Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 589

577 - حدثنا أبو بكرة وإبراهيم بن مرزوق قالا ثنا أبو داود قال ثنا حماد بن سلمة ح

ابراہیم بن مرزوق اور ابو بکرہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابو داؤد نے اور ان کو بن سلمہ نے اپنی سند سے بیان کیا ہے۔

حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أبو بكرة وإبراهيم بن مرزوق

Hadith 589

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 590

وحدثنا بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن يعلي بن عطاء عن أوس بن أبي أوس قال رأيت أبي توضأ ومسح على نعلين له فقلت له أتمسح على النعلين فقال رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يمسح على النعلين

اوس بن ابی اوس کہتے ہیں کہ میں نے ابو اوس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا میں نے ان سے پوچھا کیا آپ نعلین پر مسح کرتے ہیں تو کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نعلین پر مسح کرتے دیکھا ہے ۔

رأيت أبي توضأ ومسح على نعلين له فقلت له أتمسح على النعلين ← أوس بن أبي أوس ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 590

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 591

578 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن سعيد قال أنا شريك عن يعلي بن عطاء عن أوس بن أبي أوس قال كنت مع أبي في سفر ونزلنا بماء من مياه الأعراب فبال فتوضأ ومسح على نعليه فقلت له أتفعل هذا فقال ما أزيدك على ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فعل قال أبو جعفر فذهب قوم إلى المسح على النعلين كما يمسح على الخفين وقالوا قد شد ذلك ما روي عن علي رضي الله عنه فذكروا في ذلك ما

اوس بن ابی اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ سفر میں تھا ہم ایک تالاب کے پاس اترے انہوں نے پیشاب سے فراغت حاصل کی پھر وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا میں نے کہا کیا آپ نعلین پر مسح کرتے ہیں انہوں نے کہا میں اس فعل میں اضافہ نہیں کر رہا جس پر میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء کا خیال یہ ہے کہ جس طرح موزوں پر مسح کیا جاتا ہے اسی طرح جوتوں پر بھی مسح کیا جائے گااور اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے کہا اس بات کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مندرجہ ذیل روایت سے ہوتی ہے ۔

أوس بن أبي أوس ← يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ← شَرِيکٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ ← فهد

Hadith 591

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 592

579 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود ووهب قالا ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن أبي ظبيان أنه رأى عليا رضي الله عنه بال قائما ثم دعا بماء فتوضأ ومسح على نعليه ثم دخل المسجد فخلع نعليه ثم صلى وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا نرى المسح على النعلين وكان من الحجة لهم في ذلك أنه قد يجوز أن يكون رسول الله صلى الله عليه و سلم مسح على نعلين تحتهما جوربان وكان قاصدا بمسحه ذلك إلى جوربيه لا إلى نعليه وجورباه مما لو كانا عليه بلا نعلين جاز له أن يمسح عليهما فكان مسحه ذلك مسحا أراد به الجوربين فأتي ذلك على الجوربين والنعلين فكان مسحه على الجوربين هو الذي تطهر به ومسحه على النعلين فضل وقد بين ذلك ما

سلمہ بن سہیل ابو ظہان سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا پھر پانی منگوایا اور اس سے وضو کیا اور اپنے نعلین پر مسح کیا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اپنے نعلین اتار کر نماز ادا فرمائی دیگر علماء نے اس سلسلہ میں ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جوتوں پر ہرگز مسح جائز نہیں اس کی دلیل کے طور پر انہوں نے کہا ہے کہ یہ بات بالکل ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں پر مسح موزوں کی بناء پر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دراصل موزوں پر مسح کیا نہ کہ جوتوں پر مسح ہو سکتا ہے تو جوتوں پر مسح سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا موزوں پر مسح کرنا تھا ۔ پس حصول طہارت کے لیے تو مسح موزوں پر تھا اور جوتوں کا مسح زائد تھا اور ہمارے قول کی شہادت مندرجہ زیل روایت دے رہی ہے ۔

سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← أبو داود ووهب ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 592

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 593

580 - حدثنا علي بن معبد قال ثنا المعلى بن منصور قال ثنا عيسى بن يونس عن أبي سنان عن الضحاك بن عبد الرحمن عن أبي موسى أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مسح على جوربيه ونعليه

ضحاک بن عبدالرحمان نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جوربین بمع نعلین پر مسح کیا ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← الضَّحَّاکِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي سِنَانٍ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Hadith 593

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 594

581 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم عن سفيان الثوري عن أبي قيس عن هذيل بن شرحبيل عن المغيرة بن شعبة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم بمثله فأخبر أبو موسى والمغيرة عن مسح النبي صلى الله عليه و سلم على نعليه كيف كان منه وقد روي عن بن عمر في ذلك وجه آخر

ہذیل بن شرحبیل نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا۔ تو حضرت ابو موسیٰ اشعری و مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ آپ کے اپنے نعلین مبارک پر مسح کرنے کی کیا صورت تھی اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اور درجہ بھی مروی ہے ۔

Hadith 594

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 20 باب المسح على النعلين ) · حديث 595

582 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أحمد بن الحسين اللهبي قال ثنا بن أبي فديك عن بن أبي ذئب عن نافع أن بن عمر كان إذا توضأ ونعلاه في قدميه مسح على ظهور قدميه بيديه ويقول كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصنع هكذا فأخبر بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد كان في وقت ما كان يمسح على نعليه يمسح على قدميه فقد يحتمل أن يكون ما مسح على قدميه هو الفرض وما مسح على نعليه كان فضلا فحديث أبي أوس يحتمل عندنا ما ذكرنا فيه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من مسحه على نعليه أن يكون كما قال أبو موسى والمغيرة أو كما قال بن عمر فإن كان كما قال أبو موسى والمغيرة فإنا نقول بذلك لأنا لا نرى بأسا بالمسح على الجوربين إذا كانا صفيقين قد قال ذلك أبو يوسف ومحمد وأما أبو حنيفة رحمه الله تعالى فإنه كان لا يرى ذلك حتى يكونا صفيقين ويكونا مجلدين فيكونان كالخفين وإن كان كما قال بن عمر فإن في ذلك إثبات المسح على القدمين فقد ثبت ذلك وما عارضه وما نسخه في باب فرض القدمين فعلى أي المعنيين كان وجه حديث أوس بن أبي أوس من معنى حديث أبي موسى والمغيرة ومن معنى حديث بن عمر فليس في ذلك ما يدل على جواز المسح على النعلين فلما احتمل حديث أوس ما ذكرنا ولم يكن فيه حجة في جواز المسح على النعلين التمسنا ذلك من طريق النظر لنعلم كيف حكمه فرأينا الخفين اللذين قد جوز المسح عليهما إذا تخرقا حتى بدت القدمان منهما أو أكثر القدمين فكل قد أجمع أنه لا يمسح عليهما فلما كان المسح على الخفين إنما يجوز إذا غيبا القدمين ويبطل ذلك إذا لم يغيبا القدمين وكانت النعلان غير مغيبين للقدمين ثبت أنهما كالخفين اللذين لا يغيبان القدمين

ابن ابی ذئب نافع رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ جب وضو کرتے اور ان کے نعل قدموں میں ہی ہوتے تو جتنا قدم کا حصہ ظاہر ہوتا اس پر مسح کر لیتے اور کہتے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کرتے تھے اس سے یہ معلوم ہوا کہ بقول ابن عمر رضی اللہ عنہ آپ کسی وقت قد مین پر مسح کرتے نعلین پر مسح نہ کرتے تھے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اطلاع دی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے قد مین پر مسح تو بقدر فرض کیا اور جوتوں پر جو مسح کیا وہ زائد تھا ۔ پس ابو اوس رضی اللہ عنہ والی روایت ہمارے ہاں وہی احتمال رکھی ہے جو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ و ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ والی روایت والا مفہوم لیا جائے تو ہم اس طرح عرض کریں گے کہ ہمارے ہاں بھی ان جرابوں پر مسح کرنے میں کچھ حرج نہیں جبکہ وہ گاڑھی موٹی ہوں اور ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے ۔ باقی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اس کو اس وقت تک جائز قرار نہیں دیتے جب تک کہ وہ دونوں موٹی اور چمڑے کے تلے والی نہ ہوں ۔ اس صورت میں وہ موزوں کی مانند ہوں گی اور اگر ابن عمر والی روایت کا مفہوم لیا جائے تو اس میں قد مین پر مسح کا اثبات ہے ۔ باب فرض القدمین میں ہم اس کے معارض اور ناسخ کو ذکر کر آئے ۔ پس اس روایت اوس بن ابی اوس کو ابو موسیٰ اور مغیرہ رضی اللہ عنہ والی روایت کے معنی میں لیں یا روایت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے معنی میں لیں کسی صورت میں جوتوں پر مسح کا جواز ثابت نہیں ہو سکتا ۔پس جب اوس رضی اللہ عنہ والی روایت محتمل ثابت ہو گئی اور جوتوں پر مسح کے جواز کی کوئی صورت نہ مل سکی تو اب اس کو غور و فکر دیکھا تا کہ اسکا حکم ظاہر ہو جائے پس غور کرنے سے معلوم ہوا کہ وہ موزے جن پر مسح کے جواز کی ثابت کیا گیا جب وہ اس قدر پھٹ جائیں کہ دونوں اقدام یا ان کا اکثر حصہ ظاہر ہو جائے تو سب کا اس پر اتفاق ہے کہ ان پر مسح نہ کیا جائے گا جب مسح موزہ میں یہ شرط ہے کہ ان پر مسح اس وقت جائز ہے جب اس میں پاؤں چھپ جائے اور جب دونوں پاؤں ظاہر ہو جائیں خواہ پھٹنے یا نکالنے کی وجہ سے توان پر مسح جائز نہ رہا تو جوتے میں تو دونوں قدم کا اکثر حصہ غائب نہیں ہوتا پس اس سے خود یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ان موزوں کی طرح ہیں جن میں پاؤں نہیں چھپتا ( پس بالا تفاق ان پر مسح جائز نہ ہوا )

بن أَبِي ذِئْبٍ ← بن أبي فديك ← أحمد بن الحسين اللهبي، ← بن أبي داود

Hadith 595

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter