Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 6 باب الأمة تعتق وزوجها حر هل لها خيار أم لا ) · حديث 4501

4243 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أنها قالت كان زوج بريرة حرا فلما أعتقت خيرها رسول الله صلى الله عليه و سلم فاختارت نفسها قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا الحديث فجعلوا للمعتقة الخيار حرا كان زوجها أو عبدا وخالفهم في ذلك آخرون وقالوا إن كان زوجها عبدا فلها الخيار وإن كان حرا فلا خيار لها وقالوا إنما كان زوج بريرة عبدا وذكروا في ذلك ما

اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا وہ کہتی ہیں کہ بریرہ کا خاوند آزاد تھا جب ان کو آزاد کر دیا گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ اس کو اختیار دیا تو اس نے اپنے نفس کو اختیار کر لیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بعض لوگوں نے آزاد کردہ لونڈی کو خیار کا حق ہر صورت میں تسلیم کیا ہے خواہ اس کا خاوند آزاد ہو یا غلام ۔ دوسروں نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کا خاوند غلام ہو تو اس کو اختیار ہو گا اور اگر آزاد ہو تو اس کو خیار نہ ہو گا بریرہ رضی اللہ عنہ کا خاوند غلام تھا ان کی دلیل مندرجہ ذیل روایات ہیں ۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4501

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 6 باب الأمة تعتق وزوجها حر هل لها خيار أم لا ) · حديث 4502

4244 - حدثنا أحمد بن أبي داود قال ثنا إسماعيل بن سالم قال ثنا جرير بن عبد الحميد عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت كان زوج بريرة عبدا ولو كان حرا لم يخيرها رسول الله صلى الله عليه و سلم

ہشام بن عروہ نے اپنےوالد سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہ کا خاوند غلام تھا اگر وہ آزاد ہو تو جناب رسول اللہﷺ اس کو خیار نہ دیتے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← أحمد بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4502

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 6 باب الأمة تعتق وزوجها حر هل لها خيار أم لا ) · حديث 4503

4245 - حدثنا أحمد قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا عبد العزيز بن محمد وابن أبي حازم عن هشام بن عروة عن عبد الرحمن بن القاسم عن عبد العزيز عن أبيه قال الأعمش عن عائشة أن النبي صلى الله عليه و سلم لما أعتقت بريرة خيرها وكان زوجها عبدا قالوا فهذه عائشة رضي الله عنها تخبر أن زوج بريرة كان عبدا فهذا خلاف ما رويتموه عن الأسود عنها ثم قالت عائشة رضي الله عنها لو كان حرا لم يخيرها رسول الله صلى الله عليه و سلم قيل لهم أما هذا الحرف فقد يجوز أن يكون من كلام عائشة رضي الله عنها وقد يجوز أن يكون من كلام عروة واحتج أهل هذه المقالة في تثبيت ما رووه في زوج بريرة أنه كان عبدا بما

ہشام بن عروہ نے عبدالرحمن بن قاسم سے انہوں نے عبدالعزیز انہوں نے اپنے والد سے وہ کہتے ہیں کہ اعمش نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جب جناب نبی اکرم ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو آزاد کیا اور اس کو اختیار دیا تو اس وقت بریرہ رضی اللہ عنہ کا خاوند غلام تھا ۔ یہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بتلا رہی ہیں کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ یہ اسود کی نقل کردہ روایات ہے کے خلاف ہے پھر ان روایات میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ اگر وہ آزاد ہوتا تو بریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ اختیار نہ دیتے ۔ ان سے کہا جائے گا فریق ثانی کی مستدل روایات میں جو " لو کان حرا ۔۔۔ " کے الفاظ پائے جاتے ہیں ممکن ہے کہ یہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا کلام ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ عروہ کا کلام ہو ۔ پس محتمل روایت سے استدلال باقی نہ رہا۔ اگر وہ روایت محتمل ہو گئی تو یہ دوسری روایت حاضر ہے جو ثابت کر رہی ہے کہ بریرہ کا خاوند غلام تھا۔ ملاحظہ ہو۔

عَائِشَةَ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عبد العزيز بن محمد وابن أبي حازم ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4503

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 6 باب الأمة تعتق وزوجها حر هل لها خيار أم لا ) · حديث 4504

4246 - حدثنا علي بن عبد الرحمن قال ثنا عفان قال ثنا همام قال ثنا قتادة عن عكرمة عن بن عباس أن زوج بريرة كان عبدا أسود يسمى مغيثا فخيرها النبي صلى الله عليه و سلم وأمرها أن تعتد

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہ کا خاوند سیاہ رنگ کا غلام تھا ا س کا نام مغیث تھا۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے بریرہ کو اختیار دیا اور اس کو عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔

عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← علي بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4504

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 6 باب الأمة تعتق وزوجها حر هل لها خيار أم لا ) · حديث 4505

4247 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أخبرنا خالد عن عكرمة عن بن عباس رضي الله عنهما قال لما خيرت بريرة رأينا زوجها يتبعها في سكك المدينة ودموعه تسيل على لحيته [ ص 83 ] ذفكلم له العباس النبي صلى الله عليه و سلم أن يطلب إليها فقال لها رسول الله صلى الله عليه و سلم زوجك وأبو ولدك فقالت أتأمرني به يا رسول الله فقال إنما أنا شافع قالت إن كنت شافعا فلا حاجة لي فيه واختارت نفسها وكان يقال له مغيث وكان عبدا لآل المغيرة من بني مخزوم قالوا فإنما خيرها رسول الله صلى الله عليه و سلم من أجل أن زوجها كان عبدا فكان من الحجة عليهم لأهل المقالة الأولى أن أولى الأشياء بنا إذا جاءت الآثار هكذا فوجدنا السبيل إلى أن نحملها على غير طريق التضاد أن نحملها على ذلك ولا نحملها على التضاد والتكاذب ويكون حال رواتها عندنا على الصدق والعدالة فيما رووا حتى لا نجد بدا من أن نحملها على خلاف ذلك فلما ثبت أن ما ذكرنا كذلك وكان زوج بريرة قد قيل فيه إنه كان عبدا وقيل فيه إنه كان حرا جعلناه على أنه قد كان عبدا في حال حرا في حال أخرى فثبت بذلك تأخر إحدى الحالتين عن الأخرى فكان الرق قد يكون بعده الحرية والحرية لا يكون بعدها رق فلما كان ذلك كذلك جعلنا حال العبودية متقدمة وحال الحرية متأخرة فثبت بذلك أنه كان حرا في وقت ما خيرت بريرة عبدا قبل ذلك هكذا تصحيح الآثار في هذا الباب ولو اتفقت الروايات كلها عندنا على أنه كان عبدا لما كان في ذلك ما ينفي أن يكون إذا كان حرا زال حكمه عن ذلك لأنه لم يجئ عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال إنما خيرتها لأن زوجها عبد ولو كان ذلك كذلك لانتفى أن يكون لها خيار إذا كان زوجها حرا فلما لم يجئ من ذلك شيء وجاء عنه أنه خيرها وكان زوجها عبدا نظرنا هل يفترق في ذلك حكم الحر وحكم العبد فنظرنا في ذلك فرأينا الأمة في حال رقها لمولاها أن يعقد النكاح عليها للحر والعبد ورأيناها بعد ما تعتق ليس له أن يستأنف عليها عقد نكاح لحر ولا لعبد فاستوى حكم ما إلى المولى في العبيد والأحرار وما ليس إليه في العبيد والأحرار في ذلك فلما كان ذلك كذلك ورأيناها إذ أعتقت بعد عقد مولاها نكاح العبد عليها يكون لها الخيار في حل النكاح عليها كان كذلك في الحر إذا أعتقت يكون لها حل نكاحه عنها قياسا ونظرا على ما بينا من ذلك وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمة الله عليهم أجمعين وقد روي ذلك أيضا عن طاوس

عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جب بریرہ رضی اللہ عنہ کو اختیار ملا تو ہم نے ان کے خاوند کو دیکھا کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں مارا مارا اس کے پیچھے پھرتا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہتے ہیں اس کی طرف سے ابن عبا س رضی اللہ عنہ جناب نبی اکرم ﷺ سے بات کی کہ وہ بریرہ رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجیں (وہ آئیں ) تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا وہ تمہارا خاوند اور تمہارے بیٹے کا والد ہے؟ (یعنی تم رجوع کر لو ) تو بریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگیں ۔ یارسول اللہ ﷺ کیا آپ مجھے حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں سفارشی ہوں۔ بریرہ رضی اللہ عنہ کہنے لگیں اگر آپ سفارش فرمانے والے ہیں تو مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔ پس اس نے اپنے نفس کو اختیارکرلیا۔ ان کے خاوند کو مغیث کہا جاتا تھا اور یہ آل مغيره جو بنی مخزوم کا خاندان ہے اس کا غلام تھا۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو اختیار دیا کیونکہ اس کا خاوند غلام تھا۔ اگر وہ غلام نہ ہوتاتو ہرگز اس کو اختیار نہ ہوتا ۔ قول اول والے کہتے ہیں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسے مواقع میں جہاں آثار میں اختلاف ہوجائے تو وہاں موافقت کی راہ اختیار کریں تضاد و تکاذب کی راہ نہ اپنائیں کیونکہ روات کے صدق و عدالت پر ہم نے اعتماد کیا ہے اور اسی پر قائم رہتے ہوئے ہم اس کے خلاف کی طرف نہ لے جائیں۔ اب ہم عرض کرتے ہیں کہ جب یہ بات ثابت ہو چکی جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہ کا خاوند ایک قول کے مطابق غلام تھا اور دوسرے قول کے مطابق وہ آزاد تھا تو اس کو اس طرح ٹھہرائیں گے کہ وہ ایک حالت میں غلام تھا اور دوسری حالت میں آزاد تھا۔ اس سے ایک حالت کا دوسری سے متاخر ہونا ثابت ہوگا تو ہوتا ہے کہ غلامی کے بعد آزادی آئے مگر آزادی کے بعد غلامی نہیں آتی جب یہ بات اسی طرح ہے تو ہم غلامی دالی حالت کو مقدم قرار دیں گے اور حریت والی حالت کومتاخر مانیں گے۔ اس سے اب خود ثابت ہو گیا کہ جب بریرہ رضی اللہ عنہ کو اختیار دیا گیا تو اس وقت وہ آزار تھا اور اس سے پہلے غلام تھا۔ اس سے اس باب میں تمام آثار کا معنی درست رہتا ہے۔ اگر تمام روایات ہمارے ہاں اس بات متفق ہو جائیں کہ دہ غلام تھے تب بھی اس میں ایسی بات نہیں ہے جو ان کے آزاد ہونے کی صورت میں اس حکم کو زائل کر دے کیونکہ جناب نبی اکرم ﷺ نے یہ بات نہیں فرمائی کہ میں نے اس کو (بریرہ)اس لئے اختیار دیا ہے کہ اس کا خاوند غلام ہے۔ اگر یہ بات اس طرح ہوتی تو خاوند کے آزاد ہونے کی صورت میں اختیار کی نفی ہو جاتی۔ پس جب اس قسم کی کوئی چیز مروی نہیں ہے اور یہ روایات میں وارد ہے کہ آپ ﷺ نے اس کو اختیار دیا اس حال میں کہ اس کا خاوند غلام تھا ( عندیا) پس دیکھنا یہ ہے کہ آیا خیار کی حالت میں خاوند کے آزاد غلام ہونے کی وجہ سے کچھ فرق ہوگا؟ چنانچہ ہم نے غور وفکر کیا کہ کیا آزادوغلام ہونے کی وجہ سے خیار کے موقعہ پر کچھ فرق پڑتا ہے تو دیکھا کہ لونڈی کا مالک اس کی غلامی کی حالت میں اس کا نکاح آزادسے بھی کرسکتا ہے اور غلام سے بھی کرسکتا ہے اور ہم نے یہ بھی غور سے پایا کہ اس کی آزادی کے بعد تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہوتی خاوند خواه آزاد ہو یا غلام مگر لونڈی کے مالک کا اختیار آزاد یا غلام دونوں کے لئے ایک جیسا ہے اور جو اختیار اس کو حاصل نہیں اس میں بھی آزاد اور غلام برابر ہیں۔ تو جب بات پھر اس طرح ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ جب مالک نے اس کا نکاح کسی غلام کے ساتھ کیا تو آزاد ہونے کے بعداسےنکاح توڑنے کا اختیار ہوتا ہے تو اس قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ آزاد مرد کے ساتھ نکاھ کی صورت میں بھی آزادی کے بعد اس کو نکاح توڑنے کا اختیار ہو۔ امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف، محمد رحمتہ اللہ علیہ اجمعین کا قول یہی ہے اور طاوس رحمتہ اللہ علیہ کا قول بھی یہی ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عِكْرِمَةَ، ← خَالِدٌ، ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4505

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 6 باب الأمة تعتق وزوجها حر هل لها خيار أم لا ) · حديث 4506

4248 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن بن طاوس عن أبيه قال للأمة الخيار إذا أعتقت وإن كانت تحت قرشي

ابن طاوس نے اپنے والد نقل کیا کہ لونڈی کو خیار حاصل ہو گا جب کہ آزاد کر دی جائے اگرچہ وہ کسی قرشی کی بیوی ہو۔

للأمة الخيار إذا أعتقت وإن كانت تحت قرشي ← أَبِيهِ ← بن طاوس، ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4506

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 7 كتاب الطلاق ) ‹ ( 6 باب الأمة تعتق وزوجها حر هل لها خيار أم لا ) · حديث 4507

4249 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عاصم عن بن جريج قال أخبرني بن طاوس عن أبيه أنه قال لها الخيار يعني في العبد والحر قال وأخبرني الحسن بن مسلم مثل ذلك

ابن طاوس نے اپنے والد سے نقل کیا کہ لونڈی کو خیار حاصل ہو گا خواہ اس کا خاوند غلام ہو یا آزاد اور انہوں نے فرمایا حسن بن مسلم نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے ۔

وأخبرني الحسن بن مسلم مثل ذلك ← لها الخيار يعني في العبد والحر ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← بن طاوس، ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4507

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter