Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4939

4669 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن يحيى بن سعيد سمع بشير بن يسار عن سهل بن أبي حثمة قال وجد عبد الله بن سهل قتيلا في قليب من قلب خيبر فجاء أخوه عبد الرحمن بن سهل وعماه حويصة ومحيصة ابنا مسعود رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذهب عبد الرحمن ليتكلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم الكبر الكبر فتكلم أحد عميه إما حويصة وإما محيصة تكلم الكبير منهما قال يا رسول الله إنا وجدنا عبد الله بن سهل قتيلا في قليب من قلب خيبر وذكر عداوة يهود لهم قال أفتبرئك يهود بخمسين يمينا أنهم لم يقتلوه قال قلت وكيف نرضى بأيمانهم وهم مشركون قال فيقسم منكم خمسون أنهم قتلوه قالوا كيف نقسم على ما لم نر فوداه رسول الله صلى الله عليه و سلم من عنده

بشیر بن یسار سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو خیبر کے ایک کنوئیں میں مقتول پایا اس کا بھائی عبدالرحمن بن سہل اور اس کے سانوں چچا حویصہ اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔عبدالرحمن بات کرنے لگے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا بڑا ۔بڑا یعنی بڑا بات کرے ۔ چنانچہ دونوں چچاؤں حویصہ ،محیصہ میں سے ایک نے بات کی ان میں سے بڑے نے بات کی ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے عبداللہ بن سہل کو خیبر کے ایک کنوئیں میں مقتول پایا ہے ۔انہوں نے اپنے ساتھ یہود کی عداوت کا تذکرہ پایا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہود کی پچاس قسمیں کہ انہوں نے قتل نہیں کیا تم سے ان کو بری کر دیں گی ؟ میں نے عرضکیاہمان کی قسمیں کس طرح تسلیم کر لیں گے جبکہ وہ مشرک ہیں آپﷺ نے فرمایا پھر تمہارے پچاس آدمی قسمیں اٹھائیں کہ انہوں نےہی قتل کیا ہے ۔ امہوں نے کہا کہ ہم اس پر کس طرح قسمیں اٹھائیں کہ انہوںنےہی قتل کیا ہے ۔ اس پر جناب رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے عبداللہ کی دیت ادا فرمائی .

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ

Hadith 4939

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4940

4670 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد عن بشير بن يسار أنه أخبره أن عبد الله بن سهل الأنصاري ومحيصة بن مسعود خرجا إلى خيبر فتفرقا في حوائجهما فقتل عبد الله بن سهل فبلغ محيصة فأتى هو وأخوه حويصة وعبد الرحمن بن سهل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذهب عبد الرحمن ليتكلم لمكانه من أخيه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم كبر كبر فتكلم حويصة ومحيصة فذكرا شأن عبد الله بن سهل فقال لهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أتحلفون خمسين يمينا أو تستحقون دم قاتلكم أو صاحبكم قالوا يا رسول الله لم نشهد ولم نحضر قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أفتبرئكم يهود بخمسين يمينا قالوا يا رسول الله كيف نقبل أيمان قوم كفار قال مالك قال يحيى بن سعيد فزعم بشير أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وداه من عنده

بشیر بن یسار نے خبر دی کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خیبر گئے دونوں اپنی ضروریات کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے تو حضرت عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا یہ بات حضر ت محیصہ رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ خود اور ان کے بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی کے سلسلے میں بات کرنا چاہی تو جناب رسول اللہ ﷺ نے دو بار فرمایا بڑا ، بڑا یعنی بڑے کو بات کرنے دو ۔ چنانچہ حضرت حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہ نے بات کی اور عبداللہ بن سہل کا واقعہ ذکر کیا جناب رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا ۔کیا تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو ۔ کہ تم اپنے قاتل کے خون یا ساتھی کے خون کے حقدار بن جاؤ ؟انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ نہ تو ہم واقعہ کے گواہ ہیں اور نہ موقع پر موجود تھے ۔جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا یہودکی پچاس قسموں پر تم دست بردار ہو سکتے ہو ۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم کافر وں کی قسمیں کیسے قبول کریں ۔امام مالک کہتے ہیں کہ یحیی نم سعید کہتے ہیں کہ بشیر کا خیال یہ ہےکہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی طرف سے دیت ادا فرمائی ۔

أن عبد الله بن سهل الأنصاري ← بشير بن يسار أنه ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Hadith 4940

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4941

4671 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سعيد بن عبيد الطائي عن بشير بن يسار أن رجلا من الأنصار يقال له سهل بن أبي حثمة أخبره أن نفرا من قومه إنطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها فوجدوا أحدهم قتيلا فقالوا للذين وجدوه عندهم قتلتم صاحبنا قالوا والله ما قتلنا ولا علمنا قاتلا فانطلقوا إلى نبي الله صلى الله عليه و سلم فقالوا يا نبي الله أنطلقنا إلى خيبر فوجدنا أحدنا قتيلا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم الكبر الكبر فقال لهم تأتون بالبينة على من قتل قالوا ما لنا بينة قال أفيحلفون لكم قالوا لا نرضى بأيمان اليهود فكره رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يبطل دمه فوداه بمائة من إبل الصدقة

حضرت بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی جس کو سہل بن حشمہ کہا جاتا ہے انہوں نے خبر دی کہ میری قوم کا ایک گروہ خیبر کی طرف گیا اور وہاں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے ۔ پھر انہوں نے اپنے میں سے ایک آدمی کو وہیں مقتول پایا ۔ تو جن لوگوں کے ہا ں اسے پایا تھا ۔ انہیں کہنے لگے کہ تم نے ہمارے آدمی کو قتل کیا ہے انہوں نےکہا۔اللہ کی قسم ! ہم نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں یہ حضرات جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا ۔یا نبی اللہ ﷺ ! ہم خیبر کی طرف گئے تو ہم نے اپنے ایک ساتھی کو مقتول پایا ۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بڑا ،بڑا یعنی بڑا بات کرے ۔ پھر آپ نے ان سے فرمایا قاتل کے خلاف گواہ لاؤ ۔ انہوں نے عرض کیا ہمارے پاس گواہ نہیں ۔ آپﷺ نے فرمایا اگر وہ تمہارے سامنے قسمیں اٹھائیں تو ( قبول کر لو گے ) انہوں نے عرضکیا ہم یہودیوں کی قسموں پر اعتبار نہیں کرتے ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کےخون کا باطل ہونا نا پسند فرمایا اور صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ سے دیت ادا فرمائی ۔

بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 4941

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4942

4672 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي ليلى بن عبد الله بن عبد الرحمن عن سهل بن أبي حثمة أنه أخبره رجال من كبراء قومه أن عبد الله بن سهل ومحيصة خرجا إلى خيبر من جهد أصابهم فأتى محيصة فأخبر أن عبد الله بن سهل قتل وطرح في فقير أو عين فأتى يهودا فقال أنتم والله قتلتموه فقالوا والله ما قتلناه فأقبل حتى قدم على قومه فذكر لهم ذلك ثم أقبل هو وأخوه حويصة وهو أكبر منه وعبد الرحمن بن سهل فذهب محيصة ليتكلم وهو الذي كان بخيبر فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لمحيصة كبر كبر يريد السن فتكلم حويصة قبل ثم تكلم محيصة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إما أن يدوا صاحبكم وإما أن يؤذنوا بحرب فكتب إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك فكتبوا إنا والله ما قتلناه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم لحويصة ومحيصة وعبد الرحمن أتحلفون وتستحقون دم صاحبكم قالوا لا قال أفتحلف لكم يهود قالوا ليسوا بمسلمين فوداه رسول الله صلى الله عليه و سلم من عنده فبعث إليهم بمائة ناقة حتى أدخلت عليهم الدار قال أبو يوسف رحمه الله فقد علمنا أن خيبر كانت للمسلمين لأنهم إفتتحوها وكانت اليهود عمالهم فيها فلما وجد فيها هذا القتيل جعل رسول الله صلى الله عليه و سلم القسامة فيه على اليهود السكان لا على المالكين قال فكذلك نقول كل قتيل وجد في دار أو أرض فيها ساكن مستأجر أو مستعير فالقسامة في ذلك والدية على الساكن لا على ربها المالك وكان أبو حنيفة ومحمد بن الحسن رحمهما الله يقولان الدية والقسامة في ذلك على المالك لا على الساكن وكان من حجتهما على أبي يوسف رحمه الله أن ذلك القتيل لم يذكر لنا في هذا الحديث أنه وجد بخيبر بعد ما إفتتحت أو قبل ذلك فقد يجوز أن يكون أصيب فيها بعد ما إفتتحت فيكون ذلك كما قال أبو يوسف رحمه الله ويجوز أن يكون أصيب في حال ما كانت صلحا بين النبي صلى الله عليه و سلم وبين أهلها فإن كان موجودا في حال ما كانت صلحا قبل أن تفتتح فلا حجة لأبي يوسف رحمه الله في هذا الحديث وفي حديث أبي ليلى بن عبد الله بن عبد الرحمن ما يدل أنها كانت يومئذ صلحا وذلك أنه فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال للأنصار رضي الله عنهم إما أن يدوا صاحبكم وإما أن يؤذنوا بحرب ولا يقال هذا إلا لمن كان في أمان وعهد في دار هي صلح بين أهلها وبين المسلمين وقد بين ذلك سليمان بن بلال في حديثه عن يحيى بن سعيد

سہل بن ابی حشمہ کہتے ہیں مجھےقوم کے بوڑھے لوگوں نے خبر دی کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہا تنگدستی کی وجہ سے خیبر کی طرف چلے گئے ۔محیصہ رضی اللہ عنہ( اپنے ٹھکانے پر) پر آئے تو ان کو اطلاع ملی کہ عبداللہ کو قتل کر کے ایک اجاڑ کنوئیں یا چشمے میں ڈال دیا گیا ہے ۔ محیصہ رضی اللہ عنہ یہود کے پاس آئے اور فرمایااللہ کی قسم ! تم نے اس کو قتل کیا ہے ۔ تو انہوں نے جواب دیا ۔ اللہ کی قسم ہم نے اس کو قتل نہیں کیا۔ محیصہ رضی اللہ عنہ وہاں سے چل کر اپنی قوم کے پاس (مدینہ میں ) آئے اور ان کو اس بات کا تذکرہ کیا پھر وہ اور اس کا بڑا بھائی حویصہ اور عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہم جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے ۔ امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کا قول ہے کہ یہ بات معلوم ہے کہ خیبر مسلمانوں کا تھا کیونکہ وہ اس کو فتح کر چکے تھے اور یہودی بطور عمال وہاں رہتے تھے ۔جب خیبر میں مقتول پایا گیا تو جناب رسول اللہﷺ نے وہاں کے رہنے والے یہود پر قسامت کو لازم کیا ۔ مالکوں پرلازم نہیں کیا ۔ پس یہی حکم ہر اس مقتول کا ہو گا جو کسی گھر میں پایا جائے یا کسی زمین میں پایا جائے اس میں رہائشی لوگ خواہ مستاجر ہون یا مستغیر ہوں اس کے متعلق قسامت کی یہی حکم ہو گا ۔ رہائشی کے ذمہ دیت لازم ہوگی مکان و زمین کے مالکپر نہ ہو گی ۔ فریق ثانی امام ابوحنیفہ رحمۃاللہ علیہ و محمد رحمۃاللہ علیہ کا قول یہ ہےکہ دیت و قسامت مالک پر ہوگی مکین پر نہ ہو گی ۔ امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کی دلیل کا جواب یہ ہے کہ وہ مقتول جس کا تذکرہ روایت میں پایا جاتا ہے اس کے متعلق اس روایت میں یہ مذکور نہیں کہ یہ واقعہ فتح خیبر کے بعد کا ہے یا پہلے ۔ یہ بھی امکان ہے فتح کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ہو اس صورت میں تو امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کی دلیل بن سکتی ہے اور اگر یہ واقعہ فتح سے پہلے کا ہے تو پھر اس روایت میں امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کی کوئی دلیل نہیں ۔ امام ابو یوسف رحمۃاللہ علیہ کی طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ ابو لیلی بن عبداللہ بن عبد الرحمن کی روایت میں ایسی دلالت پائی جاتی ہے جس سے اس کا ایام صلح میں پیش آنا ثابت ہوتا ہے اور اس طرح کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے انصار کو فرمایا (اما ان یدو اصاحبکم واما ان یوذوابحرب )اور یہ کلمات اسی کو کہےجاتے ہیں جن کے ساتھ صلح ہو۔ اور سلیمان بن بلال نے یحیی بن سعید سے اس کو واضح طور پر نقل کیا ہے ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4942

شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4943

4673 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي قال ثنا سليمان بن بلال عن يحيى بن سعيد أن عبد الله بن سهل بن زيد ومحيصة بن مسعود بن زيد الأنصاري من بني حارثة خرجا إلى خيبر في زمن رسول الله صلى الله عليه و سلم وهي يومئذ صلح وأهلها يهود فتفرقا لحاجتهما فقتل عبد الله بن سهل فوجد في شربه مقتولا فدفنه صاحبه ثم أقبل إلى المدينة فمشى أخو المقتول عبد الرحمن بن سهل ومحيصة وحويصة فذكروا لرسول الله صلى الله عليه و سلم شأن عبد الله بن سهيل وكيف قتل [ ص 200 ] فزعم بشير بن يسار وهو يحدث عمن أدرك من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال لهم تحلفون خمسين يمينا وتستحقون دم قتيلكم أو صاحبكم فقالوا يا رسول الله ما شهدنا ولا حضرنا قال أفتبرئكم يهود بخمسين يمينا فقالوا يا رسول الله كيف نقبل أيمان قوم كفار فزعم بشير أن رسول الله صلى الله عليه و سلم عقله فبين لنا هذا الحديث أنها كانت في وقت وجود عبد الله بن سهل فيها قتيلا دار صلح ومهادنة فانتفى بذلك أن يلزم أبا حنيفة ومحمدا شيء مما أحتج به عليهما أبو يوسف رحمة الله عليه من هذا الحديث لأن فتح خيبر إنما كان بعد ذلك قال أبو يوسف رحمة الله عليه والنظر يدل على ما قلنا أيضا وذلك أنا رأينا الدار المستأجرة والمستعارة في يد مستأجرها ومستعيرها لا في يد ربها ألا ترى أنهما وربها لو أختلفا في ثوب وجد فيها أن القول فيه قولهما لا قول رب الدار فكذلك ما وجد فيها من القتلى فهم موجودون فيها وهي في يد مستأجرها ويد مستعيرها لا في يد ربها فما وجب بذلك من قسامة ودية فهي على من هي في يده لا على من ليست في يده وإن كان ملكها له فكان من حجة محمد بن الحسن رحمه الله في ذلك أن قال رأيت إجماعهم قد دل على أن القسامة تجب على المالك لا على الساكن وذلك أن رجلا وإمرأته لو كانت في أيديهما دار يسكنانها وهي للزوج فوجد فيها قتيل كانت القسامة والدية على عاقلة الزوج خاصة دون عاقلة المرأة وقد علمنا أن أيديهما عليهما وأن ما وجد فيها من ثياب فليس أحدهما أولى به من الآخر إلا لمعنى ليس من قبل الملك واليد في شيء فلو كانت القسامة يحكم بها على من الدار في يده لحكم بها على المرأة والرجل جميعا لأن الدار في أيديهما ولأنهما سكناها فلما كان ما يجب في ذلك على الزوج خاصة دون المرأة إذ هو المالك لها كانت القسامة والدية في كل المواضع الموجود فيها القتلى على مالكها لا على ساكنها

سلیمان بن بلال نے یحیی بن سیع سے نقل کیا کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری یہ قبیلہ بنی حارثہ سے تھےیہ جناب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں خیبر کی طرف گئے اور یہ صلح کا زمانہ تھا ۔ وہان یہود ی رہتے تھے ۔ یہ دونوں اپنی ضروریات کی و جہ سے الگ الگ ہو گئے پھر عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا گیا اور وہ اپنے گھاٹ پر مقتول پائے گئے ان کے ساتھی نے ان کو دفن کر دیا اور پھر وہ مدینہ طیبہ آئے ان مقتول کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور حضرت محیصہ اور حویصہ رضی اللہ عنہم تینوں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کیا اور بتایا کہ وہ کیسے قتل ہوئے بشیر بن یسار جو ان صحابہ کرام سے نقل کرتے ہیں جن سے ان کی ملزاقات ہوئی وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا کہ تم پچاس قسمیں اٹھاتے ہو اور اپنے مقتول کے خون کے حقدار ٹھہرتے ہو آپ نے قتیلکم فرمایاصاحبکم فرمایا ۔ انہون نے جواب دیا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے نہ دیکھا اور نہ موجود تھے آپ نے فرمایا کیا تم سےپچاس قسمیں اٹھا کر یہودی بری الذمہ ہو سکتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا یا رسول اللہﷺ ہم کافروں کی قسموں کا کیسے اعتبار کر سکتے ہیں ؟ بشیر بن یسار راوی کا خیال یہ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت دی ۔ اس روایت نے ہمارے لئے وضاحت کر دی کہ جب عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ پیش آیا اس وقت خیبر فتح ہو چکا تھا اور یہ زمانہ صلح تھا اس سے فریق اول کی طرف سے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف پیش آنے والا اعتراض رفع ہو گیا اور امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قیاس کی تائید بھی ہمارے ساتھ ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جو گھر اجرت یا بطورادھار لیا گیا ہو وہ کرائی دار یا ادھار لینے والے کے پاس ہوتا ہے مالک کے پاس نہیں ہوتا ۔ کیا تم غور نہیں کرتے کہ اگر وہ دونوں اور مالک مکان کسی کپڑے میں جھگڑا کریں جو وہاں ملا ۔ تو ان دونوں کا قول معتبر ہو گا مالک مکان کی بات نہ مانی جائے گی اسی طرح جو مقتول وہاں پائے جائیں گے اور وہ گھر کرایہ دار یا ادھار والے کے قبضہ میں ہو مالک کے قبضہ میں نہ ہو تو اب جو قسم یا دیت لازم ہو گی وہ ان پر ہو گی جن کے قبضہ میں مکان ہے اس پر نہیں کہ جس کا قبضہ نہیں اگرچہ وہ اس کے ملک میں ہے ۔ امام محمدرحمتہ اللہ علیہ نے اس سلسلہ میں دلیل دیتے ہوئے فرمایا کہ اس کے متعلق علماء کا اجماع ہے کہ قسم مالک پر واجب ہوتی ہے رہائش پذیر نہیں وہ اس طرح کہ اگر ایک مکان خاوند اور اس کی بیوی کے پاس ہو اور وہ مکان خاوند کا ہو پھر وہاں کوئی پقتول پایا جا ئے تو قسم اور دیت صرف خاوند کے رشتہ داروں پر ہو گی عورت کے رشتہ داروں پر نہیں ہو گی ۔حالانکہ کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ مکان دونوں کے قبضہ میں ہے اور اگر وہاں کپڑا پایا جائے تو ا ن میں سے ایک دوسرے کی نسبت زیادا حقدار نہ مانا جائے گا ۔ البتہ یہ اپنے مقام پر ہے کہ جو چیزیں اس کے ملک اورقبضے میں ہو گی تو اس کا حقدار ہو گا ۔پس اگر قسم اس شخص پر ڈالی جاتی ہے جس کے قبضہ میں مکان ہے تو عورت اور مرد دونوں پر آتی کیونکہ مکان تو دونوں کے قبضہ میں ہے اور اس کے ساتھ دونوں وہاں رہائش پذیر ہیں تو جب اس صورت میں جو کچھ بھی لازم ہوتا ہے وہ صرف خاوند ہر لازم ہوتا ہے عورت پر نہیں کیونکہ وہی مالک ہے ۔ تو جہاں بھی مقتول پایا جائے قسم اور دیت مالک پر ہو گی وہاں کے رہائش پذیر لوگوں پر نہیں ۔

يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 4943

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter