Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 1

1 - حدثنا محمد بن خزيمة بن راشد البصري قال ثنا الحجاج بن المنهال قال ثنا حماد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن عبيد الله بن عبد الرحمن عن أبي سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يتوضأ من بير بضاعة فقيل يا رسول الله إنه يلقى فيه الجيف والمحائض فقال إن الماء لا ينجس

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیر بضاعہ سے وضو فرماتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں متعفن مردار حیض والے کپڑوں کے ٹکڑے ڈالے جاتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی ناپاک نہیں ہوتا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عبيد الله بن عبد الرحمن ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← محمد بن خزيمة بن راشد البصري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 2

2 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود وسليمان أبو داود الأسدي قالا ثنا أحمد بن خالد الوهبي قال ثنا محمد بن إسحاق عن سليط بن أيوب عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن رافع عن أبي سعيد الخدري قال قيل يا رسول الله إنه يستقى لك من بير بضاعة وهي بير يطرح فيها عذرة الناس ومحائض النساء ولحم الكلاب فقال إن الماء طهور لا ينجسه شيء

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ آپ کے لیے پینے کا پانی بیر بضاعہ سے لایا جاتا ہے اور وہ ایسا کنواں ہے جس میں انسانی غلاظت ، حیض کے چیتھڑے ، کتوں کا گوشت وغیرہ پھینکا جاتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک پانی پاک ہے اس کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ۔

قِيلَ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ← سَلِيطِ بْنِ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← إبراهيم بن أبي داود وسليمان أبو داود الأسدي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 3

3 - حدثنا إبراهيم قال ثنا عيسى بن إبراهيم البركي قال ثنا عبد العزيز بن مسلم القسملي قال ثنا مطرف عن خالد بن أبي نوف عن بن أبي سعيد الخدري عن أبيه قال انتهيت إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يتوضأ من بير بضاعة فقلت يا رسول الله أنتوضأ منها وهي يلقى فيها ما يلقى من النتن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم الماء لا ينجسه شيء

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے آپ کی خدمت میں اس وقت پہنچا جب کہ آپ بیر بضاعہ سے وضو فرما رہے تھے میں نے گزارش کی کیا آپ بیر بضاعہ سے وضو فرما رہے ہیں ؟ جبکہ یہ وہ کنوآں ہے جس میں متعفن چیزیں ڈالی جاتی ہیں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کر سکتی ۔

أَبِيهِ ← بن أبي سعيد الخدري ← خالد بن أبي نوف ← مُطَرِّفٍ ← عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِیُّ ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبِرَكِيُّ ← إِبْرَاهِيمَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 4

4 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا أصبغ بن الفرج قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن محمد بن أبي يحيى الأسلمي عن أمه قالت دخلنا على سهل بن سعد في أربع نسوة فقال لو سقيتكم من بير بضاعة لكرهتم ذلك وقد سقيت رسول الله صلى الله عليه و سلم منها بيدي

ابو یحییٰ اسلمی اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں چار عورتوں کے ساتھ حضرت سہل بن سعد ر ضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو وہ فرمانے لگے اگر میں تمہیں بیر بضاعہ کا پانی پلاؤں تو تم ناپسند کرو گی حالانکہ میں نے خود اس کنوئیں کا پانی اپنے ہاتھ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلایا۔

دخلنا على سهل بن سعد في أربع نسوة ← أُمِّهِ2، ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ یَحْیَی الْاَسْلَمِیُّ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 5

5 - حدثنا فهد بن سليمان بن يحيى قال محمد بن سعيد الأصبهاني قال أنا شريك بن عبد الله النخعي عن طريف البصري عن أبي نضرة عن جابر أو أبي سعيد قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في سفرنا فانتهينا إلى غدير وجيفة فكففنا وكف الناس حتى أتانا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال مالكم لا تستقون فقلنا يا رسول الله هذه الجيفة فقال استقوا فإن الماء لا ينجسه شيء فاستقينا وارتوينا فذهب قوم إلى هذه الآثار فقالوا لا ينجس الماء شيء وقع فيه إلا أن يغير لونه أو طعمه أو ريحه فأي ذلك إذا كان فقد نجس الماء وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا أما ما ذكرتموه من بير بضاعة فلا حجة لكم فيه لأن بير بضاعة قد اختلفت فيها ما كانت فقال قوم كانت طريقا للماء إلى البساتين فكان الماء لا يستقر فيها فكان حكم مائها كحكم ماء الأنهار وهكذا نقول في كل موضع كان على هذه الصفة وقعت في مائه نجاسة فلا ينجس ماؤه إلا أن يغلب على طعمه أو لونه أو ريحه أو يعلم أنها في الماء الذي يؤخذ منها فإن علم ذلك كان نجسا وإن لم يعلم ذلك كان طاهرا وقد حكى هذا القول الذي ذكرناه في بير بضاعة عن الواقدي حدثنيه أبو جعفر أحمد بن أبي عمران عن أبي عبد الله محمد بن شجاع الثلجي عن الواقدي أنها كانت كذلك وكان من الحجة في ذلك أيضا أنهم قد أجمعوا أن النجاسة إذا وقعت في البير فغلبت على طعم مائها أو ريحه أو لونه أن ماءها قد فسد وليس في حديث بير بضاعة من هذا شيء إنما فيه أن النبي صلى الله عليه و سلم سئل عن بير بضاعة فقيل له إنه يلقى فيها الكلاب والمحائض فقال إن الماء لا ينجسه شيء ونحن نعلم أن بيرا لو سقط فيها ما هو أقل من ذلك لكان محالا أن لا يتغير ريح مائها وطعمه هذا مما يعقل ويعلم فلما كان ذلك كذلك وقد أباح لهم النبي صلى الله عليه و سلم ماءها وأجمعوا أن ذلك لم يكن وقد داخل الماء التغيير من جهة من الجهات اللاتي ذكرنا استحال عندنا والله أعلم أن يكون سؤالهم النبي صلى الله عليه و سلم عن مائها وجوابه إياهم في ذلك بما أجابهم كان والنجاسه في البير [ ص 13 ] ولكنه والله أعلم كان بعد أن أخرجت النجاسة من البير فسألوا النبي صلى الله عليه و سلم عن ذلك هل تطهر بإخراج النجاسة منها فلا ينجس ماؤها الذي يطرأ عليها بعد ذلك وذلك موضع مشكل لأن حيطان البير لم تغسل وطينها لم يخرج فقال لهم النبي صلى الله عليه و سلم إن الماء لا ينجس يريد بذلك الماء الذي طرأ عليها بعد إخراج النجاسة منها لا أن الماء لا ينجس إذا خالطته النجاسة وقد رأيناه صلى الله عليه و سلم قال المؤمن لا ينجس

حضرت جابر یا حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے چلتے ہوئے ہم ایک جوہڑ کے پاس پہنچے جس کے پاس مردار بھی پڑا تھا ہم نے اور دیگر لوگوں نے وہاں کےپانی کے استعمال سے ہاتھ روک لیا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا۔ تم پانی پلاتے کیوں نہیں ؟ ہم نے عرض کیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : یہ مردار پڑا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی پیئو پلاؤ بلا شبہ پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کر سکتی پس ہم نے پانی پیا اور سیر ہو گئے ۔ علماء کی ایک جماعت نے ان مذکورہ آثار کو اختیار کیا ہے ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ پانی میں جو چیز بھی گر جائے وہ پانی کو نجس نہیں کر سکتی سوائے اس صورت کے کہ اس کا رنگ ذائقہ اور بو تبدیل ہو جائے۔ ان میں سے جو علامت پائی جائے گی اس سے پانی نجس ہوجائے گا علماء کی دوسری جماعت نے اس کی مخالفت کی ہےچنانچہ انہوں نے فرمایا گذشتہ روایت میں تم نے بیر بضاعہ کا ذکر کیا اس میں تمہارے حق میں کوئی دلیل نہیں ملتی کیونکہ بیر بضاعہ کے بارے میں علماء کے اقوام مختلف ہیں بعض لوگوں نے کہا یہ باغات کی طرف جانے والے راستہ میں پڑتا تھا اورپانی اس میں مستقل طور پر نہ ٹھہرتا تھا۔ پس اس کے پانی کا حکم دریا کے پانی جیسا ہے اور ہم اسی طرح ہر اس مقام پر حکم دیں گے جو اس صفت پر مشتمل ہو گاکہ اگر اس کے پانی میں نجاست پڑ جائے تو اس کا پانی پلید نہ ہوگا سوائے اس صورت کے کہ اس کےذائقہ یا رنگ یا بو پر نجاست کا غلبہ ہو جائے یا جہاں سے پانی لیا جا رہا ہے اس کا نجس ہونا معلوم ہو جائے تو وہ پانی نجس شمار ہو گا ۔ اور اگر ایسا معلوم نہیں ہوا تو وہ پانی پاک شمار ہو گا یہ قوم جس کا ہم نے تذکرہ کیا ہے اس کی بیئر بضاعہ کے سلسلے میں امام واقدی رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے اور اس میں ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ نجاست جب کنوئیں میں گر کر اس کےپانی کے ذائقہ بو یار رنگ کو بدل ڈالے تو اس کا پانی پلید ہو جائےگا ،اوربیئر بضاعہ میں اس ان میں سے کوئی چیز نہیں پائی جاتی اس میں صرف اتنی بات ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیئر بضاعہ کے بارے میں یہ بتا کر سوال کیا گیا کہ اس میں کتے اورحیض والے کپڑے ڈالے جاتے ہیں تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کو کوئی چیز بھی پلید نہیں کر سکتی اور ہم بخوبی جانتے ہیں اگر کسی بھی کنوئیں میں کوئی ایسی چیز گر جائے جواس سے بہت کم ہو تو یہ بات ناممکن ہے کہ اس کنوئیں کے پانی کی بو اور ذائقہ اور رنگ تبدیل نہ ہو اتنی بات تو عقل اور تجربہ سے جانی پہچانی ہے جب یہ بات اسی طرح ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اس کےپانی کو مباح قرار دیا ہے اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ ان مذکورہ اطراف میں سے کسی لحاظ سے پانی میں تبدیلی آگئی ( اور پھر اس کو استعمال کیا گیا) اور ہر چیز بھی ہمارے ہاں ناممکن ہے ( واللہ اعلم) کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس پانی کے متعلق سوال کیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو وہ جواب دیا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا اور نجاست بھی کنوئیں میں موجود ہو ( واللہ اعلم) لیکن یہ تمام بات کنوئیں سے نجاست نکال دینے کے بعد تھی اور انہوں نے سوال بھی اس سلسلے میں کیا کہ آیا کہ کنوئیں سے نجاست نکال دینے کے بعد وہ پانی پلید نہیں ہوتا جو اس کے بعد کنوئیں میں سے نکلے اور یہ مشکل بات ہے کیونکہ کنوئیں کی دیواریں نہ دھوئی گئیں اور نہ اسکی مٹی نکالی گئی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو فرمایا کہ پانی پلید نہیں ہوتا یعنی اس سے مراد ہی پانی تھا جو نجاست کے نکالنے کے بعد تازہ نکلا ہے یہ معنی نہیں تھا کہ پانی اس وقت بھی پلید نہیں جب اس کے ساتھ نجاست مل گئی چنانچہ ہمارے سامنے اسی انداز کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( المومن لاجنجس) ہے ۔

فهد بن سليمان بن يحيى

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 5.5

6 - حدثناه بن أبي داود قال ثنا المقدمي قال ثنا بن أبي عدي عن حميد ح وحدثنا بن خزيمة قال ثنا الحجاج بن منهال قال ثنا حماد عن حميد عن بكر عن أبي رافع عن أبي هريرة قال لقيت النبي صلى الله عليه و سلم وأنا جنب فمد يده إلي فقبضت يدي عنه وقلت إني جنب فقال سبحان الله إن المسلم لا ينجس وقال عليه السلام في غير هذا الحديث إن الأرض لا تنجس

حضرت ابو ہریرہ ضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں ملا کہ مجھے غسل جنابت کی حاجت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا میں تو حالت جنابت میں ہوں اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ ان المسلم لاینجس ۔ مطلب یہ کہ مسلمان ناپاک نہیں ہوتا۔

في غير هذا الحديث إن الأرض لا تنجس ← سبحان الله إن المسلم لا ينجس ← جنب فمد يده إلي فقبضت يدي عنه وقلت إني جنب ← لقيت النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي رَافِعٍ ← بَكْرٌ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ← بْنِ خُزَيْمَةَ ← حُمَيْدٍ ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← الْمُقَدَّمِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 5.5

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 6

7 - حدثنا بذلك أبو بكرة بكار بن قتيبة البكرلوي قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو عقيل الدورقي قال ثنا الحسن أن وفد ثقيف لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه و سلم ضرب لهم قبة في المسجد فقالوا يا رسول الله قوم أنجاس فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إنه ليس على الأرض من أنجاس الناس شيء إنما أنجاس الناس على أنفسهم فلم يكن معنى قوله المسلم لا ينجس يريد بذلك أن بدنه لا ينجس وإن أصابته النجاسة إنما أراد أنه لا ينجس لمعنى غير ذلك وكذلك قوله الأرض لا تنجس ليس يعني بذلك أنها لا تنجس وإن أصابتها النجاسة وكيف يكون ذلك وقد أمر بالمكان الذي بال فيه الأعرابي من المسجد أن يصب عليه ذنوب من ماء

حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جب وفد ثقیف جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تو ان کے لیے مسجد ( کے صحن) میں خیمہ لگادیا گیا اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یہ ناپاک لوگ ہیں ( کافر ہیں ) جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا زمین پر لوگوں کی ( باطنی) نجاستوں سے کچھ اثر نہیں پڑتا بلاشبہ ان کی (باطنی) نجاستوں کا اثر ان کے دلوں پر میں ہوتا ہے ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ۔المسلم لاینجس۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ اس کا بدن بھی پلید نہیں ہوتا اگرچہ اس کو نجاست پہنچ جائے بلکہ مراد یہ ہے کہ اور معنی کے لحاظ سے یہ پلید نہیں ہوتا اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ زمین پلید نہیں ہوتی اس کا یہ مطلب نہیں اگر زمین کو نجاست پہنچ جائے تب بھی پلید نہیں ہوتی یہ کیسے کہا جاسکتا ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد پر جہاں بدو نے پیشاب کر دیا تھا پانی کے ڈول بہانے کا حکم دیا۔

أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← بذلك أبو بكرة بكار بن قتيبة البكرلوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 6

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 7

8 - حدثنا بذلك أبو بكرة قال ثنا عمر بن يونس اليمامي قال ثنا عكرمة بن عمار قال ثنا إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال حدثني أنس بن مالك قال بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم جلوسا إذ جاء أعرابي فقام يبول في المسجد فقال أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم مه مه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم دعوه فتركوه حتى بال ثم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم دعاه فقال له إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول والعذرة إنما هي لذكر الله والصلاة وقراءة القرآن قال عكرمة أو كما قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمر رجلا فجاءه بدلو من ماء فشنه عليه

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دریں اثناء کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک بدو آیا اور وہ مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگا۔ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رک رک : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو چھوڑ دو ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے اس سے تعرض نہ کیایہاں تک کہ وہ پیشاب کر چکا پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلا کر فرمایا ۔ بلاشبہ یہ مساجد پیشاب و پائخانہ جیسی غلاظت کے لیے مناسب نہیں بلا شبہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ذکر ، نماز اور قراءت قران مجید کے لیے بنائی گئی ہیں۔ عکرمہ کی روایت میں اوکما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( یا جیسا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کے الفاظ اور یہ الفاظ زائد ہیں : فا مر رجلا فجاء ہ بدلو من ماء فشنہ علیہ ۔ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم فرمایا ( کہ وہ پانی لائے تو ) وہ آپ کے پاس پانی کا ایک ڈول لایا اور اس پر بہا دیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْيَمَامِيُّ، ← بذلك أبو بكرة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 7

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 8

9 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا يحيى قال ثنا عبد العزيز بن محمد عن يحيى بن سعيد أنه سمع أنس بن مالك يذكر عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه لم يذكر قوله إن هذه المساجد إلى آخر الحديث [ ص 14 ] وروى طاووس أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر بمكانه أن يحفر

حضرت انس رضی اللہ عنہ نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح روایت نقل کی ہے یہ الفاظ اس میں نہیں "ان ھذہ المساجد " تا آخر الحدیث۔

أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَذْكُرُ ← يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← يَحْيَى ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 8

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 9

10 - حدثنا بذلك أبو بكرة بكار بن قتيبة البكراوي قال ثنا إبراهيم بن بشار قال ثنا سفيان بن عيينة عن عمر بن دينار عن طاوس بذلك وقد روى عن عبد الله بن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم بذلك أيضا

عمر بن دینار نے طاؤ س سے اس کو روایت کیا جبکہ یہ روایت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم بذلك أيضا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← طاوس بذلك وقد روى ← عمر بن دينار ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← بذلك أبو بكرة بكار بن قتيبة البكراوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 9

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 10

11 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا يحيى بن عبد الحميد الحماني قال ثنا أبو بكر بن عياش عن سمعان بن مالك الأسدي عن أبي وائل عن عبد الله قال بال أعرابي في المسجد فأمر به النبي صلى الله عليه و سلم فصب عليه دلو من ماء ثم أمر به فحفر مكانه قال أبو جعفر فكان معنى قوله إن الأرض لا تنجس أي أنها لا تبقى نجسة إذا زالت النجاسة منها لا أنه يريد أنها غير نجسة في حال كون النجاسة فيها فكذلك قوله في بير بضاعة إن الماء لا ينجسه شيء ليس هو على حال كون النجاسة فيها إنما هو على حال عدم النجاسة فيها فهذا وجه قوله صلى الله عليه و سلم في بير بضاعة الماء لا ينجسه شيء والله أعلم وقد رأيناه بين ذلك في غير هذا الحديث

ابو وائل نے حضرت عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک اعرابی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا ( کہ اس پر پانی ڈالا جائے تو) اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دیا گیا پھر ( پانی جذب ہونے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جگہ کو کھودنے کا حکم فرمایا ۔ ابو جعفر رحمۃ اللہ عیہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد: ( ان الارض لا تنجس) کا معنی یہ ہے کہ زمین سے جب نجاست دور کر دی جائے تو وہ نجس باقی نہیں رہتی یہ معنی نہیں ہے کہ نجاست کے ہونے کے باوجود وہ پلید نہیں ہوتی چنانچہ اس طرح بیر بضاعہ کے بارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ( ان الماء لا ینجسہ) نجاست کہ اس میں رہنے کی صورت میں نہیں بلکہ وہ نجاست کے نہ ہونے کی صورت میں ہے یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی ( الماء یجنس) وجہ سے۔ ( واللہ اعلم ) چنانچہ یہ وضاحت ہم نے اس حدیث کے علاوہ میں پائی ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← سمعان بن مالك الأسدي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ← يحيى بن عبد الحميد الحماني ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 10

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 1 باب الماء يقع فيه النجاسة ) · حديث 11

12 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن بن عمرو بن الحارث الأنصاري وعلي بن شيبة بن الصلت البغدادي قالا حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ قال سمعت بن عون يحدث عن محمد بن سيرين عن أبي هريرة أنه قال نهى أو نهي أن يبول الرجل في الماء الدائم أو الراكد ثم يتوضأ منه أو يغتسل منه

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رایت ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرما دیا دائم کے لفظ فرمائے یا راکد کے ( ہر دو کا معنی یکساں ہے ) کہ پھر اس سے وضو یا غسل کرے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← بن عون ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← علي بن شيبة بن الصلت البغدادي ← صالح بن عبد الرحمن بن عمرو بن الحارث الأنصاري

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 11

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter