شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 8 باب الرجل يحرم وعليه قميص كيف ينبغي له أن يخلعه ) · حديث 3558
3371 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن عطاء بن لبيبة عن عبد الملك بن جابر عن جابر بن عبد الله قال كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم جالسا في المسجد فقد قميصه من جيبه حتى أخرجه من رجليه فنظر القوم الى النبي صلى الله عليه و سلم فقال انى أمرت ببدنى التي بعثت بها أن يقلد اليوم ويشعر على كذا وكذا فلبست قميصى ونسيت فلم أكن لأخرج قميصي من رأسي وكان بعث ببدنه وأقام بالمدينة قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا لا ينبغي للمحرم أن يخلعه كما يخلع الحلال قميصه لأنه إذا فعل ذلك غطى رأسه وذلك عليه حرام فأمر بشقه لذلك وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل ينزعه نزعا واحتجوا في ذلك بحديث يعلى بن أمية الذي أحرم وعليه جبة فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمره أن ينزعها نزعا وقد ذكرنا ذلك في باب التطييب عند الإحرام فقد خالف ذلك حديث جابر الذي ذكرنا وإسناده أحسن من إسناده فان كانت هذه الأشياء تثبت بصحة الإسناد فان حديث يعلى معه من صحة الإسناد ما ليس مع حديث جابر وأما وجه ذلك من طريق النظر فانا رأينا الذين كرهوا نزع القميص إنما كرهوا ذلك لأنه يغطى رأسه إذا نزع قميصه فأردنا أن ننظر هل يكون تغطية الرأس في الإحرام على كل الجهات منهيا عنها أم لا فرأينا المحرم نهى عن لبس القلانس والعمائم والبرانس فهى أن يلبس رأسه شيئا كما نهى أن يلبس بدنه القميص ورأينا المحرم لو حمل على رأسه شيئا ثيابا أو غيرها لم يكن بذلك بأسا ولم يدخل ذلك فيما قد نهى عن تغطية الرأس بالقلانس وما أشبهها لأنه غير لابس فكان النهي إنما وقع من ذلك على تغطية ما يلبسه الرأس لا على غير ذلك مما يغطى به وكذلك الأبدان نهى عن إلباسها القميص ولم ينه عن تحليها بالأزر فلما كان ما وقع عليه النهى من هذا في الرأس إنما هو الإلباس لا التغطية التي ليست بإلباس وكان إذا نزع قميصه فلاقى ذلك رأسه فليس ذلك بإلباس منه لرأسه شيئا إنما ذلك تغطية منه لرأسه وقد ثبت بما ذكرنا أن النهى عن لبس القلانس لم يقع على تغطية الرأس وإنما وقع على إلباس الرأس في حال الإحرام ما يلبس في حال الإحلال فلما خرج بذلك ما أصاب الرأس من القميص المنزوع من حال تغطية الرأس المنهى عنها ثبت أنه لا بأس بذلك قياسا ونظرا على ما ذكرنا وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد اختلف المتقدمون في ذلك
عبدالملک بن جابر نےجابر بن عبداللہ صلی اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ،آپ نے اپنا قمیص گریبان سے پھاڑ ڈالا یہا ں تک اس کو اپنے پاؤں کی طرف سے نکالا تو لوگوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی طرف دیکھا تو آپ نے فرمایا میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں سے متعلق ان کو حکم دیا ہے جن کو آج قلادہ ڈالنے کے لیے بھیجا ہے اور اس لیے بھیجا تا کہ ان کو اس طرح اشعار کیا جائے تو میں نے اپنا قمیص پہنا اور میں اسے اتارنا بھول گیا اب میں اپنا قمیص سر کی جانب سے نہ نکالوں گا آپ اس وقت اپنی قربانی کے جانور بھیج چکے تھے اور مدینہ منورہ میں ہی اقامت اختیار کرنے والے تھے ۔ امام طحاوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ محرم کو قمیص اس طرح نہ اتارنی چاہیے جس سے غیر محرم اتارتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کا سر ڈھا نکا جائے گا اور یہ ناجائز ہے پس اس کو کہا جائے گا کہ وہ اسے پھاڑ ڈالے ۔ مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسے جس طرح چاہے اتارلے ان کی دلیل حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے احرام باندھا اور اس وقت وہ جبہ پہنے ہوئے تھے پھر وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کو اتارنے کا حکم فرمایا اور یہ بات ہم باب التطیب عند الا حرام میں ذکر کر آئے ہیں مگر حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت اس کے خلاف ہے اور اس کی سند بھی اس سے مضبوط و قوی ہے اگر دونوں روایات کا صحت کے لحاظ سے توازن کریں تو حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت کو وہ مقام حاصل ہے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کو حاصل نہیں ہے ۔ اور نظرو فکر کے لحاظ سے اس کی وضاحت اس طرح کہ جو لوگ قمیص کو اتارنا ناپسند کرتے ہیں ان کے ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ قمیص اتارتے وقت سر کو ڈھانپ لے گی اب ہم اس بات کو جانچتے ہیں کہ آیا احرام کی ہر صورت میں سر ڈھانپنا ممنوع ہے یا نہیں چنانچہ غور سے معلوم ہوا کہ محرم کو ٹوپی ، پگڑی اور کوٹ وغیرہ کے ذریعے ڈھانپنے سے تو منع کیا گیا ہے اور اس پر کوئی چیز پہن لینے کی ممانعت کی گئی جس طرح بدن پر قمیص کے پہننے سے منع کیا گیا اور ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر محرم سر پر کوئی کپڑا رکھے اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ سر کو ٹوپی کے ساتھ ڈھانپنے کے حکم میں نہیں کیونکہ وہ اسے پہننے والا نہیں ہے ۔تو ممانعت کی صورت یہ ہو گئی کہ جو شخص اس کو پہن کر سر کو ڈھانپے محض ڈھانپناتاوان کا سبب نہیں بالکل اسی طرح جسم پر قمیص پہنے کی ممانعت ہے ڈھاپننے کی نہیں احرام کی چادر سے جسم ڈھانپنے میں کچھ حرج نہیں ۔ تو جب ممانعت پہننے کی ہے اس ڈھانپنے کی نہیں ہے جس کو پہننا قرار نہ دیا جائے جب قمیص اتاری جائے گی تو وہ سر کو ملے گی تو اس کو پہننا کوئی شمار نہیں کرتا بلکہ یہ تو سر کو ڈھانپنا ہے پس یہ ممنوع نہ ہوگا ۔ اس تمام بحث سے یہ بات ہوئی کہ ٹوپی پہننے کی ممانعت میں سرکا کپڑے سے ڈھانپ شامل نہیں ہے ۔ سر پر ایسی چیز پہننا ممنوع ہے جو احرام کے علاوہ حالت میں پہنی جاتی ہے جبکہ قمیص اتارتے وقت سر سے ٹکرانے کی صورت ڈھانپنے کا اطلاق نہیں ہوتا جو کہ ممانعت میں شامل ہو پس قیاس کے لحاظ سے بھی اس میں کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کاقول ہے ۔ البتہ متقدمین کے اقوال اس سلسلہ میں مختلف منقول ہیں ۔ ذیل میں ملاحظہ ہوں ۔
جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرٍ، ← عبد الرحمن بن عطاء بن لبيبة ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أسد ← ربيع المؤذن
Hadith 3558
