Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4001

3785 - حدثنا فهد قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا سفيان بن عيينة عن عبيد الله بن أبي يزيد عن أبيه عن سباع بن ثابت عن أم كرز قالت أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم بالحديبية أسأله عن لحوم الهدي قال أبو جعفر فذهب قوم إلى ان الهدي إذا صد عن الحرم نحر في غير الحرم واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وقالوا لما نحر رسول الله صلى الله عليه و سلم الهدي بالحديبية إذ صد عن الحرم دل ذلك على أن لمن منع من إدخال هديه الحرم أن يذبحه في غير الحرم وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يجوز نحر الهدي إلا في الحرم وكان من حجتهم في ذلك قول الله عز و جل هديا بالغ الكعبة فكان الهدي قد جعله الله عز و جل ما بلغ الكعبة فهو كالصيام الذي جعله الله عز و جل متتابعا في كفارة الظهار وكفارة القتل فلا يجوز غير متتابع وإن كان الذي وجب عليه غير منطبق الإتيان به متتابعا فلا تبيحه الضرورة أن يصومه متفرقا فكذلك الهدي الموصوف ببلوغ الكعبة لا يجزئ الذي هو عليه كذلك وإن صد عن بلوغ الكعبة للضرورة أن يذبحه فيما سوى ذلك وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في نحر النبي صلى الله عليه و سلم لذلك الهدي الذي نحره بالحديبية لما صد عن الحرم وتصدق بلحمه بقديد أن قوما زعموا أن نحره إياه كان في الحرم

سباع بن ثابت نے ام کرز سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حد یبیہ میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پو چھاہدایا کے گوشت کا حکم کیا ہے۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ہدی روک لیے جانے کے بعد حرم سے باہر ذبح کر یں گے۔انہوں نے مذکورۃ الصدر روایت کو مستدل بنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہدایا کوحدیبیہ میں نحر کیا تو می اس بات کی دلالت ہے کہ جس کو روکا جائے وہ ہدی کو غیر حرم میں ہی ذبح کر دے ۔مگر دیگر جماعت علماء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ ہدایا کوحرم کی حدود میں ہی ذبح کیا جاسکتا ہے۔ان کی دلیل یہ ہے ۔ کہ اللہ تعالی نے فرمایا:ھدیا بالغ الکعبہ کہ وہ ہدی کعبہ تک پہنچنے والی ہو ۔ تو اللہ تعالی نے اس کو ھدی فرمایا جو کعبہ تک پہنچتی ہووہ ان دونوں کی طرح ہے جن کواللہ تعالی نے کفارہ قتل وظہار میں تسلسل کے ساتھ رکھنے کاحکم فرمایا ہے اگران کو بلاتسلسل رکھا جائے تو جائز نہ ہونگے ۔ اگر وہ شخص اس کی طاقت نہ رکھتا ہوتو اس کے لئے ضرورت کے طور پر متفرق رکھنا درست نہیں۔اسی طرح وہ ہدی جو بیت اللہ تک پہنچنے کے ساتھ متصف ہے اگر اس کو روک دیا جائے تو جس شخص پر وہ ہدی لازم ہوئی وہ ضرورت کے طور پر بھی اسے دوسری جگہ ذبح نہیں کر سکتا۔ پس وہ ہدی جو روک لی گئی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حدیبیہ میں ذبح کرقد ید کے مقام پر اس کا گوشت صدقہ کیا اس کے متعلق قول اول کے قائلین کے خلاف دلیل یہ ہے کہ ایک جماعت کے خیال میں آپ نے اسے حد ودحرم میں ذبح کیا تھا۔ روایت ذیل میں ملاحظہ ہو۔

أُمِّ کُرْزٍ ← سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4001

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4002

3786 - حدثنا إبراهيم بن أبي داود قال ثنا مخول بن إبراهيم بن مخول بن راشد عن إسرائيل عن مجزأة بن زاهر عن ناجية بن جندب الأسلمي عن أبيه قال أتيت النبي صلى الله عليه و سلم حين صد الهدي فقلت يا رسول الله ابعث معي بالهدي فلأنحره في الحرم قال وكيف تأخذ به قلت آخذ به في أودية لا يقدرون علي فيها فبعثه معي حتى نحرته في الحرم فقد دل هذا الحديث أن هدي النبي صلى الله عليه و سلم ذلك نحر في الحرم وقال آخرون كان النبي صلى الله عليه و سلم بالحديبية وهو يقدر على دخول الحرم قالوا ولم يكن صد إلا عن البيت واحتجوا في ذلك بما

مجزاۃ بن زاہر بیان کرتے ہیں کہ ناجیہ بن جندب اسلمی رضی اللہ عنہ نے (اپنے والد سے) روایت نقل کی ہے کہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ کے ہدایا کوروک لیا گیا تھا میں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ساتھ ہدایا روانہ کر دیں میں ان کو حرم میں ضرورنحر کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم یہ کس طرح کرو گے میں نے کہا میں ان کوایسی وادیوں میں سے لے جاؤں گا جن میں وہ مجھ پر قابونہ پاسکیں گے چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایا ان کے ساتھ بھیج دیئے انہوں نے لے جا کر حرم میں ذبح کر دیئے ۔ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ھدی حرم میں ذبح کی گئی ۔بعض دیگر حضرات کا کہنا ہے کہ آپ حد یبیہ میں تھے اور حرم میں داخلے کی قدرت تھی اور آپ کور کاوٹ تو کعبہ اللہ سے تھی ۔ ان کا استدلال اس طرح ہے ذیل میں ملاحظہ ہو۔

أتيت النبي صلى الله عليه و سلم حين صد الهدي فقلت ← أَبِيهِ ← ناجية بن جندب الأسلمي ← مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← مخول بن إبراهيم بن مخول بن راشد ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4002

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4003

3787 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا سفيان بن بشر الكوفي قال ثنا يحيى بن زائدة عن محمد بن إسحاق عن الزهري عن عروة عن المسور أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان بالحديبية خباؤه في الحل ومصلاه في الحرم فثبت بما ذكرنا أن النبي صلى الله عليه و سلم لم يكن صد عن الحرم وأنه كان يصل إلى بعضه ولا يجوز في قول أحد من العلماء لمن قدر على دخول شيء من الحرم أن ينحر هديه دون الحرم فلما ثبت بالحديث الذي ذكرنا أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصل إلى بعض الحرم استحال أن يكون نحر الهدي في غير الحرم لأن الذي أباح نحر الهدي في غير الحرم إنما يبيحه في حالة الصد عن الحرم في حال القدرة على دخوله فانتفى بما ذكرنا أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم نحر الهدي في غير الحرم وهذا قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد احتج قوم في تجويز نحر الهدي في غير الحرم بما

عروہ نے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں تھے اور آپ کا خیمہ توحل میں تھامگر مصلٰی نماز حرم کی حدود میں تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم سے نہ رو کے گئے تھے کسی بھی عالم نے آج تک نہیں کہا کہ جوشخص حرم میں مطلقاً داخل ہو سکے تو اس کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنی ہدی حرم کے علاوہ نحرکر ے ۔ مذکورہ بیان سے ثابت ہوا کہ آپ کو حرم سے رکاوٹ نہیں ہوئی تھی ۔حرم کے کچھ حصہ تک آپ پہنچ چکے تھے اور کسی بھی فقیہ کے ہاں کسی شخص کے لئے حرم سے با ہرھدی کا ذبح کرنا درست نہیں جوحرم کے کسی بھی حصہ میں داخلہ کی قدرت رکھتا ہو۔ جب مذکورہ روایت نے ثابت کر دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے بعض حصے تک پہنچ چکے تھے تو یہ بات ناممکن ہے کہ آپ نے حرم سے باہر قربانی کی ہو۔ کیونکہ حرم سے باہر ھدی کے نحر کا جواز اس صورت میں ہے جب حرم سے رکاوٹ ہو۔حرم میں داخلہ کی طاقت میسر ہونے کی صورت میں جائز نہیں ۔ پس اس بیان سے اس چیز کی نفی ہوگئی کہ آپ نے حرم سے باہر ھدی ذبح کی یامام ابوحنیفہ‘ ابو یوسف‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے اور بعض حضرات نے غیرمحرم میں ھدی کے ذبح پر اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کے بعض حصہ میں داخل ہوئے تو یہ ناممکن ہے کہ ہدی کو غیر حرم میں ذبح کیا ہو کیونکہ جولوگ ہدی کو حرم کے علاوہ جگہ میں ذبح کرنا جائز قرار دیتے ہیں وہ تو احصار کی حالت میں جائز کہتے ہیں اور یہاں تو حرم میں دخول کی قدرت تھی بیت اللہ میں داخلہ کی رکاوٹ تھی۔ اس سے وہ بات غلط ثابت ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو غیر حرم میں ذبح کیا تھا۔ میں ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ‘ ابویوسف‘ محمد رحمہم اللہ کاقول ہے۔

الْمِسْوَرِ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يحيى بن زائدة ← سُفْيَانُ بْنُ بِشْرٍ الْكُوفِيُّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4003

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4004

3788 - حدثنا علي بن شيبة قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن يحيى بن سعيد عن يعقوب بن خالد عن أبي أسماء مولى عبد الله بن جعفر قال خرجت مع عثمان وعلي رضي الله عنهما فاشتكى الحسن رضي الله عنه بالسقيا وهو محرم فاصابه برسام فأومى إلى رأسه فحلق علي رأسه ونحر عنه جزورا فأطعم أهل الماء

یعقوب بن خالد نے ابواسماءمولیٰ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں عثمان وعلی رضی اللہ عنہ اجمعین کے ساتھ نکلاحسن رضی اللہ عنہ مقام سقیاء میں احرام کی حالت میں بیمار ہو گئے ان کو برسام ہوگئی انہوں نے اپنے سر کی طرف اشارہ کیا تو علی رضی اللہ عنہ نےان کے سرکومونڈ دیا اوران کے صدقہ کے طور پراونٹ ذبح کر کے مقام سقیاء کے لوگوں کو کھلائے۔

أبي أسماء مولى عبد الله بن جعفر ← يَعْقُوبَ بْنِ خَالِدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4004

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 32 باب الهدي يصد عن الحرام هل ينبغي أن يذبح في غير الحرم أم لا ) · حديث 4005

3789 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى فذكر بإسناده مثله غير أنه لم يذكر عثمان رضي الله عنه ولأن الحسن رضي الله عنه كان محرما فاحتجوا بهذا الحديث لأن فيه أن عليا نحر الجزور دون الحرم فكان من الحجة عليهم في ذلك أنهم لا يبيحون لمن كان غير ممنوع من الحرم أن يذبح في غير الحرم وإنما يختلفون إذا كان ممنوعا عنه فدل ما ذكرنا على ان عليا رضي الله عنه لما نحر في هذا الحديث في غير الحرم وهو واصل إلى الحرم أنه لم يكن أراد به الهدي ولكنه أراد به معنى آخر من الصدقة على أهل ذلك الماء والتقرب الى الله تعالى بذلك مع أنه ليس في الحديث أنه أراد به الهدي فكما يجوز لمن حمله على أنه هدي ما حمله عليه من ذلك فكذلك يجوز لمن حمله على أنه ليس بهدي ما حمله عليه من ذلك وقد بدأنا بالنظر في ذلك وذكرنا في أول هذا الباب فأغنانا ذلك عن إعادته ها هنا

مالک نے یحییٰ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے البتہ اس میں عثمان رضی اللہ عنہ کاذکرنہیں کیا اور نہ اس بات کا تذکرہ ہے کہ حسن رضی اللہ عنہ محرم تھے ۔انہوں نے اس روایت کوا پنی دلیل بنایا ہے کیونکہ اس میں مذکور ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اونٹ کو ذبح کیا اور وہ علاقہ حرم کا نہ تھا۔ جواب یہ ہے کہ جس کو حرم میں پہنچانے کی ممانعت نہ ہو وہ اس کے لئے غیر حرم میں ذبیحہ کو مباح قرار نہ دیتے تھے ۔ جب حرم میں پہنچنا اس کے لئے منع ہوتو اس میں ان کا اختلاف تھا۔ مذکورہ بات سے ی دلالت مل گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب اس اونٹ کو غیر حرم میں ذبح کر دیا جیسا کہ روایت میں ہے حالانکہ وہ حرم میں پہنچ سکتے تھے ۔ تو معلوم ہوا ان کا مقصود اس سے ھدی نہ تھا ۔ بلکہ وہ صدقہ کی قسم تھی ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں کہیں نہیں کہ اس سے ھدی مرادتھی ۔ جس طرح اس سے ھدی مراد لینا درست ہے جنہوں نے حدی مراد لی اسی طرح اس کا اس پر حمل کر نا بھی درست ہے کہ وہ ہدی نہ تھی اس سلسلہ میں شروع باب میں بیان کردہ نظر اعادہ سے ہمیں بے نیاز کر نے والی ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 4005

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter