Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1498

1427 - حدثنا يونس بن عبد الأعلى قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن يحيى بن سعيد أن القاسم بن محمد أراهم الجلوس فنصب رجله اليمنى وثنى رجله اليسرى وجلس على وركه اليسرى ولم يجلس على قدميه ثم قال أراني هذا عبد الله بن عبد الله بن عمرو حدثني أن أباه عبد الله بن عمر رضي الله عنهما كان يفعل ذلك

یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ قاسم بن محمد نے ہمیں تشہد میں بیٹھا دکھایا پس انہوں نے دایاں پاؤں کھڑا کیا اور بایاں موڑ کر دوہرا کیا اور اپنی بائیں سرین کوزمین پر ٹیک کر بیٹھ گئے اور دونوں قدموں کے زور پر نہ بیٹھے پھر کہنے لگے یہ کیفیت مجھے عبداللہ بن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کر کے دکھائی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ میرے والد عبداللہ رضی اللہ عنہ اسی طرح کرتے تھے ۔

أراني هذا عبد الله بن عبد الله بن عمرو ← رجله اليسرى وجلس على وركه اليسرى ولم يجلس على قدميه ثم ← يحيى بن سعيد أن القاسم بن محمد أراهم الجلوس فنصب رجله اليمنى ← بن وهب أن مالكا ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Hadith 1498

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1499

1428 - حدثنا يونس قال أنا بن وهب أن مالكا حدثه عن عبد الرحمن بن القاسم عن عبد الله بن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أنه أخبره أنه كان يرى عبد الله بن عمر رضي الله عنه يتربع في الصلاة إذا جلس قال ففعلته يومئذ وأنا حديث السن فنهاني عبد الله بن عمر وقال إنما سنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمنى وتثني اليسرى فقلت له فإنك تفعل ذلك فقال إن رجلي لا تحملاني قال أبو جعفر فذهب قوم إلى أن القعود في الصلاة كلها أن ينصب الرجل رجله اليمنى ويثني رجله اليسرى ويقعد بالأرض واحتجوا في ذلك بما وصفه يحيى بن سعيد في حديثه من القعود ويقول عبد الله بن عمر رضي الله عنه عنهما في حديث عبد الرحمن بن القاسم أن ذلك سنة الصلاة قالوا والسنة لا تكون إلا عن رسول صلى الله عليه و سلم وخالفهم في ذلك آخرون وقالوا أما القعود في آخر الصلاة فكما ذكرتم وأما القعود في التشهد الأول منها فعلى الرجل اليسرى وكان من الحجة لهم في ذلك فيما أحتج به عليهم الفريق الأول أن قول عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن سنة الصلاة فذكر ما في الحديث لا يدل ذلك أنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قد يجوز أن يكون رأى ذلك أو أخذه ممن بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين بعدي وقال سعيد بن المسيب لما سأله ربيعة عن أروش أصابع المرأة أنها السنة يا بن أخي ولم يكن مخرج ذلك إلا عن زيد بن ثابت فسمى سعيد قول زيد بن ثابت سنة فكذلك يحتمل أن يكون عبد الله بن عمر رضي الله عنهما سمى مثل ذلك أيضا سنة وإن لم يكن عنده في ذلك عن رسول الله صلى الله عليه و سلم شيء وفي ذلك حجة أخرى أن عبد الله بن عبد الله أرى القاسم الجلوس في الصلاة على ما في حديثه وذكر عبد الرحمن بن القاسم عن عبد الله بن عبد الله عن أبيه لما قال له فإنك تفعل ذلك فقال إن رجلاي لا تحملاني فكان معنى ذلك أنهما لو حملتاني قعدت على إحداهما وأقمت الأخرى لأن ذكره لهما لا يدل على أن إحداهما تستعمل دون الأخرى ولكن تستعملان جميعا فيقعد على إحداهما وينصب الأخرى فهذا خلاف ما في حديث يحيى بن سعيد وقد روى أبو حميد الساعدي عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ما قد

عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے اپنے والد عبداللہ کو دیکھا کہ وہ نماز میں جب تشہد کے لیے بیٹھتے ہیں تو چوکڑی مار کر بیٹھتے ہیں میں نو عمر تھا میں نے ان کو دیکھ کر ایسا ہی کیا تو ( نماز سے فارغ ہو کر ) مجھے منع فرمایا اور کہنے لگے نماز میں تشہد میں بیٹھنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ تم اپنے بائیں پاؤں کو کھڑا کر کے اور بائیں پاؤں دوہرا کر دو میں نےکہا آپ ایسا کیوں نہیں کرتے تو فرمانے لگے میرے پاؤں جسم کے بوجھ کو اٹھا نہیں سکتے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ایک جماعت علماء کا خیال یہ ہے کہ تمام نماز میں بیٹھےنےکا طریقہ یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑآ کر کے اور بائیں پاؤں کو دوہرا کر کے زمین پر بچھا کر بیٹھے اور ان کی دلیل اس سلسلہ میں یحییٰ بن سعید کا نماز کے متعلق بیان اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عبداللہ بن قاسم والی روایت میں یہ قول " ان ذلک سنۃ الصلاۃ" ہے وہ کہتے ہیں کہ سنت تو صرف عمل رسول اللہ ہوتی ہے۔ مگر دوسرے علماء نے کہا نماز میں بیٹھنے کا آخر میں طریقہ تو وہی ہے جو تم نے بیان کیا ۔ مگر اول قعدہ میں بائیں پاؤں پر بیٹھنا چاہیے انہوں نے بھی اپنا مستدل اسی روایت کو قرار دیا جو پہلے فریق کی دلیل ہے ۔ کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا قول ہے " ان ذلک سنۃ الصلاۃ" ہے پس سنت کا لفظ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس سے مراد جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔ ممکن ہے کہ انہوں نے بعد والوں کو اس طرح کرتے دیکھا یا ان سے معلوم کیا ہو ۔ پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین " (الحدیث) ۔ تو خلفاء کی سنت کو بھی سنت کہا گیا ہے ۔ اسی طرح اب مسب رحمۃ اللہ علیہ سے ربیعہ نے عورت کی انگلیوں کی دیت دریافت کی تو انہوں نے فرمایا اے بھتجے یہ سنت ہے حالانکہ وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول تھا ۔ تو سعید نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے قول سنت فرمایا ۔ پس اسی طرح اس میں اس بات کا احتمال ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اس قسم کی بات کو سنت فرمایا ۔ اگرچہ ان کے ہاں اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ کچھ بھی مروی نہ ہو۔اس سلسلے کی دوسری دلیل یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے قاسم کو نماز کے اندر بیٹھنے کے متعلق بتلایا جیسا کہ ان کی روایت میں ہے عبداللہ نے اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ کو کہا کہ آپ تو لتی پالتی مار کر بیٹھتے ہیں تو انہوں نے فرمایا میرے پاؤں میرا بوجھ برادشت نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر وہ بوجھ برادشت کرتے تو میں ایک پاؤں پر بیٹھتا کیونکہ ان کا دونوں پاؤں کے متعلق کر نہ کرنا اس بات پر دلات نہیں کرتا تا کہ ان مین سے ایک استعمال کیا جائے ۔ اور دوسرا استعمال کیا جائے بلکہ دونوں کو استعمال کرتے ہوئے ایک پر بیٹھے اور دوسرے کو کھڑا کر لے ۔ یہ یحییٰ بن سعید والی روایت کے خلاف ہے اور حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح ذکر کیا ۔

بن وَهْبٍ ← يُونُسَ

Hadith 1499

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1500

1429 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو عاصم قال ثنا عبد الحميد بن جعفر قال ثنا محمد بن عمرو بن عطاء قال سمعت أبا حميد الساعدي في عشرة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم أحدهم أبو قتادة قال قال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا لم فوالله ما كنت أكثرنا له تبعة ولا أقدمنا له صحبة فقال بلى قالوا فاعرض فذكر أنه كان في الجلسة الأولى يثني رجله اليسرى فيقعد عليها حتى إذا كانت السجدة التي يكون في آخرها التسليم أخر رجله اليسرى وقعد متوركا على شقه الأيسر قال فقالوا جميعا صدقت وما قد

محمد بن عمرو بن عطاء کہتے ہیں مین نے حجرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے اس وقت یہ بات سنی جبکہ وہ دس اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں تشریف فرما تھے ان اصحاب عشرہ میں ابو قتاردہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ابو حمیدان کو مخاطب ہو کر فرمانے لگے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں انہوں نے کہا کیوں کہ اللہ کی قسم تم آپ کی اتباع میں ہم سے آگے بڑھنے والے نہیں اور صحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی ہم سے مقدم نہیں انہوں نے کہا کیوں نہیں وہ ابو حمید سے کہنے لگے بہر طور جو کچھ ہے تم تو حضور کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کرو( محبوب کے اعمال میں محبوب کی خوشبورچی بسی ہے ) ابو حمید کہنے لگے جلسہ اولیٰ )قعدہ اولی میں آپ اپنے بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھ جاتے جب آپ قعدہ اخیرہ کرتے تو بائیں پاؤں کو مؤخر کرتے اور زمین سرین کے سہارے سے بائیں طرف بیٹھ جاتے تو اس پر تمام نے کہا تم نے سچ کہا۔

مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَبُو بَکْرَةَ

Hadith 1500

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1501

1430 - حدثنا أحمد بن عبد الرحمن بن وهب قال ثنا عمي عبد الله بن وهب قال حدثني الليث بن سعد عن يزيد بن يزيد بن محمد القرشي ويزيد بن أبي حبيب عن محمد بن عمرو بن حلحلة عن محمد بن عمرو بن عطاء ح قال وأخبرني بن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب وعبد الكريم بن الحارث عن محمد بن عمرو بن عطاء عن أبي حميد عن رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه لم يقل فقالوا جميعا صدقت

محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے اور دوسری سند عبدالکریم بن حارث نے محمد بن عمرو بن عطاء سے اور انہوں نے ابو حمید رضی اللہ عنہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے صرف " فقالو جمیعا صدقت" کے الفاظ نقل نہیں کیے۔

جميعا صدقت ← رسول الله صلى الله عليه و سلم نحوه غير أنه لم يقل ← أَبِي حُمَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← يزيد بن أبي حبيب، وعبد الكريم بن الحارث، ← بن لهيعة ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ← يزيد بن يزيد بن محمد القرشي ويزيد بن أبي حبيب ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ،

Hadith 1501

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1502

1431 - حدثني أبو الحسين الأصبهاني هو محمد بن عبد الله بن مخلد قال ثنا عثمان بن أبي شيبة قال ثنا خالد بن مخلد قال ثنا عبد السلام بن حفص عن محمد بن عمرو بن حلحلة الدؤلي فذكر بإسناده مثله فهذا يوافق ما ذهب إليه أهل هذه المقالة وقد خالف في ذلك أيضا آخرون فقالوا القعود في الصلاة كلها سواء على مثل القعود الأول في قول أهل المقالة الثانية ينصب رجله اليمنى ويفترش رجله اليسرى فيقعد عليها واحتجوا في ذلك بما

عبدالسلام بن حفص نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے پھر انہوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے ۔ یہ اس کے موافق ہے جو پہلے قول والوں نے اختیار کیا اور لوگوں نے انکی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نماز میں پہلے قعدہ اسی طرح ہے جیسا دوسرے قول والوں نے کہا ہے کہ اپنے دائیں کو کھڑا کر لے اور بائیں کو بچھائے اور اس پر بیٹھ جائے ۔ انکی دلیل یہ روایت ہے ۔

Hadith 1502

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1503

1432 - حدثنا صالح بن عبد الرحمن وروح بن الفرج قالا حدثنا يوسف بن عدي قال ثنا أبو الأحوص عن عاصم بن كليب الجرمي عن أبيه عن وائل بن حجر الحضرمي قال صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت لأحفظن صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال فلما قعد للتشهد فرش رجله اليسرى ثم قعد عليها ووضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى ووضع مرفقه الأيمن على فخذه اليمنى ثم عقد أصابعه وجعل حلقه الإبهام والوسطى ثم جعل يدعو بالأخرى

عاصم بن کلیب جرمی نے اپنے والد سے انہوں نے وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی اور میں نے عزم کیا کہ میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو خوب یاد کروں گا کہتے ہیں کہ جب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کے لیے قعدہ کیا تو بائیں پاؤں کو بچھا یا پھر اس پر بیٹھ گئے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھا اور دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر رکھا اپنی انگلیوں کو ہتھیلی سے لا کر عقد کیا اور انگوٹھے اور دمیانی انگلی کا حلقہ بنایا اور سبابہ سے دعا کا اشارہ کرنے لگے۔

وائل بن حجر الحضرمي ← أَبِيهِ ← عاصمِ بنِ كليبٍ الجرميِّ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ← صالح بن عبد الرحمن وروح بن الفرج

Hadith 1503

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1504

1433 - حدثنا فهد بن سليمان قال ثنا الحماني قال ثنا خالد عن عاصم فذكر بإسناده مثله قال أبو جعفر فهذا يوافق ما ذهبوا إليه من ذلك وفي قول وائل ثم عقد أصابعه يدعو دليل على أنه كان في آخر الصلاة فقد تضاد هذا الحديث وحديث أبي حميد فنظرنا في صحة مجيئهما واستقامة أسانيدهما

خالد نے عاصم سے پھر انہوں نے اپنی سند سے روایت بیان کی ہے ۔

بإسناده مثله ← عَاصِمٍ، ← خَالِدٌ، ← الحماني ← فَهْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،

Hadith 1504

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1505

1434 - فإذا فهد ويحيى بن عثمان قد حدثانا قالا ثنا عبد الله بن صالح قال ثنا يحيى وسعيد بن أبي مريم قالا حدثنا عطاف بن خالد قال حدثنا محمد بن عمرو بن عطاء قال حدثني رجل أنه وجد عشرة من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم جلوسا فذكر نحو حديث أبي عاصم سواء قال أبو جعفر فقد فسد بما ذكرنا حديث أبي حميد لأنه صار عن محمد بن عمرو عن رجل وأهل الإسناد لا يحتجون بمثل هذا فإن ذكروا في ذلك ضعف العطاف بن خالد قيل لهم وأنتم أيضا تضعفون عبد الحميد أكثر من تضعيفكم للعطاف مع أنكم لا تطرحون حديث العطاف كله إنما تزعمون أن حديثه في القديم صحيح كله وأن حديثه بآخره قد دخله شيء هكذا قال يحيى بن معين في كتابه فأبو صالح سماعه من العطاف قديم جدا فقد دخل ذلك فيما صححه يحيى من حديثه مع أن محمد بن عمرو بن عطاء لا يحتمل مثل هذا وليس أحد يجعل هذا الحديث سماعا لمحمد بن عمرو من أبي حميد إلا عبد الحميد وهو عندكم أضعف ولكن الذي روى حديث أبي حميد ووصله لم يفصل حكم الجلوس

عطاف بن حالد کہتے ہیں کہ ہمیں محمد بن عمرو بن عطاء نے بیان کیا اور کہا مجھے ایک آدمی نے بیان کیا کہ اس نے دس اصحاب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھے ہوئے پایا پھر انہوں نے باکل ابو عاصم جیسی روایت نقل کی ہے ۔ امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں : ہم نے جو روایات ذکر کی ہیں اس سے ابو حمید والی روایت فاسد ہو گئی ۔ کیونکہ محمد بن عمرو کے بعد ایک مجہول آدمی ہے۔ اور محدثین ایسی روایات کو قابل حجت قرار نہیں دیتے اگر بالفرض وہ عطاف بن خالد کے متعلق کہیں کہ وہ ضعیف ہے تو ہم کہیں گے کہ تم عبدالحمید کو عطاف سے بڑھ کر ضعیف قرار دیتے ہو مگر اسکی تمام روایات کو نہیں چھوڑتے بلکہ تمہارا خیال یہ ہے کہ اس کی تمام قدی م روایات تو درست ہیں اس کی آخری دور والی روایات میں کچھ کمزوری آچکی ہے ۔ یہ بات یحیٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتب میں کہی ہے ۔ اور ابو صالح نے عطاف سے ابتدائی زمانہ میں حدیث سماعت کی ہے ۔ یہ ان روایات میں داخل ہو گئی جن کو یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح قرار دیا حالانکہ محمد بن عمرو کی عمر اس بات کا احتمال بھی نہیں رکھتی اور کسی نے اس روایت میں محمد بن عمرو کا ابو حمید سے سماع عبدالحمید کے سوا ثابت نہیں کیا اور وہ تمہارے ہاں ضعیف ترین روات سے ہیں ۔ مگر جس نے ابو حمید کی حدیث متصل روایت کی ہے اس نے بیتھنے کا حکم اس قدر تفصیل سے بیان بیان نہیں کیا جس قدر عبدالحمید نے بیان کیا ہے ۔

رَجُلٌ: ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← يحيى وسعيد بن أبي مريم ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← فإذا فهد ويحيى بن عثمان قد حدثانا

Hadith 1505

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1506

1435 - حدثنا نصر بن عمار البغدادي قال ثنا علي بن أشكاب قال حدثني أبو بدر شجاع بن الوليد قال ثنا أبو خيثمة قال ثنا الحسن بن الحر قال حدثني عيسى بن عبد الرحمن بن مالك عن محمد بن عمرو بن عطاء أحد بني مالك عن عياش أو عباس بن سهل الساعدي وكان في مجلس فيه أبوه وكان من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم وفي المجلس أبو هريرة رضي الله عنه وأبو أسيد وأبو حميد الساعدي من الأنصار أنهم تذاكروا الصلاة فقال أبو حميد أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالوا وكيف فقال اتبعت ذلك من رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا فأرنا قال فقام يصلي وهم ينظرون فبدأ فكبر ورفع يديه نحو المنكبين ثم كبر للركوع ورفع يديه أيضا ثم أمكن يديه من ركبتيه غير مقنع رأسه ولا مصوبه ثم رفع رأسه فقال سمع الله لمن حمده اللهم ربنا ولك الحمد ثم رفع يديه ثم قال الله أكبر فسجد فانتصب على كفيه وركبتيه وصدور قدميه وهو ساجد ثم كبر فجلس فتورك إحدى رجليه ونصب قدمه الأخرى ثم كبر فسجد ثم كبر فقام فلم يتورك ثم عاد فركع الركعة الأخرى وكبر كذلك ثم جلس بعد الركعتين حتى إذا هو أراد أن ينهض للقيام قام بتكبير ثم ركع الركعتين ثم سلم عن يمينه السلام عليكم ورحمة الله وسلم عن شماله أيضا السلام عليكم ورحمة الله

محمد بن عمرو بن عطاء نے بنی مالک کے کسی آدمی سے اس نے عیاش یا عباس بن سہل ساعدی سے بیان کیا کہ میں ایک مجلس میں تھا جس میں میرے والد بھی موجود تھے میر والد خود صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور اس مجلس میں ابو ہریرہ ، ابو اسید ، ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہم انصار میں سے تھے انہوں نے باہمی نماز کا مذاکرہ کیا ت ابو حمید نے کہا میں تم میں سب سے بڑھ کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو جاننے والا ہوں انہوں نے کہا یہ کیسے ؟ تو وہ کہنے لگے میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کی ہے انہوں نے کہا ہمیں دکھلاؤ چنانچہ ابو حمید کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے اور وہ تمام دیکھ رہے تھے انہوں نے نماز کی ابتداء میں کندھوں کے برابر ہاتھوں کو بلند کیا پھر رکوع کی تکبیر کہی اور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا پھر اپنے ہاتھوں سے گھٹنوں کو مضبوطی سے تھام لیا سر کو نہ تو کمر سے بلند کرنے والے اور نہ نیچے جھکانے والے تھے (بلکہ برابر رکھنے والے تھے ) پھر رکوع سے سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ اللہھم کہا پھر رفع یدین کیا پھر اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے گئے اور سجدہ میں اپنی ہتھلیوں کے سہارے دونوں گھٹنوں اور پاؤں کو کھڑا رکھا پھر تکبیر کہی اور جلسہ کیا اور ایک پاؤں کو کھڑارکھا جبکہ دوسرے سے تو رک کیا پھر تکبیر کہہ کر دوسرا سجدہ کیا اور تکبیر کہہ کر قیام کیے لیے اٹھ گئے اور تو رک نہ کیا ۔ پھر دوسری رکعت کی قراءت پوری کر کے رکوع کیا اور اسی طرح تکبیر کہی پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہہ کر کھڑے ہو گئے پھر دو رکعت مکمل کر کے دائیں جانب سلام پھیرنتے ہوئے السلام علیکم و رحمۃ اللہ اور بائیں طرف السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہا ۔

Hadith 1506

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1507

1436 - حدثنا نصر بن عمار قال ثنا علي قال ثنا أبو بدر قال ثنا أبو خيثمة قال ثنا الحسن بن الحر قال حدثني عيسى هذا الحديث هكذا أو نحوه وحديث عيسى أن مما حدثه أيضا في الجلوس في التشهد أن يضع يده اليسرى على فخذه اليسرى ويضع يده اليمنى على فخذه اليمنى ثم يشير في الدعاء بأصبع واحدة

حسن بن حر کہتے ہیں عیسیٰ نے ا س روایت کو اسی طرح بیان کیا یا اس جیسا بیان کیا اور عیسیٰ کی حدیث ان مین سے ہے جن کو اس نے بیان کیا اس حدیث میں تشہد بیٹھنے کا اس طر ح تذکرہ ہے کہ اپنا بایا ں ہاتھ اپنی ائیں ران پررکھا جائے اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر رکھا جائے پھر دعا میں ایک انگلی سے اشارہ کرے۔

عيسى هذا الحديث هكذا أو نحوه وحديث عيسى أن مما ← الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو بَدْرٍ؛ ← عَلِيٍّ، ← نصر بن عمار

Hadith 1507

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1508

1437 - حدثنا إبراهيم بن مرزوق قال ثنا أبو عامر العقدي قال ثنا فليح بن سليمان عن عباس بن سهل قال اجتمع أبو حميد وأبو أسيد وسهل بن سعد فذكروا صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكروا القعود على ما ذكره عبد الحميد في حديثه في المرة الأولى ولم يذكر غير ذلك

عباس بن سہل کہتے ہیں کہ ابو حمید ، ابو اسید ، سہل بن سعید اکٹھے تھے انہوں نے باہمی جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا تذکرہ کیا اور انہوں نے اپنی روایت مین عبدلحمید کے بیان کے مطابق قعدہ اولیٰ کا تذکرہ کیا ہے اور کسی چیز کا تذکرہ اس میں موجود نہیں ۔

عَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ ← فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ،

Hadith 1508

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 29 باب صفة الجلوس في الصلاة كيف هو ) · حديث 1509

1438 - حدثني أبو الحسن الأصبهاني قال ثنا هشام بن عمار قال ثنا إسماعيل بن عياش قال ثنا عتبة بن حكيم عن عيسى بن عبد الرحمن العدوي عن العباس بن سهل عن أبي حميد الساعدي أنه كان يقول لأصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم قالوا من أين قال رقبت ذلك منه حتى حفظت صلاته قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا قام إلى الصلاة كبر ورفع يديه حذاء وجهه فإذا كبر للركوع فعل مثل ذلك وإذا رفع رأسه من الركوع قال سمع الله لمن حمده فعل مثل ذلك فقال ربنا ولك الحمد وإذا سجد فرج بين فخذيه غير حامل بطنه على شيء من فخذيه ولا مفترش ذراعيه فإذا قعد للتشهد اضجع رجله اليسرى ونصب اليمنى على صدرها ويتشهد فهذا أصل حديث أبي حميد هذا ليس فيه ذكر القعود إلا على مثل ما في حديث وائل والذي رواه محمد بن عمرو فغير معروف ولا متصل عندنا عن أبي حميد لأن في حديثه أنه حضر أبا حميد وأبا قتادة ووفاة أبي قتادة قبل ذلك بدهر طويل لأنه قتل مع علي رضي الله عنهما وصلى عليه علي رضي الله عنه فأين سن محمد بن عمرو بن عطاء من هذا فلما كان المتصل عن أبي حميد موافقا لما روى وائل ثبت القول بذلك ولم يجز خلافه مع ما شده من طريق النظر وذلك أنا رأينا القعود الأول في الصلاة وفيما بين السجدتين في كل ركعة هو أن يفترش اليسرى فيقعد عليها ثم اختلفوا في القعود الأخير فلم يخل من أحد وجهين أن يكون سنة أو فريضة فإن كان سنة فحكمه حكم القعود الأول وإن كان فريضة فحكمه حكم القعود فيما بين السجدتين فثبت بذلك ما روى وائل بن حجر وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد رحمهم الله وقد قال بذلك أيضا إبراهيم النخعي رحمه الله كما

عیسیٰ بن عبدالرحمن عدوی نے عباس بن سہل سے انہوں نے ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ وہ اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہنے لگے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں انہوں نے کہا یہ کیسے ؟ تووہ کہنے لگے کہ میں نے خوب جانچ کر دیکھا یہاں تک کہ میں نے آپ کی نماز کو خوب محفوظ کر لیا ابو حمید کہنے لگے جب جناب رسول اللہ نماز کے لیے اٹھتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو چہرے کے برابر اٹھاتے پھر جب رکوع کی تکبیر کہتے تو دوبارہ اسی طرح کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور ربنا ولک الحمد کہتے جب سجدہ کرتے تو اپنی رانوں کو پیٹ سے الگ رکھتے اس کا بوجھ کسی ران پرنہ ڈالتے اور اپنے دونوں بازؤں کو زمین پر نہ بچھاتے جب تشہد کے لیے بیٹھتے تو بائیں پاؤں کا تذکرہ اسی انداز سے ہے جیسا حضرت وائل رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے اور وہ جس کا ابوحمید سے محمد بن عمر و نے بیان کیا وہ تو معروف ہے اور نہ متصل ہے کیونکہ اس روایت میں یہ ہے کہ وہ خود ابو حمید اور ابو قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا حالانکہ ابو قتادہ کی وفات تو اس سے عرصہ پہلے ہو چکی تھی کیونکہ وہ حضرت علی کے ساتھ لڑائی میں شریک ہو کر شہید ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکی نماز جنازہ ادا کی ، محمد بن عمرو کی عمر ہی اس وقت کیا تھی کہ وہ انکی مجلس میں حاضر ہوتا۔دوسری بات یہ ہے کہ ابو حمید کی متصل روایت وائل کی روایت کے موافق ہے پس اسی کو اختیار کرنا ضروری ہے اس کی مخالفت درست نہیں جبکہ نظرو فکر کے لحاظ سے بھی اسی کی پختگی ثابت ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ ہم دیکھتے ہیں نماز میں پہلا قاعدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا بھی پایا جاتا ہے اور وہ اسی طرح ہے کہ بائیں پاؤں کو بٹھا کر اس پر بیٹھتے ہیں صرف آخری قعدہ میں اختلاف ہے ۔تو وہ دنوں حالتوں سے خالی نہیں یا وہ سنت ہے یا فرض ، اگر وہ سنت ہے تو اس کاحکم پہلے قعدہ کی طرح ہے اور اگر وہ فرض ہے تو اس کا حکم دونوں سجدوں کے درمان والے قعدہ کی طرح ہے ۔ پس اس سے وائل ابن حجر والی روایت میں جو مذکور وہ ثابت ہو گیا اور وہی امام ابوحنیفہ ، ابو یوسف و محمد رحمۃ اللہ علیہم کا قول ہے اور ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے ۔

أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ ← عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَدَوِيِّ ← عتبة بن حكيم ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← أبو الحسن الأصبهاني

Hadith 1509

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter