شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4001
3785 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا سفيان بن عيينة عن عبيد الله بن أبي يزيد عن أبيه عن سباع بن ثابت عن أم كرز قالت أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحديبية أسأله عن لحوم الهدي قال أبو جعفر فذهب قوم إلى ان الهدي إذا صد عن الحرم نحر في غير الحرم واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا لما نحر رسول الله صلى الله عليه و سلم الهدي بالحديبية إذ صد عن الحرم دل ذلك على أن لمن منع من إدخال هديه الحرم أن يذبحه في غير الحرم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز نحر الهدي إلا في الحرم وكان من حجتهم في ذلك قول الله عز و جل هديا بالغ الكعبة فكان الهدي قد جعله الله عز و جل ما بلغ الكعبة فهو كالصيام الذي جعله الله عز و جل متتابعا في كفارة الظهار وكفارة القتل فلا يجوز غير متتابع وإن كان الذي وجب عليه غير منطبق الإتيان به متتابعا فلا تبيحه الضرورة أن يصومه متفرقا فكذلك الهدي الموصوف ببلوغ الكعبة لا يجزئ الذي هو عليه كذلك وإن صد عن بلوغ الكعبة للضرورة أن يذبحه فيما سوى ذلك وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في نحر النبي صلى الله عليه و سلم لذلك الهدي الذي نحره بالحديبية لما صد عن الحرم وتصدق بلحمه بقديد أن قوما زعموا أن نحره إياه كان في الحرم
سباع بن ثابت نے ام کرز سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حد یبیہ میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھاہدایا کے گوشت کا حکم کیا ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ہدی روک لیے جانے کے بعد حرم سے باہر ذبح کر یں گے۔انہوں نے مذکورۃ الصدر روایت کو مستدل بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہدایا کوحدیبیہ میں نحر کیا تو می اس بات کی دلالت ہے کہ جس کو روکا جائے وہ ہدی کو غیر حرم میں ہی ذبح کر دے ۔مگر دیگر جماعت علماء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ ہدایا کوحرم کی حدود میں ہی ذبح کیا جاسکتا ہے۔ان کی دلیل یہ ہے ۔ کہ اللہ تعالی نے فرمایا:ھدیا بالغ الکعبہ کہ وہ ہدی کعبہ تک پہنچنے والی ہو ۔ تو اللہ تعالی نے اس کو ھدی فرمایا جو کعبہ تک پہنچتی ہووہ ان دونوں کی طرح ہے جن کواللہ تعالی نے کفارہ قتل وظہار میں تسلسل کے ساتھ رکھنے کاحکم فرمایا ہے اگران کو بلاتسلسل رکھا جائے تو جائز نہ ہونگے ۔ اگر وہ شخص اس کی طاقت نہ رکھتا ہوتو اس کے لئے ضرورت کے طور پر متفرق رکھنا درست نہیں۔اسی طرح وہ ہدی جو بیت اللہ تک پہنچنے کے ساتھ متصف ہے اگر اس کو روک دیا جائے تو جس شخص پر وہ ہدی لازم ہوئی وہ ضرورت کے طور پر بھی اسے دوسری جگہ ذبح نہیں کر سکتا۔ پس وہ ہدی جو روک لی گئی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حدیبیہ میں ذبح کرقد ید کے مقام پر اس کا گوشت صدقہ کیا اس کے متعلق قول اول کے قائلین کے خلاف دلیل یہ ہے کہ ایک جماعت کے خیال میں آپ نے اسے حد ودحرم میں ذبح کیا تھا۔ روایت ذیل میں ملاحظہ ہو۔
أُمِّ کُرْزٍ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4001
