شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 31 باب السلام في الصلاة كيف هو ) · حديث 1545
1470 - حدثنا ربيع الجيزي وروح بن الفرج قالا ثنا أحمد بن أبي بكر الزهري قال ثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن مصعب بن ثابت عن إسماعيل بن محمد عن عامر بن سعد عن سعد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يسلم في آخر الصلاة تسليمة واحدة السلام عليكم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن المصلي يسلم في صلاته تسليمة واحدة تلقاء وجهه السلام عليكم واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل ينبغي له أن يسلم عن يمينه وعن شماله يقول في كل واحدة من التسليمتين السلام عليكم ورحمة الله وكان من حجتنا عليهم في ذلك على أهل المقالة الأولى أن حديث سعد هذا إنما رواه كما ذكره الدراوردي خاصة وقد خالفه في ذلك كل من رواه عن مصعب غيره
عامر بن سعد نے سعد رضی اللہ عنہ کے متعلق نقل کیا کہ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق نقل کیا ہے کہ آپ نماز کے آخر میں ایک سلام پھیرتے تھے جو السلام علیکم کے لفظ سے ہوتا تھا ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا مؤقف یہ ہے کہ نمازی نماز میں ایک مرتبہ سلام پھیرتے ہوئے السلام علیکم کہے اور انہوں نے مذکورہ روایت کو اپنا مستدل بنایا جبکہ دیگر علماء کی جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا نمازی کو چاہیے کہ وہ دائیں بائیں سلام پھیرلے اور دونوں طرف سلام میں السلام علیکم ورحمۃ اللہ کاکلمہ کہے۔ پہلے قول والوں کے خلاف انکی دلیل یہ ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی روایت کا راوی صرف در اور دی ہے جبکہ دیگر تمام روات نے مصعب سے روایت کرتے ہوئے اس کے مخالف روایت نقل کی ہے ۔
سَعْدٍ، ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، ← عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِیُّ ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ الزُّھْرِیُّ ← ربيع الجيزي وروح بن الفرج
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1545
