Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 8 باب الرجل يحرم وعليه قميص كيف ينبغي له أن يخلعه ) · حديث 3558

3371 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا حاتم بن إسماعيل عن عبد الرحمن بن عطاء بن لبيبة عن عبد الملك بن جابر عن جابر بن عبد الله قال كنت عند النبي صلى الله عليه و سلم جالسا في المسجد فقد قميصه من جيبه حتى أخرجه من رجليه فنظر القوم الى النبي صلى الله عليه و سلم فقال انى أمرت ببدنى التي بعثت بها أن يقلد اليوم ويشعر على كذا وكذا فلبست قميصى ونسيت فلم أكن لأخرج قميصي من رأسي وكان بعث ببدنه وأقام بالمدينة قال أبو جعفر فذهب قوم الى هذا فقالوا لا ينبغي للمحرم أن يخلعه كما يخلع الحلال قميصه لأنه إذا فعل ذلك غطى رأسه وذلك عليه حرام فأمر بشقه لذلك وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل ينزعه نزعا واحتجوا في ذلك بحديث يعلى بن أمية الذي أحرم وعليه جبة فأتى رسول الله صلى الله عليه و سلم فأمره أن ينزعها نزعا وقد ذكرنا ذلك في باب التطييب عند الإحرام فقد خالف ذلك حديث جابر الذي ذكرنا وإسناده أحسن من إسناده فان كانت هذه الأشياء تثبت بصحة الإسناد فان حديث يعلى معه من صحة الإسناد ما ليس مع حديث جابر وأما وجه ذلك من طريق النظر فانا رأينا الذين كرهوا نزع القميص إنما كرهوا ذلك لأنه يغطى رأسه إذا نزع قميصه فأردنا أن ننظر هل يكون تغطية الرأس في الإحرام على كل الجهات منهيا عنها أم لا فرأينا المحرم نهى عن لبس القلانس والعمائم والبرانس فهى أن يلبس رأسه شيئا كما نهى أن يلبس بدنه القميص ورأينا المحرم لو حمل على رأسه شيئا ثيابا أو غيرها لم يكن بذلك بأسا ولم يدخل ذلك فيما قد نهى عن تغطية الرأس بالقلانس وما أشبهها لأنه غير لابس فكان النهي إنما وقع من ذلك على تغطية ما يلبسه الرأس لا على غير ذلك مما يغطى به وكذلك الأبدان نهى عن إلباسها القميص ولم ينه عن تحليها بالأزر فلما كان ما وقع عليه النهى من هذا في الرأس إنما هو الإلباس لا التغطية التي ليست بإلباس وكان إذا نزع قميصه فلاقى ذلك رأسه فليس ذلك بإلباس منه لرأسه شيئا إنما ذلك تغطية منه لرأسه وقد ثبت بما ذكرنا أن النهى عن لبس القلانس لم يقع على تغطية الرأس وإنما وقع على إلباس الرأس في حال الإحرام ما يلبس في حال الإحلال فلما خرج بذلك ما أصاب الرأس من القميص المنزوع من حال تغطية الرأس المنهى عنها ثبت أنه لا بأس بذلك قياسا ونظرا على ما ذكرنا وهذا قول أبى حنيفة وأبى يوسف ومحمد رحمهم الله تعالى وقد اختلف المتقدمون في ذلك

عبدالملک بن جابر نےجابر بن عبداللہ صلی اللہ علیہ سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ،آپ نے اپنا قمیص گریبان سے پھاڑ ڈالا یہا ں تک اس کو اپنے پاؤں کی طرف سے نکالا تو لوگوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ کی طرف دیکھا تو آپ نے فرمایا میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں سے متعلق ان کو حکم دیا ہے جن کو آج قلادہ ڈالنے کے لیے بھیجا ہے اور اس لیے بھیجا تا کہ ان کو اس طرح اشعار کیا جائے تو میں نے اپنا قمیص پہنا اور میں اسے اتارنا بھول گیا اب میں اپنا قمیص سر کی جانب سے نہ نکالوں گا آپ اس وقت اپنی قربانی کے جانور بھیج چکے تھے اور مدینہ منورہ میں ہی اقامت اختیار کرنے والے تھے ۔ امام طحاوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے اس کو اختیار کرتے ہوئے فرمایا کہ محرم کو قمیص اس طرح نہ اتارنی چاہیے جس سے غیر محرم اتارتا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کا سر ڈھا نکا جائے گا اور یہ ناجائز ہے پس اس کو کہا جائے گا کہ وہ اسے پھاڑ ڈالے ۔ مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اسے جس طرح چاہے اتارلے ان کی دلیل حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ انہوں نے احرام باندھا اور اس وقت وہ جبہ پہنے ہوئے تھے پھر وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے ان کو اتارنے کا حکم فرمایا اور یہ بات ہم باب التطیب عند الا حرام میں ذکر کر آئے ہیں مگر حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت اس کے خلاف ہے اور اس کی سند بھی اس سے مضبوط و قوی ہے اگر دونوں روایات کا صحت کے لحاظ سے توازن کریں تو حضرت یعلیٰ رضی اللہ عنہ کی روایت کو وہ مقام حاصل ہے جو حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کو حاصل نہیں ہے ۔ اور نظرو فکر کے لحاظ سے اس کی وضاحت اس طرح کہ جو لوگ قمیص کو اتارنا ناپسند کرتے ہیں ان کے ہاں اس کی وجہ یہ ہے کہ قمیص اتارتے وقت سر کو ڈھانپ لے گی اب ہم اس بات کو جانچتے ہیں کہ آیا احرام کی ہر صورت میں سر ڈھانپنا ممنوع ہے یا نہیں چنانچہ غور سے معلوم ہوا کہ محرم کو ٹوپی ، پگڑی اور کوٹ وغیرہ کے ذریعے ڈھانپنے سے تو منع کیا گیا ہے اور اس پر کوئی چیز پہن لینے کی ممانعت کی گئی جس طرح بدن پر قمیص کے پہننے سے منع کیا گیا اور ہم اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اگر محرم سر پر کوئی کپڑا رکھے اس میں کوئی حرج نہیں اور یہ سر کو ٹوپی کے ساتھ ڈھانپنے کے حکم میں نہیں کیونکہ وہ اسے پہننے والا نہیں ہے ۔تو ممانعت کی صورت یہ ہو گئی کہ جو شخص اس کو پہن کر سر کو ڈھانپے محض ڈھانپناتاوان کا سبب نہیں بالکل اسی طرح جسم پر قمیص پہنے کی ممانعت ہے ڈھاپننے کی نہیں احرام کی چادر سے جسم ڈھانپنے میں کچھ حرج نہیں ۔ تو جب ممانعت پہننے کی ہے اس ڈھانپنے کی نہیں ہے جس کو پہننا قرار نہ دیا جائے جب قمیص اتاری جائے گی تو وہ سر کو ملے گی تو اس کو پہننا کوئی شمار نہیں کرتا بلکہ یہ تو سر کو ڈھانپنا ہے پس یہ ممنوع نہ ہوگا ۔ اس تمام بحث سے یہ بات ہوئی کہ ٹوپی پہننے کی ممانعت میں سرکا کپڑے سے ڈھانپ شامل نہیں ہے ۔ سر پر ایسی چیز پہننا ممنوع ہے جو احرام کے علاوہ حالت میں پہنی جاتی ہے جبکہ قمیص اتارتے وقت سر سے ٹکرانے کی صورت ڈھانپنے کا اطلاق نہیں ہوتا جو کہ ممانعت میں شامل ہو پس قیاس کے لحاظ سے بھی اس میں کچھ حرج معلوم نہیں ہوتا ۔ یہی امام ابو حنیفہ ، ابو یوسف ، محمد رحمۃ اللہ علیہم کاقول ہے ۔ البتہ متقدمین کے اقوال اس سلسلہ میں مختلف منقول ہیں ۔ ذیل میں ملاحظہ ہوں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جَابِرٍ، ← عبد الرحمن بن عطاء بن لبيبة ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Hadith 3558

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 8 باب الرجل يحرم وعليه قميص كيف ينبغي له أن يخلعه ) · حديث 3559

3372 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن قال ثنا سعيد بن منصور قال ثنا هشيم قال أنا يونس عن الحسن بن محمد بن على وأخبرنا مغيرة عن إبراهيم والشعبي أنهم قالوا إذا أحرم الرجل وعليه قميص فليخرقه عليه حتى يخرج منه

یونس نے حسن بن محمد بن علی رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح روایت کی ہے اور مغیرہ نے ابراہیم و شعمی دونوں سے نقل کیا کہ جب آدمی احرام باندھ لے اور وہ قمیص پہننے والا ہو تو اسے چاہیے کہ اسے پھاڑ کر اس سے نکل جائے ۔

إذا أحرم الرجل وعليه قميص فليخرقه عليه حتى يخرج منه ← إبراهيم والشعبي أنهم ← الحسن بن محمد بن على وأخبرنا مغيرة ← يُونُسَ ← هُشَيْمٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← صالح بن عبد الرحمن

Hadith 3559

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 8 باب الرجل يحرم وعليه قميص كيف ينبغي له أن يخلعه ) · حديث 3560

3373 - حدثنا روح بن الفرج قال ثنا يوسف بن عدى قال ثنا شريك عن سالم عن سعيد بن جبير رضي الله عنه مثله

شریک نے سالم سے انہوں نے سعید بن جبیر رحمۃ اللہ علیہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔

سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مِثْلَهُ. ← سَالِمٍ ← شَرِيکٍ ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ

Hadith 3560

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 8 باب الرجل يحرم وعليه قميص كيف ينبغي له أن يخلعه ) · حديث 3561

3374 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الرحمن بن زياد قال ثنا شعبة عن المغيرة وحماد عن إبراهيم قال إذا أحرم الرجل وعليه قميص قال أحدهما يشقه وقال الآخر يخلعه من قبل رجليه

مغیرہ و حماد دونوں نے ابراہیم سے نقل کیا کہ جب کسی نے اس حالت میں احرام باندھ لیا کہ اس کے جسم پر قمیص موجود تھی تو ایک نے کہا اس کو پھاڑ ڈالے دوسرے نے کہا اس کو پاؤں کی جانب سے اتار دے ۔

أحدهما يشقه وقال الآخر يخلعه من قبل رجليه ← إذا أحرم الرجل وعليه قميص ← إِبْرَاهِيمَ، ← المغيرة وحماد ← شُعْبَةُ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Hadith 3561

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 8 باب الرجل يحرم وعليه قميص كيف ينبغي له أن يخلعه ) · حديث 3562

3375 - حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن قتادة عن عطاء بن أبى رباح أن رجلا يقال له يعلى بن أمية أحرم وعليه جبة فأمره النبي صلى الله عليه و سلم أن ينزعها قال قتادة قلت لعطاء إنما كنا نرى أن يشقها فقال عطاء إن الله لا يحب الفساد

قتادہ نے عطاء بن ابی رباح سے نقل کیا کہ ایک آدمی جس کا نام یعلیٰ بن امیہ تھا انہوں نے اس حالت میں احرام باندھا کہ ان پر جبہ تھا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے اسے جبہ اتارنے کا حکم فرمایا قتادہ کہتے ہیں میں نے عطاء سے پوچھا ہمارے خیال میں تو اسے قمیص پھاڑ دینا چاہیے تو عطاء کہنے لگے " ان اللہ لا یحب الفساد " اللہ تعالیٰ بلاوجہ بگاڑ کو پسند نہیں فرماتا ۔

عطاء إن الله لا يحب الفساد ← قتادة قلت لعطاء إنما كنا نرى أن يشقها ← عليه جبة فأمره النبي صلى الله عليه و سلم أن ينزعها ← عطاء بن أبى رباح أن رجلا يقال له يعلى بن أمية أحرم ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَیْمَانَ

Hadith 3562

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 5 كتاب مناسك الحج ) ‹ ( 8 باب الرجل يحرم وعليه قميص كيف ينبغي له أن يخلعه ) · حديث 3563

3376 - حدثنا سليمان قال ثنا عبد الرحمن قال ثنا شعبة عن أبى سلمة الأزدي قال سمعت عكرمة وسئل عن رجل أحرم وعليه قباء قال يخلعه فهذا عطاء وعكرمة قد خالف إبراهيم والشعبي وسعيد بن جبير وذهبا الى ما ذهبنا اليه من حديث يعلى

ابو سلمہ ازدی کہتے ہیں کہ میں نے عکرمہ کو فرماتے سنا جبکہ ان سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جو اس حالت میں احرام باندھے کہ اس نے قباء پہن رکھی ہو تو وہ کہنے لگے اسے اتاردے یہ عطاء عکرمہ کے اقوال ابراہیم ، شعبی ، ابن جبیر رحمۃ اللہ علیہم سے مختلف ہیں ۔ اول دوکارجحان روایت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہے جو کہ ہمارا مؤقف ہے۔

رجل أحرم وعليه قباء ← عِكْرِمَةَ وَسُئِلَ ← أبى سلمة الأزدي ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← سُلَیْمَانَ

Hadith 3563

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter