شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 6 كتاب النكاح ) ‹ ( 4 باب التزويج على سورة من القرآن ) · حديث 4204
3970 - حدثنا يونس قال أخبرنا بن وهب أن مالكا حدثه عن أبي حازم عن سهل بن سعد الساعدي أن رسول الله صلى الله عليه و سلم جاءته أمرأة فقالت يا رسول الله إني قد وهبت نفسي لك فقامت قياما طويلا فقام رجل فقال يا رسول الله زوجنيها إن لم يكن لك بها حاجة فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم هل عندك من شيء تصدقها إياه فقال ما عندي إلا إزاري هذا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن أعطيتها إياه جلست لا إزار لك فالتمس شيئا فقال لا أجد شيئا قال فالتمس ولو خاتم حديد قال فالتمس فلم يجد شيئا فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم هل معك من القرآن شيء فقال نعم سورة كذا وسورة كذا السورة سماها فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم قد زوجتك بما معك من القرآن
ابو حازم نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں ایک عورت حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنا نفس آپ کو ہبہ کیا وہ کافی دیر کھڑی رہی تو ایک شخص کھڑا ہو کر عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ﷺ اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں تو اسے میرے نکاح میں دے دیں۔ جناب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا اس کا مہر ادا کرنے کے لیے تیرے پاس کچھ ہے اس نے عرض کیا میرے پاس صرف یہ تہبند ہے آپ نے فرمایا اگر یہ تہبند اسے دے دے گا تو تو بلا ازار بیٹھ رہے گا پس کچھ تلاش کرو۔ اس نے عرض کیا مجھے کچھ بھی میسر نہیں ۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا تلاش کرو اگرچہ لوہے کی ایک انگوٹھی کیوں نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ اس نے تلاش کیا مگر کچھ نہ پایا تو اسے جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس قرآن مجید میں سے کچھ ( یاد ) ہے تو اس نے جواب دیا فلاں فلاں سورت ، ان سورتوں کا نام لیا ۔ تو جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے اس کا نکاح اس کے ساتھ اس قرآن مجید کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے۔
سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← بن وهب أن مالكا ← يُونُسَ
Hadith 4204
