شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 13 باب رفع اليدين في افتتاح الصلاة إلى أين يبلغ بهما ) · حديث 1124
1061 - حدثنا الربيع بن سليمان الجيزي قال ثنا أسد بن موسى قال ثنا بن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان مولى الزرقيين قالا دخل علينا أبو هريرة رضي الله عنه فقال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام إلى الصلاة رفع يديه مدا فذهب قوم إلى أن الرجل يرفع يديه إذا افتتح الصلاة مدا ولم يوقتوا في ذلك شيئا واحتجوا بهذا الحديث وخالفهم في ذلك آخرون فقالوا بل ينبغي له أن يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه واحتجوا في ذلك بما
سعید بن سمعان جو کہ زر قیین کے مولیٰ تھے بیان کرتے ہیں ہمارے ہاں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمانے لگے جب جناب رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کھینچ کر اوپر کو اٹھاتے بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ جب آدمی نماز کو شروع کرے تو اپنے ہاتھوں کو کھینچ کر اوپر کو اٹھائے مگر اس کے لیے انہوں نے کسی وقت کا متعین نہیں کیا اور اسی روایت بالا کواپنی دلیل میں پیش کیا جبکہ علماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھائے اور انہوں نے اپنی دلیل میں یہ روایت پیش کی ہیں ۔
دَخَلَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ مَوْلَى الزُّرَقِيِّينَ ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الربيع بن سليمان الجيزي
Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1124
