شرح معنی الآثار الطحاوي · Book ‹ ( 18 باب القسامة هل تكون على ساكني الدار الموجود فيها القتيل أو على مالكها ) · حديث 4939
4669 - حدثنا يونس قال ثنا سفيان عن يحيى بن سعيد سمع بشير بن يسار عن سهل بن أبي حثمة قال وجد عبد الله بن سهل قتيلا في قليب من قلب خيبر فجاء أخوه عبد الرحمن بن سهل وعماه حويصة ومحيصة ابنا مسعود رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فذهب عبد الرحمن ليتكلم فقال النبي صلى الله عليه و سلم الكبر الكبر فتكلم أحد عميه إما حويصة وإما محيصة تكلم الكبير منهما قال يا رسول الله إنا وجدنا عبد الله بن سهل قتيلا في قليب من قلب خيبر وذكر عداوة يهود لهم قال أفتبرئك يهود بخمسين يمينا أنهم لم يقتلوه قال قلت وكيف نرضى بأيمانهم وهم مشركون قال فيقسم منكم خمسون أنهم قتلوه قالوا كيف نقسم على ما لم نر فوداه رسول الله صلى الله عليه و سلم من عنده
بشیر بن یسار سہل بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کو خیبر کے ایک کنوئیں میں مقتول پایا اس کا بھائی عبدالرحمن بن سہل اور اس کے سانوں چچا حویصہ اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔عبدالرحمن بات کرنے لگے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا بڑا ۔بڑا یعنی بڑا بات کرے ۔ چنانچہ دونوں چچاؤں حویصہ ،محیصہ میں سے ایک نے بات کی ان میں سے بڑے نے بات کی ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم نے عبداللہ بن سہل کو خیبر کے ایک کنوئیں میں مقتول پایا ہے ۔انہوں نے اپنے ساتھ یہود کی عداوت کا تذکرہ پایا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہود کی پچاس قسمیں کہ انہوں نے قتل نہیں کیا تم سے ان کو بری کر دیں گی ؟ میں نے عرضکیاہمان کی قسمیں کس طرح تسلیم کر لیں گے جبکہ وہ مشرک ہیں آپﷺ نے فرمایا پھر تمہارے پچاس آدمی قسمیں اٹھائیں کہ انہوں نےہی قتل کیا ہے ۔ امہوں نے کہا کہ ہم اس پر کس طرح قسمیں اٹھائیں کہ انہوںنےہی قتل کیا ہے ۔ اس پر جناب رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے عبداللہ کی دیت ادا فرمائی .
سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← يُونُسَ
Hadith 4939
