Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 583

571 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا بن لهيعة قال ثنا قيس بن الحجاج عن حنش الصنعاني عن بن عباس رضي الله عنه أن بن مسعود خرج مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن فسأله رسول الله صلى الله عليه و سلم أمعك يا بن مسعود ماء قال معي نبيذ في إداوتي فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم أصبب علي فتوضأ به وقال شراب وطهور

حنش ضنعانی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلۃ الجن میں گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے سوال کیا کیا ابن مسعود تمہارے پاس پانی موجود ہے ؟ انہوں نے عرض کیا میرے مشکیزہ میں نبیذ موجود ہے تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے ہاتھ پر انڈیلو چنانچہ اس سے آپ نے وضو کیا اور آپ نے فرمایا وہ مشروب اور آلہ وضؤ ہے ۔

بْنِ عَبَّاسٍ ← حنش الصنعاني ← قَيْسُ بْنُ الْحَجَّاجِ ← بن لهيعة ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 583

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 584

572 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عمرو الحوضي قال ثنا حماد بن سلمة قال أخبرني علي بن زيد بن جدعان عن أبي رافع مولى عمر رضي الله عنه عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن وأن رسول الله صلى الله عليه و سلم احتاج إلى ماء يتوضأ به ولم يكن معه إلا النبيذ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم تمرة طيبة وماء طهور فتوضأ به رسول الله صلى الله عليه و سلم قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن من لم يجد إلا نبيذ التمر في سفره توضأ به واحتجوا في ذلك بهذه الآثار وممن ذهب إلى ذلك أبو حنيفة رضي الله عنه وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا لا يتوضأ بنبيذ التمر ومن لم يجد غيره تيمم ولا يتوضأ به وممن ذهب إلى هذا القول أبو يوسف وكان من الحجة لأهل هذا القول على أهل القول الأول أن عبد الله بن مسعود إنما روى ما ذكرنا عنه في أول هذا الباب من الطرق التي وصفنا وليست هذه الطرق طرقا تقوم بها الحجة عند من يقبل خبر الواحد ولم يجيء أيضا المجيء الظاهر فيجب على من يستعمل الخبر إذا تواترت الروايات به فهذا مما لا يجب استعماله لما ذكرنا على مذهب الفريقين الذين ذكرنا ولقد روي عن أبي عبيدة بن عبد الله ما يدل على أن عبد الله لم يكن مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلتئذ

ابو رافع مولیٰ عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ عبداللہ لیلۃ الجن میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کی ضرورت پیش آئی اور ابن مسعود کے پاس نبیذ کے علاوہ کچھ نہ تھا تو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور پاکیزہ اور پانی پاک ہے پس اس سے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا ۔امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ جس شخص کے پاس سفر میں ایسا پانی موجود ہو جس میں کھجوریں بھگوئی گئی ہوں اور اسکے علاوہ پانی نہ ہو تو وہ اس کے ساتھ وضو کرے انہوں نے ان آثار سے استدلال کیا ہے ۔ اس جواز کے قائلین میں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی آتا ہے ۔ مگر دیگر علماء نے اس کے برعکس کہا کہ بھگوئی ہوئی کھجور والے پانی سے وضو جائز نہیں ۔ جو اس کے سوا نہ پائے وہ تیمم کرے ۔ وہ اس سے بالکل وضو نہ کرے اس قول کو امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے اختیار کیا انہوں نے پہلے قول کو اختیار کرنے والوں کے خلاف یہ دلیل پیش کی کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جس کو آپ استدلال میں پیش کرتے ہیں اور اس کے لیے جتنی اسناد پیش کی ہیں وہ ان لوگوں کے ہاں بھی جو خبر واحد کو حجت مانتے ہیں قابل حجت نہیں ہیں کیونکہ راوی کا بیان پوری وضاحت سے پایا نہیں جاتا تا کہ متواتر طرق سے آئی ہوئی روایت کو قبول کر لیا جاتا ۔ پس دونوں فریق کے ہاں اس روایت پر عمل درست نہ ہوا البتہ ابو عبیدہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کےبیان کردہ اثر میں ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ لیلۃ الجن میں موجود ہی نہ تھے ۔

أبي رافع مولى عمر ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أبو عمرو الحوضي ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 584

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 585

573 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال ثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة قال قلت لأبي عبيدة أكان عبد الله بن مسعود مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن فقال لا

عمروبن مرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبیدہ کو کہا کیا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلۃ الجن میں موجود تھے تو انہوں نے جواب دیا نہیں ۔

عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← غُنْدَرٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 585

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 586

574 - حدثنا بن مرزوق قال ثنا وهب عن شعبة فذكر مثله بإسناده فلما انتفى عند أبي عبيدة أن أباه كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلتذ وهذا أمر لا يخفي مثله على مثله بطل بذلك ما رواه غيره مما يخبر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم فعل ليلتئذ إذ كان معه فإن قال قائل الآثار الأول أولى من هذا لأنها متصلة وهذا منقطع لأن أبا عبيدة لم يسمع من أبيه شيئا قيل له ليس من هذه الجهة احتججنا بكلام أبي عبيدة إنما احتججنا به لأن مثله على تقدمه في العلم وموضعه من عبد الله وخلطته لخاصته من بعده لا يخفي عليه مثل هذا من أموره فجعلنا قوله ذلك حجة فيما ذكرناه لا من الطريق الذي وضعت وقد روينا عن عبد الله بن مسعود من كلامه بالإسناد المتصل ما قد وافق ما قال أبو عبيدة

وہب نے کہا شعبہ نے اپنی سند سے اسی طرح روایت بیان کی ہے جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہونے کی نفی کر دی تو یہ ایسی چیز ہے جو ان کے بیٹے پر مخفی نہیں رہ سکتی تو ان سے دوسروں کا یہ روایت کرنا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تھے اور آپ نے نبیذ سے وضو کیا اگر کوئی شخص معترض ہو کہ پہلے آثار اس اثر کے مقابلے میں اولیٰ ہیں کیونکہ وہ متصل ہیں اور یہ منقطع ہے کیونکہ ابو عبیدہ نے اپنے والد سے کوئی روایت نہیں سنی۔ اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے اس دلیل میں ہم نے ابو عبیدہ کے قول کو دلیل نہیں بنایا بلکہ ہم نے ان سے اس لیے استدلال کیا کہ ان جیسا علم میں فوقیت رکھنے والا شخص جس کو اپنے والد کے ہاں قرب کا درجہ میسر ہو اس سے یہ معاملہ کیونکر مخفی رہ سکتا ہے ۔ ہم نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان کا کلام متصل سند کے ساتھ بھی روایت کیا ہے جو ابو عبیدہ کے قول کی موافقت میں ہے چنانچہ ملاحظہ ہو ۔

شُعْبَةُ، ← وَھْبٍ ← بن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 586

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 587

575 - حدثنا بن أبي داود قال ثنا عمرو بن عون قال ثنا خالد بن عبد الله عن خالد الحذاء عن أبي معشر عن إبراهيم عن علقمة عن عبد الله قال لم أكن مع النبي صلى الله عليه و سلم ليلة الجن ولوددت أني كنت معه

علقمہ نے کہا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لیلۃ الجن میں موجود نہ تھا اور میری چاہت تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوتا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 587

شرح معنی الآثار الطحاوي · کتاب ‹ ( 19 باب الرجل لا يجد إلا نبيذ التمر هل يتوضأ به أو يتيمم ) · حديث 588

576 - حدثنا ربيع المؤذن قال ثنا أسد قال ثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة قال ثنا داود بن أبي هند عن عامر عن علقمة عن بن مسعود رضي الله عنه هل كان مع النبي صلى الله عليه و سلم ليلة الجن أحد فقال لم يصحبه منا أحد ولكن فقدناه ذات ليلة فقلنا استطير أو اغتيل فتفرقنا في الشعاب والأودية نلتمسه وبتنا بشر ليلة بات بها قوم نقول استطير أم اغتيل فقال إنه أتاني داعي الجن فذهبت أقرئهم القرآن فأرانا آثارهم فهذا عبد الله قد أنكر أن يكون كان مع رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة الجن فهذا الباب إن كان يؤخذ من طريق صحة الإسناد فهذا الحديث الذي فيه الإنكار أولى لاستقامة طريقه ومتنه وثبت رواته وإن كان من طريق النظر فإنا قد رأينا الأصل المتفق عليه أنه لا يتوضأ بنبيذ الزبيب ولا بالخل فكان النظر على ذلك أن يكون نبيذ التمر أيضا كذلك وقد أجمع العلماء أن نبيذ التمر إذا كان موجودا في حال وجود الماء أنه لا يتوضأ به لأنه ليس بماء فلما كان خارجا من حكم المياه في حال وجود الماء كان كذلك هو في حال عدم الماء وحديث بن مسعود الذي فيه التوضي بنبيذ التمر إنما فيه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم توضأ به وهو غير مسافر لأنه إنما خرج من مكة يريدهم فقيل إنه توضأ بنبيذ التمر في ذلك المكان وهو في حكم من هو بمكة لأنه يتم الصلاة فهو أيضا في حكم استعماله ذلك النبيذ هنالك في حكم استعماله إياه بمكة فلو ثبت هذا الأثر أن النبيذ مما يجوز التوضي به في الأمصار والبوادي ثبت أنه يجوز التوضي لأنه في حال وجود الماء وفي حال عدمه فلما أجمعوا على ترك ذلك والعمل بضده فلم يجيزوا التوضي به في الأمصار ولا فيما حكمه حكم الأمصار ثبت بذلك تركهم لذلك الحديث وخرج حكم ذلك النبيذ من حكم سائر المياه فثبت بذلك أنه لا يجوز التوضي به في حال من الأحوال وهو قول أبي يوسف وهو النظر عندنا والله أعلم

علقمہ کہتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کیا لیلۃ الجن میں کوئی آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو انہوں نے کہا ہم میں سے کوئی آپ کے ساتھ نہ تھا لیکن ایک رات ہم نے آپ کو گم پایا تو ہم نے کہا آپ کوجن اٹھا کر لے گئے یا دھوکہ سے شہید کر دیا گیا چنانچہ ہم وادیوں اور گھاٹیوں میں منتشر ہو کر آپ کو تلاش کرنے لگے اور ہم نے وہ رات بڑی پریشانی سے گزاری ہم کہہ رہے تھے کہ جن اٹھا کر لے گئے یا دھوکے سے قتل کر دیے گئے ( آپ واپس تشریف لائے تو فرمایا) میرے پاس جنات کا داعی آیا تو میں ان کو قرآن مجید پڑھانے گیا پھر آپ نے ان کے نشانات ہمیں دکھائے ۔ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں جو لیلۃ الجن میں اپنے متعلق انکار کر رہے ہیں کہ وہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ تھے ۔ اگر اسناد کی درستی کالحاظ کیا جائے تو انکار والی روایت سند و متن روایت کے لحاظ سے پختہ ہے ۔ اب اگر آپ غور و فکر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو آئیے ہم اس بات پر تمام کو متفق پاتے ہیں کہ سرکہ ، ننیذ ، کشمش سے وضؤ نہ کیا جائے گا۔ پس نطر کا تقاضا یہ ہے کہ نبیذ کھجور بھی اس سے مختلف نہ ہو ۔ علماء اس پر متفق ہیں کہ جب پانی کی موجودگی میں نبیذ تمر موجود ہو تو اس سے وضو نہ کیا جائے گا کیونکہ وہ مطلق پانی نہیں ہے پس جب وہ خالص پانی کی موجودگی میں پانیوں کی فہرست سے خارج ہے تو پانی نہ ہونے کی صورت میں بھی وہ اپنے حکم پر رہے گی۔ رہی وہ روایت جس پر نبیذ تمر سے وضو کا تذکرہ پایا جاتا ہے اس میں یہ بات ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے وضوفرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حالت سفر میں نہ تھے بلکہ مکہ سے صرف جنابت کی تبلیغ کرنے نکلے تھے ۔ پس اسے کہا جائے گا کہ نبیذ تمر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس موقع پر وضو کرنا وہ عین مکہ میں وضو کرنے کے حکم میں ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل پڑھی ۔ اگر یہ اثر ثابت ہو جائے تو نبیذ ان چیزوں سے ثابت ہو جائے گا جن سے شہروں اور وادیوں اور جنگلوں میں وضو درست ہے جبکہ پانی بھی موجود ہو ۔ پس جب اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ پانی کے ہوتے ہوئے اس پر عمل متروک ہے اور اس کی ضد پر عمل کیا جاتا ہے اور شہروں اور اس کے حکم والے علاقوں میں جب اس سے وضو جائز نہیں تو اس سے ثابت ہو گیا کہ اس نبیذ کا حکم پانیوں کے حکم سے نکل جانے کی بناء پر یہ روایت ترک کی گئی ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ اس سے کسی حال میں بھی وضو جائز نہیں اور یہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اور ہمارے ہاں نظر و فکر کا یہی تقاضا ہے ، واللہ اعلم ۔

عَلْقَمَةَ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← أسد ← ربيع المؤذن

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 588

All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter