Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2963

2798 - حدثنا محمد بن خزيمة قال ثنا معلى بن أسد قال ثنا عبد العزيز بن المختار عن سهيل بن أبى صالح عن أبيه عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر الخيل فقال هي لثلاثة لرجل أجر ولرجل ستر وعلى رجل وزر فأما الذي هى له ستر فالرجل يتخذها تكرما وتجملا ولا ينسى حق ظهورها وبطونها في عسرها ويسرها

سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہےکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کا ذکر فرمایا کہ وہ تین قسم ہیں ۔ 1۔ آدمی کے لیے اجر کا باعث ہے ۔ 2۔ آدمی کےلیے باعث سترہے ۔ 3۔ آدمی کے لیے بوجھ ہے وہ گھوڑا جو ستر کا باعث ہے وہ جس کو عزت و جمال کے لیے پالا ہو اور اس میں وہ گھوڑے کا حق نہ بھولتا ہو اس کو خوب خوراک اور مناسب سواری و بار برداری کرتا ہو جو تنگ دست ہویا خوش حال ۔ ( اجروالا جو جہاد وغیرہ دینی مقاصد کے لیے پالا جائے اور بوجھ وہ گھوڑا جو ریاکاری اور دکھلاوے کےلیے پالا جائے )۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ← مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2963

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2964

2799 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن زيد بن أسلم عن أبى صالح السمان عن أبى هريرة رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه قال ولم ينس حق الله في رقابها ولا في ظهورها فقط

ابو صالح السمان نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ البتہ یہ لفظ مختلف ہیں اس نے اس کی گردن کے سلسلہ میں اس کا حق اور اللہ تعالیٰ کا حق نہیں بھلایا۔

ولم ينس حق الله في رقابها ولا في ظهورها فقط ← رسول الله صلى الله عليه و سلم مثله غير أنه ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2964

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2965

2800 - حدثنا يونس قال ثنا بن وهب قال حدثني هشام بن سعد عن زيد بن أسلم فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فذهب قوم الى وجوب الصدقة في الخيل إذا كانت ذكورا وإناثا وكان صاحبها يلتمس نسلها واحتجوا في إيجابهم الزكاة فيها بقول رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ينس حق الله فيها قالوا ففي هذا دليل أن لله فيها حقا وهو كحقه في سائر الأموال التي يجب فيها الزكاة واحتجوا في ذلك بما روى عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه

ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے پھرانہوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ گھوڑوں میں صدقہ لازم ہے جب کہ نرو مادہ دونوں مخلوط ہوں اور ان کا مالک ان کی نسل کشی چاہتا ہو۔ انہوں نے وجوب زکوۃ کے لیے اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے استدلال کیا ولم ینس حق اللہ فیھا " ان کا کہنا ہے اس میں دلیل ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے وہ لزوم زکوۃ میں دیگر اموال کی طرح ہیں اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی روایت سے بھی استدلال کیا جو ذیل میں ہے ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2965

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2966

2801 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا عبد الله بن محمد بن أسماء قال ثنا جويرية عن مالك عن الزهرى أن السائب بن يزيد أخبره قال رأيت أبى يقوم الخيل ويدفع صدقتها الى عمر بن الخطاب رضي الله عنه

زہری نے سائب بن یزید سے نقل کیا کہ میں نے اپنے والد کو دیکھا کہ وہ گھوڑے رکھتے تھے اور ان کی زکوۃ عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجتے تھے ۔

رأيت أبى يقوم الخيل ويدفع صدقتها الى عمر بن الخطاب ← الزهرى أن السائب بن يزيد ← مَالِكٍ، ← جُوَيْرِيَةُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2966

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2967

2802 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا الخصيب بن ناصح قال ثنا حماد بن سلمة عن قتادة عن أنس بن مالك أن عمر رضي الله عنه كان يأخذ من الفرس عشرة ومن البرذون خمسة

قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہےکہ عمر رضی اللہ عنہ ایک عربی گھوڑے سے دس درہم اور فارسی اور چھوٹے گھوڑے سے پانچ درہم سالانہ وصول کرتے تھے ۔

قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2967

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2968

2803 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمر والحجاج بن المنهال قالا ثنا حماد بن سلمة فذكر بإسناده مثله وممن ذهب الى هذا القول أيضا أبو حنيفة وزفر رحمهما الله وخالفهم في ذلك آخرون منهم أبو يوسف ومحمد بن الحسن رحمهما الله فقالوا لا صدقة في الخيل السائمة البتة وكان من الحجة لهم على أهل المقالة الأولى فيما احتجوا به لقولهم من قول رسول الله صلى الله عليه و سلم ولم ينس حق الله فيها أنه قد يجوز أن يكون ذلك الحق حقا سوى الزكاة فإنه قد روى عن رسول الله صلى الله عليه و سلم ما

ابو عمر اور حجاج بن منہال دونوں نے حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اس قول کو جن علماء نے اختیار کیا وہ امام ابو حنیفہ اور زفرر رحمۃ اللہ علیہم ہیں دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کیا ان کا امام ابو یوسف اور محمدبن الحسن رحمۃ اللہ علیہم ہیں انہوں نے کہا کہ چرنے والے گھوڑوں میں بالکل زکوۃ نہیں اول قو کے قائلین کے خلاف اسی روایت کے الفاظ لم ینس حق اللہ فیھا " سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ اس حق سے زیادہ مراد زکوۃ کے علاوہ ہو چنانچہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2968

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2969

2804 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا شريك بن عبد الله عن أبى حمزة عن عامر عن فاطمة بنت قيس عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال في المال حق سوى الزكاة وتلا هذه الآية ليس البر أن تولوا وجوهكم الى آخر الآية فلما رأينا المال قد جعل فيه حق سوى الزكاة احتمل أن يكون ذلك الحق الذي ذكره رسول الله صلى الله عليه و سلم في الخيل هو ذلك الحق أيضا وحجة أخرى أن الزكاة في الحديث الذي رويناه عن أبى هريرة رضي الله عنه إنما هو في الخيل المرتبطة لا في الخيل السائمة وحجة أخرى أنا قد رأينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ذكر الإبل السائمة أيضا فقال فيها حق فسئل عن ذلك الحق ما هو فقال إطراق فحلها وإعارة دلوها ومنيحة سمينها

عامر نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا مال میں زکوۃ کے علاوہ حق ہے اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی " لیس البران تولو جودھکم (البقرہ 177) ہم جانتے ہیں کہ مال میں زکوۃ کے علاوہ حصلی اللہ علیہ وسلم بھی رکھا گیا ہے تو اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ اس سے گھوڑوں میں جو حق ذکر کیا گیا ہے وہ زکوۃ کے علاوہ ہو دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جو روایت ذکر کی گئی ہے وہ باندھنے والے گھوڑوں سے متعلق ہے چرنے والوں سے متعلق نہیں ہے ایک اور دلیل یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چرنے والے اونٹوں کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا ان میں حق ہے " پھر آپ سے اس حق کے متعلق سوال ہوا تو فرمایا نراونٹ جفتی کے لیے دینا اور پانی کے لیے عاریتا ڈول دینا اور دودھ والا جانور استعمال کے لیے دے دینا۔

فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، ← عَامِرٍ، ← أَبِي حَمْزَةَ، ← شريك بن عبد الله ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2969

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2970

2805 - حدثنا بذلك إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو حذيفة قال ثنا سفيان عن أبى الزبير عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم فلما كانت الإبل أيضا فيها حق غير الزكاة احتمل أن يكون كذلك الخيل وأما ما احتجوا به ومما رويناه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه فلا حجة لهم فيه أيضا عندنا لأن عمر لم يأخذ ذلك منهم على أنه واجب عليهم وقد بين السبب الذي من أجله أخذ ذلك عمر بن الخطاب حارثة بن مضرب

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا ہے جب اونٹوں میں بھی زکوۃ کے علاوہ حق ہے تو یہ احتمال ہے کہ گھوڑوں میں بھی اسی طرح ہو رہی وہ روایت جس کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نقل کیا ہے ہمارے نزدیک اس میں ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے اس لیے نہیں لیا کہ وہ ان کے ذمہ واجب ہے حارثہ بن مضرب نے آپ سے وہ سبب بھی کھول دیا جس کی بناء پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے لیا تھا روایت ذیل میں ہے ۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← بذلك إبراهيم بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2970

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2971

2806 - حدثنا فهد قال ثنا محمد بن القسم المعروف بسحيم الحراني قال ثنا زهير بن معاوية قال ثنا أبو إسحاق عن حارثة بن مضرب قال حججت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنهما فأتاه أشراف من أشراف أهل الشام فقالوا يا أمير المؤمنين انا قد أصبنا دواب وأموالا فخذ من أموالنا صدقة تطهرنا بها وتكون لنا زكاة فقال هذا شيء لم يفعله اللذان كانا قبلى ولكن انتظروا حتى أسأل المسلمين فسأل أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم فيهم علي بن أبي طالب رضي الله عنه فقالوا حسن وعلى رضي الله عنه ساكت لم يتكلم معهم فقال مالك يا أبا الحسن لا تتكلم قال قد أشاروا عليك ولا بأس بما قالوا إن لم يكن أمرا واجبا ولا جزية راتبة يؤخذون بها قال فأخذ من كل عبد عشرة ومن كل فرس عشرة ومن كل هجين ثمانية ومن كل برذن أو بغل خمسة دراهم في السنة ورزقهم كل شهر للفرس عشرة دراهم والهجين ثمانية والبغل خمسة خمسة والمملوك جريبين كل شهر فدل هذا الحديث على أن ما أخذ منهم عمر رضي الله عنه من أجله ما كان أخذ منهم في ذلك أنه لم يكن زكاة ولكنها صدقة غير زكاة وقد قال لهم عمر رضي الله عنه إن هذا لم يفعله اللذان كانا قبلى يعنى رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر رضي الله عنه فدل ذلك على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبا بكر رضي الله عنه لم يأخذا مما كان بحضرتهما من الخيل صدقة ولم ينكر على عمر ما قال من ذلك أحد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم ودل قول علي لعمر رضي الله عنهما قد أشاروا عليك إن لم يكن جزية راتبة وخراجا واجبا وقبول عمر ذلك منه أن عمر إنما كان أخذ منهم بسؤالهم إياه أن يأخذ منهم فيصرفه في الصدقات وأن لهم منع ذلك منه متى أحبوا ثم سلك عمر بالعبيد أيضا في ذلك مسلك الخيل ولم يكن ذلك بدليل على أن العبيد الذين لغير التجارة يجب فيهم صدقة وانما كان ذلك على التبرع من مواليهم بإعطاء ذلك وقد روى عن علي رضي الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال عفوت لكم عن صدقة الخيل والرقيق

ابو اسحاق نے حارثہ بن مضرب سے نقل کیا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا جب اہل شام کے شرفا آپ سے ملے تو انہوں نے کہا اے امیر المومنین رضی اللہ عنہ ہمارے بہت سے چوپائے اور مال ہیں آپ ہمارے اموال سے صدقہ وصول کر کے ان مالوں کو پاک کر دیں اور وہ ہمارے لیے پاکیزگی اور نمو کا باعث بنے اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ کا م مجھ سے پہلے دونوں ہستیوں نے نہیں کیا لیکن تم انتظار کرو میں اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں استفسار کرتا ہوں انہوں نے ان سے سوال کیا ان میں حضر ت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے سب نے کہا ٹھیک ہے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ خاموش تھے ان کے ساتھ جواب میں شریک نہ ہوئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا ابو الحسن تم کیوں بات نہیں کرتے؟ انہوں نے جواب میں کہا انہوں نے آپ کو مشورہ دے دیا اور جو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر یہ واجبی حکم نہ ہو اور نہ جزیہ مقررہ ہو جو ان سے لیا جاتا ہے حارثہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ہر غلام پر دس اور ہر گھوڑے پر دس درہم اور مخلط نسل گھوڑے پر آٹھ اور فارسی گھوڑے اور خچر پر پا نچ پانچ درہم سالانہ اور ان کو ہر ماہ خالص نسل گھوڑے پر دس درہم مختلط نسل گھوڑے کے لیے آٹھ اور فارسی گھوڑے اور خچر پھر پانچ خچر کے لیے پانچ درہم ماہانہ اور غلام کو دو جریب جو ہر ماہ دینے کرنے کا حکم فرمایا ۔ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے جو اپنے طور پر لیا تھا وہ زکوہ کے علاوہ صدقہ تھا اور وصول کرنے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو فرمایا یہ وہ عمل ہے جو کہ مجھے سے پہلے دو ہستیوں نے نہیں کیا یعنی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر نے گھوڑوں کی زکوۃ نہیں لی۔ اور جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کا بھی کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے انکار نہیں کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جو بات فرمائی وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے " قد اشارو علیک ان لم یکن جزیۃ راتبۃ و خراجاً واجبام (صحابہ کرام نے آپ کو مشورہ دیا ہے ( اس کو لے لیا جائے ) اگر یہ بطور واجب جزیہ اور خراج کے نہ ہو اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس کو قبول کرنا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے مطالبے پر لیا تھا کہ ان پر وصول کر کے اس کو صدقات میں شامل کر لیں۔ اور ان کو اس کے روکنے کا اختیار تھا جب بھی ان کو پسند ہو ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے غلاموں کے سلسلہ میں یہی راہ اختیار فرمائی اور یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ تجارت کے علاوہ غلاموں پر صدقہ لازم ہے آپ نے تو ان کے اموال سے جو کچھ لیا وہ نفلی صدقہ اور عطیہ کے طور پر تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی بات نقل کی ہے میں نے تم سے گھوڑوں اور غلام کی زکوۃ معاف کر دی ۔

حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← محمد بن القسم المعروف بسحيم الحراني ← فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2971

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2972

2807 - حدثنا بذلك فهد قال ثنا عمر بن حفص بن غياث قال ثنا أبى عن الأعمش قال ثنا أبو إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن على رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم

اسی روایت کو عاصم بن ضمرہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ← بذلك فهد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2972

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2973

2808 - حدثنا على بن أبى شيبة قال ثنا يزيد بن هارون قال أنا سفيان وشريك عن أبى إسحاق عن الحارث عن على رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

دوسری سند سے حارث نے انہوں نے حضرت علی صلی اللہ علیہ وسلم سے انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ وَشَرِيكٌ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← على بن أبى شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2973

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 4 كتاب الزكاة ) ‹ ( 4 باب الخيل السائمة هل فيها صدقة أم لا ) · حديث 2974

2809 - حدثنا ربيع الجيزي قال ثنا يعقوب بن إسحاق بن أبىعبادة قال ثنا إبراهيم بن طهمان عن أبى إسحاق عن الحارث عن على رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله فذلك أيضا ينفي أن يكون في الخيل صدقة فان قال قائل فقد قرن مع ذلك الرقيق فلما كان ذلك لا ينفي أن تكون الصدقة واجبة في الرقيق إذا كانوا للتجارة فكذلك لا ينفي ذلك أن تكون الزكاة واجبة في الخيل إذا كانت سائمة وكما كان قوله قد عفوت لكم عن صدقة الرقيق إنما هو على الرقيق للخدمة خاصة فكذلك قوله قد عفوت لكم عن صدقة الخيل إنما هو على خيل الركوب خاصة قيل له هذا يحتمل ما ذكرت وإذا بطل أن ينتفى الزكاة بهذا الحديث انتفت بما ذكرنا قبله مما في حديث حارثة لأن فيه أن عليا قال لعمر ما قد ذكرنا فدل ذلك أن معنى قول رسول الله صلى الله عليه و سلم هذا كان عند علي رضي الله عنه على نفى الزكاة منها وإن كانت سائمة وقد روى عن أبى هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم ما معناه قريب من معنى حديث عاصم والحارث عن علي رضي الله عنه

ابو اسحاق نے حارث سے انہوں نے جناب علی رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا ہے یہ تمام روایات بھی گھوڑوں میں صدقہ فریضہ کی نفی کرتی ہیں ۔ یہ روایت بھی گھوڑوں میں زکوۃ کے لازم ہونے کے منافی ہے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ان کو غلام کے ساتھ ملا کر ذکر لیا گیا ہے اور جب غلام تجارت کے لیے ہوں تو اس وقت وجوب زکوۃ کی نفی نہیں ہوتی اسی طرح چرنے والے گھوڑوں سے بھی زکوۃ کی نفی نہیں ہوتی اور آپ کا ارشاد گرامی کہ میں نے تم سے صدقہ کو معاف کر دیا یہ خدمت کے غلاموں کے ساتھ مخصوص ہے اسی طرح آپ کا ارشاد تم سے گھوڑوں کا صدقہ معاف کر دیا یہ سواری کے گھوڑوں کے ساتھ خاص ہے اس کے جواب میں عرض کریں گے اگر آپ نے جو احتمال ذکر کیا یہ بھی بجا ہے جب روایت سے زکوۃ کا انتفاء باطل ہو اتو جو ہم نے سابقہ سطور میں ذکر کیا اس سے اس کی نفی ہو جائے گی اور حدیث حارثہ میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر یہ بطور فرض جزیہ یا خراج کے طور پر وصول نہ کیا جائے تو اس کے لینے میں حرج نہیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قول سے گھوڑوں کی زکوۃ کی نفی مراد ہے اگر چہ وہ چرنے والے ہوں اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس کے ہم معنی روایت وادر ہوئی ہے جو کہ حدیث عاصم اور حارث کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملتی جلتی ہے ۔ روایات ذیل میں ہیں ۔

عَلِيٍّ، ← الْحَارِثِ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← يعقوب بن إسحاق بن أبىعبادة ← ربيع الجيزي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 2974

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter