Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3837

وحدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع فأهللنا بعمرة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من كان معه هدي فليهل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما جميها فقدمت مكة وأنا حائض لم أطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة فشكوت ذلك الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أنقضي رأسك وامتشطي وأهلي بالحج ودعي العمرة فلما قضيت الحج أرسلني رسول الله صلى الله عليه و سلم مع عبد الرحمن بن أبي بكر رضي الله عنه إلى التنعيم فاعتمرت فقال هذه مكان عمرتك قالت فطاف الذين أهلوا بالعمرة بالبيت وبين الصفا والمروة ثم حلوا ثم طافوا طوافا آخر بعد أن رجعوا من منى لحجهم وأما الذين جمعوا بين الحج والعمرة فإنما طافوا لهما طوافا واحدا قالوا فهذه عائشة رضي الله عنها قد قالت وأما الذين جمعوا بين الحج والعمرة فإنما طافوا طوافا واحدا وهم كانوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وبأمره كانوا يفعلون ففي ذلك ما يدل على القارن لحجته وعمرته طوافا واحدا ليس عليه غير ذلك فكان من حجتنا عليهم لمخالفهم أنا قد روينا عن عقيل عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها فيما تقدم من هذا الباب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع تمتع وتمتع الناس معه والمتمتع قد علمنا أنه الذي يهل بحجة بعد طوافه للعمرة ثم قالت عائشة رضي الله عنها في حديث مالك عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع فأهللنا بعمرة فأخبرت أنهم دخلوا في إحرامهم كما يدخل المتمتعون قالت ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من كان معه هدي فليهل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما ولم يبين في هذا الحديث الموضع الذي قال لهم هذا القول فيه فقد يجوز أن يكون قاله لهم قبل دخول مكة أو بعد دخول مكة قبل الطواف فيكونون قارنين بتلك الحجة العمرة التي كانوا أحرموا بها قبلها ويجوز أن يكون قال لهم ذلك بعد طوافهم للعمرة فيكونون متمتعين بتلك الحجة التي أمرهم بالإحرام بها فنظرنا في ذلك فوجدنا جابر بن عبد الله رضي الله عنه وأبا سعيد الخدري أخبرا في حديثهما اللذين رويناهما عنهما في حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد ح

عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو وہ حج کا احرام باندھے پھر اس سے اسی وقت حلال ہو جب دونوں سے حلال ہوتے ہیں میں مکہ میں پہنچی تو ایام حیض شروع ہو گئے اور میں بیت اللہ میں طواف نہ کر سکی اور نہ صفا مروہ کر سکی ۔ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں اس کی شکایت کی آپ نے فرمایا اپنا سر کھول دو اور کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھ لینا اور عمرہ کو ترک کر دو ۔ پس جب میں نے حج ادا کر لیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مجھے جناب عبدا لرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا چنانچہ میں نے عمرے کا احرام باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا یہ تیرے عمرے کی جگہ عمرہ ہوا انہوں نےکہا کہ یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں جنہوں نے کہا ہے ۔ واما الذین جمعو ابین الحج و العمر ۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ لوگ جنہوں نے حج و عمر کو اکٹھا کیا وہ ایک طواف کریں گے صحابہ کرام جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی معیت میں تھے اور وہ آپ کے حکم سے یہ افعال کر رہے تھے اس روایت سے یہ دلالت مل رہی ہے کہ قارن پر اپنے حج و عمرہ کی وجہ سے ایک طواف لازم ہے اس کے علاوہ اس پر کوئی طواف نہیں ہے ۔ پس ہماری ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ عقیل نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے تمتع کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا اور تمتع کرنے والے اپنے عمرہ سے فارغ ہوکر حج کا تلبیہ کہے مالک کی سند سے مروی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی معیت میں حجۃ الوداع کے لیے روانہ ہوئے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ احرام میں تمتع کرنے والے کی طرح داخل ہو ئے ۔ وہ کہتی ہیں پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس کےپاس ھدی ہو وہ حج کا تلبیہ عمروہ کے ساتھ ہی کہے پھر وہ اس احرام سے باہر نہیں ہو سکتا جب تک کہ دو احراموں سے حلال نہ ہو جائے اس روایت میں اس جگہ کی نشاندہی نہیں فرمائی کہ آپ نے یہ بات کس وقت فرمائی یہ ممکن ہے کہ آپ نے یہ بات داخلہ مکہ سے پہلے فرمائی یا داخلہ کےبعد اور طواف سے پہلے فرمائی پس اس صورت میں وہ اس حج کو عمرہ کے ساتھ ملانے والے ہوں گے جس کا پہلے احرام باندھا تھا۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے ان کو طواف عمرہ کے بعد ارشاد فرمایا ہو ۔ پس اس صورت میں اس حج کی وجہ سے تمتع کرنے والے ہوں گے وہ حج کہ احرام کا آپ نے ان کو حکم فرمایا پس اس میں ہم نے غور کیا تو حضرت ابو سعید اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت مل گئیں جن کو باب نسخ الحج میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ نے یہ بات مروہ کی سعی کے آخری چکر میں فرمائی پس اس سے ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ نے یہ بات مروہ کی سعی کے آخری چکر میں فرمائی پس اس سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں جو مالک نے نقل کی ہے اما الذین جمعوا بین العمرۃ الحج " پھر وہ لوگ جنہوں عمروہ اور حج کو جمع کیا تو ان کی مراد جمع سے تمتع سے جمع کرنا ہے قرآن سے جمع کرنا نہیں ہے ۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں کہ انہوں نے ایک طواف کیا یعنی حج و عمرہ جمع کرنے کے بعد انہوں نے ایک طواف کیا کیونکہ ان حج عمرہ کے ساتھ ملا ہوا تھا اور وہ حج بھی مکی تھا اور مکی حج کے لیے عرفہ سے پہلے کوئی طواف نہیں ہے اس کے لیے عرفہ کے بعد اسی طرح طواف کیا جائے گا ۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کرتے تھے جیسا کہ ہم نے ان سے روایات ذکر کیں ۔ پس روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا معنی بھی اسی طرح لوٹ آیا جو تصحیح آثار اور نفی تضاد کے لیے ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ تو اس میں اس قارن کا کوئی حکم موجود نہیں جو کہ کوفہ وغیرہ سے حج قرآن کرے کہ وہ ایک طواف کرے یا دو ۔ وہ لوگ جو قارن کے لیے حج و عمرہ کا ایک طواف قرار دیتے ہیں ۔ انہوں نے اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا انہوںے نے طواف سعی کر کے احرام کھول دیا پھر انہوں نے ایک اور طواف کیا جبکہ وہ منی سے حج کر کے لوٹے (طواف زیارت البتہ وہ لوگ جنہوں نے حج عمر کو جمع کیا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3838

وحدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قالا ثنا بن عيينة عن عبد الله بن أبي نجيح عن عطاء عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لها إذا رجعت الى مكة فإن طوافك يكفيك لحجك وعمرتك قالوا فقد أخبر رسول الله صلى الله عليه و سلم أن الذي عليها لحجتها وعمرتها طواف واحد قيل لهم ليس هكذا لفظ هذا الحديث الذي رويتموه إنما لفظه أنه قال طوافك لحجك يجزيك لحجك وعمرتك فأخبر أن الطواف المفعول للحج يجزيك عن الحج والعمرة وأنتم لا تقولون هذا إنما تقولون أن طواف القارن طواف لقرانه لا لحجته دون عمرته ولا لعمرته دون حجته مع أن غير بن أبي نجيح من أصحاب عطاء قد روى هذا الحديث بعينه عن عطاء على معنى غير هذا المعنى

عطاء نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے ان کو فرمایا جب تم مکہ لوٹ جاؤ تمہارا یہ طواف تمہارے حج و عمر ہ کے لیے کافی ہے انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ اس کے حج و عمرہ کی وجہ سے اس پر ایک طواف لازم ہو گا اس کےجواب میں ان کو کہا جائے گا ۔ اس روایت کے الفاظ اس طرح نہیں جیسا کہ تم نے روایت پیش کی اس کے الفاظ اس طرح ہیں طوافک لحجک بک لحجک وعمر تک) کہ تمہارا حج کا طواف تمارے حج و عمرہ کے لیے کافی ہو جائے گا ۔ اس میں اس بات کی اطلاع دی ہے کہ وہ حج کے لیے کیا جانے والا طواف تمہارے حج و عمرہ کے لیے کفایت کر ے گا اور تمہارے ہاں یہ بات نہیں بلکہ تم کہتے ہو کہ قارن کا طواف اس کے حج و عمرہ کے لیے کافی ہے ۔ مگر تم یہ نہیں کہتے بلکہ تم کہتے ہو کہ قارن کا طواف اس کے حج کے لیے نہیں عمرے کے بغیر حج کے ہے اور یہ بات بھی ہے کہ ابن ابی نحیج جو عطاء کے شاگردوں سے ہیں کے علاوہ دیگر نے اس روایت کو علماء سے بعینہ اس کے علاوہ مفہوم میں ذکر کیا ہے ۔

عَائِشَةَ ← عَطَاءٍ، ← عبد الله بن أبي نجيح ← بن عُيَيْنَةَ ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← وحدثنا أحمد بن داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3838

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3839

3633 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا حجاج وأنا عبد الملك عن عطاء عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت قلت يا رسول الله أكل أهلك يرجع بحجة وعمرة غيري قال انفري فإنه يكفيك قال حجاج في حديثه عن عطاء قال ألحت على رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمرها أن تخرج الى التنعيم فتهل منه بعمرة وبعث معها أخاها عبد الرحمن بن أبي بكر فأهلت منه بعمرة ثم قدمت فطافت وسعت وقصرت وذبح عنها رسول الله صلى الله عليه و سلم قال عبد الملك عن عطاء ذبح عنها بقرة فأخبر عبد الملك عن عطاء عن عائشة رضي الله عنها بقصتها بطولها وأنها إنما أحرمت بالعمرة في وقت ما كان لها أن تنفر بعد فراغها من الحجة والعمرة وأن الذي ذكر أنه يكفيها هو الحج من الحجة والعمرة لا الطواف فقد بطل أن يكون في حديث عطاء هذا حجة في حكم طواف القارن كيف هو واحتج من ذهب أيضا في القارن أنه يطوف لعمرته وحجه طوافا واحدا بما

عبدالملک نے عطاء سے انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں گزارش کی کہ یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ آپ کی تمام ازواج حج و عمرہ دونوں کی سعادت سے بہرہ ور ہو کر لوٹیں گی مگر میں اس سے محروم رہوں گی تو اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم کوچ کرو تمہارے لیے حج ہی دونوں کی جگہ کافی ہے اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے اصرار کیا جیسا کہ حجاج راوی نے عطاء سے اپنی روایت میں الحت علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے الفاظ ہیں تو آ پ صلی اللہ علیہ نے ان کو مقام تنعیم سے احرام عمرہ باندھنے کا حکم فرمایا اور ان کے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا وہاں سے انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا پھر انہوں نے آکر طواف وسعی کی اور قصر کی ۔ ان کی طر ف سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے دم شکر دیا عبدالملک کی روایت میں گائے ذبح کرنے کا ذکر ہے پس عبدالملک نے اپنی روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ان کا واقعہ تفصیل سے لکھا ہے انہوں نے عمرہ کا احرام اس وقت باندھا جب کہ وہ حج و عمرہ سے فارغ ہو کر کوچ کر نے والی تھیں اور یہ بھی ذکر کیا گیا کہ ان کو یہی کافی ہے تو مطلب حج ہے جو حج و عمر کی طرف سے کافی تھا نہ کہ طواف پس روایت عطاء میں طواف قارن کے حکم سے متعلق اس سے استدلال باطل ہو گیا کہ اس کی کیفیت کیا تھی اور وہ لوگ جو حج و عمرہ کا ایک طواف مانتے ہیں انہوں نے اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے ۔

قُلْتُ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عَطَاءٍ، ← حجاج وأنا عبد الملك ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3839

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3840

3634 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا عثمان بن الهيثم قال ثنا بن جريج قال وأخبرني أبو الزبير رضي الله عنه أن جابر بن عبد الله رضي الله عنه يقول دخل النبي صلى الله عليه و سلم على عائشة وهي تبكي فقال مالك تبكين قالت أبكي لأن الناس حلوا ولم أحلل وطافوا بالبيت ولم أطف وهذا الحج قد حضر كما ترى فقال هذا أمر كتبه الله على بنات آدم فاغتسلي وأهلي بالحج ثم حجي واقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت ولا تصلي قالت ففعلت ذلك فلما طهرت قال طوفي بالبيت وبين الصفا والمروة ثم قد حللت من حجك وعمرتك فقلت يا رسول اني أجد في نفسي من عمرتي أني لم أكن طفت حتى حججت فأمر عبد الرحمن فأعمرها من التنعيم

ابو الزبیر نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم کیوں رو رہی ہو ؟ کہنے لگیں میں اس لیے رو رہی ہوں کہ لوگوں نے احڑام کھول دیے اور میں نے احرام نہیں کھولا انہوں بیت اللہ کا طواف کیا اور میں نے طواف نہیں کیا اور یہ حج کا موقعہ سر پر ہے آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا یہ معاملہ اللہ کی طرف سے ہے جو بنات آدم کو لازم ہے ۔ تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو ۔ پھر حج کرو اور جو حجاج عمل انجام دیتے ہیں تم بھی کرتی رہو ۔ بس کہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا اور نہ نماز پڑھنا ۔ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے اسی طرح کیا جب میں پاک ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم بیت اللہ کا طواف اور سعی کر لو پھر تم اپنے حج و عمرہ سے حلال ہو چکی میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ میں اپنے دل میں اپنے عمر ے کے متعلق تکلیف محسوس کرتی ہوں اس لیے کہ میں نے حج تک طواف نہ کیا تھا ۔ ( پھر آپ نے عبدالرحمن کو حک فرمایا اس نے تنعیم کے مقام سے عمرہ کرایا ۔

أَبُو الزُّبَيْرِ ← بن جُرَيْجٍ ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3840

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3841

3635 - حدثنا يونس قال انا بن وهب قال أخبرني الليث عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله قالوا فقد أمرها النبي صلى الله عليه و سلم وهي محرمة بالعمرة والحجة أن تطوف بالبيت وتسعى بين الصفا والمروة ثم تحل فدل ذلك على أن حكم القارن في طوافه لحجته وعمرته هو كذلك وأنه طواف واحد لا شيء عليه من الطواف غيره فكان من الحجة على أهل هذه المقالة الأخرى أن حديث عائشة رضي الله عنها هذا قد روي على غير ما ذكرنا

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ سے اسی طرح روایت کی ہے انہوں نے کہا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم فرمایا جب کہ وہ عمرہ و حج کا احرام باندھے ہوئے تھیں کہ وہ بیت اللہ کا طواف اور صفاء مروہ کے مابین سعی کرے پھر حلال ہو پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ طواف میں قارن کا حکم حج و عمر ہ دونوں کے لیے ہے ۔ اور وہ اسی طرح ایک طواف ہے اس طواف کے علاوہ اس پر اور کوئی چیز نہیں ہے اس قول کے قائلین کے خلاف دلیل یہ ہے کہ یہ روایت اس مذکورہ طریق کے علاوہ دوسرے انداز سے بھی روایت کی گئی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3841

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3842

3636 - حدثنا أبو بكرة ومحمد بن خزيمة قالا ثنا عثمان بن الهيثم قال أخبرني بن جريج قال أخبرني هشام بن عروة عن عروة عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت أمرنا النبي صلى الله عليه و سلم فقال من شاء أن يهل بالحج ومن شاء فليهل بالعمرة قالت كنت ممن أهل بعمرة فحضت ودخل علي النبي صلى الله عليه و سلم فأمرني أن أنقض رأسي وأمتشط وأدع عمرتي

عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حکم فرمایا کہ جو چاہے حج کا احرام باندھے اور جو چاہے عمرے کا احرام باندھے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں ان میں سے تھی جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا مگر مجھے حیض شروع ہو ا اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ میرے ہاں تشریف لائے اور مجھے حکم فرمایا کہ اپنا سر کھول لوں اور کنگھی کروں اور اپنے عمرے کو چھوڑ دوں۔

من شاء أن يهل بالحج ومن شاء فليهل بالعمرة ← أمرنا النبي صلى الله عليه و سلم ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← بن جُرَيْجٍ ← عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ← أبو بكرة ومحمد بن خزيمة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3842

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3843

3637 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن أبي زائدة عن إسرائيل عن زيد بن الحسن عن عكرمة عن عائشة مثله

عکرمہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت کی ہے ۔

عَائِشَۃَ مِثْلَہُ ← عِكْرِمَةَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← اِسْرَائِیْلُ ← بن أَبِي زَائِدَةَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3843

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3844

3638 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا يوسف بن عدي قال ثنا بن أبي زائدة عن نافع عن بن أبي مليكة عن عائشة مثله ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أمرها حين حاضت أن تدع عمرتها وذلك قبل طوافها لها فكيف يكون طوافها في حجتها التي أحرمت بها بعد ذلك يجزئ عنها من حجتها تلك ومن عمرتها التي قد رفضتها هذا محال وقد روى الأسود عنها في ذلك أيضا ما

ابن ابی ملیکہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۔ اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حیض آنےپر اسے حکم دیا کہ وہ اپنا عمرہ چھوڑ دے اور یہ اس کے طواف سے پہلے کی بات ہے کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس حج کا طواف پہلے کر لیں جس کا احرام بعد میں باندھا اور وہ طواف اس کے حج و عمرہ کی طر ف سے کافی ہو جائے جس عمرہ کو اس نے مجبورا چھوڑدیا ۔ یہ ناممکن بات ہے اس روایت میں یہ ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حکم فرمایا جب کہ ان کو ایام حیض پیش آگئے کہ وہ عمرہ کو ترک کر دے اور یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے طواف سے پہلے کی بات ہے پس کس طرح ان کا وہ طواف جو انہوں نے حج کے لیے کرنا تھا اور اس کا احرام بعد میں باندھا وہ اس حج کے طواف اور اس عمرہ کے طواف کی جگہ کام دے گا جس عمرہ کو انہوں نے نسخ کر دیا۔ یہ بات ناممکن ہے او اسود رحمہ اللہ نے بھی ان سے اس سلسلہ میں روایت نقل کی ہے ۔ روایت اسود رضی اللہ عنہا ذیل میں ہے ۔

عائشة مثله ففي هذا الحديث ← بن أبي مليكة ← نَافِعٍ ← بن أَبِي زَائِدَةَ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3844

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3845

3639 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا أبو عوانة عن منصور عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجنا ولا نري إلا أنه الحج فلما قدم مكة طاف ولم يحل وكان معه الهدي فطاف من معه من نسائه وأصحابه فحل منهم من لم يكن معه الهدي قال وحاضت هي قالت فقضينا مناسكنا من حجتنا فلما كانت ليلة الحصبة ليلة النفر قلت يا رسول الله أيرجع أصحابك بحج وعمرة وأرجع أنا بحج قال أما كنت طفت بالبيت ليالي قدمنا قالت قلت لا قال انطلقي مع أخيك إلى التنعيم فأهلي بعمرة ثم موعدك مكان كذا وكذا ففي هذا الحديث ما يدل على أنها قد كانت خرجت من عمرتها التي صارت مكان حجتها بفسخ الحج بحيضها إلى عرفة قبل طوافها لها لأن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لها أما كنت طفت ليالي قدمنا أي لو كنت طفت كانت قد تمت لك عمرتك مع حجتك التي قد فرغت منها فلما أخبرته أنها لم تكن طافت ليالي قدموا جعلها بما فعلت بعد ذلك لحجها من وقوفها بعرفة أو توجهها إليها خارجة من عمرتها فأمرها أن تعتمر أخرى مكانها من التنعيم فكيف يجوز لقائل أن يقول إن طوافها بالبيت لحجة هي فيها يكون لتلك الحجة ولعمرة أخري قد خرجت منها قبل ذلك هذا عندنا محال وقد روى القاسم بن محمد عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها في ذلك ما

اسود نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ہم مدینہ منورہ سے نکلے اور ہمارا خیال فقط حج ہی کا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ مکہ تشریف لائے اور طواف کر کے حلال نہ ہوئے آپ کے پا س ہدی تھی پس آپ کے ساتھ ازواج اور اصحاب نے طواف کیا وہ حلال ہو گئے جن کے پاس ہدی نہیں تھی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیض کے ایام شروع ہو ئے پس ہم نے اپنے حج کے احکام ادا کے جب ایام تشریق کے بعد والی رات آئی ( لیلۃ الحصبہ اس رات کو منیٰ سے واپسی پر محصب میں اترتے ہیں) تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ کیا آپ کے اصحاب تو حج و عمرہ کے ساتھ واپس جائیں اور میں فقط حج کے ساتھ لوٹ جاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کیا تم نے ان راتوں میں طواف نہیں کیا جب ہم مکہ آئے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم جاؤ اور عمرہ کا احرام باندھو پھر تم فلاں فلاں جگہ پہنچ جاؤ یہ روایت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے عمرہ سے نکل گئیں جو نسخ حج کے سبب ان کے حج کی جگہ حیض کے پیش آنے کی بنا ء پر آیا تھا اس لیے کہ وہ اس عمرے کا طواف کیے بغیر عرفات کی طرف گئیں ۔ کیونکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسے فرمایا کہ تو اس عمرے سے فارغ ہو گئی ہے جب کہ اس نے اطلاع دی کہ میں نے مکہ پہنچے کی راتوں میں طواف نہیں کیا تھا آپ نے ان کے ان افعال کو جو حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حج کے لیے مثلا وقوف عرفات یا اس کی طرف روانہ ہونا وغیرہ ان کو عمرہ سے نکالنے والا قرار دیا ۔ اسی وجہ سے آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اس کی جگہ مقام تنیعم سے احرام عمرہ باندھے ۔ اب اس قائل کو کس طرح یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ یہ کہے کہ ان کا طواف حج کے لیے تھا اور وہ اس بعد والے حج اور دوسرے عمرے کے لیے کافی ہو جائے گا حالانکہ وہ اس عمرے سے تو وہ پہلے نکل چکیں ہمارے ہاں یہ بات ناممکن ہے اور قاسم بن محمد نے بھی اس سلسلہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۔ ذیل میں ملاحظہ ہو ۔

خرجنا ولا نرى إلا ← عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3845

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3846

3640 - حدثنا فهد قال ثنا أبو نعيم قال ثنا عبد العزيز بن عبد الله بن أبي سلمة عن عبد الرحمن بن القاسم عن أبيه عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا نذكر إلا الحج فلما جئنا سرف طمثت فدخل علي رسول الله صلى الله عليه و سلم وأنا أبكي فقال ما يبكيك فقلت لوددت أن لم أحج العام أو لم اخرج العام قال لعلك نفست قلت نعم قال فإن هذا أمر كتبه الله تعالى على بنات آدم فافعلي ما يفعل الحجاج غير أن لا تطوفي بالبيت قالت فلما جئنا مكة قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لأصحابه اجعلوها عمرة فحل الناس إلا من كان معه هدي فكان الهدي معه ومع أبو بكر وعمر وعثمان وذي اليسارة ثم أهلوا بالحج فلما كان يوم النحر طهرت فأرسلني رسول الله صلى الله عليه و سلم فأفضت فأتي بلحم بقر فقلت ما هذا فقالوا أهدي رسول الله صلى الله عليه و سلم عن نسائه البقر حتى إذا كانت ليلة الحصبة قلت يا رسول الله يرجع الناس بحجة وعمرة وأرجع بحجة فأمر عبد الرحمن بن أبي بكر فأردفني خلفه فإني أذكر أني كنت أنعس فيضرب وجهي مؤخرة الرحل حتى جئنا التنعيم فأهللت بعمرة جزاء عمرة الناس التي اعتمروا بها فهذا مثل الحديث الذي قبله وقد رواه عروة عن عائشة رضي الله عنها أبين من ذلك

عبدالرحمن بن قاسم نے اپنےوالد سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ نکلے اور ہم حج ہی کا تذکرہ کرنے والے تھے جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو مجھے حیض آنے لگا پس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ تشریف لائے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے پوچھا کیوں روتی ہو میں نے کہا میں تو خواہش رکھتی ہوں کاش کہ میں اس سال حج نہ کرتی یا اس سال حج کے لیے نہ نکلتی آپ نے فرمایا شاید تمہیں ایام آگئے ؟ میں نے کہا جی ہاں فرمایا یہ بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنات آدم کی مجبوری ہے تم وہی کرو جو حجاج کرتے ہیں البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں جب ہم مکہ پہنچ گئے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اپنے اصحاب کو فرمایا اس کو عمرہ بنا لو تو سب لوگوں نے احرام کھول دیا سوائے ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ کے ساتھ بھی ہدی کے جانور تھے اسی طرح ابو بکر و عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم اور صاحب وسعت اصحاب کے پاس بھی پھر انہوں نے حج کا احرام باندھا جب یوم نحر آیا میں نے غسل طہارت کیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مجھے مکہ بھیجا میں نے طواف زیارت کیا تو گائے کا گوشت لایا گیا میں نے کہا یہ کیاہے ؟ انہوں نے کہا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی ہدی دی ہے جب واپسی کی رات آئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ لوگ حج وعمرہ کے ساتھ لوٹ گے اور میں صرف حج کے ساتھ لوٹوں گی تو آپ صلی اللہ علیہ نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا انہوں نے مجھے اپنے پیچھے بٹھایا مجھے اچھی طرح یاد پڑتا ہے کہ میں سانس لیتی تو وہ میرا چہر ہ کجاوے کی پچھلی جانب مارتے (مراد تیز رفتاری سے سواری کو چلانا ہے ) یہاں تک کہ ہم تنعیم میں آئے پس میں نے عمرے کا حرام باندھا یہ اس عمرے کی جگہ تھا جو لوگوں نے عمرہ کیا تھا یہ روایت پہلی روایت کی طرح ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3846

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3847

3641 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت خرجنا موافين للهلال فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم من شاء أن يهل بالحج فليهل ومن شاء أن يهل بالعمرة فليهل فأما أنا فإني أهل بالحج لأن معي الهدي قالت عائشة رضي الله عنها فمنا من أهل بالحج ومنا من أهل بالعمرة وأما أنا فإني أهللت بالعمرة فوافاني يوم عرفة وأنا حائض فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم دعي عنك عمرتك وانقضي شعرك وامتشطي ثم لبي بالحج فلبيت بالحج فلما كانت ليلة الحصبة وطهرت أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم عبد الرحمن بن أبي بكر فذهب بي الى التنعيم فلبيت بالعمرة قضاء لعمرتها فبينت عائشة أن حجتها كانت مفصولة من عمرتها قد كانت فيما بينهما نقضت شعرها وامتشطت فكيف يجوز أن يكون طوافها لحجتها التي بينها وبين عمرتها ما ذكرنا من الإحلال يجزء لحجتها هذا محال وهو أولى من حديث أبي الزبير عن جابر رضي الله عنه لأن ذلك إنما أخبر فيه جابر رضي الله عنه بقصة عائشة رضي الله عنها وأنها لم تكن حلت بين عمرتها وحجتها وأخبرت عائشة رضي الله عنها في هذا بأمر النبي صلى الله عليه و سلم إياها قبل دخولها في حجتها أن تدع عمرتها وأن تفعل ما يفعل الحلال بما ذكرت في حديثها ودل ذلك أيضا على أن حديث عطاء عن عائشة رضي الله عنها كما رواه عنه الحجاج وعبد الملك لا كما رواه عنه بن أبي نجيح واحتج أيضا الذين قالوا يطوف القارن لحجته وعمرته طوافا واحدا بما

ہشام بن عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ ہم چاند کی تاریخ کے مطابق نکلے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اعلان فرمایا جو چاہے حج کا احرام باندھے اور جو چاہے عمرہ کا احرام باندھے باقی میں تو حج کا احرام باندھوں گا اس لیے کہ میرے ساتھ ہدی ہے عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم میں سے بعض لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرے کا اور میں نے عمرے کا احرام باندھا مگر عرفہ کے دنوں میں مجھے حیض آنے لگا۔ تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا تم اپنے عمرہ کو ترک کر دو اور اپنے بالوں کو کھول ڈالو اور کنگھی کر لو پھر حج کا تلبیہ کہو پس میں نے حج کا تلبیہ کہا جب منی سے واپسی کی رات آئی اور میں حیض سے پاک ہو گئی تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہا کو حکم دیا وہ مجھے تنعیم لائے پس میں نے عمرہ کا تلبیہ اپنے عمرے کی قضائے کے لیے کہا ۔ پس حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کر دیا کہ میرا حج عمرہ سے الگ تھا اور ان دونوں کے مابین انہوں نے اپنے بالو ں کو کنگھی کی اور کھولا تو اب آپ ہی فرمائیں کہ یہ کس طرح جائز ہے کہ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا کا طواف ان کے حج کے لیے تھا و ہ حج جو کہ اس حج اور ان کے عمرے کے مابین تھا کہ وہ طواف ان کے حج و عمر دونوں کے لیے کافی ہو یہ بالکل ناممکن ہے اور یہ روایت ابو الزبیر کی روایت سے اولیٰ ہے جو انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کیونکہ اس میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے صرف حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ ذکر کیا ہے اور عمرہ اور حج کا مابین احرام کھولنے کا تذکرہ نہیں جبکہ اس روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ مجھے جناب رسول اللہصلی اللہ علیہ حج شروع کرنے سے قبل ترک عمرہ اور احرام سے خارج لوگوں والے افعال کا حکم فرمایا اور میں نے اسی طرح کیا جیسا کہ روایت میں مذکور ہے اور اس سے یہ دلالت میسر آگئی کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے عطا والی روایت تو حجاج و عبدالملک والی روایت کی طرح ہے ابن ابی نجیح کی طرح نہیں جو لوگ قارن کے لیے حج وعمر کا ایک ہی طواف مانتے ہیں ان کی مستدل روایت ذیل میں ہے ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3847

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3848

3642 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا يعقوب بن حميد قال ثنا محمد بن حازم قال ثنا الحجاج بن أرطاة عن أبي الزبير عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قرن بين الحج والعمرة فطاف لهما طوافا واحدا قيل له ما أعجب هذا انكم تحتجون بمثل هذا وقد رويتم عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أفرد الحج وعن بن جريج والأوزاعي وعمرو بن دينار وقيس بن سعد عن عطاء عن جابر رضي الله عنه أنهم قدموا صبيحة رابعة مهلين بالحج فأمرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يجعلوها عمرة وهو على الصفا في آخر طواف فكيف تقبلون مثل ذلك وتدعون مثل هذا فإن احتجوا في ذلك بما

ابو الزبیر رضی اللہ عنہ نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ نے حج و عمر میں قران کیا اور اس کے لیے ایک طواف کیا ان کےجواب میں کہا جائےگا ۔ نہایت عجیب بات ہے کہ تم اس جیسی روایت سے استدلال کرتے ہو۔ حالانکہ تم جعفر کی سند سے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ذکر کر چکے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے حج افراد کیا اور ابن جریج اور اوزاعی او ر عمرو بن دینا راور قیس بن دینار اور قیس بن سعد کی جابر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت ذکر کر چکے کہ وہ چوتھی صبح کو حج احرام باندھے ہوئے آئے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسے عمرہ بنانے کا حکم دیا اس وقت آپ صفا پر طواف کے آخری چکر میں تھے تم اس جیسی روایت کس طرح قبول کرتے ہو اور اس جیسا دعویٰ کر رہے ہو فریق اول سے اس روایت کو بھی فریق ثانی کے خلاف دلیل میں پیش کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، ← محمد بن حازم ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3848

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter