شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 8 باب الخرص ) · حديث 3020
2855 - حدثنا يزيد بن سفيان قال ثنا أبو بكر الحنفي قال ثنا عبد الله بن نافع عن أبيه عن بن عمر رضي الله عنهما قال كانت المزارع تكرى على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم على إن لرب الأرض ما على الساقي من الزرع وطائفة من التبن لا أدرى كم هو قال نافع فجاء رافع بن خديج وأنا معه فقال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم أعطى خيبر يهود على أنهم يعملونها ويزرعونها على أن لهم نصف ما يخرج منها من ثمر أو زرع على أن نقر كم فيها ما بدا لنا قال فخرصها عليهم عبد الله بن رواحة فصاحوا الى رسول الله صلى الله عليه و سلم من حرصه فقال لهم عبد الله بن رواحة أنتم بالخيار إن شئتم فهى لكم إن شئتم فهى لنا نخرصها ونؤدي إليكم نصفها فقالوا بهذا قامت السماوات والأرض
نافع نے ابن عمر ؓ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زمین ٹھیکہ پر دی جاتی تھی اس کا طریقہ یہ تھا کہ زمین کے مالک کو اتنی مقدار ملے گی جتنی کھیت کے پانی کے کنارے کے قریب ہے اور کچھ بھوسہ دیا جائے گا مجھے معلوم نہیں اس کی مقدار کیا تھی نافع کہتے ہیں کہ رافع بن خدیج آئے اور میں ان کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا جناب رسول اللہﷺ نے یہود کو خیبر کی زمینیں اس شرط پر عنایت فرمائیں کہ وہ کام کریں گے اور کھیتی لگائیں گے اور کل پیداوار کا نصف مسلمانوں کو دیں گے خواہ غلہ ہو یا پھل اور جب تک مناسب ہوگا ہم تمہیں یہاں ٹھہرا ئیں گے پھر جناب رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن رواجہ کو اندازہ کرنے کےلیے مقر ر فرمایا تو انہوں نے ان کے اندازے کی جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں فریاد کی؟ تو جناب عبداللہ نے فرمایا تمہیں اس میں اختیارہے اگر چاہو تم لے لو اور اگر ہم چاہیں گے ہم لے لیں گے ہم اندازہ کریں گے اور اس کا نصف جو بنے گا وہ تمہیں ادا کر دیں گے وہ کہنے لگے یہی وہ عدل و انصاف ہے جس کی وجہ سے آسمان و زمین قائم ہیں ۔
بن عُمَرَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ،
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3020
