شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 9 باب فرض الرجلين في وضوء الصلاة ) · حديث 148
151 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن عبد الملك بن ميسرة عن النزال بن سبرة قال رأيت عليا رضي الله عنه صلى الظهر ثم قعد للناس في الرحبة ثم أتي بماء فمسح بوجهه ويديه ومسح برأسه ورجليه وشرب فضله قائما ثم قال إن ناسا يزعمون أن هذا يكره وإني رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع مثل ما صنعت وهذا وضوء من لم يحدث قال أبو جعفر وليس في هذا الحديث عندنا دليل أن فرض الرجلين هو المسح لأن فيه أنه قد مسح وجهه فكان ذلك المسح هو غسل فقد يحتمل أن يكون مسحه برجله أيضا كذلك
نزال سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز ظہر ادا کی پھر لوگوں کی ملاقات کے لیے وسیع جگہ میں بیٹھ گئے پھر ان کےپاس لایا گیا انہوں نے اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر ملا اور سر اور دونوں پاؤں کا مسح کیا اور جو بچ رہا اسے کھڑے ہو کر پیا پھر فرمایا کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ مکروہ و ناپسندیدہ ہے بلاشبہ میں نےجناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ اسی طرح کرتے جیسا میں نےکیا اور یہ اس کا وضو ہے جس کا وضو نہ ٹوٹا ہو۔ ( کہ اعضا ء کو تر و تازہ کر لے)امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہمارے ہاں اس روایت میں پاؤں پر مسح کے فرض ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ اس روایت میں صرف اس قدر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کا مسح فرمایا اور یہ مسح درحقیقت ملنے کے بغیر دھونا ہے پس اس بات کا احتمال ہے کہ پاؤں کے مسح کا معنی بھی ملنے کے بغیر دھونا ہو جیسا کہ ان روایات میں ہے ۔
النَّزَّالِ بْنِ1 سَبْرَةَ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 148
