Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5799

5484 - فإذا يونس قد حدثنا قال ثنا عبد الله بن نافع المدني عن هشام بن سعد عن أبي الزبير المكي عن جابر بن عبد الله أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بلغه أن رجالا يكرون مزارعهم بنصف ما يخرج منها وبثلثه وبالماذيانات فقال في ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم من كانت له أرض فليزرعها فإن لم يزرعها فليمنحها أخاه فإن لم يفعل فليمسكها

ہشام بن سعد نے ابو الزبیر مکی سےانہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے رویت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ کچھ لوگ اپنی زمین کو نصف پیداوار یا ثلث یا نالوں کے قریب پیدوار کے بدلے کرائے پر دیتے ہیں تو اس پر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی زمین ہے وہ خود کاشت کرے اور اگر وہ کاشت نہیں کرتا تو وہ اپنے بھائی کو بطور عطیہ دے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسے روک رکھے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزبير المكي ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عبد الله بن نافع المدني ← فإذا يونس قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5799

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5800

5485 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال أخبرني هشام بن سعدان أبي الزبير المكي حدثه قال سمعت جابر بن عبد الله يقول كنا في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم نأخذ الأرض بالثلث أو الربع بالماذيانات فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك

ابو الزبیر مکی کہتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں زمین کو ثلث یا ربع یا نالوں کے قریب پیدوار کے بدلے لیتے تھے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمادیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← هشام بن سعدان أبي الزبير المكي ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5800

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5801

5486 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا زهير بن معاوية عن أبي الزبير عن جابر قال كنا نخابر على عهد النبي صلى الله عليه و سلم فنصيب كذا وكذا فقال من كانت له أرض فليزرعها أو ليمنحها أخاه وإلا فليزرعها فأخبر أبو الزبير في هذا عن جابر رضي الله عنه بالمعنى الذي وقع النهي من أجله وأنه إنما هو لشيء كانوا يصيبونه في الإجارة فكان النهي من قبل ذلك جاء وقد يحتمل أن يكون معنى حديث ثابت بن الضحاك رضي الله عنه الذي ذكرنا كذلك وأما حديث رافع بن خديج رضي الله عنه فقد جاء بألفاظ مختلفة اضطرب من أجلها فأما حديث بن عمر عنه فهو مثل حديث ثابت بن الضحاك لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن المزارعة فهو يحتمل ما وصفنا من معاني حديث ثابت على ما ذكرنا وبينا وأما من رواه على مثل ما روى جابر رضي الله عنه فيحتمل أيضا ما وصفنا مما يحتمل حديث جابر رضي الله عنه ثم نظرنا بعد ذلك هل نجد عن رافع معنى يدلنا على وجه النهي عن ذلك لم كان

ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بیع مخابرہ کرتے تھے جس سے ہمیں اتنا اتنا حصہ ملتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا پھر اپنے مسلمان بھائی کو دے ۔ یا اس میں کاشت کروائے اس روایت میں ابو الزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے وہ وجہ نقل کی جو ممانعت کا باعث تھی بلاشبہ وہ اجارہ میں پائی جانے والی چیز کے سبب تھی ممانعت اسی طرح سے آئی ۔ عین ممکن ہے کہ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کی روایت کا بھی یہی معنی ہو ۔ باقی حدیث رافع رضی اللہ عنہ تو اس کے الفاظ مختلف وارد ہوئے جس کی وجہ سے وہ روایت مضطرب ہے ۔ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہ وہ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ کی روایت جیسی ہے ۔ کیونکہ اس میں مزارعت کی ممانعت ہے ۔ اس میں بھی ثابت والی روایت کے معانی کا احتمال ہے جیسا کہ ہم نے بیان کر دیا ۔ بقیہ جنہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ جیسی روایات ذکر کی ہیں تو ان میں حدیث جابر رضی اللہ عنہ والے احتمالات ہیں اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسی روایت وارد ہے جو نہی کی جانب پر دلالت کرے کہ یہ کیوں ہوئی ؟

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5801

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5802

5487 - فإذا أبو بكرة قد حدثنا قال ثنا أبو عمر قال أخبرنا حماد بن سلمة أن يحيى بن سعيد الأنصاري أخبرهم عن حنظلة بن قيس الزرقي عن رافع بن خديج قال كنا بني حارثة أكثر أهل المدينة حقلا وكنا نكرى الأرض على أن ما سقى الماذيانات والربيع فلنا وما سقت الجداول فلهم فربما سلم هذا وهلك هذا وربما هلك هذا وسلم هذا ولم يكن عندنا يومئذ ذهب ولا فضة فنعلم ذلك فسألنا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك فنهانا

حنظلہ بن قیس زرقی نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ ہم بنو حارثہ کے قبیلہ کی زمینیں مدینہ میں سب سے زیادہ تھیں اور ہم زمین کو اس طرح کرایہ پر دیتے تھے کہ جو کچھ بڑے نالوں یا بارش سےسیراب ہو گا وہ حصہ پیدوار ہمارا ہو گا اور جو پیدوار کا حصہ چھوٹے نالوں سے سیراب ہو گا وہ ان کرایہ پر لینے والوں کے لیے ہو گا بعض اوقات یہ حصہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا اور بعض اوقات وہ تباہ ہو جاتا اور یہ بچ جاتا ان دنوں ہمار ےپاس سونا ، چاندی نہیں تھی۔ پھر ہمیں معلوم ہوا اور ہم نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں دریافت کیا تو آپ نے منع فرمایا ۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو عُمَرَ ← فإذا أبو بكرة قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5802

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5803

5488 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا حماد بن يحيى قال ثنا سفيان قال ثنا يحيى بن سعيد الأنصاري قال ثنا حنظلة بن قيس الزرقي أنه سمع رافع بن خديج يقول كنا أكثر أهل المدينة حقلا وكنا نقول للذي نخابره لك هذه القطعة ولنا هذه القطعة تزرعها لنا فربما أخرجت هذه القطعة ولم تخرج هذه شيئا وربما أخرجت هذه ولم تخرج هذه شيئا فنهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك فأما بالورق فلم ينهنا عنه

حنظلہ بن قیس زرقی کہتے ہیں کہ میں نے رافع رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ مدینہ منورہ میں ہماری زمینیں سب سے زیادہ تھیں اور ہم جن سے مخابرہ کرتے تو ان کو کہتے اس قطعہ زمین کی پیدوار تمہاری اور اس قطعہ زمین کی پیدوار ہماری تم اس میں ہمارے کاشت کرو بعض اوقات اس قطعہ زمین کی پیدوار ہوتی اور دوسرے سے کچھ بھی حاصل نہ ہوتا اور بعض اوقات اس سے پیدوار نکلتی اور اس قطعہ میں سے کچھ پیدوار نہ ہوتی س اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔ البتہ چاندی کے بدلے اس سے منع نہیں فرمایا ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← حنظلة بن قيس الزرقي أنه ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← سُفْيَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5803

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5804

5489 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا محمد بن المنهال قال ثنا يزيد بن ذريع قال ثنا بن أبي عروبة عن يعلى بن حكيم عن سليمان بن يسار عن رافع بن خديج قال كنا نحاقل على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم والمحاقلة أن يكري الرجل أرضه بالثلث أو الربع أو طعام مسمى فبينا أنا ذات يوم إذ أتاني بعض عمومتي فقال نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أمر كان لنا نافعا فطاعة رسول الله صلى الله عليه و سلم أنفع قال من كانت له أرض فليمنحها أخاه ولا يكريها بثلث ولا بربع ولا بطعام مسمى فبين رافع في هذا الحديث كيف كانوا يزارعون فرجع معنى حديثه إلى معنى حديث جابر رضي الله عنه وثبت أن النهي في الحديثين جميعا إنما كان لأن كل فريق من أرباب الأرضين والمزارعين كان يختص بطائفة من الأرض فيكون له ما يخرج منها من زرع إن سلم فله وإن عطب فعليه وهذا مما أجمع على فساده فهذا قد خرج معنى حديث رافع على أن النهي المذكور فيه كان للمعنى الذي وصفنا لا لإجارة الأرض بجزء مما يخرج منها وقد أنكر آخرون على رافع ما روى من ذلك وأخبروا أنه لم يحفظ أو الحديث

سلیمان بن یسار نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بیع محاقلہ کرتے یعنی کوئی آدمی اپنی زمین ثلث ، ربع یا مقرر غلہ کے بدلے کرایہ پر دیتا ۔ تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں واضح فرما دیا کہ وہ کس طرح کی مزارعت کرتے تھے پس اس روایت کا مفہوم حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کے مفہوم کی طرف لوٹ گیا اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ دونوں روایات میں جو ممانعت وارد ہے و ہ اس لحاظ سے ہے کہ زمین کے مالک اور کھیتی باڑی کرنے والے کے لیے زمین کا ایک حصہ مختص ہوجاتا ہے اور اس کو وہی غلہ ملتا ہے جو اس زمین سے پیدا ہو ۔ اگر وہ محفوظ رہ گیا تو اس کا حصہ مل گیا اور اگر ضائع ہو جائے تو اسی کا نقصان ہو گا اور اس طرز عمل کے غلط ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے اس سے حضرت رافع رضی اللہ عنہ کی روایت کا معنی بھی واضح ہو گیا کہ اس میں جس ممانعت کا تذکرہ ہے اس کا سبب وہی مفہوم ہے جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے یہ مفہوم نہیں کہ زمین کو اس کی پیدوار کے کسی حصہ کے بدلے کرایہ پر دینا جائز نہیں بعض لوگوں نے حضرت رافع کی روایت کا انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو حدیث کا پہلا حصہ یاد نہیں رہا ۔ ایک دن میں اسی حال میں تھا کہ میرے ایک چچا میرے پاس آئے اور کہنے لگے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کام سے منع کر دیا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا مگر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سب سے زیادہ نفع بخش ہے ۔ آپ نے فرمایا ہے کہ جس کی زمین ہو وہ اپنے بھائی کو عطیہ دے اور ثلث ، ربع یا مقررہ غلہ کے بدلے کرایہ پر نہ دے ۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ← بن أَبِي عَرُوبَةَ ← يزيد بن ذريع ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5804

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5805

5490 - فحدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى بن يحيى قال ثنا بشر بن المفضل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن أبي عبيدة بن محمد بن عمار عن الوليد بن أبي الوليد عن عروة بن الزبير عن زيد بن ثابت أنه قال يغفر الله لرافع بن خديج أنا والله كنت أعلم بالحديث منه إنما جاء رجلان من الأنصار إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم قد اقتتلا قال إن كان هذا شأنكم فلا تكروا المزارع فسمع قوله لا تكروا المزارع فهذا زيد بن ثابت رضي الله عنه يخبر أن قول النبي صلى الله عليه و سلم لا تكروا المزارع النهي الذي قد سمعه رافع لم يكن من النبي صلى الله عليه و سلم على وجه التحريم إنما كان لكراهية وقوع السوء بينهم وقد روى عن بن عباس رضي الله عنهما أيضا من ذلك شيء

عروہ بن زبیر نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ رافع کی مغفرت فرمائے اللہ کی قسم مین ان سے زیادہ اس حدیث کو جاننے والا ہوں انصار کے دو آدمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے جنہوں نے باہمی لڑائی کی تھی ۔ تو آپ نے فرمایا اگر تمہارایہی حال ہے تو کھیتوں کو مت کرائے پر دو ۔ تو رافع رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد فقط " لاتکرو االمزارع " سنا ( گویا ان کو اس کے ماسبق و مابعد کی بات معلوم نہیں تھی ) یہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے " لا تکرو االمزارع " رافع نے جس نہی کو سنا ہے وہ حرمت کے لیے نہیں بلکہ باہمی لوگوں میں نزاع اور خرابی ہونے کی وجہ سے اس کو ناپسند قرار دیا روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ بھی اس سلسلہ میں گویا ہے ۔

زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5805

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5806

5491 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا سفيان وحماد بن أبي سلمة وحماد بن زيد عن عمرو بن دينار عن طاوس قال قلت له يا أبا عبد الرحمن لو تركت المخابرة فإنهم يزعمون أن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عنها فقال أخبرني أعلمهم يعني بن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم ينه عنها ولكنه قال لأن يمنح أحدكم أخاه أرضه خير له من أن يأخذ عليها خراجا معلوما

عمرو بن دینار نے طاوس سے روایت کی ہے کہ میں ان کو کہا اے ابو عبدالرحمن اگر تم مخابرہ کو ترک کر دیتے تو مناسب تھا کیونکہ ان حضرات کا خیال ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ممانعت فرمائی ہے انہوں نے کہا مجھے ان میں سے سب سے زیادہ علم والے یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو زمین کا عطیہ دے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اس پر کوئی مقرراجرت لے ۔

قلت له يا أبا عبد الرحمن لو تركت المخابرة فإنهم يزعمون ← طَاوْسٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سفيان وحماد بن أبي سلمة وحماد بن زيد ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5806

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5807

5492 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان عن عمرو فذكر بإسناده مثله فبين بن عباس رضي الله عنهما أن ما كان من النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك لم يكن للنهي وإنما أراد الرفق بهم وقد يحتمل أيضا أن يكون كره لهم أخذ الخراج لما وقع بين الرجلين في حديث زيد فقال لأن يمنح أحدكم أخاه أرضه خير له من أن يأخذ عليها خراجا معلوما لأن ما كان وقع بين ذينك الرجلين من الشر إنما كان في الخراج الواجب لأحدهما على صاحبه فرأى أن المنيحة التي لا توجب بينهم شيئا من ذلك خير لهم من المزارعة التي توقع بينهم مثل ذلك وقد جاء بعضهم بحديث رافع على لفظ حديث بن عباس هذا

سفیان نے عمرو سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے روایت اسی طرح ذکر کی ہے اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتلایا آپ نے جو ممانعت فرمائی وہ شفقت کے طور پر ہے وہ ممانعت حرمت کے لیے نہیں کہ آپ نے اجرت کا لینا نا پسند کیا ہو جس کی وجہ سے ان دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا پیدا ہوا جن کا ذکر حضرت زید رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے اس لیے آپ نے فرمایا اگر تم میں سے ایک دوسرے بھائی کو زمین بطور عطیہ دے یہ اس سے بہتر ہے کہ اس زمین پر مقررہ خراج حاصل کرے کیونکہ ان دو آدمیوں میں اختلاف کا سبب یہی مقررہ اجرت تھی جو ایک کے ذمہ دوسرے کا حق تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ عطیہ جو ان کے درمیان کوئی چیز واجب نہ کرے وہ اس مزارعت سے بہت بہتر ہے جو ان کے مابین نزاع کا باعث ہو اور حضرت رافع رضی اللہ عنہ کی روایت بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت کے موافق ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت جو روایت رافع کے موافق ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5807

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5808

5493 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا وهب قال ثنا شعبة عن عبد الملك بن ميسرة قال سمعت مجاهدا عن رافع بن خديج قال نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم عن أمر كان لنا نافعا وأمرنا بخير منه فقال من كانت له أرض فليزرعها أو يمنحها قال فذكرت ذلك لطاوس فقال قال بن عباس إنما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم يمنحها أخاه خير له أو يمنحها خير فيحتمل أن يكون وجه هذا الحديث على ذلك أيضا فيكون قوله نهانا عن أمر كان لنا نافعا يريد ما ذكر زيد بن ثابت رضي الله عنه أن رافعا سمعه وأمرنا بكذا ما حكاه بن عباس رضي الله عنهما فلم يكن في جميع ما سمع في الحقيقة نهى لكراء الأرض بالثلث والربع وقد روى عن سعد بن أبي وقاص وابن عمر رضي الله عنهم أيضا في النهي عن ذلك أنه إنما كان لبعض المعاني التي تقدم ذكرنا لها

مجاہد نے رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی اور ہمیں اس سے بہت ہی بہتر حکم فرمایا آپ نے فرمایا جس کی زمین ہو وہ اس کو خؤد کوشت کرے یا کسی کو عطیہ کے طور پر دے دے اس روایت میں بھی وہی مفہوم محتمل ہے کہ حضرت رافع کے قول کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے کام سے روک دیا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا سے مراد وہی بات ہے جو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ذکر کی حضرت رافع نے اتنی بات سنی اور حکم دے دیا جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا گیا تو جو سنا اس میں حقیقتہ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدوار پر کرایہ پر دینے کی ممانعت نہیں تھی اس مفہوم کی سعد بن ابی وقاص اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی روایات آئی ہیں اور ان میں بھی وہی وجود مراد ہیں جن کا تذکرہ ہو چکا ۔ میں نے یہ بات طاوس کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے کہا حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ اسے اپنےبھائی کو عطیہ دینا بہت بہتر ہے یا عطیہ دے دینا بہت بہتر ہے ( کوئی ایک لفظ فرمایا )

بن عباس إنما ← فذكرت ذلك لطاوس ← من كانت له أرض فليزرعها أو يمنحها ← أمر كان لنا نافعا وأمرنا بخير منه ← نهانا رسول الله صلى الله عليه و سلم ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مُجَاهِدًا، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5808

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5809

5494 - حدثنا أحمد بن داود قال أخبرنا يعقوب بن حميد بن كاسب قال أخبرنا إبراهيم بن سعد قال حدثني محمد بن عكرمة بن عبد الرحمن بن الحارث بن لبيبة عن سعيد بن المسيب عن سعد بن أبي وقاص قال كان الناس يكرون المزارع بما يكون على الساقي وبما يسقى بالماء مما حول البير فنهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك وقال أكروها بالذهب والورق

سعید بن مسیب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نالیوں کے کنارے اور کنوئیں کے گرد نالی سے سیراب ہونے والے حصے کی پیدوار پر مزارعت کرتے تھے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ سونے او چاندی کے ساتھ کرایہ پر دیا کرو۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← محمد بن عكرمة بن عبد الرحمن بن الحارث بن لبيبة ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5809

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 17 كتاب المزارعة والمساقاة ) ‹ ( 2 باب الرهن يهلك في يد المرتهن كيف حكمه ) · حديث 5810

5495 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا حسان بن غالب قال ثنا يعقوب بن عبد الرحمن عن موسى بن عقبة عن نافع أن رافع بن خديج أخبر عبد الله بن عمر وهو متكئ على بدني أن عمومته جاءوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم رجعوا فقالوا إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن كراء المزارع فقال بن عمر قد علمنا أنه كان صاحب مزرعة يكريها على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم على أن له ما في ربيع الساقي الذي تفجر منه الماء وطائفة من التبن لا أدري ما التبن ما هو فبين سعد رضي الله عنه في هذا الحديث ما نهى النبي صلى الله عليه و سلم لم كان وأنه إنما كان لأنهم كانوا يشترطون ما على ربيع الساقي وذلك فاسد في قول الناس جميعا وحمل بن عمر رضي الله عنهما النهي على انه قد يجوز أن يكون على ذلك المعنى أيضا وزاد حديث سعد على غيره من هذه الأحاديث إباحة النبي صلى الله عليه و سلم إجارة الأرض بالذهب والورق فقد بان نهي النبي صلى الله عليه و سلم عن المزارعة في الآثار المتقدمة لم كان وما الذي نهى عنه من ذلك ولم يثبت في شيء منها النهي عن إجارة الأرض ببعض ما يخرج إذا كان ثلثا أو ربعا أو ما أشبه ذلك وقد احتج قوم في ذلك لأهل المقالة الأولى بما

نافع نے بیان کیا کہ حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ و اطلاع دی وہ اس وقت میرے وجود سے پر تکیہ لگائے ہوئے تھے کہ میرے چچا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے پھر واپسی پر کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کر دی ہے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم جانتے ہیں کہ وہ زمین کے مالک تھے اور زمانہ نبوت میں زمین کو اس طرح کرایہ پر دیتے کہ جو کچھ نالیوں کے کناروں پر ہو گا جس سے پانی پھوٹتا ہے اور گھاس بھی ان کا ہو گا وہ فرماتے تھے مجھے معلوم نہیں کہ تبن سے کیا مراد ہے (یعنی چارا یا عام گھاس ) اس روایت میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ممانعت کی وجہ بیان فرمائی اور وہ اس لیے تھی کہ لوگ نالیوں کے کناروں والے حصہ کی پیدوار کی شرط رکھا کرتے تھے اور اس قسم کی مزارعت تو سب کے ہاں ناجائز ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی بات پر محمول کیا کہ ہو سکتا ہے کہ ممانعت کی ویہ وجہ اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں دوسری روایات کے مقابلہ میں اضافہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے اور چاندی کے بدلے زمین کو اجرت پر دینے کی اجازت مرحمت فرمائی ہے ۔ گزشتہ روایات سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیوں منع فرمایا اور کس چیز سے منع فرمایا اور یہ بات پایہ ثبوت کو نہ پہنچ سکی کہ زمین کی کچھ پیدوار مثلا تیسرا حصہ یا چوتھا حصہ وغیرہ کے بدلے زمین کو اجرت پر دینا جائز نہیں ۔

مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← حَسَّانُ بْنُ غَالِبٍ، ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5810

chevron_left Previous
1234…611
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter