شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 3 باب المرأة هل يجوز لها أن تعطى زوجها من زكاة مالها أم لا ) · حديث 2959
2794 - حدثنا فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبى عن الأعمش قال حدثني شقيق عن عمرو بن الحارث عن زينب امرأة عبد الله قال فذكرته لإبراهيم فحدثني إبراهيم عن أبى عبيدة عن عمرو بن الحارث عن زينب امرأة عبد الله مثله سواء قال كنت في المسجد فرآنى النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد فقال تصدقن ولو من حليكن وكانت زينب تنفق على عبد الله وأيتام في حجرها فقالت لعبد الله سل رسول الله صلى الله عليه و سلم أيجزى عنى إن أنفقت عليك وعلى أيتام في حجرى من الصدقة قال سلى أنت رسول الله صلى الله عليه و سلم فانطلقت الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فوجدت امرأة من الأنصار على الباب حاجتها مثل حاجتي فمر علينا بلال فقلت سل لنا رسول الله صلى الله عليه و سلم هل يجزى عنى أن أتصدق على زوجي وأيتام في حجري من الصدقة وقلنا لا تخبر بنا قالت فدخل فسأله فقال من هما قال زينب قال أي الزيانب هى قال امرأة عبد الله فقال نعم يكون لها أجر القرابة وأجر الصدقة قال أبو جعفر فذهب قوم الى أن المرأة جائز لها أن تعطى زوجها من زكاة مالها واحتجوا في ذلك بهذا الحديث وممن ذهب الى ذلك أبو يوسف ومحمد رحمهما الله وخالفهم في ذلك آخرون منهم أبو حنيفة رحمه الله فقالوا لا يجوز للمرأة أن تعطى زوجها من زكاة مالها كما لا يجوز له أن يعطيها من زكاة ماله وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى في حديث زينب الذي احتجوا به عليهم أن تلك الصدقة التي حض عليها رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك الحديث إنما كانت من غير الزكاة وقد بين ذلك ما قد
عمرو بن حارث نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب ثقفیہ رضی اللہ عنہا سےنقل کیا ( یہ روایت شقیق عن عمرو اور ابو عبیدعن عمر و دونوں اسناد سے ایک جیسی ہے زینب کہتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں دیکھ کر فرمایا تم عورتیں صدقہ کرو خواہ اپنے زیورات سے کرنا پڑے یہ زینب اپنے خاوند عبداللہ اور پرورش میں لیے ہوئے چند یتامی پر اپنا مال خرچ کر تیں انہوں نے اپنے خاوند عبداللہ کو کہا کیا میرے لیے تجھ پر صدقہ خرچ کرنا درست ہو جائے گا اور اسی طرح ان زیر پرورش یتیموں پر ؟(انہوں نے دریافت نہ کیا) پس میں خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچی تو وہاں ایک اور انصاری عورت اپنی ضرورت کی خاطر آپ کے دروازہ پر تھی دونوں کاکام ایک تھا ہمارے پاس سے بلال کا گزر ہوا تو میں نے کہا کہ ہماری طرف سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کر دو کیا مجھے صدقہ کا مال اپنے خاوند اور زیر سرپرستی یتامی پر خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اور تم ہمار ےنام مت بتلانا زینب کہتی ہیں وہ داخل ہوئے اور آپ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وہ دونوں کون کون ہیں ؟ انہوں نے کہا وہ زینب ہے آپ نے فرمایا وہ کون سی زینب ہے َ انہوں نے کہا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی آپ نے فرمایا ہاں اس کو قرابت اور صدقے دونوں کا اجر ہو گا۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے اس سے یہ استدلال کیا کہ عورت اپنے خاوند کوزکوۃ دے سکتی ہے اور یہ قول امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف محمد رحمۃ اللہ علیہم نے اختیار کیا دیگر علماء نے ان کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ کسی عورت کو جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کو زکوۃ دے جیسا کہ کسی مرد کو جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو زکوۃ دے اور پہلے قول والوں کے خلاف انہوں نے اسی حدیث زینب رضی اللہ عنہا سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدقہ جس پر اس حدیث میں آمادہ کیا گیا وہ زکوۃ کے علاوہ ہے اور اس کی وضاحت اس روایت ذیل میں ملاحظہ ہو ۔
كنت في المسجد فرآنى النبي صلى الله عليه و سلم في المسجد ← زينب امرأة عبد الله مثله سواء ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← فَذَكَرْتُهُ لإِبْرَاهِيمَ ← زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← فهد
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2959
