا جائے جیسا کہ تازہ کھجور سے کھجور کا اندازہ کیا جاتاہے ۔ اما م طحاوی ؒنے فرمایا علماء کی ایک جماعت نے فرمایا کہ جس پھل میں عشر واجب ہے ۔ اس کا حکم یہ ہے کہ جب تر کھجور کی صورت میں ہو تو اس کی مقدار معلوم کرلی جائے اور اس کے مالک کے ان کو سپرد کردیا جائے اس سے ان میں اللہ تعالیٰ کا حق اس مالک پر لازم ہو جائے گا ۔ جب وہ یک جائیں اسی کیل سے کھجور اس پر لازم ہوگی انگوروں کے سلسلہ میں بھی اسی طرح کیا جائے گا ۔ انہوں نے ان آثار کو دلیل نہ بنایا مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے اس کو مکروہ قرار دیا اور کہا کہ ان آثار میں اس سلسلہ کی کوئی با ت نہیں ہے کہ کھجور کو تر حالت میںاندازہ کیا جائے ۔ نہ تو حدیث ابن عمر میں اور نہ جابر ؓ میں تو پھر یہ کہنا کیسے درست ہو ا کہ تر کھجور سے ہی ان کھجوروں کے مالک پر کیل کے ذریعے سے حق لازم کردیاجائے اور وہ پکی ہوئی کھجور تو اس کے ذمہ ادھار ہو جائے گی حا لانکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے درخت کے اوپر کھجور کے بدلے میں کھجور کو کیل کرنے سے منع فرمایا اسی طرح آپ نے تر کھجوروں کو خشک کھجور کے بدلے ادھار فروخت سے منع فرمایا اور اس سلسلے میں بہت ساری صحیح روایات وارد ہیں جن کو ہم نے اپنی اسی کتاب میں دوسرے مقام پر ذکر کیا ہے ۔ جناط رسول اللہ ﷺ نے کسی صورت کو مستشنیٰ نہیں فرمایا ۔ فلہذا ہمارے ہاں اندازہ کرے کے سلسلے میں وہ صورت نہیں ہے جو تم نے بیان کی ہے بلکہ ہمارے اس کہنے کا مطلب یہ ہے (واللہ اعلم )کہ حضرت عبداللہ بن رواحہ سے اندازہ لگوانے کا مطلب یہی تھا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ جماعت کے پاس کتنا پھل ہے تاکہ کٹائی کے وقت اتنا پھل ان سے لے لیا جائے ۔اس کا یہ معنیٰ نہیں ہے کہ وہ اندازہ کرنے سے اس چیز کے مالک بن گئے جس میں اللہ کا حق ان پر واجب ہو گیا اور جس کا بدل ادا کرنا ان کو ضروری ہو گیا ۔ آپ ہی فرمائیں کہ یہ کس طرح جائز ہے کہ اس کے بعد کہ آفت سے وہ پھل ہلاک ہو جائے یا آگ سے جل جائے تو گویا مالک سے ایسی چیز کا بد ل لیا جارہا ہے جو اس نے وصول ہی نہیں کی۔ پس اس اندازہ سےوہی مراد ہے جو ہم نے مراد لیا اور حضرت عتاب بن اسید ؓ کی روایت میں اسی بات کا تذکرہ ہے جو ہم نے بیان کی اور یہ روایت بھی اس پر دلالت کررہی ہے۔

عَتَّابِ بْنِ أُسَيْدٍ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بن شِهَابٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3022

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3023

2858 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن خبيب بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن مسعود بن نيار عن سهل بن أبى حثمة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فإن لم تدعوا الثلث فدعوا الربع فقد علمنا أن ذلك لا يكون في وقت ما يؤخذ الزكاة لأن ثمرته لو بلغت مقدار ما يجب فيه الزكاة لم يحط عنه شيء مما وجب عليه فيها فأخذ منه ما وجب عليه فيها بكماله هذا مما اتفق عليه المسلمون ولكن الحطيطة المذكورة في هذا الحديث إنما هى قبل ذلك في وقت ما يأكل من الثمرة أهلها قبل أوان أخذ الزكاة منها فأمر الخراص أن يلقوا مما يخرصون المقدار المذكور في هذا الحديث لئلا يحتسب به على أهل الثمار في وقت أخذ الزكاة منهم وقد روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه كان يأمر الخراص بذلك أيضا

عبدالرحمنٰ بن مسعود بن دینار نے سہل بن ابی حثمہ ؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اندازہ کر لو تو کم از کم ثلث کو چھوڑدو اور اگر تم ثلث نہ چھوڑ و تو ربع تو ضرور چھوڑ دو۔ ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ اس وقت کا حکم نہیں جب زکوٰۃ لی جائے کیونکہ جب پھل کی مقدار اتنی ہوجائے جس پر زکوٰۃ لازم ہے تو جتنی زکوٰۃ لازم ہے اس سے کم نہیں کیا جاسکتا بلکہ پورے واجب کو وصول کیا جائے گا اس پر پوری امت کا اتفاق ہے تو اس روایت میں جتنی مقدار کو چھوڑنے کا ثذکرہ ہے تو اس وقت کی بات ہے جب زکوٰۃ کی ادائیگی سے پہلے مالکوں کو اس سے کھانے کی ضرورت پڑتی ہے تو اندازہ لگانے والے کو حکم دے دیا کہ پھل کی جس مقدار کا وہ اندازہ لگائیں اس میں ثلث یار بع کو چھوڑدیں تاکہ باغات کا عشر و صول کرتے ہوئے اس کو حساب میں شامل نہ کیاجائے ۔ حضرت فاروق اعظم ؓ اندازہ لگانے والے کو اس بات کا حکم فرماتے تھے، جیسا کہ اگلے اثر سے واضح ہے۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3023

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3024

2859 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا أبو بكر بن عياش عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار عن سعيد بن المسيب قال بعث عمر بن الخطاب رضي الله عنه سهل بن أبى حثمة يخرص على الناس فأمره إذا وجد القوم في نخلهم أن لا يخرص عليهم ما يأكلون فهذا أيضا دليل على ما ذكرنا وقد روى عن أبى حميد الساعدي أيضا في صفة خرص رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على ما ذكرنا

سعید بن المسیب ؒ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نھے سہل بن حثمہ ؓ کو حکم دیا وہ لوگوں کے پھلوں کا اندازہ لگائے اور فرمایا جب لوگوں کو کھجوروں میں پاو تو جو وہ کھالیں اس کو خرص میں شمار نہ کرو۔ یہ ہماری بات کی دلیل ہے اور حضرت ابو حمید ساعدی نے بھی جناب رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح کی بات نقل کی ہے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3024

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3025

2860 - حدثنا إبراهيم بن أبى داود وعبد الرحمن بن عمرو الدمشقي قالا ثنا الوحاظي ح وحدثنا على بن عبد الرحمن وأحمد بن داود قالا ثنا القعنبي قالا ثنا سليمان بن بلال قال ثنا عمرو بن يحيى المازني عن عباس بن سهل بن سعد الساعدي عن أبى حميد الساعدي قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في غزوة تبوك فأتينا وادى القرى على حديقة امرأة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم اخرصوها فخرصها رسول الله صلى الله عليه و سلم وخرصناها عشرة أوسق وقال أحصيها حتى أرجع إليك إن شاء الله تعالى فلما قدمناها سألها رسول الله صلى الله عليه و سلم عن حديقتها كم بلغ تمرها قالت عشرة أوسق ففي هذا الحديث أيضا أنهم خرصوها وأمروها بأن تحصيها حتى يرجعوا إليها فذلك دليل على انها لم تملك بخرصهم إياها ما لم تكن مالكة له قبل ذلك وانما أرادوا بذلك أن يعلموا مقدار ما في نخلها خاصة ثم يأخذون منها الزكاة في وقت الصرام على حسب ما يجب فيها فهذا هو المعنى في هذه الآثار عندنا والله أعلم وقد قال قوم في الخرص غير هذا القول قالوا انه قد كان في أول الزمان يفعل ما قال أهل المقالة الأولى من تمليك الخراص أصحاب الثمار حق الله فيها وهى رطب ببدل يأخذونه منهم تمرا ثم نسخ ذلك بنسخ الربا فردت الأمور الى أن لا يؤخذ في الزكوات إلا ما يجوز في البيعات وذكروا في ذلك ما

سہل بن سعد الساعدی نے ابو حمید الساعدی ؓ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک میں نکلے ہمارا گزروادی القریٰ میں ایک عورت کے کھجوروں کے باغ کے پاس سے ہو ا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اندازہ کرو ہم نے اور جناب رسول اللہﷺ نے اس کا اندازہ دس وسق سے لگایا آپ نے فرمایا اس کو اتنی مقدار جمع کر کے رکھنا ہم واپسی پ ان شاءاللہ تعالیٰ وصول کرلیں گے جب ہم تبوک سے واپس لو ٹے تو اس عورت سے جناب رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کہ کھجور کی کتنی مقدار حاصل ہوئی اس نے کہا دس وسق ۔ اس روایت میں بھی یہ بات بتلائی گئی کہ انہوں نے اندازے کا حکم دیا اور اسے واپسی تک محفوظ کرنے کا حکم فرمایا اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ اندازہ کرنے کی وجہ سے وہ عورت اس کی مالک نہیں بنی اگر وہ پہلے سے اس کی مالک نہ ہو صرف اس اندازے سے مقصد یہ تھا کہ کھجوروں کی مقدار معلوم ہو جائے پھر وہ کٹائی کے وقت جتنی اس کے اندر زکوٰۃ بنتی ہے اتنی وہ وصول کر لے ۔ ہمارے نزدیک ان آ ثار کا یہی مطلب ہے ۔ واللہ اعلم ۔ بعض لوگوں نے "خرص "کے بارے میں ایک دوسرے قول کو اپنا یا ہے کہ یہ شروع زمانہ میں تو تھا جیسا کہ اول قول والے علماء نے کہا کہ اندازہ کرنے والے لوگ پھل والوں کو اللہ کے حق کا مالک بنا دیتے تھے جب کہ ابھی کھجور تر حالت میں ہوتی تھی اور پھر وہ اس کے بدلے میں ان سے خشک کھجور لے لیا کرتے تھے پھر یہ حکم سود کے منسوخ ہونے سے منسوخ ہو گیا اور تمام معاملات اس طرف لوٹا دئیے گئے کہ زکوٰۃ میں وہ چیز لی جائے جس کی خرید و فروخت درست ہو جیسا کہ یہ روایت بتلا رہی ہے۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← على بن عبد الرحمن وأحمد بن داود ← الوحاظي ← عبد الرحمن بن عمرو الدمشقي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3025

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3026

2861 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا أبو الزبير عن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الخرص وقال أرأيتم إن هلك الثمر أيحب أحدكم أن يأكل مال أخيه بالباطل فهذا وجه هذا الباب من طريق الآثار وأما وجهه من طريق النظر فانا قد رأينا الزكاة تجب في أشياء مختلفة منها الذهب والفضة والثمار التي تخرجها الأرض والنخل والشجر والمواشي السائمة فكل قد أجمع أن رجلا لو وجبت عليه على ماله وهو ذهب أو فضة أو ماشية سائمة فسلم ذلك له المصدق على ما لا يجوز عليه البياعات أن ذلك غير جائز له ألا ترى إن رجلا لو وجبت عليه في دراهمه الزكاة فباع ذلك منه المصدق بذهب نسيئة أن ذلك لا يجوز وكذلك لو باعه منه بذهب ثم فارقه قبل أن يقبضه لم يجز ذلك وكذلك لو وجبت عليه في ماشيته الزكاة ثم سلم ذلك له المصدق ببدل مجهول أو ببدل معلوم الى أجل مجهول فذلك كله حرام غير جائز فكان كلما حرم في البياعات في بيع الناس ذلك بعضهم من بعض قد دخل فيه حكم المصدق في بيعه إياه من رب المال الذي فيه الزكاة التي يتولى المصدق أخذها منه فلما كان ما ذكرنا كذلك في الأموال التي وصفنا كان النظر على ذلك أيضا أن يكون كذلك حكم الثمار فكما لا يجوز بيع رطب بتمر نسيئة في غير ما فيه الصدقات فكذلك لا يجوز فيما فيه الصدقات فيما بن المصدق وبين رب المال فهذا هو النظر أيضا في هذا الباب وقد عاد ذلك أيضا الى ما صرفنا اليه الآثار المروية عن رسول الله صلى الله عليه و سلم التي قدمنا ذكرها فبذلك نأخذ وهو قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى

ابو الزبیر نے جابر ؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہﷺ نے خرص سے منع فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر پھل برباد ہو جائے کیا تم پسند کرتے ہوکہ اپنے بھائی کا مال ناجائز ذریعہ سے کھاو۔ یہ تو آثار کے انداز سے اس باب کی وضاحت ہے ۔ باقی غور و فکر کے طور پر اس کا حکم اس طرح ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ زکوٰۃ مختلف اشیا ء میں لازم ہوتی ہے۔ ان میں سونا، چاندی ، پھل جو زمین سے (غلہ جات کی صورت میں ) نکلیں ۔ کھجور اور دیگر پھل اور چرنے والے مویشی وغیرہ ۔ اس پر سب کا اجماع ہے کہ اگر کسی شخص پر اس کے مال میں جب کہ وہ سونا ، چاندی چرنے والے جانور ہوں اور زکوٰۃ وصول کرنے والا اس کو ایسی چیز اس کے بدلے میں دے جس کی بیع جائز نہیں تو یہ مصدق کو جائز نہیں ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اگر کسی آدمی کے دراہم میں زکوٰۃ لازم ہوتی ۔ زکوٰۃ لینے والے نے اس سے سونے کے بدلے ادھار خرید لی۔ تو یہ بھی جائز نہیں ۔ اسی طرح اگر اس نے اسے سونے کے بدلے خرید لیا۔ پھر قبضہ سے پہلے جدا ہوگئے تو یہ بھی جائز نہیں اسی طرح اگر اس کے مو یشیوں میں زکوٰۃ لازم ہوتی ۔ پھر عامل نے اس کو بدل نامعلو م جو نامعلوم مدت کے لئے ہے اس کو دے دیا یہ سب حرا م اور ناجائز صورتیں ہیں تو ہر وہ چیز کو جس کا لوگوں کو باہمی خرید و فروخت کرنا حرام ہے۔ تو صدقہ وصول کرنے والا اس مال کے مالک سے جس میں زکوٰۃ لازم ہوئی اور یہ مصدق اس کی وصول کا ذمہ دار بنا وہ چیز بھی اسی حکم میں شامل ہے ۔ پس جب یہ باتیں جن کا تذکرہ ہو ا اموال مذکور کے سلسلہ میں اسی طرح ہیں ۔تو نظر کا تقاضہ بھی یہی ہےکہ پھلوں کا حکم بھی اسی طرح ہو ۔ پس جس طرح تر کھجور کو پختہ کھجور کے بدلے صدقات کے علاوہ مواقع میں ادھار فروخت نہیں کی جاسکتا۔ بالکل اسی طرح وہ اموال جن میں صدقات ہیں صدقہ وصول کرنے والے اور مال کے مالک کے مابین ان کی فروخت درست نہیں ۔ اس باب میں نظر کا یہی تقاضا ہے۔ یہ لوٹ کر مضمون وہی بن گیا جس کا تذکرہ آثار مرویہ میں کیا گیا ہے ۔ ہم انہی کو اختیار کرتے ہیں اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد ﷺکا قول ہے۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3026

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter