Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 7 باب فرض مسح الرأس في الوضوء ) · حديث 120

123 - حدثنا يونس وعبد الغني بن أبي عقيل وأحمد بن عبد الرحمن قالوا أنا بن وهب قال أخبرني يحيى بن عبد الله بن سالم ومالك بن أنس عن عمرو بن يحيى المازني عن أبيه عن عبد الله بن زيد بن عاصم المازني عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه أخذ بيده في وضوئه للصلاة ماء فبدأ بمقدم رأسه ثم ذهب بيده إلى مؤخر الرأس ثم ردهما إلى مقدمه قال مالك هذا أحسن ما سمعت في ذلك وأعمه في مسح الرأس

حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جنا ب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے لیے وضو کے دوران ہاتھ میں پانی لیا اور سر کے اگلی جانب سے ہاتھ رکھ کر پھر اپنے ہاتھوں کو سر کے پچھلی جانب لے گئے پھر دونوں ہاتھوں کو سر کی اگلی جانب کی طرف لوٹایا امام مالک اس روایت کے متعلق فرماتے ہیں یہ ان تمام روایات میں اعلیٰ روایت ہے اور مسح راس کے سلسلہ میں عام ہے ۔

في ذلك وأعمه في مسح الرأس ← مالك هذا أحسن ما ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← مالک بن أنس ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، ← بن وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يونس وعبد الغني بن أبي عقيل

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 120

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 7 باب فرض مسح الرأس في الوضوء ) · حديث 121

124 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال ثنا أبي وحفص بن غياث عن ليث عن طلحة بن مصرف عن أبيه عن جده قال رأيت النبي صلى الله عليه و سلم مسح مقدم رأسه حتى بلغ القذال مؤخر الرأس من مقدم عنقه

طلحہ بن مصرف اپنے والد اور مصرف اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کی اگلی جانب سے مسح شروع کیا یہاں تک کہ گدی تک پہنچے جو گردن کا بالائی حصہ ہے ۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← طَلْحَۃَ بن مصرف ← لَيْثٌ، ← أبي وحفص بن غياث ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 121

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 7 باب فرض مسح الرأس في الوضوء ) · حديث 122

125 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو معمر قال ثنا عبد الوارث بن سعيد عن ليث فذكر مثله بإسناده

عبدالوارث بن سعید نے لیث سے اپنی اسناد کے ساتھ اسی طرح نقل کیا ہے ۔

ليث فذكر مثله بإسناده ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 122

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 7 باب فرض مسح الرأس في الوضوء ) · حديث 123

126 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا علي بن بحر قال ثنا أبو الوليد بن مسلم قال ثنا عبد الله بن العلاء عن أبي الأزهر عن معاوية أنه أراهم وضوء رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما بلغ مسح رأسه وضع كفيه على مقدم رأسه ثم مر بهما حتى بلغ القفا ثم ردهما حتى بلغ المكان الذي منه بدأ فذهب ذاهبون إلى ان مسح الرأس كله واجب في وضوء الصلاة لا يجزيء ترك شيء منه واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا الذي في آثاركم هذه إنما هو أن النبي صلى الله عليه و سلم مسح رأسه كله في وضوئه للصلاة فهكذا نأمر المتوضىء أن يفعل ذلك في وضوئه للصلاة ولا نوجب ذلك بكماله عليه فرضا وليس في فعل النبي صلى الله عليه و سلم إياه ما قد دل على أن ذلك كان منه لأنه فرض فقد رأيناه صلى الله عليه و سلم توضأ ثلاثا ثلاثا لا أن ذلك فرض لا يجزيء أقل منه ولكن منه فرض ومنه فضل وقد روي عن النبي صلى الله عليه و سلم من الآثار الدالة على ما ذهبوا إليه في الفرض في مسح الرأس أنه على بعضه ما قد

ابوا زھر بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلایا جب وہ مسح سر تک پہنچے تو انہوں نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلی جانب رکھا پھر ان کو گزرارتے ہوئے گردن تک پہنچے پھر ان کو اسی مقام کی طرف پھیرتے ہوئے لوٹا یا جہاں سے شروع کیا تھا ۔ بعض علماء کا مسلک ہے کہ نماز کے وضو میں تمام سرکا مسح فرض ہے ۔اس میں سے کسی حصہ کا ترک جائز نہیں ہے ۔ انہوں نے ان آثار کو دلیل بنایا اور ان سے دیگر علماء نے اختلاف کرتے ہوئے کہا مندرجہ پیش کردہ آثار میں سے صرف اس قدر بات ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو میں تمام سر پر مسح کیا پس ہم بھی وضو کرنے والے کو کہتے ہیں کہ وہ بھی نماز کے وضو میں اسکو اختیار کرے۔ مگر ہم تمام سر کے مسح کو فرض قرار نہیں دیتے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو اس بات کو ثابت کرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام سرک مسح اس لیے کہ کہ وہ فرض ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ وضو فرمایا مگر اس لیے نہیں کہ تین تین مرتبہ وضو فرض ہے اور اس سے کم جائز نہیں بلکہ اس کے لیے کہ اس کاکچھ حصہ ایک بار دھونا فرض ہے ۔ اس سے کم جائز نہیں بلکہ اس لیے کہ اس میں سے کچھ ایک بار دھونا فرض ہے اور تین مرتبہ دھونا باعث فضیلت ہے ۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایات بھی وارد ہیں کہ جن سے اس فریق کا موقف ثابت ہوتا ہے جو اس طرف گئے ہیں کہ مسح سر میں بعض حصہ فرض ہے ۔

مُعَاوِيَةَ، ← أَبِي الأَزْهَرِ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْعَلاَءِ ← أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ مُسْلِمٍ ← عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 123

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 7 باب فرض مسح الرأس في الوضوء ) · حديث 124

127 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا يحيى بن حسان قال ثنا حماد بن زيد عن أيوب عن بن سيرين عن عمرو بن وهب الثقفي عن المغيرة بن شعبة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ وعليه عمامة فمسح على عمامته ومسح بناصيته

عمرو بن وہب ثقفی نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپر عمامہ تھا پس اپنے عمامہ کو چھوا ( پیچھے کی طرف ہٹایا ) اور اپنے سر کے اگلے حصہ پر مسح کیا ۔

الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ الثَّقَفِيِّ ← بن سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 124

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 7 باب فرض مسح الرأس في الوضوء ) · حديث 125

128 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أنا بن عون عن عامر عن بن المغيرة بن شعبة عن أبيه وابن عون عن بن سيرين عن عمرو بن وهب عن المغيرة رفعه إليه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفر فتوضأ للصلاة فمسح على عمامته وقد ذكر الناصية بشيء ففي هذا الأثر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مسح على بعض الرأس وهو الناصية وظهور الناصية دليل أن بقية الرأس حكمه حكم ما ظهر منه لأنه لو كان الحكم قد ثبت بالمسح على العمامة لكان كالمسح على الخفين فلم يكن إلا وقد غيبت الرجلان فيهما ولو كان بعض الرجلين باديا لما أجزأه أن يغسل ما ظهر منهما ويمسح على ما غاب منهما فجعل حكم ما غاب منهما مضمنا بحكم ما بدأ منهما فلما وجب غسل الظاهر وجب غسل الباطن فكذلك الرأس لما وجب مسح ما ظهر منه ثبت أنه لا يجوز مسح ما بطن منه ليكون حكم كله حكما واحدا كما كان حكم الرجلين إذا غيبت بعضها في الخفين حكما واحدا فلما اكتفى النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الأثر بمسح الناصية على مسح ما بقى من الرأس دل ذلك أن الفرض في مسح الرأس هو مقدار الناصية وأن ما فعله فيما جاوز به الناصية فيما سوى ذلك من الآثار كان دليلا على الفضل لا على الوجوب حتى تستوي هذه الآثار ولا تتضاد فهذا حكم هذا الباب من طريق الآثار وأما من طريق النظر فإنا رأينا الوضوء يجب في أعضاء فمنها ما حكمه أن يغسل ومنها ما حكمه أن يمسح فأما ما حكمه أن يغسل فالوجه واليدان والرجلان في قول من يوجب غسلهما فكل قد أجمع أن ما وجب غسله من ذلك فلا بد من غسله كله ولا يجزيء غسل بعضه دون بعض وكلما كان ما وجب مسحه من ذلك وهو الرأس فقال قوم حكمه أن يمسح كله كما تغسل تلك الأعضاء كلها وقال آخرون يمسح بعضه دون بعضه فنظرنا في حكم المسح كيف هو فرأينا حكم المسح على الخفين قد اختلف فيه فقال قوم يمسح ظاهرهما دون باطنهما وقال آخرون يمسح ظاهرهما دون باطنهما فكل قد اتفق أن فرض المسح في ذلك هو على بعضهما دون مسح كلهما فالنظر على ذلك أن يكون كذلك حكم مسح الرأس هو على بعضه دون بعض قياسا ونظرا على ما بينا من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد بن الحسن رحمهم الله وقد روى في ذلك عمن بعد النبي صلى الله عليه و سلم أيضا ما يوافق ذلك

عمرو بن مصعب نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے تو آپ نے نماز کے لیے وضو کیا پس آپ نے اپنے عمامہ پر مسح فرمایا اور انہوں نے کچھ ناصیہ کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک کے بعض حصہ پر مسح فرمایا اور وہ پیشانی والا حصہ ہے اور پیشانی کا ظاہر ہونا اس بات کو ثا بت کرتا ہے کہ سر کے بقیہ حصے کا حکم وہ پیشانی کے ظاہر حصہ جیسا ہے کیونکہ اگر عمامہ پر مسح سے حکم ثابت ہو جاتا تو پھر اس کا حکم موزوں کے مسح جیسا ہوتا اور وہاں تو موزوں میں پاؤ ں چھپے ہوتے ہیں اگر بالفرض دونوں پاؤں کا بعض حصہ ظاہر ہوتو اس کے لیے جائز نہیں کہ ان کے ظاہر حصہ کو ان کے ظاہر حصہ کو وہ دھوئے اور اس میں سے جو غائب ہو اس پر مسح کرے تو اس میں سے جو حصہ غائب ہوتا ہے تو اسکے حکم کو ان دونوں پاؤں سے ظاہر ہو جانے والے حصہ سے ملایا دیا ۔ پس جب کہ اس کے ظاہر کا دھونا لازم ہوا تو باطن کا دھونا بھی لازم ہوا ۔ پس اسی طرح سر کے سلسلہ میں جب ظاہر ہونے والے حصہ کے مسح کو لازم قرار دیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ حصہ جو اس میں سے چھپا ہے اس پر مسح جائز نہیں اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ پوشیدہ حصہ کا مسح جب جائز نہیں توچھپے ہوئے حصہ کا مسح بھی جائز نہیں تاکہ تمام کا حکم یکساں ہو جیسا کہ دونوں پاؤں کا کچھ حصہ موزوں میں چھپا دیا جائے تو ایک حکم رکھتا ہے پس جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں فقط پیشانی کے مسح پر بقیہ سر پر مسح کی بجائے اکتفاء کیا تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ سر کے مسح میں فرض مسح کی مقدار پیشانی کی مقدار ہے اور دیگر آثار میں آپ نے اس سے تجاوز کر کے بقیہ سمیت تمام کا مسح کیا ہے وہ فضیلت کی دلیل ہےنہ کہ وجوب کی تاکہ اس باب میں آنے والے آثار و روایات کا حکم یکساں ہو جائے اور ان میں اضافہ نہ رہے ۔ پھر غور و فکر کے انداز سے ہم نے دیکھا کہ وضو چند اعضا ء میں لازم ہے ان میں بعض اعضاء وہ ہیں جن کا حکم یہ ہے کہ ان کو دھیا جائے اور بعض وہ ہیں جن کا حکم مسح کا ہے ۔جن اعضاء کو دھونے کا حکم دیا وہ چہرہ بدن اور دنوں پاؤں ہیں اور یہ ان حضرات کے قول کے مطابق ہے جو ان کے دھونے کو فرض مانتے ہیں مگر اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ جن کو دھنا ضروری ہے تو ان میں عضو کا دھونا ضوری ہے اور یہ قطعاَ جائز نہیں کہ کچھ کو دھو لیا اور کچھ کو چھوڑ دیا اور ان میں سے جن کا مسح واجب ہے وہ سر ہے ۔ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ اس کا حکم یہ ہے کہ تمام سر پر مسح کیا جائے جیسا کہ اعضاء مغسولہ میں تمام کو دھویا جاتا ہے اور دوسری جماعت کا کہنا ہے کہ بعض کو چھوڑ دیا جائے گا۔ اب ہم نے ان چیزوں پر غور کیا جن میں مسح کا حکم ہے کہ ان کی کیفیت کیا ہے ۔ چنانچہ ہم نے مسح موزوں پر مسح کو دیکھا اس میں یہ اختلاف ہے کہ ایک جماعت کہتی ہے کہ ان کے ظاہر پر تو مسح کیا جائے مگر ان کے نچلے حصہ کو چھوڑ دیا جائے گا پھر ان میں سے ہر ایک کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مقدار مسح جو کہ فرض ہے وہ اس کا بعض حصہ ہے دونوں موزوں کے تمام پر مسح لازم نہیں ۔ پس نظر و فکر اس بات کا تقاضا ہے کرتے ہیں کہ سر کے مسح کا بھی یہی حکم ہوا اور وہ بعض حصہ ہے تمام نہیں ۔ یہی قیاس و نظر چاہتا ہے جیسا کہ ہم نے وضاحت ک ردی اور یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہم کا مذہب ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد والوں ( صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمۃ اللہ عیہم ) سے بھی ایسی روایات وارد ہیں جو اس کے موافق ہیں ۔

المغيرة رفعه إليه ← عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ← بن سِيرِينَ ← أبيه وابن عون ← بن الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ← عَامِرٍ، ← بن عون ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 125

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 7 باب فرض مسح الرأس في الوضوء ) · حديث 126

129 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا يحيى بن حمزة عن الزبيدي عن الزهري عن سالم عن أبيه أنه كان يمسح بمقدم رأسه إذا توضأ

حضرت سالم اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کرتے ہیں کہ وہ جب وضو کرتے سر کے اگلے حصہ یعنی ناصیہ پر مسح کرتے ۔

أبيه أنه كان يمسح بمقدم رأسه إذا توضأ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 126

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter