Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3280

3110 - حدثنا على بن معبد قال ثنا أبو أحمد الزبيري قال ثنا إسرائيل عن زيد بن جبير عن أبى يزيد الضبي عن ميمونة بنت سعد قالت سئل النبي صلى الله عليه و سلم عن القبلة للصائم فقال أفطرا جميعا قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا ليس للرجل أن يقبل في صومه وإن قبل فقد أفطر واحتجوا في ذلك أيضا بما

ابو یزید ضحی نے میمونہ بنت سعد ؓ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہﷺ سے روزہ دار کے لئے بوسہ سے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا۔ امام طحاوی ؒ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے روایت بلاکو اختیا ر کر کے کہا کو روزہ کی حالت میں بو سہ کی اجازت نہیں اگر اس نے بوسہ لیا تو روزہ جاتا رہا اور انہوں مزید ان روایات کو بھی دلیل میں پیش کیا روایات ذیل میں درج ہیں ۔

أبو جعفر فذهب قوم الى هذا ← أفطرا جميعا ← الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ. ← سئل النبي صلى الله عليه و سلم ← مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، ← أَبِي يَزِيدَ الضَّبِّيِّ ← زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3280

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3281

3111 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي قال قلت لأبى أسامة أحدثكم عمر بن حمزة قال أخبرني سالم عن بن عمر رضي الله عنهما قال قال عمر رأيت النبي صلى الله عليه و سلم في المنام فرأيته لا ينظرني فقلت يا رسول الله ما شأنى قال ألست الذي تقبل وأنت صائم فقلت والذي بعثك بالحق انى لا أقبل بعد هذا وأنا صائم فأقربه ثم قال نعم واحتجوا في ذلك أيضا بما روى عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه

سالم نےابن عمرؓ سے روایت نقل کی ہے کہ عمر ؓ کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا میں نے آپ کو اس حال میں پایا کہ آپ میر ی طرف دیکھتے ہی نہیں میں نے کہا یا رسول اللہﷺ ! میر اکیا معاملہ ہے؟ (کہ جس سے آپ اعراض فرمارہے ہیں ) آپ نے فرمایا کیا تو وہی نہیں جو روزے کی حالت میں بوسہ لیتا ہے؟ میں نے کہا مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں آئند ہ روزہ کی حالت کبھی بوسہ نہ لوں گا میں اس پر بر قرار رہوں گا تو آپ نے فرمایا ٹھیک ہے ۔ اور انہوں نے اس سلسلہ میں ابن مسعود ؓ کی ان روایات سے بھی استد لال کیا ہے۔ روایات ذیل میں ہیں ۔

بن عُمَرَ ← سَالِمٍ ← قلت لأبى أسامة أحدثكم عمر بن حمزة ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3281

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3282

3112 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عبد الصمد بن عبد الوارث قال ثنا شعبة عن منصور عن هلال بن يساف عن هانئ وكان يسمى الهزهاز قال سئل عبد الله عن القبلة للصائم فقال يقضى يوما آخر

ھانی جس کا لقب ہزھاز ہے کہتے ہیں کہ عبداللہ سے روزہ دار کے بو سہ کے سلسلے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ اس روزے کی قضا کرے۔

القبلة للصائم فقال يقضى يوما آخر ← سُئِلَ عَبْدُ اللهِ ← هانئ وكان يسمى الهزهاز ← هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3282

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3283

3113 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن منصور عن هلال عن الهزهاز عن عبد الله مثله واحتجوا في ذلك أيضا بما روى عن عمر من قوله

سفیان نے منصور سے انہوں نے ھلال عن ھز ھاز سے انہوں نے عبداللہ ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

عمر من قوله ← عبد الله مثله واحتجوا في ذلك أيضا بما روى ← الْهَزْهَازِ ← هِلَالٍ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3283

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3284

3114 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا عثمان بن عمر عن بن أبى ذئب عن الزهرى عن سعيد بن المسيب أن عمر كان ينهى عن القبلة للصائم

سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ عمرؓ روزہ دار کو بو سہ سے منع فرما تے تھے۔

الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ. ← سعيد بن المسيب أن عمر كان ينهى ← الزُّهْرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3284

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3285

3115 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب بن جرير قال ثنا شعبة عن عمران بن مسلم عن زاذان قال قال عمر لأن أعض على جمرة أحب الى من أن أقبل وأنا صائم واحتجوا في ذلك أيضا بما روى عن سعيد بن المسيب

عمران بن مسلم نے زاداں سے نقل کیا کہ عمر ؓ نے فرمایا کہ میں کسی انگارے کو منہ میں ڈالوں یہ مجھے روزہ کی حالت میں بوسہ سے زیادہ محبوب ہے۔

سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← صائم واحتجوا في ذلك أيضا بما روى ← عمر لأن أعض على جمرة أحب الى من أن أقبل ← زَاذَانَ ← عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3285

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3286

3116 - حدثنا محمد بن حميد قال ثنا على بن معبد قال ثنا موسى بن أعين عن عبد الكريم عن سعيد بن المسيب في الرجل يقبل امرأته وهو صائم فقال ينقض صومه وخالفهم في ذلك آخرون فلم يروا بالقبلة للصائم بأسا إذا لم يخف منها أن تدعوه الى غيرها مما يمنع منه الصائم وكان من حجتهم فيما احتج به عليهم أهل المقالة الأولى انه قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في إباحته القبلة للصائم ما هو أظهر من حديث ميمونة بنت سعد وأولى إن يؤخذ به وهو ما

سعید بن المسیب سے عہد الکریم نے سوال کیا کہ روزہ دار کے بوسہ کا کیا حکم ہے تو فرمایا اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ روزہ دار کےلئے بوسہ میں کچھ حرج نہیں بشر طیکہ اس کو خطرہ نہ ہو کہ وہ ان چیزوں میں مبتلا ہوجائے گا جو روزہ دار کے لئے ممنوع ہیں۔ قول اول والوں کے خلاف جناب رسول اللہ ﷺ سے ایسی روایات نقل کی ہیں جو حضرت میمونہ بنت سعد کی روایات سے زیادہ ظاہر اور استدلال کے لئے زیادہ بہتر ہیں۔

سعيد بن المسيب في الرجل يقبل امرأته وهو صائم ← عَبْدِ الْکَرِيمِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3286

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3287

3117 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا شعيب بن الليث قال ثنا الليث عن بكير بن عبد الله بن الأشج عن عبد الملك بن سعيد الأنصاري عن جابر بن عبد الله عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قال هششت يوما فقبلت وأنا صائم فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت فعلت اليوم أمرا عظيما قبلت وأنا صائم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أرأيت لو تمضمضت بماء وأنت صائم فقلت لا بأس بذلك فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم ففيم

جابربن عبداللہ نے عمر بن خطاب ؓ سے نقل کیا ایک دن مجھے نشاط آئی میں نے روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لے لیا پھر میں جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا اور میں نے کہا آج میں نے بڑا گنا ہ کیا ہے کہ روزے کی حالت میں میں نے بو سہ لے لیا اس پر جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر تم روزہ کی حالت میں مضمضمہ کرو تو میں نے کہا اس میں تو کچھ حرج نہیں ۔ تو جناب رسو ل اللہﷺ نے فرمایا تو پھر بوسہ سے کیا حرج لازم آئے گا ۔ یعنی کچھ حرج نہیں ہے۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← اللَّيْثُ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3287

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3288

3118 - حدثنا على بن معبد قال ثنا شبابة بن سوار قال أنا ليث بن سعد فذكر بإسناده مثله فهذا الحديث صحيح الإسناد معروف للرواة وليس كحديث ميمونة بنت سعد الذي رواه عنها أبو يزيد الضبي وهو رجل لا يعرف فلا ينبغي أن يعارض حديث من ذكرنا بحديث مثله مع أنه قد يجوز أن يكون حديثه ذلك على معنى خلاف معنى حديث عمر هذا ويكون جواب النبي صلى الله عليه و سلم الذي فيه جوابا لسؤال سئل في صائمين بأعيانهما على قلة ضبطهما لأنفسهما فقال ذلك فيهما أي أنه إذا كانت القبلة منهما فقد كان معها غيرها مما قد يضرهما وهذا أولى مما حمل عليه معناه حتى لا يضاد غيره وأما حديث عمر بن حمزة فليس أيضا إسناده كحديث بكير الذي قد ذكرنا لأن عمر بن حمزة ليس مثل بكير بن عبد الله في جلالته وموضعه من العلم وإتقانه مع أنهما لو تكافئا لكان حديث بكير أولاهما لأنه قول من رسول الله صلى الله عليه و سلم في اليقظة وذلك قول قد قامت به الحجة على عمر وحديث عمر بن حمزة إنما هو على قول حكاه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في النوم وذلك مما لا تقوم به الحجة فما تقوم به الحجة أولى مما لا تقوم له الحجة ثم هذا بن عمر قد حدث عن أبيه بما حكاه عمر بن حمزة في حديثه ثم قال بعد أبيه بخلاف ذلك

شبابہ بن سوار کہتے ہیں کہ ہمیں لیث بن سعد نے روایت کی پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اسی طرح روایت بیان کی۔ یہ روایت صحیح سند اور معروف روات والی ہے یہ میمونہ بنت سعد والی روایت کی طرح نہیں جس کو ابو یزید ضحی جیسے غیر معروف آدمی نے روایت کیا ہے۔ پس یہ اس روایت کی معارض نہیں بن سکتی ۔ دوسری با ت یہ ہے کہ عین ممکن ہے کہ اس کا مفہوم حضرت عمر ؓ والی روایت کے خلاف ہو ۔ اور جناب رسول اللہﷺ کا جواب ان دو مخصوص روزہ داروں متعلق ہو جن کا اپنے اوپر پورا قابو نہ تھا۔ تو ان دونوں کے متعلق یہ بات فرمائی ۔ کہ جب اس مزاج کے لوگ بوسہ لیں تو یہ بوسہ ان کے لئے دوسرے شرع کے خلاف کاموں میں ابتلاء کے خطرے کی وجہ سے نقصان دہ ہو گا۔ اس روایت یہ مفہوم اس بات سے اولیٰ ہے جس پر اس کو محمول کیاگیا ہے تاکہ یہ روایت دیگر روایات سے متضاد نہ ہو ۔ اسی طرح حضرت عمر بن حمزہ کی روایت اپنی سند کے لحاظ سے حضر ت بکیر کی روایت جیسی نہیں جس کو ہم نے نقل کیا ہے۔ کیونکہ حضرت عمر بن حمزہ اپنے مقام علمی اور عظمت و شان اور ثقاہت میں بکیر بن عبداللہ کے برابر نہیں اگر بالفرض برابر مان بھی لیں پھر بھی بکیر کی روایت دونوں میں سے اولیٰ ہے ۔ کیونکہ وہ جناب رسول اللہﷺ کیا حالت بیداری کا قول ہے۔ اور اس روایت کےساتھ حضرت عمر ؓ کے خلاف حجت قائم ہو چکی ہے اور حضر ت عمر بن حمزہ والی روایت وہ جناب رسول اللہﷺ سے خواب میں مذکور ہ واقعہ ہے اور ایسی روایت جس سے حجت قائم ہوتی ہو وہ اس روایت سے اولیٰ ہے جس سے دلیل نہ بن سکتی ہو ۔ پھر ابن عمرؓ نے اپنے والد سے وہی بات نقل کی جو ان کی عمر بن حمزہ نے اپنی حدیث میں کہی پھر اپنے والد کے بعد اس کے خلاف فتویٰ دیاملاحظہ ہو۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3288

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3289

3119 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا حجاج قال ثنا حماد عن أبى حمزة عن مورق عن بن عمر أنه سئل عن القبلة للصائم فأرخص فيها للشيخ وكرهها للشاب فدل ذلك أن هذا كان عنده أولى مما حدثه به عمر مما ذكره عمر بن حمزة في حديثه وأما ما قد احتجوا به من قول بن مسعود رضي الله عنه فإنه قد روى عنه أيضا خلاف ذلك

مورق نے ابن عمرؓ سے نقل کیا کہ ان سے روز ہ دار کے بوسہ کے سلسلہ میں پوچھا گیا تو انہوں نے بوڑھے کے حق میں اس کی اجازت دی اور جوان کے حق میں ممانعت فرمائی اور ناپسند قراردیا۔ اس سے یہ ثبوت مل گیا کہ یہ ان کے ہاں اس سے بہتر تھا۔ جو ان کو حضرت عمر ؓ نے ان کو بیا ن کی اور جس کو عمربن حمزہ اپنی روایت میں لائے۔ باقی قول ابن مسعود ؓ جس کو انہوں نے اپنا مستد ل بنایا تو ان سے اس کے خلاف روایت بھی مروی ہے جیسا ذیل میں ہے۔

بن عُمَرَ ← مُوَرِّقٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← حَمَّادٌ، ← حجاج، ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3289

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3290

3120 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا إسرائيل عن طارق عن حكيم بن جابر قال كان بن مسعود رضي الله عنه يباشر امرأته وهو صائم فقد تكافأ هذا الحديث وما روى الهزهاز عن عبد الله وأما ما ذكروه من قول سعيد يعنى بن المسيب أنه ينقض صومه فان ما روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم من تشبيهه ذلك بالمضمضة أولى من قول سعيد ثم قال بذلك جماعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم مما سنذكر ذلك عنهم في آخر هذا الباب إن شاء الله وقد جاءت الآثار عن رسول الله صلى الله عليه و سلم متواترة بأنه كان يقبل وهو صائم فمن ذلك ما

حکیم بن جابر کہتے ہیں کہ مسعود ؓ اپنی بیوی سے روزہ کی حالت میں بوس و کنار کرتے تھے۔ تو ان کی یہ روایت اور ہزہاز والی روایت دونوں ایک دوسری کے خلاف ہو گئیں ۔ اب رہا ابن مسیبؒ کا قول کو بوس وکنار والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد میں اس کو کلی مشابہت دی وہ ابن مسیب ؒکے قول سے بہتر ہے ۔ پھر اس کو صحابہ کرام کی ایک جماعت نے نقل کیا جس کو باب کے آخر میں ہم ذکر کریں گے ان شاء اللہ) اور جنا ب رسول اللہ ﷺ سے ایسے متواتر روایات آئی ہیں کہ آپ حالت روزہ میں بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ اب عمل رادی جب فتویٰ کے خلاف ہو اتو وہ روایت متروک و منسوخ ہوئی۔

حَکِيمِ بْنِ جَابِرٍ ← طَارِقٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3290

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 20 باب القبلة للصائم ) · حديث 3291

3121 - حدثنا على بن معبد قال ثنا عبد الوهاب بن عطاء عن سعيد بن أبى عروبة عن أيوب عن عبد الله بن شقيق عن بن عباس رضي الله عنهما إن النبي صلى الله عليه و سلم كان يصيب من الرؤوس وهو صائم

عبد اللہ بن شقیق نےا بن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکر مﷺ روزے کی حالت میں چہرے سے فائدہ اٹھاتے تھے۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ← أَيُّوبَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3291

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter