شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 28 باب وضع اليدين في السجود أين ينبغي أن يكون ) · حديث 1493
1422 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر قال ثنا فليح بن سليمان عن عباس بن سهل قال اجتمع أبو حميد وأبو أسيد وسهل بن سعد فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا سجد أمكن أنفه وجبهته ونحى يديه عن جنبيه ووضع كفيه حذو منكبيه قال أبو جعفر فذهب قوم إلى هذا فقالوا الذي ينبغي للمصلى أن يجعل يديه في سجوده حذاء منكبيه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل يجعل يديه في سجوده حذاء أذنيه واحتجوا في ذلك بما
عباس بن سہل روایت کرتے ہین کہ ابو حمید اور ابو اسید سہل بن سعد جمع ہوئے اور انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا تو ابو حمید کہنے لگے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانے والا ہون جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے اپنی ناک اور پیشانی کو زمین پر جماتے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے اور اپنی دو نوں ہتھیلیوں کو اپنے کندھوں کے برابر رکھتے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ نمازی کو چاہیے کہ وہ سجدہ میں اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر رکھے مگر دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے فرمایا سجدے میں اپنے ہاتھوں کو کانوں کے برابر رکھے اور ان کی دلیل یہ روایات ہیں ۔
أَبُو حُمَيْدٍ: ← سهل بن سعد فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبُو أُسَيْدٍ ← اجْتَمَعَ أَبُو حُمَيْدٍ، ← عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،
Hadith 1493
