Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4868

4598 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا سعيد بن عون مولى بني هاشم قال ثنا الدراوردي عن يزيد بن خصيفة عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن أبي هريرة قال أتي بسارق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا يا رسول الله إن هذا سرق فقال ما إخاله سرق فقال السارق بلى يا رسول الله قال إذهبوا به فاقطعوه ثم أحسموه ثم إيتوني به قال فذهب به فقطع ثم حسم ثم أتى به فقال تب إلى الله عز و جل فقال تبت إلى الله فقال تاب الله عليك

محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک چور خدمت نبوی ﷺ میں لایا گیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اس نے چوری کی ہے آپ نے فرمایا میرے خیال میں تو اس نے چوری نہیں کی ۔ چور کہنے لگا۔ کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔ پھر اس کو ابلتے تیل میں ڈال دو ( تاکہ خون بہنے سے وہ ہلاک نہ ہو جائے ) پھر اس کو میرے پاس لاؤ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اس کو لے جا کر اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا پھر داغا گیا پھر اس کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ۔ تو اس نے کہا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔ آپ نے دعا فرمائی اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ کو قبول فرمائے ۔

أتي بسارق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقالوا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← سعيد بن عون مولى بني هاشم ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 4868

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4869

4599 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن محمد بن إسحاق عن يزيد بن خصيفة عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یزید بن خصیفہ نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان سے انہوں نے جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Hadith 4869

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4870

4600 - حدثنا حسين بن نصر قال ثنا أبو نعيم قال ثنا سفيان عن يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله

سفیان نے یزید بن خصیفہ سے پھر انہوں نے اپنی اسناد سے اس کی مثل روایت کی ہے ۔

يزيد بن خصيفة فذكر بإسناده مثله ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← حسين بن نصر

Hadith 4870

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4871

4601 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب قال سمعت بن جريج يحدث أن يزيد بن خصيفة أخبره أنه سمع محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

یزید بن خصیفہ نے بتلایا کہ میں نے محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان کو سنا کہ وہ جناب نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت بیان کرتے تھے ۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← أَنَّهُ ← أن يزيد بن خصيفة ← بن جُرَيْجٍ ← بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 4871

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4872

4602 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا بن لهيعة قال ثنا يزيد بن حبيب عن عبد الرحمن بن ثعلبة الأنصاري عن أبيه أن عمرو بن سمرة بن حبيب بن عبد نحس أتي النبي صلى الله عليه و سلم فقال يا رسول الله إني سرقت جملا لبني فلان فأرسل إليهم رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا إنا فقدنا جملا لنا فأمر به رسول الله صلى الله عليه و سلم فقطعت يده قال ثعلبة أنا أنظر إليه حين قطعت يده وهو يقول الحمد لله الذي طهرني مما أراد أن يدخل جسدي النار قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن الرجل إذا أقر بالسرقة مرة واحدة قطع وإحتجوا في ذلك بهذا الحديث وممن ذهب إلى ذلك أبو حنيفة ومحمد بن الحسن رحمهما الله وخالفهم في ذلك آخرون ومنهم أبو يوسف رحمه الله فقالوا لا تقطع حتى يقر مرتين وإحتجوا في ذلك بما

عبدالرحمن بن ثعلبہ انصاری نے اپنے والد سے بیان کیا کہ عمرو بن سمرہ بن حبیب بن عبدشمس کو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میں نے بنی فلاں کا ایک اونٹ چرایا ہے تو جناب رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف پیغام بھیجا تو انہوں نے کہا ہمارا ایک اونٹ گم ہوا ہے ۔ پس جناب رسول اللہ ﷺ سنے حکم فرمایا تو میں نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ فقہاء کی ایک جماعت کا کہنایہ ہے کہ جب کوئی آدمی ایک مرتبہ سرقہ کا اعتراف کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اس کی دلیل مندرجہ بالا روایات ہیں اس قول کو امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ محمد بن الحسن رحمتہ اللہ علیہ نے اختیار کیا ہے ۔ دوسروں نے کہا امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا موقف یہ ہے کہ دو مرتبہ اقراء کے بغیر اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے گا ۔ ان کی دلیل مندرجہ ذیل روایات سے ہے ۔

عبد الرحمن بن ثعلبة الأنصاري ← يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ ← بن لهيعة ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← ربيع المؤذن

Hadith 4872

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4873

4603 - حدثنا أحمد بن داود قال ثنا إبراهيم بن الحجاج ومحمد بن عون الزبيري قالا ثنا حماد بن سلمة قال أخبرني إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة عن أبي المنذر مولى أبي ذر عن أبي أمية المخزومي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى بلص اعترف اعترافا ولم يوجد معه المتاع [ ص 169 ] فقال له رسول الله ما أخالك سرقت قال بلى يا رسول الله فأعادها عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم مرتين أو ثلاثا قال بلى يا رسول الله فأمر به فقطع ثم جئ به فقال له النبي صلى الله عليه و سلم قل أستغفر الله وأتوب إليه قال أستغفر الله وأتوب إليه ثم قال اللهم تب عليه ففي هذا الحديث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لم يقطعه بإقراره مرة واحدة حتى أقر ثانية فهذا أولى من الحديث الأول لأن فيه زيادة على ما في الأول وقد يجوز أن يكون أحدهما قد نسخ الآخر فلما إحتمل ذلك رجعنا إلى النظر فوجدنا السنة قد قامت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المقر بالزنا أنه رده أربعا وأنه لم يرجمه بإقراره مرة واحدة وأخرج ذلك من حكم الإقرار بحقوق الآدميين التي يقبل فيها الإقرار مرة واحدة ورد حكم الإقرار بذلك إلى حكم الشهادة عليه فكما كانت الشهادة عليه غير مقبولة إلا من أربعة فكذلك جعل الإقرار به لا يوجب الجلد إلا بإقراره أربع مرات فثبت بذلك أن حكم الإقرار بالسرقة أيضا لذلك يرد إلى حكم الشهادة عليها فكما كانت الشهادة عليه لا يجوز إلا من اثنين فكذلك الإقرار بها لا يقبل إلا مرتين وقد رأيناهم جميعا لما رووا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في المقر بالزنا لما هرب فقال النبي صلى الله عليه و سلم لولا خليتم سبيله فكان ذلك عندهم على أن رجوعه مقبول واستعملوا ذلك في سائر حدود الله عز و جل فجعلوا من أقر بها ثم رجع قبل رجوعه ولم يخصوا الزنا بذلك دون سائر حدود الله فكذلك لما جعل الإقرار في الزنا لا يقبل إلا بعدد ما يقبل عليه من البينة ثبت أنه لا يقبل الإقرار بسائر حدود الله إلا بعدد ما يقبل عليها من البينة فأدخل محمد بن الحسن رحمه الله في هذا على أبي يوسف رحمه الله فقال لو كان لا يقطع في السرقة حتى يقر بها سارقها مرتين لكان إذا أقر أول مرة صار ما أقر به عليه دينا ولم يجب عليه القطع بعد ذلك إذا كان السارق لا يقطع فيما قد وجب عليه بأخذه إياه دينا فكان من حجتنا لأبي يوسف رحمة الله عليه في ذلك أنه لو لزم ذلك أبا يوسف في السرقة للزم محمدا مثله في الزنا أيضا إذ كان الزاني في قولهم لا يحد فيما وجب عليه فيه مهرا كما لا يقطع السارق فيما قد وجب عليه دينا فلو كانت هذه العلة التي احتج بها محمد بن الحسن رحمه الله على أبي يوسف يجب بها فساد قول أبي يوسف رحمه الله في الإقرار بالسرقة للزم محمدا مثل ذلك في الإقرار بالزنا وذلك أنه لما أقر بالزنا مرة لم يجب عليه حد وقد أقر بوطء لا يحد فيه بذلك الإقرار فوجب عليه مهر فلا ينبغي أن يحد في وطء قد وجب عليه فيه مهر فإذا كان محمد رحمه الله لم يجب عليه بذلك حجة في الإقرار بالزنا فكذلك أبو يوسف رحمه الله لا يجب عليه بذلك حجة في الإقرار بالسرقة وقد رد علي بن أبي طالب رضي الله عنه الذي أقر عنده بالسرقة مرتين

ابو ذر کے مولی ابومنذر نے ابو امیہ مخزوی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک چورلایا گیا اس نے اعتراف تو اچھی طرح کیا مگر اس کے پاس سامان نہ پایا گیا تو جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا میرے خیال میں تم نے چوری نہیں کی۔ اس نے کہا کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس بات کو اس کے سامنے دوتین مربہ دہرایا اس نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے اس کا ہاتھ ایک مرتبہ اقرار سے نہیں کاٹا جب تک کہ اس نے دوسری مرتبہ اقر انہیں کیا۔ یہ روایت پہلی روایت سے اس لئے اولیٰ ہے کہ اس میں پہلی سے اضافہ پایا جاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری روایت سے پہلی کو منسوخ کر دیا ہو۔ اب جبکہ روایت میں احتمال ہے تو نظر کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ تا کہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں ۔ جب روایات میں احتمال ہے ۔ تو نظر کی طرف رجوع کریں گے۔ آپ ﷺ کا یہ طریقہ مبارک پایا کہ آپ تے زنا کا اقرار کرنے والے کو چار مرتبہ واپس کیا اور ایک مرتبہ اقرار کرنے پر اس کو رجم نہیں کیا اور اسے ان انسانی حقوق سے جن میں ایک بار کا اقرار قابل قبول ہوتا ہے ان سے نکال دیا اور اس اقرار کا وہی حکم قرار دیا جو گواہی ہوتا ہے تو جس طرح اس کے خلاف چار گواہوں سے کم گواہوں کی گواہی قابل قبول نہیں زنا کے اقرار کو بھی اسی طرح قرار دیا گیا تو جس مجرم کا چارمرتبہ اقرار نہ ہوحد واجب نہ ہوگی ۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ چوری کے اقرار کو اس کی گواہی کی طرف لوٹایا جائے گا تو جس طرح اس کے خلاف دوسے کم کی گواہی مقبول نہیں اس طرح اقراری دوبار ہوگا تب قبول کیا جائے گا اور ہم نے غور کیا کہ ان تمام روات نے جناب رسول اللہ ﷺ سے زنا کا اقرار کرنے والے کے بارے میں روایت کی ہے کہ جب اس نے اقرار کیا تو آپ نے اس کو چار مرتبہ واپس کیا اور ایک بار کے اقرار پراس کو رجم نہیں فرمایا۔ اب اس کو ان انسانی حقوق سے کہ جن میں ایک با رکا اقرار قبول ہوتا ہے خارج کر دیا اور اس اقرار کے حکم کو گواہی کے حکم کی طرف لوٹا دیا۔ تو جس طرح اس کے خلاف چار سے کم گواہوں کی گواہی مقبول نہیں زنا کے اقرار کوبھی اسی طرح قرار دیا گیا کہ جب تک وہ چار مرتبہ اقرار نہ کرے حد واجب نہ ہو گی۔ تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ چوری کے اقرار کو بھی اس کی گواہی کی طرف لوٹایا جائے گا تو جس طرح اس کے خلاف دو آدمیوں سے کم کی گواہی قابل قبول نہیں اسی طرح اقرار بھی دو بار ہوگا تو تب قبول کیا جائے گا۔ ہم سب اس بات کو مانتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ سے زنا کے اقراری مجرم کے متعلق روایت یہ ہے کہ جب وہ بھاگ گیا تو آپ نے فرمایا تم نے اس کا راستہ کیوں نہ چھوڑ دیا تو فقہاء کے ہاں اس کا مطلب یہی ہے کہ اس کا رجوع ان کے ہاں مقبول ہے اور انہوں نے تمام حدود میں اس پر عمل کیا۔ چنانچہ انہوں نے یہ مقرر کیا ہے کہ جو شخص اقرار کے بعد رجوع کرے اس کا رجوع قابل قبول ہے۔ فقہاء نے اس بات کو باقی حدود کو چھوڑ کر صرف زنا سے متعلق نہیں کیا ۔ تو اس طرح زنا کے اقرار میں وہی تعداد معتبر ہے جو گواہی کے لئے قبول کی جاتی ہے۔ تو تمام حدود میں اسی طرح اتنی بارکا اقرار مقبول ہوگا جتنی گواہی دی جاتی ہے۔ امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پراعتراض یہ ہے کہ امام محمد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر چورکا ہاتھ اس وقت تک نہ کاٹا جائے جب تک کہ وہ دوسری مرتبہ اقرار نہ کرے تو جب اس نے پہلی مرتبہ اقرار کیا تو یہ مال اس پرقرض ہوگیا اور جب وہ قرض ہو گیا تو اس پر ہاتھ کا کاٹنا جائز نہ ہوگا کیونکہ جو چیز اس کے لینے سے اس پرقرض ہو گئی ہو اس پر ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔ پس دوبارہ اقرار کو لازم کرنا درست نہ ہوا۔ ان کو جواب میں کہے کہ امام ابو یوسف کی طرف سے اس کا ایک الزامی جواب دیا جارہا ہے کہ اگر چوری کے سلسلہ میں یہ بات امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پر لازم کرتے ہیں تو آپ کو زنا کے سلسلہ میں اس قسم کی بات خوداپنے حق میں تسلیم کرنا پڑے گی (حالانکہ آپ اس کو تسلیم نہیں کرتے) کہ جب زانہ پر مہر لازم ہوگا تو بالاتفاق اس پر حد واجب نہ ہوگی جس طرح کہ چور پر مال کے قرض ہوجانے کی صورت میں اس کا ہاتھ کا ٹانہیں جاتا۔ پس جس علت کی وجہ سے امام محمد رحمتہ اللہ علیہ نے امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ پر اعتراض کیا ہے۔اسی علت کی وجہ سے خودان پر اعتراض لازم آتا ہے تو جس طرح اقرارزنا کے سلسلہ میں امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ جب اس پر نہ لزوم مہر کے قائل ہیں اور نہ سقوط حد کے قائل ہیں۔ کیونکہ جس وطی میں وجوب مہر ہو اس وطی پر حد واجب نہیں ہوتی ۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ جب زنا کے اقرار کی صورت میں ایک بار کے اقرار سے امام محمد رحمتہ اللہ علیہ حد کو ساقط نہیں مانتے تو یہ بات چوری کے سلسلہ میں بھی امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کے خلاف سقوط حد سرقہ کے تسلیم نہیں کی جاسکتی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو جس نے آپ کے ہاں چوری کا قرار دو بار کیا آپ نے اس کو لوٹا دیا۔

أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ ← أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَی أَبِي ذَرٍّ ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إبراهيم بن الحجاج ومحمد بن عون الزبيري ← أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ

Hadith 4873

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 10 كتاب الحدود ) ‹ ( 9 باب الإقرار بالسرقة التي توجب القطع ) · حديث 4874

4604 - حدثنا أبو بشر الرقي قال ثنا أبو معاوية عن الأعمش عن القاسم بن عبد الرحمن عن أبيه عن علي بن أبي طالب أن رجلا أقر عنده بسرقة مرتين فقال قد شهدت على نفسك شهادتين قال فأمر به فقطع وعلقها في عنقه أفلا ترى أن عليا رضي الله عنه رد حكم الإقرار بالسرقة إلى حكم الشهادة عليها في عدد الشهود فكذلك الإقرار بحدود الله كلها لا يقبل في ذلك إلا بعدد ما يقبل من الشهود عليها

قاسم بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے متعلق بیان کیا کہ ان کے ہاں ایک آمی نے چوری کا دو مرتبہ اقرارکیا تو آپ نے فرمایا تو انے اپنے نفس کے خلاف دو مرتبہ گوہلی دی پھر آپ نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا اور وہ ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا ۔ اس روایت میں غور فرمائیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چوری کے اقرار کو اس کے سلسلہ میں گواہوں کی تعداد کی طرف لوٹایا ہے تمام حدود اللہ میں اقرار کا حکم گواہی کی طرح ہو گا ان کے متعلق جتنی گوہی مطلوب ہوتی ہے ۔ اقرار بھی اسی مقدار سے معتبر مانا جائے گا۔ امام طحاوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ ایک عورت زیورات عاریت کے طور پر لیتی اور ان کو واپس نہ کرتی ۔ پس اس کو جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔

قد شهدت على نفسك شهادتين ← علي بن أبي طالب أن رجلا أقر عنده بسرقة مرتين ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أبو بشر الرقي

Hadith 4874

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter