شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4868
4598 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سعيد بن عون مولى بني هاشم قال ثنا الدراوردي عن يزيد بن خصيفة عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن أبي هريرة قال أتي بسارق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله إن هذا سرق فقال ما إخاله سرق فقال السارق بلى يا رسول الله قال إذهبوا به فاقطعوه ثم أحسموه ثم إيتوني به قال فذهب به فقطع ثم حسم ثم أتى به فقال تب إلى الله عز و جل فقال تبت إلى الله فقال تاب الله عليك
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک چور خدمت نبوی ﷺ میں لایا گیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس نے چوری کی ہے آپ نے فرمایا میرے خیال میں تو اس نے چوری نہیں کی ۔ چور کہنے لگا۔ کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ پھر اس کو ابلتے تیل میں ڈال دو ( تاکہ خون بہنے سے وہ ہلاک نہ ہو جائے ) پھر اس کو میرے پاس لاؤ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر داغا گیا پھر اس کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ۔ تو اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ آپ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ کو قبول فرمائے ۔
أتي بسارق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← سعيد بن عون مولى بني هاشم ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ
Hadith 4868
