شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 20 باب فسخ الحج أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال ذلك القول في آخر طواف على المروة فعلمنا أن قول عائشة رضي الله عنها ) · حديث 3837
وحدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن بن شهاب عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع فأهللنا بعمرة ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من كان معه هدي فليهل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما جميها فقدمت مكة وأنا حائض لم أطف بالبيت ولا بين الصفا والمروة فشكوت ذلك الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أنقضي رأسك وامتشطي وأهلي بالحج ودعي العمرة فلما قضيت الحج أرسلني رسول الله صلى الله عليه و سلم مع عبد الرحمن بن أبي بكر رضي الله عنه إلى التنعيم فاعتمرت فقال هذه مكان عمرتك قالت فطاف الذين أهلوا بالعمرة بالبيت وبين الصفا والمروة ثم حلوا ثم طافوا طوافا آخر بعد أن رجعوا من منى لحجهم وأما الذين جمعوا بين الحج والعمرة فإنما طافوا لهما طوافا واحدا قالوا فهذه عائشة رضي الله عنها قد قالت وأما الذين جمعوا بين الحج والعمرة فإنما طافوا طوافا واحدا وهم كانوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم وبأمره كانوا يفعلون ففي ذلك ما يدل على القارن لحجته وعمرته طوافا واحدا ليس عليه غير ذلك فكان من حجتنا عليهم لمخالفهم أنا قد روينا عن عقيل عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها فيما تقدم من هذا الباب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع تمتع وتمتع الناس معه والمتمتع قد علمنا أنه الذي يهل بحجة بعد طوافه للعمرة ثم قالت عائشة رضي الله عنها في حديث مالك عن الزهري عن عروة عن عائشة رضي الله عنها قالت خرجنا مع النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع فأهللنا بعمرة فأخبرت أنهم دخلوا في إحرامهم كما يدخل المتمتعون قالت ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم من كان معه هدي فليهل بالحج مع العمرة ثم لا يحل حتى يحل منهما ولم يبين في هذا الحديث الموضع الذي قال لهم هذا القول فيه فقد يجوز أن يكون قاله لهم قبل دخول مكة أو بعد دخول مكة قبل الطواف فيكونون قارنين بتلك الحجة العمرة التي كانوا أحرموا بها قبلها ويجوز أن يكون قال لهم ذلك بعد طوافهم للعمرة فيكونون متمتعين بتلك الحجة التي أمرهم بالإحرام بها فنظرنا في ذلك فوجدنا جابر بن عبد الله رضي الله عنه وأبا سعيد الخدري أخبرا في حديثهما اللذين رويناهما عنهما في حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد ح
عروہ نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے ہم نے عمرے کا احرام باندھا پھر آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا جس کے پاس ہدی ہو وہ حج کا احرام باندھے پھر اس سے اسی وقت حلال ہو جب دونوں سے حلال ہوتے ہیں میں مکہ میں پہنچی تو ایام حیض شروع ہو گئے اور میں بیت اللہ میں طواف نہ کر سکی اور نہ صفا مروہ کر سکی ۔ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں اس کی شکایت کی آپ نے فرمایا اپنا سر کھول دو اور کنگھی کرو اور حج کا احرام باندھ لینا اور عمرہ کو ترک کر دو ۔ پس جب میں نے حج ادا کر لیا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے مجھے جناب عبدا لرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا چنانچہ میں نے عمرے کا احرام باندھا تو آپ صلی اللہ علیہ نے فرمایا یہ تیرے عمرے کی جگہ عمرہ ہوا انہوں نےکہا کہ یہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں جنہوں نے کہا ہے ۔ واما الذین جمعو ابین الحج و العمر ۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ لوگ جنہوں نے حج و عمر کو اکٹھا کیا وہ ایک طواف کریں گے صحابہ کرام جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی معیت میں تھے اور وہ آپ کے حکم سے یہ افعال کر رہے تھے اس روایت سے یہ دلالت مل رہی ہے کہ قارن پر اپنے حج و عمرہ کی وجہ سے ایک طواف لازم ہے اس کے علاوہ اس پر کوئی طواف نہیں ہے ۔ پس ہماری ان کے خلاف دلیل یہ ہے کہ عقیل نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے تمتع کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا اور تمتع کرنے والے اپنے عمرہ سے فارغ ہوکر حج کا تلبیہ کہے مالک کی سند سے مروی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی معیت میں حجۃ الوداع کے لیے روانہ ہوئے ہم نے عمرہ کا احرام باندھا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ احرام میں تمتع کرنے والے کی طرح داخل ہو ئے ۔ وہ کہتی ہیں پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس کےپاس ھدی ہو وہ حج کا تلبیہ عمروہ کے ساتھ ہی کہے پھر وہ اس احرام سے باہر نہیں ہو سکتا جب تک کہ دو احراموں سے حلال نہ ہو جائے اس روایت میں اس جگہ کی نشاندہی نہیں فرمائی کہ آپ نے یہ بات کس وقت فرمائی یہ ممکن ہے کہ آپ نے یہ بات داخلہ مکہ سے پہلے فرمائی یا داخلہ کےبعد اور طواف سے پہلے فرمائی پس اس صورت میں وہ اس حج کو عمرہ کے ساتھ ملانے والے ہوں گے جس کا پہلے احرام باندھا تھا۔ اوریہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے ان کو طواف عمرہ کے بعد ارشاد فرمایا ہو ۔ پس اس صورت میں اس حج کی وجہ سے تمتع کرنے والے ہوں گے وہ حج کہ احرام کا آپ نے ان کو حکم فرمایا پس اس میں ہم نے غور کیا تو حضرت ابو سعید اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایت مل گئیں جن کو باب نسخ الحج میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ نے یہ بات مروہ کی سعی کے آخری چکر میں فرمائی پس اس سے ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ نے یہ بات مروہ کی سعی کے آخری چکر میں فرمائی پس اس سے ہمیں معلوم ہو گیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں جو مالک نے نقل کی ہے اما الذین جمعوا بین العمرۃ الحج " پھر وہ لوگ جنہوں عمروہ اور حج کو جمع کیا تو ان کی مراد جمع سے تمتع سے جمع کرنا ہے قرآن سے جمع کرنا نہیں ہے ۔ حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا فرما تی ہیں کہ انہوں نے ایک طواف کیا یعنی حج و عمرہ جمع کرنے کے بعد انہوں نے ایک طواف کیا کیونکہ ان حج عمرہ کے ساتھ ملا ہوا تھا اور وہ حج بھی مکی تھا اور مکی حج کے لیے عرفہ سے پہلے کوئی طواف نہیں ہے اس کے لیے عرفہ کے بعد اسی طرح طواف کیا جائے گا ۔ جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کرتے تھے جیسا کہ ہم نے ان سے روایات ذکر کیں ۔ پس روایت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا معنی بھی اسی طرح لوٹ آیا جو تصحیح آثار اور نفی تضاد کے لیے ہم نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ تو اس میں اس قارن کا کوئی حکم موجود نہیں جو کہ کوفہ وغیرہ سے حج قرآن کرے کہ وہ ایک طواف کرے یا دو ۔ وہ لوگ جو قارن کے لیے حج و عمرہ کا ایک طواف قرار دیتے ہیں ۔ انہوں نے اس روایت سے بھی استدلال کیا ہے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جنہوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا انہوںے نے طواف سعی کر کے احرام کھول دیا پھر انہوں نے ایک اور طواف کیا جبکہ وہ منی سے حج کر کے لوٹے (طواف زیارت البتہ وہ لوگ جنہوں نے حج عمر کو جمع کیا تو انہوں نے ایک ہی طواف کیا ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 3837
