Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2833

2676 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود الطيالسي قال ثنا شعبة قال ثنا الأسود بن شيبان قال ثنا خالد بن سمير قال حدثني بشير بن نهيك عن بشير بن الخصاصية أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يمشي بين القبور في نعلين فقال ويحك يا صاحب السبتيتين ألق سبتيتيك

بشیر بن نہیک نے بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ جوتوں سمیت قبور کے درمیان چل رہا تھا تو آپ نے فرمایا تیرا ناس ہوا سے سبتی نعل والے اپنے جوتے کو اتار دے ۔

بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2833

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2834

2677 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا الحماني قال ثنا وكيع عن الأسود فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا الحديث فكرهوا المشي بالنعال بين القبور وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم أمر ذلك الرجل بخلع النعلين لا لأنه كره المشي بين القبور بالنعال لكن لمعنى آخر من قذر رآه فيها يقذر القبور وقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى وعليه نعلاه ثم أمر بخلعهما فخلعهما وهو يصلى فلم يكن ذلك على كراهة الصلاة في النعلين ولكنه للقذر الذي كان فيهما وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما يدل على إباحة المشي بين القبور بالنعال

وکیع نے اسود سے روایت کی پھر اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے اس روایت کو اختیار کرتے ہوئے جوتوں سمیت قبروں کے درمیان چلنے کی ممانعت فرمائی ہے ۔ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو کسی اور وجہ سے جوتا اتار کرقبور کے درمیان چلنے کا حکم دیا ہو مثلاً کوئی گندگی وغیرہ اس کے جوتے کے ساتھ لگی ہو ۔ اس بناء پر نہیں کہ قبرستان میں جوتا اتار کر چلنا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے کے ساتھ نماز پڑھا رہے تھے پھر آ پ کو اس کے اتارنے کا حکم دیا تو آپ نے جوتے نماز کے دوران ہی اتار دیے ۔ یہ اس بناء پر نہیں کہ جوتوں کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ ہے بلکہ چلتے ہوئے کہیں ان کے ساتھ گندگی لگ گئی ( جس سے اتارنے کا حکم ہوا ) دوسری طرف جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی روایات منقول ہیں جو جوتوں سمیت قبور کے درمیان چلنے کو درست ثابت کرتی ہیں ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2834

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2835

2678 - حدثنا نصر بن مرزوق قال ثنا آدم بن أبى إياس قال ثنا حماد بن سلمة قال ثنا محمد بن عمرو عن أبى سلمة عن أبى هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكر حديثا طويلا في المؤمن إذا دفن في قبره والذي نفسي بيده انه ليسمع خفق نعالكم حين تولوا عنه مدبرين

ابو سلمہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا انہوں نے مومن کو دفن کرنے کے متعلق طویل روایت نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے بے شک وہ تمہارے جوتوں کی کھٹ کھٹاہٹ کو سنتا ہے جبکہ تم واپس لوٹتے ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2835

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2836

2679 - حدثنا على بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء قال أنا محمد بن عمرو فذكر بإسناده مثله

عبدالوہاب بن عطاء کہتے ہیں کہ ہمیں محمد بن عمرو نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔

محمد بن عمرو فذكر بإسناده مثله ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2836

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2837

2680 - حدثنا فهد قال ثنا أحمد بن حميد قال ثنا وكيع عن سفيان عن السدى عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه رفعه مثله فهذا يعارض الحديث الأول إذا كان معناه على ما حمله عليه أهل المقالة الأولى ولكنا لا نحمله على المعارضة ونجعل الحديثين صحيحين فنجعل النهى الذي كان في حديث بشير للنجاسة التي كانت في النعلين لئلا ينجس القبور كما قد نهى أن يتغوط عليها أو يبال وحديث أبى هريرة رضي الله عنه يدل على إباحة المشي بالنعال التي لا قذر فيها بين القبور فهذا وجه هذا الباب من طريق تصحيح معاني الآثار وقد جاءت الآثار متواترة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بما قد ذكرنا عنه من صلاته في نعليه ومن خلعه اياهما في وقت ما خلعهما للنجاسة التي كانت فيهما ومن إباحة الناس الصلاة في النعال فمن ذلك ما قد

سدی نے اپنے والد سے انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت پہلی روایت کے معارض ہے جبکہ اس کا معنی وہی لیا جائے جو قول اول کے قائلین نے اختیار کیا ہے ۔ مگر ہم اس کو معارضہ پر محمول نہیں کرتے بلکہ دونوں روایات کو درست قرار دیتے ہیں پس بشیر رضی اللہ عنہ والی روایت کو نعلین کو گندگی سے ملوث ہونے کی حالت پر محمول کرتے ہیں تاکہ قبرستان میں نجاست نہ پھیلے جیسا کہ قبرستان میں بول و براز سے منع کیا گیا ہے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ والی روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صاف جوتو کے ساتھ قبرستان جایا جا سکتا ہے ۔ آثار کی معانی کی تصحیح کی یہ صورت ہے اور نعلین میں نماز پڑھنے سے متعلق جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر روایات وارد ہوئی ہیں اور آپ کا ان کو اتارنا اس نعلین کے ساتھ لگنے والی نجاست کی وجہ سے تھا ورنہ نعلین پاک میں نماز مباح ہے مندرجہ روایات کو ملاحظہ کریں ۔

أَبِيهِ ← السُّدِّيِّ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَحْمَدُ بْنُ حُمَيْدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2838

2681 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو حمزة عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال خلع النبي صلى الله عليه و سلم نعليه وهو يصلى فخلع من خلفه فقال ما حملكم عليه على خلع نعالكم قالوا رأيناك خلعت فخلعنا فقال إن جبرائيل عليه السلام أخبرني أن في أحدهما قذرا فخلعتهما لذلك فلا تخلعوا نعالكم

علقمہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں جوتے نماز کے دوران اتار دیے تو صحابہ کرام نے بھی اپنے جوتے اتار دیتے ( نماز کے بعد) آپ نے فرمایا تم نے اپنے جوتے کیوں اتارے ؟ انہوں نے عرض کیا ہم نے آپ کو جوتے اتارتے دیکھا تو ہم نے بھی اتار دیے آپ نے فرمایا مجھے جبرائیل علیہ السلام نے بتلایا کہ میرے ایک جوتے کے ساتھ نجاست لگی ہے میں نے دونوں اس وجہ سے اتار دیے ( کہ معلوم نہیں کہ کون سے جوتے کے ساتھ نجاست ہے ) تم اپنے جوتے مت اتارو یعنی تمہیں اپنے جوتے نہ اتارنے چاہیے تھے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو حَمْزَةَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2838

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2839

2682 - حدثنا بن أبى عقيل قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن أبى مسلمة سعيد بن يزيد الأزدي قال سألت أنس بن مالك رضي الله عنه أكان النبي صلى الله عليه و سلم يصلى في النعلين فقال نعم

ابو سلمہ سعید بن زیدازدی کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ،کیا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نعلین میں نماز ادا فرماتے تھے ؟ انہوں نےکہا جی ہاں ۔

أبى مسلمة سعيد بن يزيد الأزدي ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← بن أبي عقيل

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2839

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2840

2683 - حدثنا فهد قال ثنا أبو غسان قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو إسحاق عن علقمة بن قيس ولم يسمعه منه أن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أتى أبا موسى الأشعري فحضرت الصلاة فقال أبو موسى تقدم يا أبا عبد الرحمن فإنك أقدم سنا وأعلم فقال تقدم أنت فإنما أتيناك في منزلك ومسجدك فأنت أحق فتقدم أبو موسى فخلع نعليه فلما سلم قال ما أردت الى خلعهما أبا الواد المقدس طوى أنت لقد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلى في الخفين والنعلين

ابو اسحاق نے علقمہ سے نقل کیا ( اسحاق کا سماع علقمہ سے ثابت نہیں ) کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ ابو موسیٰ اشعری کے پاس آئے اور نماز کا وقت آگیا تو ابو موسیٰ نے کہا اے ابو عبدالرحمن امامت کراؤ کیونکہ تم زیادہ علم اور زیادہ عمر والے ہو انہوں نے کہا تم آگے بڑھو اس لیے کہ آپ کے ٹھکانے اور نماز کی جگہ میں آئے ہیں اور آپ زیادہ حقدار ہیں تو ابو موسیٰ اشعری آگے بڑے اور انہوں نے اپنے نعل اتار ے جب سلام پھیرا تو عبداللہ کہنے لگے تمہارا ان جوتوں کے اتارنے کا کیا مقصد تھا کیا تم طویٰ کی مقدس وادی میں تھے ؟ ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے حفین اور نعلین سمیت نماز ادا کرتے دیکھا ۔

علقمة بن قيس ولم يسمعه منه ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← أبو غسان، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2840

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2841

2684 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا أبو الوليد قال ثنا حماد بن سلمة عن أبى نعامة عن أبى نضرة عن أبى سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتى أحدكم المسجد فلينظر في نعليه فان كان فيهما أذى أو قذر فليمسحهما ثم ليصل فيهما

ابو نضر ہ نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم مسجد میں آؤ تو اپنے جوتوں کو دکھ لیا کرو اگر ان میں گندگی چمٹی ہو تو صاف کر لو پھر ان میں نماز پڑھ لو ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← أَبِي نَعَامَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2841

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2842

2685 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو الوليد قال ثنا أبو عوانة عن عبد الملك بن عمير عن رجل من بنى الحارث بن كعب قال كنت جالسا مع أبى هريرة رضي الله عنه فقال رجل يا أبا هريرة أنت نهيت الناس أن يصلوا في نعالهم فقال ما فعلت غير أنى ورب هذه الحرمة رأيت النبي صلى الله عليه و سلم صلى في هذا المقام وأن نعليه عليه

بنی حارث بن کعب کے ایک آدمی نے بیان کیا کہ میں جناب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا تھا تو ایک آدمی کہنے لگا اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کیا تم نے لوگوں کو جوتوں میں نماز پڑھنے سے روکا ہے تو انہوں نے جواب دیا میں نے ایسا نہیں کیا مجھے اس حرمت کے رب کی قسم ہے میں نے خود جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مقام پر اپنے جوتوں سمیت نماز پڑھتے دیکھا ہے ۔

رجل يا أبا هريرة أنت نهيت الناس أن يصلوا في نعالهم ← كنت جالسا مع أبى هريرة ← رَجُلٍ مِنْ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2842

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2843

2686 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن عبد الملك قال أخبرني من سمع أبا هريرة رضي الله عنه يقول ان رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى في نعليه

عبدالملک کہتے ہیں کہ مجھے اس نے بتلایا جس نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نعلین میں نماز ادا فرمائی ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← مَنْ ← عَبْد الْمَلِكِ؛ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2843

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 3 كتاب الجنائز ) ‹ ( 9 باب المشي بين القبور بالنعال ) · حديث 2844

2687 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن زياد الحادي قال سمعت أبا هريرة رضي الله عنه فذكر مثله

زیاد الحاوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

أبا هريرة فذكر مثله ← زياد الحادي ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2844

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter