Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 867

818 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل بن إسماعيل قال ثنا سفيان عن عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي ربيعة عن حكيم بن حكيم بن عباد بن سهل بن حنيف عن نافع بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه

نافع بن جبیر ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت نقل کرتے ہیں ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حكيم بن حكيم بن عباد بن سهل بن حنيف ← عبد الرحمن بن عبد الله بن أبي ربيعة ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 867

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 868

819 - وحدثنا يونس قال أنا بن وهب قال أخبرني يحيى بن عبد الله بن سالم عن عبد الرحمن بن الحارث المخزومي عن نافع بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه وحدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن ربيعة عن حكيم بن حكيم عن نافع بن جبير عن بن عباس رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أمني جبرائيل عليه السلام مرتين عند باب البيت فصلى بي الظهر حين مالت الشمس وصلى بي العصر حين صار ظل كل شيء مثله وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم وصلى بي العشاء حين غاب الشفق وصلى بي الفجر حين حرم الطعام والشراب على الصائم وصلى بي الظهر من الغد حين صار ظل كل شيء مثله وصلى بي العصر حين صار ظل كل شيء مثليه وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم وصلى بي العشاء حين مضى ثلث الليل وصلى بي الغداة عندما أسفر ثم التفت إلى فقال يا محمد الوقت فيما بين هذين الوقتين هذا وقت الأنبياء من قبلك

نافع بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل امین نے بیت اللہ کے دروازے کے پاس مجھے دو فعہ امامت کرائی تفصیل اس طرح ہے مجھے ظہر کی نماز پرھائی جب سورج ڈھل گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا اور مجھے مغرب کی نماز پڑھائی جبکہ روزہ دار روزہ افطار کرتا ہے اور مجھے عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غائب ہو گیا اور فجر پڑھائی جب روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے اور دوسرے دن مجھے ظہر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ ایک مثل ہو گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا اور مجھے مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار روزہ کھولتا ہے اور مجھے عشاء کی نماز پڑھائی جب رات کا تیسرا حصہ گزر گیا اور فجر کی نماز پڑھائی جب سپیدا ہو گیا پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم وقت ان دونوں اوقات کے درمیان ہے اور یہ آپ سے پہلے انبیاء علیہم السلام کا وقت ہے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حَکِيمِ بْنِ حَکِيمٍ ← عبد الرحمن بن الحارث بن عياش بن ربيعة ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ← أسد ← بن عباس وحدثنا ربيع المؤذن ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيِّ ← يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ، ← بن وَهْبٍ ← وحدثنا يونس

Hadith 868

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 869

820 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عبد الله بن يوسف قال ثنا عبد الله بن لهيعة قال ثنا بكير بن الأشج عن عبد الملك بن سعيد بن سويد الساعدي سمع أبا سعيد الخدري يقول قال رسول الله صلى الله عليه و سلم أمني جبرائيل عليه السلام في الصلاة فصلى الظهر حين زاغت الشمس وصلى العصر حين قامت قائمة وصلى المغرب حين غابت الشمس وصلى العشاء حين غاب الشفق وصلى الصبح حين طلع الفجر ثم أمني في اليوم الثاني فصلى الظهر وفيء كل شيء مثله وصلى العصر والفيء قامتان وصلى المغرب حين غابت الشمس وصلى العشاء الآخرة إلى ثلث الليل الأول وصلى الصبح حين كادت الشمس أن تطلع ثم قال الصلاة فيما بين هذين الوقتين

عبدا لملک بن سعید بن سوید الساعدی نے حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبرائیل علیہ السلام نے نماز میں میری امامت کرائی پس ظہر کی نماز ادا کی جب سورج ڈھل گیا اور عصر کی نماز پڑھی جب ایک قد کے برابر ہو گیا اور مغرب کی نماز ادا کی جب سورج غروب ہو گیا اور عشاء کی نماز ادا کی جب شفق شفق غائب ہو گیا اور صبح کی نماز ادا کی جب صبح صادق ہوئی پھر دوسرے روز مجھے امامت کرائی پس ظہر کی نماز پڑھائی جب کہ ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا اور عصر کی نماز ادا کی جبکہ سایہ دو قد کے مطابق ہو گیا اور مغرب کی نماز ادا کی جبکہ سورج غائب ہو گیا اور عشاء کی نماز اول ثلث لیل تک ادا فرمائی اور صبح کی نماز ادا کی جب سورت طلوع کے قریب ہو گیا پھر فرمایا نماز ان دونوں اوقات کے درمیان ہے ۔

أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عبد الله بن لهيعة ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← بن أبي داود

Hadith 869

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 870

821 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا نعيم بن حماد قال ثنا الفضل بن موسى الشيباني قال ثنا محمد بن عمر عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا جبرائيل عليه السلام يعلمكم أمر دينكم ثم ذكر مثله غير أنه قال في العشاء الآخرة وصلاها في اليوم الثاني حين ذهبت ساعة من الليل

محمد بن عمر نے ابو سلمہ سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام ہیں جو تمہیں تمہارے دین کے معاملات سکھاتے ہیں پھر اوپر والی روایت کو اسی طرح ذکر کیا سوائے ان الفاظ کے جو عشاء کے بارے میں فرماتے وہ دوسرے روز اس وقت ادا کی جب رات کی ایک گھڑی جا چکی ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى الشَّيْبَانِيُّ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← بن أبي داود

Hadith 870

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 871

822 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا حامد بن يحيى قال ثنا عبد الله بن الحارث قال ثنا ثور بن يزيد عن سليمان بن موسى عن عطاء بن أبي رباح عن جابر بن عبد الله قال سأل رجل نبي الله صلى الله عليه و سلم عن وقت الصلاة فقال صل معي فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم الصبح حين تطلع الفجر ثم صلى الظهر حين زاغت الشمس ثم صلى العصر حين كان فيء الإنسان مثله ثم صلى المغرب حين وجبت الشمس ثم صلى العشاء قبل غيبوبة الشفق ثم صلى الصبح فأسفر ثم صلى الظهر حين كان فيء الإنسان مثله ثم صلى العصر حين كان فيء الإنسان مثليه ثم صلى المغرب قبل غيبوبة الشفق ثم صلى العشاء فقال بعضهم ثلث الليل وقال بعضهم شطر الليل

عطاء بن ابی رباح نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی کہ ایک آدمی نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوقات نماز کا سوال کیا تو آپ نے فرمایا میرے ساتھ نماز ادا کرو پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی جبکہ فجر طلوع ہوئی پھر ظہر کی نماز ادا کی جبکہ سورج ڈھل گیا پھر عصر کی نماز ادا کی جبکہ انسان کا سایہ اس کی مثل ہو گیا پھر مغرب کی نماز ادا کی جب کہ سورج غروب ہو گیا پھر عشاء کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے ادا کی پھر صبح کے نماز خوب روشن کر کے ادا کی پھر ظہر کی نماز ادا کی جبکہ ہر انسان کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا پھر عصر کی نماز ادا کی جب انسانی سایہ اس کے دو مثل ہو گیا پھر مغرب کی نماز شفق کے غائب ہونے سے پہلے ادا کی پھر نماز عشاء ادا فرمائی بعض روات نے ثلث لیل اور بعض نے شطرااللیل کے الفاظ نقل کیےہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى، ← بن أبي داود

Hadith 871

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 872

823 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج بن المنهال قال ثنا همام قال سمعت عطاء بن أبي رباح قال حدثني رجل منهم أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله عن مواقيت الصلاة فأمره أن يشهد الصلاة معه فصلى الصبح فعجل ثم صلى الظهر فعجل ثم صلى العصر فعجل ثم صلى المغرب فعجل ثم صلى العشاء فعجل ثم صلى الصلوات كلها من الغد فأخر ثم قال للرجل ما بين صلاتي في هذين الوقتين وقت كله

عطاء بن ابی رباح کہتے ہیں کہ مجھے صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے ایک آدمی نے بیان کیا کہ ایک آدمی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ سے نماز کے اوقات کے سلسلہ میں سوال کیا تو آپ نے اسے حکم دیا کہ وہ نمازوں میں آپ کے ساتھ حاضر رہے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز جلدی پڑھائی پھر اگلے روز تمام نمازیں موخر کر کے پڑھائیں پھر آدمی کو فرمایا میرے ان دونوں دنوں کی نماز کے درمیان سارا نماز کا وقت ہے ۔

رجل منهم أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← هَمَّامٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Hadith 872

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 873

824 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا بدر بن عثمان قال حدثني أبو بكر بن أبي موسى عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال أتاه سائل فسأله عن مواقيت الصلاة فلم يرد عليه شيئا فأمر بلال فأقام الفجر حين انشق الفجر والناس لا يكاد يعرف بعضهم بعضا ثم أمره فأقام الظهر حين زالت الشمس والقائل يقول انتصف النهار أولم وكان أعلم منهم ثم أمره فأقام العصر والشمس مرتفعة ثم أمره فأقام المغرب حين وقعت الشمس ثم أمره فأقام العشاء حين غاب الشفق ثم أخر الفجر من الغد حتى انصرف منها والقائل يقول طلعت الشمس أو كادت ثم أخر الظهر حتى كان قريبا من العصر ثم أخر العصر حتى انصرف منها والقائل يقول احمرت الشمس ثم أخر المغرب حتى كان عند سقوط الشفق ثم أخر العشاء حتى كان ثلثي الليل الأول ثم أصبح فدعا السائل فقال الوقت فيما بين هذين

ابو بکر بن ابی موسیٰ نے اپنے والد ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ آپ کی خدمت میں ایک شخص اوقات نماز کے متعلق پوچھنے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب مرحمت نہ فرمایا پس بلال کو حکم دیا انہوں نے فجر کی اقامت کہی جب کہ فجر پھوٹ چکی اور اندھیرے کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو نہیں پہچان رہے تھے پھر اس کو حکم دیا اس نے ظہر کی اقامت کہی جبکہ سورج ڈھل گیا اور کہنے والے کہہ رہے تھے دن آدھا ہو گیا یا نہیں آپ ان میں سب سے بہتر جاننے والے تھے پھر آپ نے ان کو حکم فرمایا انہوں نے عصر کی اقامت کی جبکہ سورج ابھی بلند تھا پھر بلال کو حکم فرمایا اس نے مغرب کی جماعت اس وقت کھڑی کی جبکہ سورج غروب ہو گیا پھر ان کو حکم دیا اور شفق کے غائب ہونے پر عشاء کی جماعت کھڑی کی پھر اگلے روز فجر کو موخر فرمایا یہاں تک کہ عصرکےقریب وقت ہو گیا پھر عصر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ اس سے لوٹنے والے کہہ رہے تھے سورج سرخ ہو گیا ہے پھر مغرب کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ شفق غروب ہو نے لگا پھر عشاء کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ رات کے پہلے دو ثلث گزر گئے پھر جب صبح ہوئی تو سائل کو بلایا اور فرمایا ان دونوں اوقات کے درمیان درمیان نمازوں کے اوقات ہیں۔

أَبِيهِ ← أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي مُوسَی ← بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Hadith 873

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 874

825 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا موسى قال ثنا إسماعيل بن سالم قال ثنا إسحاق بن يوسف عن سفيان الثوري عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم أن رجلا سأله عن وقت الصلاة فقال صل معنا قال فلما زالت الشمس أمر بلالا فأذن ثم أمره فأقام العصر والشمس بيضاء مرتفعة نقية ثم أمره فأقام المغرب حين غابت الشمس ثم أمره فأقام العشاء حين غاب الشفق ثم أمره فأقام الفجر حين تطلع الفجر فلما كان في اليوم الثاني أمره فأذن للظهر فأبرد بها فأنعم أن يبرد بها وصلى العصر والشمس مرتفعة أخرها فوق الذي كان وصلى المغرب قبل أن يغيب الشفق وصلى العشاء بعدما ذهب ثلث الليل وصلى الفجر فأسفر بها ثم قال أين السائل عن وقت الصلاة فقال الرجل أنا يا رسول الله فقال وقت صلاتكم فيما بين ما رأيتم فأما ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في هذه الآثار في صلاة الفجر فلم يختلفوا عنه فيه أنه صلاها في اليوم الأول حين طلع الفجر وهو أول وقتها وصلاها في اليوم التالي حين كادت الشمس أن تطلع وهذا اتفاق المسلمين أن أول وقت الفجر حين يطلع الفجر وآخر وقتها حين تطلع الشمس أما ما ذكر عنه في صلاة الظهر فإنه ذكر عنه أنه صلاها حين زالت الشمس على ذلك إتفاق المسلمين أن ذلك أول وقتها وأما آخر وقتها فإن بن عباس رضي الله عنه وأبا سعيد رضي الله عنه وجابر وأبا هريرة رضي الله عنه رووا عنه أنه صلاها في اليوم التالي حين كان ظل كل شيء مثله فاحتمل أن يكون ذلك بعدما صار ظل كل شيء مثله فيكون ذلك هو وقت الظهر بعد واحتمل أن يكون ذلك على قرب أن يصير ظل كل شيء مثله وهذا جائز في اللغة قال الله عز و جل وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فأمسكوهن بمعروف أو سرحوهن بمعروف فلم يكن ذلك الإمساك والتسريح مقصودا به أن يفعل بعد بلوغ الأجل لأنها بعد بلوغ الأجل قد بانت وحرم عليه أن يمسكها وقد بين الله عز و جل ذلك في موضع آخر فقال وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن فأخبر الله عز و جل أن حلالا لهن بعد بلوغ أجلهن أن ينكحن فثبت بذلك أن ما جعل للأزواج عليهن في الآية الأخرى إنما هو في قرب بلوغ الأجل لا بعد بلوغ الأجل فكذلك ما روى عمن ذكرنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه صلى الظهر في اليوم الثاني حين صار ظل كل شيء مثله يحتمل أن يكون على قرب أن يصير ظل كل شيء مثله فيكون الظل إذا صار مثله فقد خرج وقت الظهر والدليل على ما ذكرنا من ذلك أن الذين ذكروا هذا عن النبي صلى الله عليه و سلم قد ذكروا عنه في هذه الآثار أيضا أنه صلى العصر في اليوم الأول حين صار ظل كل شيء مثله ثم قال ما بين هذين وقت فاستحال أن يكون ما بينهما وقت وقد جمعهما في وقت واحد ولكن معنى ذلك عندنا والله أعلم على ما ذكرنا وقد دل على ذلك أيضا ما في حديث أبي موسى وذلك أنه قال فيما أخبر عن صلاته في اليوم الثاني ثم أخر الظهر حتى كان قريبا من العصر فأخبر أنه إنما صلاها في ذلك اليوم في قرب دخول وقت العصر لا في وقت العصر فثبت بذلك إذا أجمعوا في هذه الروايات أن بعد ما يصير ظل كل شيء مثله وقتا للعصر أنه محال أن يكون وقتا للظهر لإخباره أن الوقت الذي لكل صلاة فيما بين صلاتيه في اليومين وقد دل على ذلك أيضا ما

سلیمان بن بریدہ نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے نمازوں کے اوقات دریافت کیے تو ارشاد فرمایا ہمارے ساتھ نماز پڑھو بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب سورج ڈھل گیا تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تو انہوں نے اذان دی پھر ان کو حکم دیا انہوں نے عصر کی اقامت کہی جبکہ ابھی سورج سفید صاف ستھرا بلند تھا پھر اس کو حکم فرمایا انہوں نے مغرب کی نمازکھڑی کی جب کہ سورج غروب ہو چکا پھر اس کو حکم دیا انہوں نے عشاء کی جماعت کھڑی کی جب کہ شفق غائب ہو چکی پھر اس کو حکم فرمایا تو انہوں نے فجر کی جماعت اس وقت کھڑی کی جب صبح صادق طلوع ہوتی ہے جب دوسرا دن آیا تو اسے حکم دیا انہوں نے ظہر کی اذان دی اس کو خوب ٹھنڈا کر کے پڑھا اور بہت خوب ٹھنڈا کیا اور عصر کی نماز پڑھائی جبکہ سورج بلند تھا کل سے اس کو مؤخر کیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جب کہ ابھی شفق غائب نہ ہوئی تھی اور عشاء کی نماز پڑھائی جبکہ رات کا ایک ثلث گزر چکا تھا اور نماز فجر خوب اسفار میں پڑھائی پھر ارشاد فرمایا اوقات نماز کے سلسلہ میں سول کرنے والا کہاں ہے ؟ اس نے عرض کیا جی حاضر ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اوقات نمازوں کا وقت ان کے مابین ہے جو تم نے جان لیا۔ پھر جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے روایات مذکورہ میں نماز فجر سے متعلق وارد ہوا ہے اس میں کسی کوئی بھی اختلاف نہیں کہ آپ نے نماز فجر کو پہلے روز اس وقت ادا فرمایا جبکہ فجر طلوع ہو گئی اور یہ اس کا اول وقت ہے اور دوسرے دن کی ادائیگی طلوع آفتاب کے قریب تھی اس پر تو تمام مسلمانو ں کا اجماع ہے کہ فجر کا اول وقت طلوع فجر کے بعد شروع ہوتا ہے اور آخری وقت طلوع آفتاب سے پہلے تک ہے ۔ رہی نماز ظہر تو اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ منقول ہے کہ اسکی ادئیگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کی جب سورج ڈھل گیا اور اس پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور یہ اس کا اول وقت ہے ۔ البتہ اس کے آخری وقت کے متعلق حضرت ابن عباس ، ابو سعید ، جابر ، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے روز نماز ظہر اس وقت ادا فرمائی جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا اور یہ ابھی ظہر ہی کا وقت ہے اور اس میں یہ بھی احتمال پایا جاتا ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن بعمروف او سرحوھن بمعروف۔۔۔) تو یہاں امساک و تسریح کا حکم اس وقت سے متعلق ہے جب عدت رجوع قریب اور اختتام ہو کیونکہ اگر عدت رجوع پوری ہو گئی تو عورت مطلقہ بائنہ بن جائے گی ۔ حق امساک باقی ہی نہ رہے گا اور یہ بات اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمائی ہے ( واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فلا تعضلوھن لن ینکحن ازواجھن۔۔۔۔) اس میں بتلایا کہ ان کو اپنے خاوندوں کے ساتھ عدت کے مکمل ہونے پر نکاح کرنا حلال ہے ۔ پس اس سے یہ بات خود ثابت ہو گئی کہ خاوندوں پر جو ذمہ داری عائد کی گئی وہ عدت کا زمانہ ختم ہونے کے قریب زمانہ تک کے لیے ہے ۔ عدت کا زمانہ پورے ہوجانے کے بعد مراد نہیں ۔ پس اسی طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایت میں ( صلی الظہر فی الیوم الثانی حین صارظل کل شی مثلہ) میں قرب کا معنی مراد ہے کہ جب ہرچیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہونے کے قریب تھا۔ پس جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہوجائے گا تو اس وقت ظہر کاوقت ختم ہو جائے گا۔ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جن حضرات نے ان آثار میں ظہر کا آخری وقت ذکر کیا انہوں نےان آثار میں بھی کیا کہ آپ نے نماز عصر پہلے دن اس وقت ادا فرمائی جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو گیا اور پھر یہ بھی فرمایا کہ ان دو اوقات کے مابین وقت ہے ۔ پس یہ بات ناممکن ہے کہ ان کے مابین الگ وقت ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو ایک وقت میں جمع فرمایا ہو بلکہ ہمارے نزدیک اس کا معنی وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا واللہ اعلم ۔ اور ہماری اس بات پر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے اس نماز کو اس وقت ادا کیا جب نماز عصر کے داخلے کا وقت قریب قریب تھا ۔ یہ مطلب نہیں کہ وقت عصر میں ادا کیا ۔ پس اس سے یہ بات پختہ ہو گئی کہ اس پر تمام کا اتفاق ہے کہ جب ہر چیز کا سایہ اس کی مثل ہو جائے تو یہ عصر کا وقت ہے کیونکہ یہ نا ممکن ہے کہ یہ ظہر کا وقت ہو کیونکہ جبرئیل علیہ السلام نے بتلایا کہ دونوں دنوں کی نمازوں کے مابین نماز کا وقت ہے اور اس پر یہ آثار بھی وال ہیں ۔

«صَلِّ مَعَنَا». ← وَقْتِ الصَّلاةِ. ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← إسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ ← مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 874

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 875

826 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا محمد بن فضيل عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن للصلاة أولا وآخرا وإن أول وقت الظهر حين تزول الشمس وإن آخر وقتها حين يدخل وقت العصر فثبت بذلك أن دخول وقت العصر بعد خروج وقت الظهر وأما ما ذكر عنه في صلاة العصر فلم يختلف عنه أنه صلاها في أول يوم في الوقت الذي ذكرناه عنه فثبت أن ذلك هو أول وقتها وذكر عنه أنه صلاها في اليوم الثاني حين صار ظل كل شيء مثليه ثم قال الوقت فيما بين هذين فاحتمل أن يكون ذلك هو آخر وقتها الذي إذا خرج فاتت واحتمل أن يكون هو الوقت الذي لا ينبغي أن يؤخر الصلاة حتى يخرج وأن من صلاها بعده وإن كان قد صلاها في وقتها مفرط لأنه قد فاته من وقتها ما فيه الفضل وإن كانت لم تفت بعد وقد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال إن الرجل ليصلي الصلاة ولم تفته ولما فاته من وقتها خير له من أهله وماله فثبت بذلك أن الصلاة في خاص من الوقت أفضل من الصلاة في بقية ذلك الوقت ويحتمل أن يكون الوقت الذي لا ينبغي أن يؤخر العصر حتى يخرج هذا الوقت الذي صلاها رسول الله صلى الله عليه و سلم في اليوم الثاني وقد دل على ما ذكرنا ما

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا نماز کا اول و آخر وقت ہے اور ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت جبکہ عصر کا وقت آجائے ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ عصر کا وقت اس وقت داخل ہو تا ہے جب ظہر کا وقت نکل جاتا ہے رہی وہ روایت جس میں عصر کا وقت مذکور ہے اس میں کچھ اختلاف نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس وقت میں ادا فرمایا ہو جس کا ہم نے تذکرہ کر دیا ۔ پس اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ وہ نماز عصر کا اول وقت ہے آپ سے یہ منقول ہے کہ آپ نے اس کی ادائیگی دوسرے روز اس وقت فرمائی جبکہ ہر چیز کاسایہ اس کی دو مثل ہو گیا ۔ پھر آپ نے فرمایا اس نماز کا وقت وہی ہے جو ان دونوں اوقات کے درمیان ہے پس اس میں یہ احتمال ہے کہ وہ اس کا ایسا آخری وقت ہو کہ جب وہ نکل جاتا ہے تو وہ نماز فوت ہو جاتی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ وقت ہو کہ جس سے نماز کی عمومی حالات میں موخر کرنا مناسب نہیں ہے یہاں تک کہ وہ ختم ہو اور وہ شخص جس نے اس کے بعد اس کوا دا کیا اگرچہ وہ اس کو اس کے وقت کی حدود میں ادا کررہا ہے مگر وہ زیادتی کرنے والا ہےکیونکہ اس نے اس نماز کو فضیلت و ثواب والے وقت سے ہٹا دیا ۔ اگرچہ وہ نماز بالکل فوت تو نہیں ہوئی اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی نماز تو پڑھتا ہے اور ظاہر میں وہ اس سے فوت بھی نہیں ہوتی مگر جب اس نے اس کو (فضیلت والے ) وقت سے فوت کر دیا ، وہ اس کے لیے اس کے اہل ومال سے زیادہ بہتر تھا پس اس ارشاد سے یہ ثابت ہو گیا کہ خاص وقت میں نماز بقیہ تمام وقت کی نماز کے ساتھ احاطہ کرنے سے بہتر ہے اور اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس مراد وہ وقت ہو جس سے نماز کا موخر کرنا کسی صورت میں درست نہیں یہاں تک کہ یہ وقت نکل جائے وہ وقت ہے کہ جس میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے دن نماز ادا فرمائی اورہماری اس بات پر مندرجہ روایات دلالت کرتی ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أسد ← ربيع المؤذن

Hadith 875

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 876

827 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا محمد بن الفضيل عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن للصلاة أولا وآخرا وإن أول وقت العصر حين يدخل وقتها وإن آخر وقتها حين تصفر الشمس

اعمش نے ابو صالح سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کی ابتداء و انتہاء ہے اور عصر کا اول وقت تو وہ ہے جب اس کا وقت شروع ہو اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب سورج پیلا پڑ جائے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ ← أسد ← ربيع المؤذن

Hadith 876

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 877

828 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا همام بن يحيى عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله بن عمرو أن النبي صلى الله عليه و سلم قال وقت العصر ما لم تصفر الشمس

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج کی دھوپ پیلی نہ پڑے۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 877

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 7 باب مواقيت الصلاة ) · حديث 878

829 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا شعبة عن قتادة عن أبي أيوب عن عبد الله بن عمرو قال شعبة حدثنيه ثلاث مرار فرفعه مرة ولم يرفعه مرتين فذكر مثله ففي هذا الأثر أن آخر وقتها حين تصفر الشمس وذلك بعدما يصير الظل قامتين فدل ذلك أن الوقت الذي قصده رسول الله صلى الله عليه و سلم في الآثار الأول من وقتها هو وقت الفضل لا للوقت الذي إذا خرج فاتت الصلاة بخروجه حتى تصح هذه الآثار ولا تتضاد غير أن قوما ذهبوا إلى أن آخر وقتها إلى غروب الشمس واحتجوا في ذلك بما

ابو ایوب نے عبداللہ بن عمرو سے اسی طرح روایت نقل کی ہے شعبہ کہتے ہیں میرے استاذ قتادہ نے اس کو تین مرتبہ بیان کیا ایک مرتبہ مرفوع نقل کی اور دو مرتبہ روایت کو مرفوع نقل نہیں کیا۔ اس روایت میں یہ مذکور ہے کہ عصر کا آخری وقت آفتاب کا پیلا پڑنا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جبکہ ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو جاتا ہے تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ وہ وقت جس کا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصد کیا اور آثار اول میں مذکور ہے وہ افضل وقت ہے اس سے وہ وقت مراد نہیں ہے کہ جب وہ نکل جائے تو اس کے نکلنے سے نماز فوت ہو جائے ۔ یہ بات اس لیے کہی تاکہ ان آثار کا تطبیقی معنی سامنے آجائے اور تضاد ختم ہو البتہ بعض لوگوں نے کہا کہ عصر کا وقت غروب آفتاب تک ہے ۔

ثلاث مرار فرفعه مرة ولم يرفعه مرتين ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبِي أَيُّوبَ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو عَامِرٍ ← بن مرزوق

Hadith 878

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter