شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 22 باب الصائم يحتجم ) · حديث 3338
3167 - حدثنا على بن معبد قال ثنا روح بن عبادة قال ثنا سعيد عن مطر الوراق عن بكر بن عبد الله المزني عن أبى رافع قال دخلت على أبى موسى وهو يحتجم ليلا فقلت لولا كان هذا نهارا فقال أتأمرنى أن أهريق دمى وأنا صائم وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول أفطر الحاجم والمحجوم
ابو رافع کہتے ہیں کہ میں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کی خدمت میں گیا وہ رات کو سینگی لگوا رہے تھے میں نے کہا یہ دن میں کیوں نہیں لگوائی تو کہنے لگے کہ کیا تم مجھے حکم دیتے ہو کہ میرا خون روزے کی حالت میں بہایا جائے حالا نکہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’ افطر الحاجم وامحجوم‘‘۔
أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ. ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← صَائِمٌ وَقَدْ ← أَتَأْمُرُنِي أَنْ أُهَرِيقَ دَمِي ← دَخَلْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى وَهُوَ يَحْتَجِمُ لَيْلاً فَقُلْتُ: لَوْلاَ كَانَ هَذَا نَهَارًا ← أَبِي رَافِعٍ ← بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ ← مَطَرٌ الْوَرَّاقُ، ← سَعِيدٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،
Hadith 3338
